مجاہد مرزا کی تحاریر
مجاہد مرزا
مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

باد کوبیدن نامی شہر میں۔۔مجاہد مرزا

جب کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنی کتاب ’’قسطنطنیہ سے عمر خیام کے شہر تک‘‘ میں لکھا تھا ’’باکو دنیا میں استعمال کیے جانے والے تیل کا پانچواں حصہ پیدا کر رہا ہے‘‘ تب مامید امین رسول زادہ، ان کے←  مزید پڑھیے

حق دلوانے والے امر ہوتے ہیں۔۔مجاہد مرزا

’’بلھے شاہ اساں مرنا ناہیں، گور پیا کوئی ہور‘‘ محض روحانیت یا فلسفہ نہیں بلکہ ایک سائنسی حقیقت ہے کہ لاش کو تو بس ہم لوگ ہی اس شخص کی لاش سمجھتے ہیں جو مر گیا ہو مگر حقیقت میں←  مزید پڑھیے

بیاد نذیر احمد چوہدری۔۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

  1970 میں مجھے ملتان سے لاہور تک جاتے پرولتاریہ اور مارکسزم سے متعارف کروانے والا، 2000 میں پٹس برگ، پنسلوانیا کے اپنے تین میں سے ایک سیون الیون سٹور کے بیک آفس میں بیٹھا ہوا مجھے سنجیدگی سے بتا←  مزید پڑھیے

میدان عرفات، مجاہد مرزا

آج حجاج میدان عرفات میں ہیں، تو آئیے میدان عرفات چلتے ہیں دعائیں منظور کرانے کی خاطر! اگلے روز گرمی زیادہ تھی اس لیے مجھے ناپسندیدہ جگہ پر نہانا ہی پڑا تھا۔ نماز ظہر سے پہلے بسیں آ گئی تھیں←  مزید پڑھیے

حج اکبر۔۔۔ مجاہد مرزا

آج لوگ منٰی روانہ ہو چکے ہیں۔ میں 2013 میں 7 ذوالحجہ کو منٰی روانہ ہوا تھا۔ حج کی روداد “ماسکو سے مکہ” کا اس سے متعلقہ حصہ۔ لو جی بالآخر سفر شروع ہو گیا۔ تلبیہ پڑھا جانے لگا۔ لبیک،←  مزید پڑھیے

دہشت گردی اور زرد صحافت کا گٹھ جوڑ

ضرب عضب اور ردالفساد جیسی بڑی جارحانہ فوجی کارروائیوں کے بعد بھی پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ جی ہاں دہشت گردی روایتی جنگ کی بجائے چھاپہ مار جنگ کی طرح ہوتی ہے جس میں وار عموما←  مزید پڑھیے

مجھے وطن پھر چھوڑنا پڑے گا

وسعت نظر ڈاکٹر مجاہد مرزا مجھے وطن پھر چھوڑنا پڑے گا کیا میں اکتا گیا ہوں؟ بلا شبہ اکتا گیا ہوں۔ کس بات سے، کوئی ایک بات ہو تو کہوں۔ پورا معاشرہ اخلاقی، ذہنی، مذہبی، انسانی غرض کون سا ایسا←  مزید پڑھیے

فیض احمد فیض، فیض فیسٹیول میں

الحمرا کمپلکس لاہور کے سبزہ زار میں ماڈرن نوجوان لڑکیوں اور لڑکوں کے ہجوم میں ایک مضمحل اور بظاہر اکتائے ہوئے بوڑھے شخص سے ملاقات ہو گئی جن کا قیافہ ہو بہو فیض احمد فیض سے ملتا جلتا تھا۔ پہلے←  مزید پڑھیے

مڑ کے دیکھنے کا آسیب

ماضی کو کوئی تبدیل نہیں کر سکتا تاحتٰی خود خدا بھی۔ حال بدلا جا سکتا ہے، ایک موڑ ہی تو مڑنا ہوتا ہے۔ یہ البتہ اور بات کہ موڑ مڑنے بارے کون سوچے پھر فیصلہ کرکے اس پر عمل درآمد←  مزید پڑھیے

ماضی، حال، مستقبل

عملی زندگی کی بنیاد فلسفے کی موشگافیوں پہ نہیں رکھی جا سکتی۔ اس کی بنیاد متحرک لمحے، متحرک عمل اور متحرک سوچ ہوا کرتی ہے۔ فلسفے میں تو یہ بھی بحث رہی ہے کہ حرکت تو ہوتی ہی نہیں۔ جو←  مزید پڑھیے