خاموشی اپنی تفسیر چاہتی ہے، خلا بھی اپنے پر کیے جانے کا مطالبہ کرتا ہے ،خاص طور پر اس وقت جب خاموشی ہولناک ہو ،اور خلا وحشت انگیز ہو۔ خاموشی اور خلا کا حقیقی تجربہ، ان سب کے لیے ہولناک← مزید پڑھیے
سے لوگوں کو باہر بلاتے ہوئے آج تیسرا روز ہے وہ دھیمی دستک دیتا ہے، مگر تب جب اندھیرا بہت گھنا ہوجاتا ہے، ارد گرد کے افراد باہر آجاتے ہیں اور پھر آپس میں سوال کرتے ہیں : “تمہارے اور← مزید پڑھیے
ہوٹل کیا تھا بقول جمشید صافی کے سیاہ رنگ کا “تیورما” یعنی قید خانہ تھا۔ کاؤنٹر کے پیچھے ماڈرن دکھائی دینے والا ایک عرب نوجوان تھا۔ رشیت حضرت سے اس نے عربی میں کچھ کہا جس کا مطلب یہ تھا← مزید پڑھیے
سوویت یونین کے دارالحکومت ماسکو کو اشتراکیت نواز افراد کا مکہ کہا جاتا تھا۔ اس کی وجہ مکہ کا لوگوں کے لیے مکہ ہونا تھا کیونکہ کم علم مسلمانوں کا جم غفیر مکہ کی تعظیم کو تقدیس کا چولا پہنانے← مزید پڑھیے
یہ ایک استعاراتی افسانہ ہے، فنکار خارج سے زیادہ آدمی کی باطنی خباثتوں پر نگاہ رکھتا ہے،ہزاروں برس سے تشکیل پذیر تہذیب و ثقافت آدمی کے جبلتی نظام میں موجود وحشیانے پن پرقابو پانے کی کوشش کرتی رہی ہے لیکن← مزید پڑھیے
محترم طارق محمود، ماہرِ ارضیات،اسلام آباد اَلسَلامُ عَلَيْكُم پیارے طارق جی کیسے ہیں آپ۔ ۔؟ امید ہے سفر کی تھکان اتر چکی ہو گی اور آپ بھی اب ہماری طرح روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہو چکے ہوں گے۔آپ کے← مزید پڑھیے
ٹرین برلن کے یخ بستہ سٹیشن پر رُکی تو مسافر اپنا سامان لیے ٹرین کے دروازے کی طرف لپکے۔ کچھ ٹرین پر چڑھنے کے لیے اور کچھ اُترنے کے لیے۔ دسمبر کی سرد دوپہر کو سٹیشن خاموش تھا۔ سٹیشن کے← مزید پڑھیے
عزیزم! بہت عرصے سے تمہیں کچھ لکھ نہیں سکا۔ تم جانتے ہو کہ یہ دنیا تضادات سے بھری ہوئی ہے؛ جہاں توجہ طلب چیزیں ہیں انہی میں توجہ ہٹانے والے عناصر کی بھی کثرت ہے۔ میں بھی شاید مقاصد سے← مزید پڑھیے
کرشمہ تن بدن، ناز و ادا دیکھ کر حسن مغرور کا ہنگامہ برپا دیکھ کر عشق بتاں میں دل ہار کے جو لوٹے قرار پا گئے یہ جلوہ خدا دیکھ کر انا کو عظمت ملی، شعور کو رفعت حسن و← مزید پڑھیے
ہالینڈ کے قصبے میں 1876 کو پیدا ہونے والی مارگریٹا کی چھٹی سالگرہ پر جب اس کے باپ نے بکریوں کی مدد سے کھینچے جانے والی بگھی تحفے کے طور پر دی تو محلے کی سن رسیدہ عورتوں نے ماتھے← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک سفرنامہ”گلگت و ہنزہ” برآمدے میں ایک سرخ و سفید باریش معمر مرد چارپائی پر بیٹھا تھا۔ صاحب خانہ اس سے باتوں میں مصروف تھے۔ سبز اوڑھنی والی دوشیزہ پر چھائیوں کی طرح انگنائی اور برآمدے میں← مزید پڑھیے
میرے بچپن کے دنوں میں راولاکوٹ شہر ایک چھوٹا سا قصبہ تھا۔ایاز مارکیٹ کی جگہ ہرے بھرے کھیت تھے۔ان کھیتوں سے ایک راستہ گزرتا تھا۔ جس کے بائیں طرف میرے نانا کا مکان تھا۔نیشنل بنک، الریاض ہوٹل اورایکسچینج کی عمارتیں← مزید پڑھیے
مقبولیت کی آرزو کسے نہیں؟ ایک تلخ سچ یہ ہے کہ یہ آرزو انھیں بھی ہے جو گم نامی کی زندگی کی مدح کیا کرتے ہیں؛ وہ اپنی گمنامی کی شہرت چاہتے ہیں۔کچھ اپنی بد نامی کو بھی شہرت ومقبولیت← مزید پڑھیے
” ماں ” ناول کے کئی روسی ایڈیشن میرے پاس ہیں( ماسکو اشاعت گھر سے چھپےانگریزی، اردو، ہندی اور فارسی اشاعتیں) میسکم گورکی کے ناول “ماں” کو میں نے میٹرک میں پہلی بار استانی میم شائستہ کے توسط سے پڑھا← مزید پڑھیے
حبیب اللہ متوسط گھرانے میں پیدا ہوا، بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا، اس کے بعد دو بہنیں اور ایک بھائی دنیا میں آئے، حبیب اللہ کے والد نجیب اللہ نے ساری زندگی تنگ دستی میں گزاری، سو انہوں← مزید پڑھیے
اردو قارئین کے لیے جدید مغربی تنقیدی نظریات کی اردو زبان میں تفہیم اردو ادب کے لیے ایک المیہ ہی ہے۔ اس کا ایک سبب تو اصطلاحات کے بہت سے پہلو اور متنوع اطلاقات ہیں جن کو مد نظر رکھ← مزید پڑھیے
موٹے موٹے شیشوں کے پیچھے آنکھیں اتنی اندر کو دھنسی ہوئی تھیں جہاں سے مزید پیچھے جانا شاید ممکن نہ تھا۔ گال یوں جیسے کاندھوں پر بیٹھے فرشتوں کے سامنے خالی کشکول ہوتے ہیں۔ رنگت زندگی کے زرد موسم کا← مزید پڑھیے
گزشتہ اقساط کا لنک ناصر عباس نئیر کی کتاب “نئے نقاد کے نام خطوط”کا تجزیاتی مطالعہ گیارھواں خط ابتدا میں مرزا عبد القادر بیدل کے شعر کے علاوہ اووڈ اور چارلس بادلئیر کی نظمیہ شاعری شامل ہے۔ پینٹنگ میں خشک← مزید پڑھیے
کرش چندر کے ناول سماج میں عورت کے مقام اور حیثیت کے حوالے سے شعور عطا کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنے ناولوں میں ایسی عورت کا روپ پیش کیا جو سماج کا ستایا ، روندھا اورکچلا ہواہے۔ اس پر سماج← مزید پڑھیے
شیکھا سب کی جانب سے خود کو سراہے جانے کی خواہش مند ہے اس کے ساتھ ساتھ اپنے چاہنے والوں کے علاوہ دوسروں کے طلب گاروں کو بھی اپنی ذات میں محو دیکھنا چاہتی ہے۔ وہ ایک بیوی کی طرح← مزید پڑھیے