مابعد جدیدیت/منصور ساحل

اردو قارئین کے لیے جدید مغربی تنقیدی نظریات کی اردو زبان میں تفہیم اردو ادب کے لیے ایک المیہ ہی ہے۔ اس کا ایک سبب تو اصطلاحات کے بہت سے پہلو اور متنوع اطلاقات ہیں جن کو مد نظر رکھ کر مستحکم و مستند بنیاد کا ادراک قاری کے لیے ناممکن ہے۔ ایک اور سبب یہ بھی ہے کہ اردو میں مغربی نظام تنقید کا رواج نظری مباحث تک محدود رہا ہے یا پھر بہت کم ان نظریات کی روشنی میں اردو ادب کی پرکھ کی گئی یے۔ اس حساب سے قاری یہ سوال اٹھانے میں حق بجانب ہے کہ اردو کے جدید نقاد آخر جدید تنقید کی مدد سے اردو کے قدیم و جدید ادب کا جائزہ لینے سے کیوں قاصر ہیں؟

ایک اور مسئلہ مغربی تنقیدی اصطلاحات کا اردو روپ بھی ہے۔ ان اصطلاحات پر جتنی بحث ہوئی اتنے ہی زیادہ اختلافات سامنے آئے اور بحث سلجھنے کے بجائے الجھتی ہی رہی۔ آج بھی ان سے متعلق تعقلات و نظریات کا ایک ہجوم طلبائے ادب کے پیش نظر ہے۔ جن میں تفہیم کا راستہ نکالنا طلبہ کے لیے مشکل ہے۔ ان اصطلاحات میں سر فہرست جدیدیت و ما بعد جدیدیت ہیں جن کی تفہیم مبہم و اختلافی ہے۔ اسی خلا کو پر کرنے کے لیے ڈاکٹر اقبال آفاقی کی کتاب “مابعد جدیدیت”(فلسفہ و تاریخ کے تناظر میں) ان اصطلاحات کے متعلق مفروضوں و مغالطوں کو علمی مباحث کی روشنی میں سمجھنے کی منفرد کاوش ہے۔ یہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔ جن میں ڈاکٹر صاحب نے اپنا مقدمہ پیش کیا ہے۔

پہلا باب “ماقبل جدیدیت” کے نام سے موسوم ہے۔ مذکورہ باب میں انسانی زندگی کے اس دور کا تجزیہ کیا گیا جب وہ ابھی عقل و شعور کی پہلی منزل سے دور تھا۔ یہ باب اساطیری و مذہبی دور سے شروع ہوکر رینے ساں (نشاۃِ ثانیہ) تک پھیلا ہوا ہے اس دور میں انسان فطرت کی پراسرار قید اور صلیبی قوتوں کے سامنے جبلی و ازلی طور پر سر تسلیم خم ہے۔ پھر اس انسان کو علم ہوتا ہے کہ سارا نظام نیچر برتر و پوشیدہ حقیقتوں کا مظہر ہے اور یہ اساطیری تصور کائنات کی حیثیت و ماہیت کی تفہیم میں ہماری مدد کرتا ہے اس کے بعد دوسرا سوال کہ کیا انسانی زندگی میں جو ناگہانی واقعات سامنے آتے ہیں ان کے لیےکوئی پیشگی اقدامات کیے جا سکتے ہیں؟

قدیم الہیات کے ابتدائی نقوش میں ڈاکٹر صاحب نے جرمن ماہر الہیات ایڈولف اوٹو کی کتاب The Idea of Holy کا حوالہ دیا ہے کہ “انسان کا ارفع احساس دو طرفہ کردار کا حامل ہوتا ہے انسانی شعور میں اعلی ترین ہستی کا احساس ہمیشہ دو متضاد صورتوں میں رونما ہوا اس حقیقت کے شواہد کو دنیا کے تمام مقدس صحیفوں میں تلاش کیا جاسکتا ہے۔ برتر ذات کے شعور کی ایک صورت دبدبے، خوف اور دہشت کی عکاس ہے”۔ اس دو طرفہ کردار میں ایک کی مثال اس عہد میں انسان کا وہ غضب ناک دیوتا ہے جو ایک خونخوار بھیڑیے سے کم نہیں تھا اور دوسری مثال الوہی تجربے میں محبت و مسرت کا وہ احساس ہے جس کا اظہار روزمرہ زبان میں ناممکن نہیں۔ یہ کش مکش جاری تھی کہ انسان تہذیب و تمدن کے مرحلے میں داخل ہوا۔ اور مل جل کر رہنے لگے۔ اور سماج کی ابتدائی تشکیل ہوئی۔ ان ابتدائی معاشرتوں میں درج ذیل مسائل نظر آتے ہیں۔

(1) خوراک کی فراہمی

(2) دشمنوں پر فتح

(3) متعدی امراض سے بچاؤ

(4) قدرتی آفات

ان پر مستزاد۔ اس کے بعد ملوکیت و شہنشاہیت کا دور شروع ہوتا ہے اس کا ایک مقصد تھا کہ دنیا کو محکوم بنایا جائے اور بادشاہوں کو دیوتاؤں کی طرح تمام چیزوں سے ماورا سمجھا جائے۔ اور ان کی حکم عدولی کو جرم سے زیادہ گناہ سمجھا جائے۔ اس ماورائی و اساطیری تصور کا زوال شروع ہوا اور اس کا عروج سلسلہء نبوت کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس حوالے سے اقبال آفاقی رقم طراز ہیں”انبیاء کی الہامی روایت نے مغربی ایشیا کے اساطیری ماحول میں انقلاب برپا کیا۔۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی ید بیضا لے کر رات کے اندھیرے میں نکل آئے”۔

فلسفہ: کائنات کی عقلی تفہیم کے ذیلی عنوان سے شامل ایک حصے میں عقل کو وجدان اور الہام پر فوقیت و برتری اور یونانی حکماء و فلسفیوں (سقراط، افلاطون آئیڈیل زم، ارسطو Realism) کا ذکر ہے ان لوگوں کے بعد مسلم و عرب فلسفیوں (ابن خلدون مقدمہ، الغزالی مقاصد فلسفہ، تہافہ الفلاسفہ) کا ذکر ملتا ہے پھر ایک تاریک دور کی لہر(600عیسوی سے 1000عیسوی تک) چل پڑی لیکن اس تاریکی کو روشنی رینے ساں کی صورت میں ملی اور یورپ میں علمی و فکری انقلاب کا آغاز ہوا اس تحریک کی ابتدا چودھویں اور پندرھویں صدی میں ہوئی جس کی وجہ سے پاپائیت کا سحر ٹوٹنے لگا آزاد خیالی کے اثرات محسوس ہونےلگے اور زندگی کے ہر شعبے میں مثبت تبدیلیاں ظہور میں آنے لگیں۔

دوسرا باب “جدیدیت” کے نام سے ہے اس باب میں جدیدیت کی تعریف و تعبیر پیش کی گئی ہے۔ جدیدیت کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے سید عبداللہ کی تعریف درج کی ہے “جدیدیت کے عام معنی ہیں نیا، رازہ، جدید العہد، زمانی لحاظ سے پرانے کے مقابلے میں نیا، کلاسیکی اور روایتی کے مقابلے میں جدید اور مروج کے مقابلے میں انوکھا”۔

حقیقت کی تفہیم کا سائنسی معیارجدیدیت کے دور کے ثمرات ہیں۔ ڈاکٹر آفاقی کے نزدیک جدیدیت کا آغاز 1750 عیسوی کے اردگرد کے زمانے میں ہوا۔ اس کے ابتدائی خدوخال یہ ہیں

(1) اس دور میں روحانی اقدار کی جگہ فلسفہ اور سائنس نے لی۔

(2) عقائد پر عقلیت و تجربیت کو فوقیت دی گئی

(3) اس کے علاوہ ڈیکارٹ سے ہیوم تک، انقلاب فرانس، والٹیئر سے روسو تک، کانٹ، ہیگل، مارکس، ڈارون، فرائیڈ، روشن خیالی کے نکات، جدیدیت کا فوق البشر، سائنسیت کے نتائج وغیرہ سے جدیدیت کی روایت آگے بڑھی۔

(4)جدیدیت تشکیل، عقلیت، معروضییت و عالمگیریت کا نام ہے۔

(5) جدیدیت سیاسی و غیر سیاسی میں فرق واضح کرتی ہے۔

(6) جدیدیت مغربی اقدار اور روشن خیالی کے ایجنڈے پر زور دیتی ہے۔

(7) جدیدیت میں معاشی ترقی کو ترجیح دی گئی۔

ڈاکٹر آفاقی یورپ میں جدیدیت کے تاریخی سفر پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اس دور میں یورپی انسان ایک سپر مین کی شکل میں ابھرا اور کائنات پر حاوی ہونے کے خواب دیکھنے لگا (نتیجے کے طور پر نوآبادیاتی نظاموں کا رواج عام شروع ہوا)

تیسرا باب “مابعد جدیدیت” ہے۔ مابعد جدیدیت کی اصطلاح پر ناقدین کے ہاں اختلافات پایا جاتا ہے۔ عمومی نقطہء نظر کے مطابق مابعد جدیدیت کو صورتحال کہا گیا ہے ڈاکٹر صاحب مابعد جدیدیت کے پس منظر کو یوں بیان کرتے ہیں”موجودہ حالت میں جو عصری تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان کی نشان دہی کرنا بھی ضروری ہے اول کہ دنیا سائنسی آمریت تنگ آچکی ہے، دوم کہ معاشی ترقی پسندی کی جگہ مجموعی طور پر قنوطیت اور ناامیدی نے لے لی ہے۔ سوم یہ کہ عقلیت پسندی کے ایجاد کردہ عذابوں کو مزید برداشت کرنے سے دنیا نے انکار کر دیا ہے”۔

مابعد جدیدیت بہت سے نظریات کی compound ہے ان نظریات کی شروعات لاکان، دریدا، فوکو، بادریلا، لیوتار کے خیالات ہوئیں۔ چارلس اولسن کہتا ہے کہ “انڈسٹریل اور سامراجی دور کا اختتام مابعد جدیدیت کا آغاز ہے ما بعد جدیدیت جدیدیت کی مخالف تھیوری ہے”۔ ادبی تنقید میں مابعد جدیدیت ساختیات مخالف تھیوری کی حیثیت سے در آئی۔ مابعد جدیدیت اضافیت پر زور دیتی ہے، یہ عقل کے آمرانہ کردار کو کڑی تنقیدی نظر سے دیکھتی ہے۔

مابعد جدیدیت مہابیانہوں (عظیم نظریات، مذاہب کے واقعات و عقائد، اساطیر) سے پرہیز اور کلیت کو ماننی سے انکار کرتی ہے۔ صداقت کی لاتعداد صورتیں ہیں کوئی بھی علم حقیقی نہیں مابعد جدیدیت ہر چیز کو سماجی اور سیاسی سرگرمیوں کے معیار پر پرکھنے کی قائل ہے۔

پس ساختیات رد ساخت (زبان دنیا کی تشکیل، رد تشکیل، طاقت و علم کا تصور) ساختیات (زبان حقیقت کا اظہار، لانگ، پارول، دال، مدلول، Binary opposition، زبان کا سائیکرونک مطالعہ) کی ضد ہے مابعد جدیدیت تکثیریت پر یقین رکھتی ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors london

مجموعی طور پر اس کتاب میں جدیدیت و مابعد جدیدیت سے متعلقہ مبہم فکریات اور استفہام کی وضاحت کی گئی ہے۔ ڈاکٹر آفاقی کا اسلوب تنقید تشریحی ہے۔ اس حسن نے کتاب کی افادیت کو دوچند کر دیا ہے۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply