علی عبداللہ کی تحاریر

قدیم حویلی کا بوڑھا/علی عبداللہ

زمانے کی دھول سے اَٹی ہوئی کسی قدیم حویلی کی طرح، میری روح میں بھی کہانیوں اور تجربات کا ایک خزانہ موجود ہے، جیسے مٹی کی خوشبو ماضی کو سمیٹے رکھتی ہے، ویسے ہی میرے ماتھے کی جھریاں بیتے وقت←  مزید پڑھیے

ایبسرڈ/ علی عبداللہ

کیا زندگی واقعی “ایبسرڈ” ہے؟ امیدیں ٹوٹتی ہیں، خواہشیں بکھرتی ہیں، آرزوئیں دم توڑتی ہیں اور انسان جب عقل کے آگے بے بس ہو جاتا ہے؛ عقل اور منطق سے ہر شئے پرکھنے کی عادت جب اسے کشمکش کے بھنور←  مزید پڑھیے

گوڈو /تحریر: علی عبداللہ

اپنی حالت زار سے لاتعلق دو وجود، قدیم برگد کی مانند اپنے قدم زمین پر مضبوطی سے جمائے کھڑے ہیں۔ ایک جس کی آواز میں بغاوت کی چنگاری محسوس ہوتی ہے، اپنی خود ساختہ تطہیر سے فرار کی تجویز پیش←  مزید پڑھیے

الفاظ کے آئینے میں/علی عبداللہ

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آپ جو پڑھتے  یا سنتے ہیں وہ مکمل طور پر آپ کے ذہن سے پھسل کر دماغ کے کسی تاریک گوشے میں چھپ جاتا ہے، لیکن اس سُنے یا پڑھے میں سے ایک ادھ←  مزید پڑھیے

خیال/ علی عبداللہ

میں اپنے کام سے تھکا ہارا واپس اپنے کمرے کی جانب لوٹ رہا تھا کہ اچانک میں نے سیاہ ناگ جیسی سڑک پر ایک سواری دیکھی جس پر “الایادی” لکھا ہوا تھا۔ میں نے ذرا غور سے دیکھا تو یوں←  مزید پڑھیے

نیا سال/علی عبداللہ

کیلنڈر کا ایک اور ورق پلٹ گیا ہے۔ گھڑی پر سال کے ہندسے بدل چکے ہیں اور رسم دنیا نئے عیسوی سال کے پیغامات بھیجنے کے ذریعے نبھائی جا رہی ہے۔ سوچ رہا ہوں اگر کلینڈر کا ورق نہ پلٹتا،←  مزید پڑھیے

سیاہ کپڑا/عبداللہ

گرمیوں کی دوپہر گلی سے آنے والی سلائی مشین کی آواز میرے کانوں میں کسی دلکش موسیقی کا احساس دلاتی تھی۔ موٹر والی مشین ابھی متعارف نہیں ہوئی تھی، اس لیے یہاں روایتی ہاتھ سے چلنے والی سلائی مشین ہی←  مزید پڑھیے

خط بعنوان نسخہ ءعشق/علی عبداللہ

عزیزم! بہت عرصے سے تمہیں کچھ لکھ نہیں سکا۔ تم جانتے ہو کہ یہ دنیا تضادات سے بھری ہوئی ہے؛ جہاں توجہ طلب چیزیں ہیں انہی میں توجہ ہٹانے والے عناصر کی بھی کثرت ہے۔ میں بھی شاید مقاصد سے←  مزید پڑھیے

خط بعنوان کہانی/علی عبداللہ

عزیزم! کسی نے کہا تھا کہ آخر میں سب کچھ ان کہانیوں اور داستانوں میں بدل جاتا ہے جنہیں ہم دوسروں کو سناتے ہیں- کہانی کئی ہزار سال سے چل رہی ہے اور اسے دلچسپ بنانے میں ہر آنے والا←  مزید پڑھیے

دائرہ/علی عبداللہ

بوڑھے درویش نے اپنی لاٹھی سے زمین پر ایک دائرہ کھینچا اور مجھے کہنے لگا، جانتے ہو یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دائرہ ہے- وہ مسکرا کر بولا حسابی زبان میں یہ دائرہ ہی ہے اور تم جیسے←  مزید پڑھیے

آنکھیں /علی عبداللہ

وہ طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے بولا، کتنا دلکش منظر ہے یہ۔۔۔جیسے کوئی خوبصورت آنکھ، جس میں موجود سرخ ڈورے دیکھنے والے پر گرہ لگا دیں۔ مجھے ان باتوں کی سمجھ نہیں آتی، میں نے سر کھجاتے ہوئے کہا!←  مزید پڑھیے

نام”عبداللہ”/تحریر-علی عبداللہ

میں اپنا سکول دیکھنا چاہتا ہوں۔۔۔وہی سکول جہاں سے میں نے دسویں پاس کی تھی! وہ دور افق کی جانب دیکھتے ہوئے بولا- لیکن اب اتنے سالوں بعد تم وہاں کیوں جانا چاہتے ہو، ایسا کیا ہے وہاں پر؟ میں←  مزید پڑھیے

ایبسٹریکٹ آرٹ/علی عبداللہ

کیا تم نے کبھی تجریدی مصوری جسے ایبسٹریکٹ آرٹ کہا جاتا ہے دیکھی ہے؟ میں نے اس سے سوال کیا۔۔۔ میں بذات خود ایبسٹریکٹ آرٹ کا ایک شاندار نمونہ ہوں، مجھے اور کچھ دیکھنے کی فرصت ہی نہیں، اس نے←  مزید پڑھیے

بدلہ /علی عبداللہ

پائڈ پائپر کا نام تو تم نے یقیناً سنا ہو گا ۔۔۔۔ اچانک وہ اپنے سامنے سے ایک مشہور افسانوی کتاب کو ہٹاتے ہوئے بولی۔     لائبریری کے مرکزی ہال میں کچھ دیر پہلے وہ میرے سامنے والی کرسی←  مزید پڑھیے

بانسری/علی عبداللہ

(برسات کی ایک بارش زدہ شام جب وہ اپنے دوست کو الوداع کہہ کر گاؤں کے ایک بوڑھے آدمی کے ساتھ بارش میں بھیگتا ہوا شہر جانے والی مرکزی شاہراہ کی جانب گامزن تھا تو اس نے بوڑھے سے پوچھا،←  مزید پڑھیے

لیٹر باکس/علی عبداللہ

وہ کب سے اس جگہ موجود تھا کوئی بھی نہیں جانتا یا شاید کسی کو یہ جاننے میں دلچسپی ہی نہیں تھی۔ البتہ یہ بات طے تھی کہ وہ علاقے کے لوگوں کے رازوں کا امین تھا۔ یہاں کے لوگ←  مزید پڑھیے

ادھورا خواب/علی عبداللہ

یہ ایک ویران اور وسیع و عریض ریگستان تھا۔ رات کا آخری پہر تھا اور چودھویں کا چاند سامنے افق پر ہمیشہ کی طرح ساحرانہ کیفیات لیے روشن تھا۔ چاند جب مکمل روشن ہو تو ستاروں کی جانب نگاہیں کم←  مزید پڑھیے

تالہ/علی عبداللہ

فیمنسٹ سیاست کا مسئلہ یہ ہے کہ یہاں بھی ایسے لوگوں کا راج ہے جن کو سِرے سے فیمینزم کا اصل مفہوم معلوم ہی نہی، وہ فیمینزم کا نعرہ لگاتے ہوئے اس نہج تک پہنچ جاتے ہیں جہاں ان کا←  مزید پڑھیے