مکالمہ - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 26 )

دین اور دنیا کی جدائی ضرور ی ہے۔۔۔اسد مفتی

میرے نزدیک کسی بھی واقعہ،حادثہ یا تخلیق کی اہم وجہ اور بڑی خوبی کوئی بنتی ہے تو وہ یہی ہے کہ یہ واقعہ یا تخلیق پڑھنے یا سننے والے کو متحرک کردے،کہ میرے جیسے شخص کے لیے ہی زندہ رہنے←  مزید پڑھیے

چراغ، یاک اور بیگم۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

پامیر کا دل اور واخان کاریڈور کی وادی بروغل میں دمکتی کرمبر جھیل تک پہنچتے مجھے مسلسل پیدل چلنے کی تھکاوٹ سے بخار ہو چکا تھا۔میرا پورٹر سیف اللہ جھیل سے واپسی والے دن میرے پاس آیا اور بولا “صاحب←  مزید پڑھیے

دی رائزنگ آف شکاگو۔۔۔۔ملک گوہر اقبال خان رما خیل

جب مون سون کی بارشیں شروع ہوتی ہیں تو ہوا کے دوش پر رقص سحاب ہوتا ہے۔ پھوار کا ہلکا سا نقاب حسینہ ء   فطرت کے چہرے پر آویزاں ہوتا ہے۔ ہر طرف سبزہ لہراتا ہے، پھول پتیاں بارش←  مزید پڑھیے

اندیشے۔۔۔۔ثمرہ حمید خواجہ

آج تمہارا جنم دن ہے خوشیوں سے بھرپور دن اور میں بیلےکی کلیاں اور موتیے کے پھولوں میں ان گنت چاہت کےرنگ پرو کر تمہیں تحفہ بھیج رہی ہوں میں ہر سال ایسا کرتی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ←  مزید پڑھیے

پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے۔۔۔۔راحیلہ کوثر

مجھے یاد ہے کہ جب میں 2012 میں صحافت کی طلبہ تھی تو میرے ادارے کی ان چند طالبات میں میرا بھی شمار ہوتا تھا جو برقعہ،حجاب یا ڈوپٹہ کولازم و ملزوم سمجھتی تھیں اور ہمیں کچھ ان الفاظ میں←  مزید پڑھیے

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے:وزیر اعظم صاحب کے نام خط۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

خان صاحب! السلام علیکم! میں شروع کروں گی 2007 سے جب زمانہ طالبعلمی ختم ہوا تھا اور ابھی روزگار کی تلاش جاری تھی۔ ایسے میں فارغ وقت گزارنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لینا شروع کیا۔ ایک تو یہ کہ←  مزید پڑھیے

غزل۔۔۔۔حمیدہ شاہین

ہم غیر سمجھتے اُسے ایسا بھی نہیں خیر لیکن وہ کسی کا نہیں اپنا بھی نہیں خیر جو سوچتے رہتے ہیں وہ کرنا نہیں ممکن کرنے کے ارادے سے تو سوچا بھی نہیں خیر شہرا ہے کہ رسوائی کی تصدیق←  مزید پڑھیے

میری زلیخاں۔۔۔۔رابعہ الرَبّاء

وہ آداب عشق سے تھی آشنا اس نے سارے اعتراف کر لئے اس نے سجدے در بددر کیے اس نے چھوٹے خدا بھی سَر کیے اس نے آنکھیں اپنی کھو کر بھی دیدار سارے من مندر میں در لئے وہ←  مزید پڑھیے

اذیت سی اذیت۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مبہوت کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسا واقعہ کہ جس نے مجھ سے میری قوت گویائی چھین لی ہے۔ میں لب کشائی کرنا چاہ رہا ہوں لیکن الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے ہیں۔ میری←  مزید پڑھیے

اگر وہ بے گناہ نکلا تو؟۔۔۔۔سہیل وڑائچ

حیران ہوں کہ ہم خوف زدہ بھیڑوں بکریوں میں یہ سرکش بوبکرا کیسے پیدا ہوگیا۔ ہم گھر بیٹھے ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں اور وہ برسرِ عدالت کہتا ہے کہ جتنا مرضی ریمانڈ دے دیں میں تو وکیل بھی نہیں←  مزید پڑھیے

کیونکہ میں ہندو ہوں ۔۔۔حامد میر

برطانیہ کے شہر بریڈ فورڈ کے سٹی کونسل ہال میں منعقدہ کشمیر سیمینار میں اظہارِ خیال کے بعد باہر آیا تو ایک پرانے دوست کو سامنے کھڑا دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اس دوست کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے←  مزید پڑھیے

شادی ہمارے بھائی کی۔۔۔ابنِ ریاض

اس برس کی ابتدامیں ہی ہمیں گھر والوں نے بتا دیا تھا کہ چھوٹے بھائی کی شادی کرنی ہے۔ ۔،طے یہ پایا کہ ہماری تعطیلات کے دوران ہی اس فرض سے سبکدوش ہونا ہے،۔ ہم نے بزرگوں کو بہت سمجھایا←  مزید پڑھیے

علمِ دین اور دنیاوی مناصب۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

دین کا علم حاصل کرنے سے کیا مقصود ہونا چاہیے، یہ سوال برِ عظیم میں اس وقت سے گردش میں ہے جب علمِ دین حاصل کرنے والوں کو مدد معاش کے لیے قرار واقعی عملی میدان میں اترنا ٹھہرا اور←  مزید پڑھیے

جی آئی ڈی سی (گیس انفرا سٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس) ۔۔۔۔۔شاہد عثمان

جی آئی ڈی سی (گیس انفرا سٹرکچر ڈیویلپمنٹ سیس) ترمیمی آرڈیننس ۲۰۱۹ نے سیاسی منظرنامے پر خوب ہلچل مچا رکھی ہے۔ یہ نیا قانون ایک معاشی فیصلہ ہوتے ہوئے بھی غیرمعمولی سیاسی اہمیت کا حامل اس لئے بن گیا کہ←  مزید پڑھیے

عُروجِ محبت۔۔۔محمد یاسر لاہوری/حصہ اوّل

ٹوٹتے، بُجھتے اور ڈوبتے دل کے ساتھ میری لکھی ہوئی یہ تحریر محبتوں کے ان سوداگروں کے نام جو اپنی سچی اور پاک محبتوں کو بطور زینہ استعمال کرتے ہوئے اپنے خالق کے سامنے نافرمانی کے ہتھیار ڈال کر خود←  مزید پڑھیے

قلندر کی ہیر۔۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط8

اتوار کو پنڈی کلب کے گیٹ پر بلال زمان صوبیدار صاحب کا منتظر تھا، اسے انہوں نے بُلایا تھا، کلب کے رہائشی بلاک میں کرنل محمدخان کے فلیٹ پر دونوں پہنچے تو وہاں جج قاضی گل صاحب، ضمیر جعفری صاحب←  مزید پڑھیے

تلاش گمشدہ علمائے حق ۔۔۔سید عارف مصطفٰی

میں کئی روز سے سخت مضطرب ہوں کیونکہ امت پہ عجب سخت وقت آکے پڑا ہے اور خود کو زور و شور سےانبیاء کا وارث ٹھہرانے والے علمائے کرام لاپتہ ہیں، خصوصاً وہ حضرت کہ نامور و مشہور فنکاروں سے←  مزید پڑھیے

فروا۔۔۔۔۔نادیہ عنبر لودھی

وہ بھولی بھالی شکل وصورت والی معصوم بچی تھی جس کی عمر آٹھ سال تھی اس کا نام فروا تھی -اس کے والدین ملازمت پیشہ تھے -ماں ایک اسکول میں استانی تھی اور باپ ایک سرکاری محکمے میں ملازم تھا←  مزید پڑھیے

موت۔۔۔۔میمونہ عباس

میں نے دیکھا کہ موت رقصاں ہے ! ہاسپٹل کے سفید بستر پر اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کے بیچ آنسو بہتے تمہارے گالوں پر سسکیوں اور ہچکیوں کے بیچ اپنے ماتھے پر آخری بوسہ ثبت کرتے تمہارے ہونٹوں پر اور←  مزید پڑھیے

یونیفارم والے قاتلوں کے گینگ سے مُردے صلاح الدین کا سوال۔۔۔۔رمشا تبسم

یہ دنیا ہم جیسے کئی  انسانوں کے لئے اب رہنے کے قابل نہیں یا شاید ہم ہی اس دنیا میں رہنے کے قابل نہیں کیونکہ ظلم و جبر , زیادتی قتل و غارت کے دور میں ایک عام آدمی واقعی←  مزید پڑھیے