دین اور دنیا کی جدائی ضرور ی ہے۔۔۔اسد مفتی

میرے نزدیک کسی بھی واقعہ،حادثہ یا تخلیق کی اہم وجہ اور بڑی خوبی کوئی بنتی ہے تو وہ یہی ہے کہ یہ واقعہ یا تخلیق پڑھنے یا سننے والے کو متحرک کردے،کہ میرے جیسے شخص کے لیے ہی زندہ رہنے کا جواز ہے۔
پاکستان میں وسیع الدین،کشادہ دلی،متحمل و بردباری تو آگے نہ بڑھی البتہ ہمارا سماجی رویہ اور کردار انتہائی تنگ ہوتا گیا۔جو آج تک ہمارے ساتھ ہے۔
کتنی عجیب بات ہے کہ اپنی تنگ نظری اور عادتوں اور رواجوں کی کمزوریوں کو یہ کہہ کر نظر انداز کردینا چاہتے ہیں کہ ہمارے بزرگ اسلاف بڑے لوگ تھے،ماضی کی درخشندگی کا احساس اقوام کے تشخص کے لیے ضروری تو ہے۔لیکن تیزی سے بدلتے ہوئے تہذیبی،تعلیمی اورسماجی منظر نامے میں ماضی کی یہ عظمتیں کسی قوم کے تشخص کی واحد پہچان نہیں ہوسکتی۔قوموں کا مجموعی تشخص تب تک نہیں بنتاجب تک عصری اور جدید علوم فکر و عمل کا حصہ نہ بن جائے۔

موجودہ دنیا مختلف قسم کے اسباب اورحوال سے بھری پڑی ہے۔یہ اسباب و احوال ہم سے الگ اپنا وجود رکھتے ہیں۔او ر آپ اپنے زور پر قائم ہیں،ہم ان سے ہم آہنگی کرکے اپنا مقصد حاصل کرسکتے ہیں۔ان کو نظر انداز کرکے منزلِ مقصود پر پہنچنا ہمارے لیے ممکن نہیں،اس صورتِ حال کے تقاضوں میں سے ایک تقاضا یہ ہے کہ آدمی میں یہ صلاحیت ہو،وہ پیش آمدہ حالات سے پوری طرح ازسرِ نوء غور کرسکے،وہ مسئلے کا نیا حل دریافت کرنے کی طاقت فہم اور جرات رکھتا ہو۔
میرے حساب سے صرف تعلیم محض نہیں رہی بلکہ اس تعلیم کا ایک ارفع،ہمہ گیر،روشن خیال،وسیع،دُور رَس اور زندگی دوست تصور رکھنا ہے۔میرے نزدیک ملک عزیز میں کچھ حلقے اور گروپ موت کو زندگی کے نام سے متعارف کرارہے ہیں،اور یہ طے ہے کہ تعلیم میرے نزدیک ایک سماجی پہلو کی حامل ہے۔،ایک ضابطہ ء حیات مقصدیت اور افادیت کی حامل ہے۔میرے حساب سے کوئی چیز اس سے زیادہ خطرناک نہیں کہ آدمی اپنے دل و دماغ میں صرف ایک ہی تصور رکھتا ہو،ون بک اور لائبریری تسخیر کا پیش خیمہ نہیں بن سکتی۔

دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کی رائے یہ ہے کہ عصری تعلیم و تربیت کی زنجیروں ہی سے دہشت گردی کے جن کو قابو کیا جاسکتا ہے۔یہ دانشور اور ماہرین یہ سوال بھی پوری شدت سے اٹھاتے ہیں کہ ہم میں برداشت،در گزر،رواداری اور بھائی چارے  کے مادے کی کمی کیوں ہے؟۔۔۔ ان کے تجزیہ کے مطابق ان سب باتوں کی کمی کی بنیادی وجہ عصری تعلیم میں پیچھے رہ جانا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بغیر معیاری اور عصری تعلیم کے نہ تو ہم موجودہ دہشت گردی یا انتہا پسندی کے مدِ مقابل آسکتے ہیں اور نہ ہی دنیا کے دوسرے ملکوں کے مقابلے میں کھڑے ہوسکتے ہیں،تعلیم دنیا میں امن قائم کرنے کیلئے اہم ہے،کہ دہشت گرد اور انتہا پسندی کو کتاب اور قلم سے ہی شکست دی جاسکتی ہے۔

آج دنیا کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ تشدد کا پھیلتا ہوا دائرہ ہے۔اس تشدد کی آگ نے انسانیت کو اپنی آغوش میں لے رکھا ہے۔جس سے پاکستان بھی بُری طرح متاثر ہورہاہے۔برصغیر کی تاریخ گواہ ہے کہ یہ ہمیشہ سے امن کا پیغامبر رہا ہے۔یہ دنیا کو انسان دوستی اور بھائی چارے سبق دیتا رہا،جیسا کہ بیسویں صدی کے عظیم دانشور و مفکر روماں ورؤں نے برصغیر کے بارے میں کہا ہے کہ”اگر اس سرمین پر کوئی ایسی جگہ ہے جہاں تہذیب کے آغاز کے دنوں سے ہی انسان کے سارے خواب اور ارمان پورے ہوتے رہے ہیں تو وہ جگہ برِ صغیر ہے”۔
لیکن تلخ سچائی کہ آج ا برصغیر کے ایک حصے یعنی پاکستان کے سامنے بھی ایک بڑا چیلنج ہے کہ آخر کس طرح ملک میں تشدد کی چنگاری جو کہ شعلہ بن چکی ہے، پرمنوں پانی ڈال سکے۔

یہ سوال بہت پہلے اور کئی بار اٹھ چکا ہے،کہ اخر ملک میں امن بحالی اور تشد د کے خاتمے کے لیے کونسا راستہ اپنایا جائے،اس مسئلے پر ہمارے دانشوروں نے الگ الگ اپنی رائے دی ہیں،لیکن میرے حساب سے ملک میں تشدد،انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سب سے اہم تعلیمی نصاب کو آلہ اور ہتھیار بنا کر نئے سرے سے نافذ اور رائج کیا جائے۔اس معاملے میں میری اپنی سوچ و فکر اور رائے بالکل صاف اور وا ضح ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر اگر سکول کے نصاب میں اخلاقیات،تحفظِ انسانیت،انصاف،سماجی مساوات اور سیکولرام کے اسباق کو شامل کیا جائے،موجودہ نصاب نے ہماری موجودہ تعلیم کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے،آج سکول و کالج میں جوتعلیم دی جارہی ہے اس سے طلبہ کے کردار و افکار میں تضاد رہتا ہے۔ ایسے میں بدامنی اور تشدد کو پھیلنے کا موقع تو ملے گا ہی۔۔۔ہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ ندگی کے کسی شعبے میں ترقی ا س وقت تک ناممکن ہے جب تک امن و سکون نہ ہو اور جہاں تک سوال ہے انسان کی زندگی کی کامیابی کا،تو اس میں تعلیم کو مرکیت حاصل ہے اور اگر تعلیم کے اندر خرابی ہو تو آخر کس طرح کوئی اپنی منزل تک کا میابی سے پہنچ سکتا ہے۔

میرے حسا ب سے انسان کے لیے سب سے اہم چیز علم ہے،اگر انسان علم سے بے بہرہ ہو تو اس کا معاشرے میں جینا بے کار ہے۔
معاشرے کو بگاڑنے کے لیے کچھ حلقوں نے صورِ قیامت پھونک رکھا ہے،اور پاکستانی معاشرے میں برائی کے غلبے کی انتہا یہ ہے کہ برائی و لا وجہ افتخارعلمی،ندامت و شرمندگی کا سبب بننے اور معذرت خواہی کا باعث بننے کے بجائے وجہ ء افتخار اور باعثِ اعزاز بن گیا۔اور مشکل یہ ہے کہ قدیم علوم اور مذہبی معاملات کے جاننے والے جدید اور عصری علوم پر مہارت رکھنے والوں کو جاہل سمجھتے ہیں۔۔۔اور یہ ان کی جہالت پر آنسو بہاتے ہیں۔

قضیہ یہ ہے کہ بنیاد پرستی دراصل رواں پانی کو ٹھہرا دینے کے مماثل ہے، جس سے پانی اور فکر دونوں سڑنے لگتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ بنیاد پرست دانشور”اپنی بے بسی پر لگتا ہے”جھنجھلائے ہوئے ہیں،میں پہلے بھی کئی بار کہہ چکا ہوں کہ یہ دورمعلومات کی چو طرفہ بوچھاڑ کررہا ہے،لیکن علم کے خانے کو خالی چھوڑے ہوئے ہے،معلومات اور علم کے فرق کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا،محض معلومات سے (مثال ڈاکٹر ذاکر نائیک)شخصیت کے جوہر نہیں کُھلتے،علم کے حصول اوراسے انگیز کرنے سے کُھلتے ہیں،کہ معلومات سے صرف حافظے کا تعلق ہے جبکہ علم ذہن کو روشنی،روشن خیالی،عصری سوچ،بھائی چارہ،اور شخصیت کو توانائی عطا کرتا ہے۔
میں جانتا ہوں میری یہ بات اربابِ اختیار اومفتیانِ دینِ متین کے گلے سے نہیں اترے گی،لیکن ایک بار انہیں پھر سے غور کرنا ہوگا کہ نظر ہونا اور بات،نظریہ ہونا دوسری بات!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *