قلندر کی ہیر۔۔۔۔محمد خان چوہدری/قسط8

اتوار کو پنڈی کلب کے گیٹ پر بلال زمان صوبیدار صاحب کا منتظر تھا، اسے انہوں نے بُلایا تھا، کلب کے رہائشی بلاک میں کرنل محمدخان کے فلیٹ پر دونوں پہنچے تو وہاں جج قاضی گل صاحب، ضمیر جعفری صاحب پہلے سے موجود تھے۔
تعارف سلام دعا ، مصافحہ معانقہ میں بھی، اس جوان کی موجودگی کی وجہ سے ماحول خاصا فارمل اور سنجیدہ رہا۔
صوبیدار صاحب نے جج صاحب کو فائل کور تھماتے بریف کیا کہ یہ معاہدہ ان کی  مسمات بی بی گلاب بانو اور اس کی والدہ پھُلاں بی بی کے درمیان بابت تبادلہ انکی گاؤں میں زمین کا ہے، جج صاحب نے پڑھا ، کلب کے ایکسچینج آپریٹر سے رورل ایریا مجسٹریٹ کے گھر فون ملوایا ، کوائف نوٹ کرائے، بتایا کہ کل صبح اس پہ  مہر تصدیق ثبت کر دیں۔
یہ بھی سمجھایا یہ گھریلو معاملہ ہے زیادہ تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں ، مجسٹریٹ کا نام ،پتہ ،فون اسی فائل کور پر  لکھ دیئے،اب صوبیدار صاحب نے مختصر تفصیل بیان کی، پھُلاں بی بی کی مورگاہ ٹرانسفر پہ  بات پہنچی تو کرنل صاحب نے ڈائریکٹر ہیلتھ کو فون کھڑکا کے اس میں مدد کرنے کا کہہ دیا، انکے نمبر صوبیدار صاحب کو دیئے۔
اتنی دیر میں چائے آ گئی، ضمیر جعفری صاحب جو صوفہ نشین اور خاموش تھے، انہوں نے دراز ٹانگیں سمیٹ کے کھنگورا  بھرا، سب متوجہ ہوئے تو فرمایا۔۔
کہ محکمہ صحت والوں کا،

 

 

 

 

 

 

 

راستہ ہے سیدھا براستہ ۔ جانا پڑے جو خدانخواستہ
پڑ  جائے جس کا واسطہ، بِھڑوں کا بن جائے ناشتہ
محفل یک لخت زعفران  زار ہو گئی، کرنل صاحب بولے، جعفری صاحب اب آپ دکھاؤ راستہ !
جعفری صاحب چائے کا کپ تھامے، بسکٹ کھاتے، لٹکتے مٹکتے اٹھے ، فون لیا، آپریٹر نے انکی آواز سنی ،
تو اسُ نے کھٹ سے سلام کرتے کہا۔ مُرشد جی حکم! جعفری صاحب بھی پہچان گئے ، فرمایا۔۔۔۔
“جیوندا رہ شیر خاناں، انج کر جہلم ڈی ایچ او کفایت شاہ نوں لبھ  کے گل کرا ۔

اب انہوں نے فاتحانہ انداز میں سب کو دیکھ کے کہا۔۔ کام ایسے نہیں  ۔ہوتے ،فون پہ  افسری جھاڑنے سے ،ہر جگہ اپنے بندے رکھتے ہیں، یہ بیچارہ بڈھا صوبیدار کہاں مارا مارا پھرے گا، فوج تھوڑی ہے ، سول کے محکمے ایسے کام نہیں  کرتے۔۔
کرنل صاحب نے گیند جج صاحب کی طرف پھینکی ، کہنے لگے یہ آپ پر پھبتی ہے،
جج صاحب مسکرا کے بولے ، جہلم بات ہو گی تو لگ پتہ جائے گا۔۔۔
اتنی دیر میں کال مل گئی، کفایت شاہ لائن پر تھے، جعفری صاحب نے صوبیدار صاحب کے گاؤں کے رورل ہیلتھ سنٹر سے مورگاہ سینٹر پھُلاں بی بی اور بلال زمان کی ٹرانسفر، معہ سروس ریکارڈ ، واجبات، بلا حیل و حجت اور تاخیر کرنے کے احکام رعب اور دبدبے سے ، باوا شاہ جی کے انداز میں دیئے،
صوبیدار صاحب بلال کے نروس ہونے کو دیکھ رہے تھے، سب نمبر اور رابطے فائل پہ  لکھ کے اسے رخصت کر دیا۔۔۔
اب جج صاحب نے دھیمے سے صوبیدار کو چھیڑا، یار اتنے پرانے دوست ہو، پہلے بتاتے تو اس معظمہ پھُلاں سے تمہاری شادی کرا دیتے، ان بکھیڑوں کی ضرورت ہی نہ پڑتی،کرنل صاحب نے فوری طور پہ  حامی بھری، صوبیدار نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ۔۔ کرنل صاحب یہ آپ بھی ؟؟
یار آپ خود ڈوب رہے ہو مجھے کیوں ساتھ ملا رہے ہو، آپ کا حشر دیکھ کے تو ۔۔۔
اس سے آگے کی گفتگو چار بے تکلف دوستوں میں مکالمہ ناقابل اشاعت ہے، یاد رہے کہ یہ پچھلی صدی کی ستر کی دہائی  کے اوائل کی بات ہے، صوبیدار صاحب چاروں میں بڑے تھے جو دو سال قبل پچاس باون سال کی عمر میں ریٹائر ہوئے تھے باقی تینوں اس وقت بھی باوردی تھے، ہمیں انکے نیاز گرائیں برخوردار ہونے کے ناطے حاصل تھے اور ہمارا دفتر بھی کلب بلڈنگ میں تھا ۔ اس سیشن کا فائدہ یہ بھی ہوا کہ چاروں دوستوں نے مل کے گلاں کی شادی اور جہیز کا بندوبست کر دیا۔

بلال محکمہ صحت میں سال بھر نوکری کر چکا تھا، اگلے دن اس نے مجسٹریٹ سے معاہدہ تصدیق کرایا، شام کو گاؤں گیا۔۔۔دو دن میں جہلم تک دفاتر سے سفارش اور ذاتی سلام دعا سے معاملات کلیئر کرا کے پنڈی ڈائریکٹر کے آفس میں ضروری کارروائی  مکمل کرا لی، گلاں کی اماں نے مورگاہ سنٹر جوائن کر لیا۔
مورگاہ والا گھر تیار تھا فرنش بھی ہو گیا، شادی کی تاریخ طے ہوئی  تو پھُلاں بی، بلال اور صوبیدار صاحب گاؤں گئے۔
گلاں کے گھر کا سامان پنڈی آ گیا، بکریاں بک گئیں، اور وہ گھر صوبیدار صاحب نے گرلز سکول کی ہیڈ مسٹریس کو رہنے کے لئے دے دیا۔

گلاں اور بلال کی شادی سادگی سے ہو گئی، کالونی میں بنی دو دکانوں میں بلال نے ڈسپنسری بنا لی، جس کے ساتھ پھُلاں بی کی مڈ وائف کی پرائیویٹ پریکٹس بھی چل پڑی، سال کے بعد گلاں اور بلال کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام دادا نے خاور زمان رکھا، اور وہ اسے پیار سے ڈاکٹر بلاتا تھا ۔
گلاں کی اماں پھُلاں بی نے احسن فیصلہ کیا کہ گلاں کو گاؤں لے کر گئی ہی نہیں ، اپنا بستر بوریا بھی وہاں سے سمیٹ لائی
خاندانی زمین کی ملکیت پٹوار اور محکمہ مال کے موجودہ ریکارڈ میں بحال ہو گئی ، دستاویزات بن گئیں۔سائیں غلام باوا وڈے شاہ کے مزار کا مستند مجاور بن گیا، دربار سے نیچے ایک چبوترے پر زائرین کے لئے جگہ بنائی  گئی۔جہاں کھانے پینے اور بیٹھنے کا بندوبست تھا، ملنگ بھی وہیں رہتے، زیارت سے ملحق چبوترے پر سائیں کی کوٹھڑی تھی،وہ اکیلا اس میں رہتا، کُوندر کی پھڑی کا فرشی بستر بچھونا تھا، زائرین سلام کرنے آتے چڑھاوا چڑھاتے اور نچلے چبوترے پر  قیام کرتے، جمعرات کو عصر کے بعد دربار پر  سائیں ہارمونیم، طبلہ اور چمٹے سے ملنگوں کے ساتھ مل کے منقبت گاتا، یہاں سانپ بکثرت تھے، پتہ نہیں  کدھر سے مور بھی آ گئے جو شام گئے دربار پر آ جاتے۔۔


جمعہ کو سائیں غسل ضرور کرتا، کپڑے بدلتا، دن ڈھلے گاؤں جاتا، سوتیلی ماں اور بہنوں کو خرچہ دیتے جیب خالی کر آتا۔۔۔واپسی پہ  وہ چمٹے کے ساتھ گدا کی صدا لگاتے چلتا، گلاں کے گھر جہاں اب بھونگر کی جگہ گیٹ اور دیوار بن چکی تھی۔۔اس کے سامنے رکتا، سکول والی میڈم اپنی مائی  کے ہاتھ اسے پیکڈ کھانا بھیجتی ، یہ ہر جمعے کا معمول تھا۔

پتہ نہیں  میڈم کچھ جانتی تھی یا سائیں اسے گلاں سمجھتا تھا، خیرات وہ اس گھر سے لے جاتا۔۔چاروں ملحقہ دیہات میں لوگ سائیں کو پیر کا درجہ دیتے تھے، گلاں کو تو سب بھول بھال گئے،وقت کا پہیہ گھومتا رہا، کل کے جوان بوڑھے ہو گئے کتنے بزرگ راہی عدم سدھارے۔۔بیس بائیس سال پلک جھپکتے گزر گئے!
جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *