سعدیہ سلیم بٹ کی تحاریر
سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے:وزیر اعظم صاحب کے نام خط۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

خان صاحب! السلام علیکم! میں شروع کروں گی 2007 سے جب زمانہ طالبعلمی ختم ہوا تھا اور ابھی روزگار کی تلاش جاری تھی۔ ایسے میں فارغ وقت گزارنے کے لیے انٹرنیٹ کا سہارا لینا شروع کیا۔ ایک تو یہ کہ←  مزید پڑھیے

وقت اے وقت! ٹھہر جا (ڈاکٹر انور سجاد سے ایک ملاقات)

بعض واقعات انسان پر کچھ ایسے اثرات چھوڑ جاتے ہیں جو بظاہر محسوس نہیں ہوتے لیکن جن پر گزرتے ہیں وہ اس کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سجاد سے ہونے والی ملاقات بھی ایک ایسا  ہی واقعہ  ←  مزید پڑھیے

میں زہر ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند۔۔۔ سعدیہ سلیم بٹ

پیالی میں طوفان اتنا شدید تھا کہ لگتا تھا سب کچھ اس طوفان کی زد میں بہہ جائے گا۔ لیکن تھم ہی گیا۔ میرے ناقدین سر آنکھوں پر۔ لیکن کچھ حامیوں کا مشورہ تھا کہ اس طوفان کی مکمل سرگزشت←  مزید پڑھیے

قلم کی نوک پہ رکھوں گی اس جہان کو میں /خواب سے حقیقت تک – سعدیہ سلیم بٹ /قسط3

گریجویشن کی ابتدا تھی۔ کچھ دوستوں کی شادیاں طے ہوئیں ۔ کچھ اچھا لگا۔ کچھ عجیب لگا۔ اچھا کیوں لگا، یہ معلوم نہیں۔ شاید ناولوں میں جو پڑھ رکھا تھا، اس کا اثر تھا۔ عجیب اس لیئے لگا کہ ناولز←  مزید پڑھیے

زمزمہ – قلم کی نوک پر رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ/حصہ دوم

خواب بُننے کی عمر: ہم اس دور کے بچے ہیں جب اماں ابا سیدھے سادھے تھے اور ان کا رعب بھی ہوتا تھا۔ ہمیں اپنے بچپن میں سرخی پاؤڈر کی بھی اجازت نہیں تھی۔ انٹر تک ایڑی والا جوتا بھی←  مزید پڑھیے

زمزمہ – قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

لکھنا میرا پہلا شوق تھا۔ میں نے بچپن میں کھلونوں کی جگہ پینسل سے کھیلا ہوا ہے ۔ اداسی ہوتی، خوشی ہوتی یا ناراضی ہوتی، میرا کتھارسس لکھنے میں ہی تھا۔ لیکن میں کبھی اپنے آپ کو مبالغے میں نہیں←  مزید پڑھیے

تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

شام کے سائے بڑھتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے زندگی کروٹ لے کر بیدار ہو گئی ہے۔ کسی گھر میں پلی بلی کی طرح٬ جو سارا دن سوتی ہے اور شام ڈھلتے ہی بیدار ہو جاتی ہے اور پھر صبح←  مزید پڑھیے

داستاں سود خوروں کی

اگر مجھے صحت والی عمر ِخضر    مل جائے  تو وہ میں یوسفی صاحب کو دوں گی تاکہ وہ مزید لکھ سکیں۔ یوسفی صاحب لکھاریوں میں وہ یوسف ہیں جن کے پڑھنے والے دنیا کے بڑے بڑے لکھاریوں کو بھی←  مزید پڑھیے

مرو تو موت کہے کون مر گیا یارو…

کچھ باتیں ایسی ہیں جو ماضی کے جھروکے سے نکل نکل کر آج میرے شعور کے دروازوں پر مسلسل ٹکرا رہی ہیں. اگرچہ آج اس سانحے کو گزرے بہت دن ہو چکے ہیں. لیکن غم کی تکمیل آج ہوئی ہے.←  مزید پڑھیے

عورت کارڈ اور جدائی کے اسباب

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ ایک پروفیشنل کے لیے جہاں ایک ادارے کے ساتھ چلنے کا سلیقہ ہونا ضروری ہے وہاں یہ بھی ضروری ہے کہ←  مزید پڑھیے

سانحہ احمد پور – سدباب کیسے ہو

سانحہ احمد پور شرقیہ کے لئے یہ کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا کہ”کج شہر دے لوک وی ظالم سن ,کج سانوں مرن دا شوق وی سی”. بدقسمتی سے ہم پر اتنی مصیبتیں ہمہ وقت نازل ہوتی ہیں کہ ایک←  مزید پڑھیے

بچھڑنے والی روح کا نوحہ

پچھلے کئی سال سے حسرت ہونے لگی ہے کہ عید کا تہوار ایسا آئے کہ دل اندر سے خوش ہو. جب خوشی مناتے ہوئے احساس ِ جرم دامن گیر نہ ہو. کسی ہنسی کے پیچھے ضمیر کی ملامت پوشیدہ نہ←  مزید پڑھیے

موٹیویشنل اسپیکر

آپ یقین کریں یا نہ کریں دو جمع دو چار صرف ریاضی میں آتا ہے. یہ حساب کتاب جب زندگی میں لگانے بیٹھیں تو دو جمع دو صفر بھی ہو سکتا ہے. نیز محاورے کے دو جمع دو کے علاوہ←  مزید پڑھیے

لہو لہو کشمیر

آج سے اٹھارہ برس قبل 1998 میں مجھے سرینگر وادی کو دیکھنے کا موقع ملا. 12 سال کی ایک بچی کے لیئے سب سے زیادہ دل پگھلانے والا نظارہ اس کی ماں کے زاروقطار بہتے آنسو ہی ہو سکتے ہیں.←  مزید پڑھیے

صاحب، بی بی اور عذاب

صاحب، بی بی اور عذاب سعدیہ بٹ شوہر ہونے کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ آپ سچ بھی بول رہے ہوں تو جھوٹے ہی لگتے ہیں. اور بیوی ہونے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ←  مزید پڑھیے

وتواصو بالحق وتواصو بالصبر

اللہ نے ایمان والوں پر روزے فرض کیے. ایمان والوں نے پکوڑے خودہی فرض کروا لیئے. حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اب ایسا لگتا ہے پکوڑا اس لیئے دنیا میں نہیں آیا کہ اس سے روزہ کھولا←  مزید پڑھیے

ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا…

آج سے دو سال قبل میری شادی ہوئی تو پانچ دن بعد ہی رمضان تھا. کشمیری ہونے کی وجہ سے مجھے لگتا تھا کہ دنیا میں جب من و سلویٰ کا نزول ہوتا ہو گا تو یقیناﹰ وہ چاول سے←  مزید پڑھیے

شکوہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا…

لفظ بھکاری مجھے کبھی بھی پسند نہیں رہا ہے. اس لفظ میں تحقیر کا ایک عنصر ہے جو غالب ہے. مرزا اسد اللہ غالب نے کہا تھا میں نے مجنوں پہ لڑکپن میں اسد سنگ اٹھایا تھا کہ سر یاد←  مزید پڑھیے

خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

کوئی اس کو نفسیاتی مسئلہ کہے یا خاتون ہونے کا شاخسانہ، بہرحال یہ طے ہے کہ دسمبر مجھے شدید قسم کے جائزے کا شکار کرواتا ہے. ایک ان چاہی سی خود احتسابی ہوتی ہے جو اندر ہی اندر مسلسل اکتیس←  مزید پڑھیے