وتواصو بالحق وتواصو بالصبر

اللہ نے ایمان والوں پر روزے فرض کیے. ایمان والوں نے پکوڑے خودہی فرض کروا لیئے. حتی کہ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ اب ایسا لگتا ہے پکوڑا اس لیئے دنیا میں نہیں آیا کہ اس سے روزہ کھولا جائے. بلکہ روزہ اس لیئے فرض ہوا کہ پکوڑوں کے فیوض و برکات سے پورا ماہ استفادہ کیا جائے. دین کی تعلیمات جس تواتر اور جس حساب سے ہر روز نئی شرح کے ساتھ سامنے آ رہی ہیں، گمان غالب ہے کہ اچانک ایک دن پکوڑوں کی فرضیت پر کوئی آیت نہ بھی ملی تو ان کی فضیلت پر اسلاف کا کوئی فرمان نکل ہی آئے گا.
میں اپنے بچپن کا رمضان یاد کروں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ تب غالباً وقت میں برکت تھی اور ایک سال بعد جب رمضان آتا تھا تو باقاعدہ ایسا لگتا تھا کہ مدت کے بعد ملے ہیں. شب معراج کے بعد تو لگتا تھا وقت رک رک کر گزرتا تھا. رمضان کا ذکر آتا تھا تو عبادات کا تصور آتا تھا. اگرچہ افطار کے اہتمام کا انتظام تب بھی کیا جاتا تھا لیکن تب یہ اہتمام اس ماہ مبارک کی تعظیم کے لیئے تھا. سحری میں کھانے کو اشتہا نہیں بلکہ تقلید سنت مانا جاتا تھا. افطار میں دو سے تین اشیاء دسترخوان کی زینت بنتی تھیں. افطار سے ڈیڑھ گھنٹہ قبل والدہ رسوئی کا رخ کرتیں اور ہم بچے شوق شوق میں ان کا ہاتھ بٹانے چل پڑتے. رمضان کی سب سے بڑی رنگینی پندرہ رمضان کے بعد ماں کے ساتھ بازار جا کے تحفے خریدنا ہوتا تھا. پھر ایک روزہ دوپہر ظہر سے عصر تک تلاوت چھوڑتے اور تمام تحائف پیک کرتے اور عید کارڈ لکھتے اور اس ایک دن پر بھی گھر والوں سے سننے کو ملتا کہ صبح سے وقت برباد کر رہے ہو ۔ عبادت کے مہینے میں بھی ان کا شیطان نہیں بند ہوتا. پندرہ رمضان کے بعد ہی گھر میں امید ہوتی کہ اب عیدیاں آنی بھی شروع ہو جائیں گی. آخری عشرہ آتا تو کوشش ہوتی کہ اپنے اپنے کمروں میں گھس جائیں اور چھپ کر عبادت کریں. عبادت کیا تھی کہ بھلے چند نفل ہی تھے مگر تھے تو خالص. ستائیسویں کی رات اگر ماں باپ روٹین چیک اپ کے لیئے بھی آتے کہ دیکھ لیں بچے کیا کر رہے ہیں تو ہماری پرائیویسی میں خلل محسوس ہوتا. یہ واحد پرائیویسی تھی جو اس وقت تک ہمیں معلوم تھی.
وقت کا پہیہ گھوما. میں ایک جملہ بڑے شوق سے لکھتی ہوں کہ وقت کی اچھائی یہ ہے کہ یہ گزرتا جاتا ہے. وقت کی برائی بھی یہی ہے. سو پہیہ گھومتا رہتا ہے۔۔۔ وقت گزرتا رہا. معلوم نہیں کون سا پہلا رمضان تھا کہ رمضان نشریات کا جن بوتل سے نکل آیا. شروع میں تو یہ جن ہمارا ملازم بنا. ہمیں اپنائیت محسوس کراتا رہا لیکن پہلی بار بڑا برا لگا جب” اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا کرو” کی بجائے جن نے ٹی وی پر بیٹھ کر رونا شروع کر دیا. ہم شاید بڑی رحم دل قوم ہیں. ہمارے سامنے مگرمچھ بھی رونے لگے تو ہم “مگرمچھ کے آنسو” بھول جاتے ہیں. رفتہ رفتہ رمضان کی پہچان تبدیل ہو گئی. اب رمضان کی پہچان رمضان نشریات بن گئی. کھیلوں کے پروگرام بن گئے ، جہاں لوگ ایک لان کے سوٹ کے لیئے اپنی عزت نفس کی بولیاں دینے لگے. سنا تھا کہ مکہ میں نماز کے وقت گانا بجانا شروع ہوتا تھا تاکہ ہدایت کان تک نہ پہنچے. سنا یہ بھی تھا کہ پاکستان اسی لیئے بنایا کہ عین نماز کے وقت بھجن شروع ہو جاتے تھے.
اب اگر رمضان کا ایک پہلو رمضان نشریات ہے تو دوسرا پہلو کھانا ہے. رمضان آنے سے پہلے کسی سے بات کر کے دیکھ لیں. میں نے مدت ہوئی کہ کسی سے یہ سنا ہو کہ اس سال رمضان میں اپنی کوتاہیوں کا ازالہ کرنا ہے. جیسے ہی رمضان کا ذکر آتا ہے ساتھ کھانے کا ذکر شروع ہو جاتا ہے. سحر کی ترکیبیں الگ افطار کی الگ. وہ قوم جسے عبادت کی ایک رات جاگنی مشکل ہوتی ہے سحر بوفے کے لیئے رات بھر جاگتی ہے. گھروں میں مائیں بہنیں بیویاں بیٹیاں بہوئیں ہیں کہ صبح سے شروع ہیں. جو مہینہ بھوک برداشت کرنے کا تھا اب وہ بھوک چمکا کے ہوس کی طرح مٹانے کا ہے. افطار سے قبل کی ساعتیں جو دعا کی تھیں اب ان میں کسی کوکنگ آئل کا اشتہار چلتا ہے جس میں سارا خاندان ناچتا ہے. زمانہ طالب علمی میں”سرخ جوتے” نام کی ایک کہانی پڑھی تھی. جس میں ایک لڑکی کو چرچ جاتے ہوئے سرخ جوتے پہننے سے منع کیا جاتا ہے. مگر وہ اپنے نفس کی اتباء میں وہی پہن جاتی ہے اور پھر وہ جوتے اسے نچاتے جاتے ہیں اور جنگلوں میں لے جاتے ہیں. پھر وہ چاہ کے بھی ان کو نہیں چھوڑ پاتی. شاید یہ سب بھی اسی لیئے ناچتے ہیں. وہ ماہ جب رب سے رابطے بحال ہوتے تھے اب موبائل کمپنیز کال پیکجز دے دیتی ہے اور عین ان اوقات میں جو کبھی تلاوت و نوافل کے اوقات تھے.
میں کسی کو کٹہرے میں نہیں لا رہی. میں صرف پڑھنے والے کو سوال دے رہی ہوں کہ ابھی تک اس رمضان میں آپ نے کیا پایا. یہ آپ کی روح کا مہینہ ہے. آپ نے اپنی روح کی بالیدگی کے لیئے کیا کیا ہے. میں یہ نہیں کہتی کہ وقت بدلنے کے ساتھ آپ ساکت کھڑے رہیں. مجھے معلوم ہے ایسا کرنے کی صورت میں وقت آپ کو کچل دے گا. لیکن اس رمضان کی چند ساعتیں نکال کے یہ ضرور سوچیں کہ کیا آپ کا آج آپ کی روح کے لیئے آپ کے گزرے کل سے بہتر تھا. آپ ذرا اس بار ایک ہفتہ اپنے بچوں کو دودھ اور کھجور سے روزہ کھلوائیں تاکہ پیٹ کے جہنم کو بجھانا ان کی تربیت میں شامل ہو. ذرا ٹی وی پر الٹی گنتی والی گھڑی دیکھ کر افطار کرنے کی جگہ مسجد سے اٹھنے والی اذان کی آواز کے ساتھ افطار کریں۔۔۔اور اگر آپ ایسا کر لیں اور اچھا محسوس کریں تو راقم کے لیئے رب کے حضور ایک حرف دعا ضرور بھیجیں.اللہ اس رمضان کو آپ کے حق میں متبرک ثابت کرے.

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply