تم سے کیا کہیں جاناں اس قدر جھمیلے میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

شام کے سائے بڑھتے ہی ایسے لگتا ہے جیسے زندگی کروٹ لے کر بیدار ہو گئی ہے۔ کسی گھر میں پلی بلی کی طرح٬ جو سارا دن سوتی ہے اور شام ڈھلتے ہی بیدار ہو جاتی ہے اور پھر صبح تک جاگتی ہے۔ زندگی بعض اوقات سورج کا آنکھ کھولنا ہے تو بعض دفعہ اس کا پلک جھپکنا ہے۔ اگرچہ اندھیرا بیزار کر دیتا ہے مگر بہار کی سرمئی شام ہمیشہ کسی بھی چمکتی صبح سے زیادہ مسحور کن ہوتی ہے۔ زندگی متضاد چیزوں کا مجموعہ رہے تو رنگین رہتی ہے۔
شام کے سائے نمودار ہوں اور لوگ گھروں کو پلٹیں تو میں وجود اور روح کی انگلی تھامے باغ کا رخ کرتی ہوں۔ باغ کے پرندے تھک کے سو گئے ہوتے ہیں۔ بلیاں دبک گئی ہوتی ہیں۔ ان دو کے علاوہ علاقے کے بیچوں بیچ واقع اس باغ کے تیسرے دعویدار انسان ہی ہیں ۔ مینڈکوں اور چمگادڑوں کے اس راج میں ایک انسانی وجود زندگی کی کمزور سی للکار محسوس ہوتا ہے۔ اس باغ میں جاتے ہی میں اپنے وجود اور اپنی روح کو الگ کر دیتی ہوں۔ اس کے بعد حضرت سلیمان کی ہدہد کی طرح جسم سے سوال ہوتے ہیں۔۔ کہاں سے آئے کیا دیکھا۔ یہی روح منکر نکیر بھی ہوتی ہے۔ کیا کیا؟ کیسے کیا؟ صحیح اور غلط کی میزان لگتی ہے تنہائی کے اس پہر میں۔۔

روز کی طرح آج بھی پہلا قدم رکھا تو روح کا پرندہ جسم سے الگ ہو کے سامنے آ گیا۔ روح آج بوجھل تھی۔ وجود نے سوال کیا، “کیسی اداسی ہے یہ؟ کون سا غم ہے؟”
روح بولی، “میں آج بولوں گی، خوب بولوں گی۔ آج صرف سننا۔

میری تخلیق کا سبب معلوم ہے؟ میں محبت اور عبادت کی خاطر تخلیق ہوئی تھی۔ عبادت کا نکتہ لطیف تھا۔ یہ ہر ایک کے لئے نہیں تھا۔ لیکن محبت سب کے لئے تھی۔ نفرت، بغض، کینہ، حسد حتی کہ غصہ یہ میرے مقابل تخلیق ہوئے تھے۔ میرے اندر ان سب کی قبولیت نہیں رکھی گئی تھی۔ لیکن پھر مجھے ایک ایسے وجود میں سمو دیا گیا جو اضداد کا مجموعہ تھا۔ کہانی بس یہاں ختم نہیں ہوئی۔ مجھے اس وجود میں نفس کے ساتھ سمویا گیا۔ میں نے بھاگنے کی کوشش کی۔ لیکن میں بھاگ نہیں سکی۔ کیونکہ حکم کا انکار روح کے لئے ممکن نہیں تھا۔ میں اب اس وجود کے اندر مسلسل جنگ میں ہوں۔ نفس کے ساتھ جنگ۔۔ یہ جنگ کسی وقت اس وجود کے اعصاب شل کر دیتی ہے۔ وجود کی وہ ہار مجھے افسردہ کرتی ہے۔ یہ مجموعہ اضداد جو انسان کہلاتا ہے وہ یہ نہیں سمجھتا کہ اس وجود کی تھکن کی وجہ سے جب وہ ہار مان لیتا ہے تو مجھ پر کیا بیتتی ہے۔ میں جو زمان و مکان کی قید سے آزاد اور بصارت کی جگہ بصیرت رکھتی ہوں میں دیکھتی ہوں کہ اس جنگ کی ہار کا تاوان میں نے اس دن ادا کرنا ہے جس کی کوئی شام نہیں۔”

اچانک قریب سے گزرنے والی ایک گاڑی کے ہارن نے محویت توڑ دی۔ خاموشی کا راج بحال ہوا تو روح گویا ہوئی، “انسانوں نے اتنی ترقی کی ہے۔ یہ جو اپنے ہاتھ سے اتنا کچھ بنایا ہے اس میں بھی رب کی نشانیاں نہیں دیکھتے۔ یہ جو گاڑی گزری ہے ناں اس گاڑی میں زندگی کے کتنے سبق ہیں۔ لیکن انسان اتنی تیزی میں ہے کہ وہ سبق لئے بغیر بس ہارن بجا کے گزرتا جا رہا ہے ۔ اس قدر شور پیدا کر دیا ہے کہ اپنی ہی آواز سننے کا منکر ہے۔ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھو تو زندگی کے سلیقے سمجھ آ جاتے ہیں”

وجود ہنس کے بولا “اتنی مدت سے ڈرائیونگ کرنے کے بعد بھی مجھے تو ایسا کچھ نہیں محسوس ہوا۔ روح کا گاڑی، ڈرائیونگ اور سبق سے کیا تعلق”۔۔۔؟
لیکن آج وجود کا دن نہیں تھا۔ روحیں جس دن بول اٹھیں، وجود کا دن اس دن یقیناً نہیں رہتا۔

روح بولی “چلو آج میں بتاتی ہوں۔ یہ جس گاڑی میں تم روز بیٹھ کے سفر کرتے ہو ناں یہ بتاتی ہے زندگی کے سبق میں کچھ سیکھنا ہو تو رفتار مناسب کر لو۔ تیز رفتار میں صرف رفتار بچتی ہے اور رفتار کچل ڈالتی ہے۔ گاڑی ہوائی جہاز تو ہے نہیں نہ ہی زندگی میں ہر جگہ جلد از جلد پہنچنا ضروری ہے۔ اعتدال کے ساتھ پیر دباؤ اور دو پیروں کا تال میل ایسا رکھو کہ زندگی میں جھٹکوں سے بچ سکو۔ یہ جو گیئر ہے یہ بتاتا ہے زندگی کے ہر مقام کی کچھ مخصوص شرائط ہیں۔ بلندی پر جاتے ہوئے قرینہ اور ہوتا ہے۔ پستی میں جاتے ہوئے تکنیک اور کرنی ہوتی ہے۔ یہ جو پیچھے دیکھنے کو شیشے چھوٹے ہیں اور آگے دیکھنے کو بڑے ہیں یہ بتاتے ہیں ماضی کو اور لوگوں کی غلطیوں کو چھوٹے شیشوں سے دیکھو  اور مستقبل کو اور لوگوں کی اچھائیوں کو بڑے شیشے سے دیکھو۔ دھیان چھوٹے شیشے پر رہا تو بڑا منظر نظر سے اوجھل ہو جائے گا۔ نتیجہ حادثے کے سوا کیا ہو سکتا ہے۔ پچھلے بڑے شیشے میں سبق ہے کہ ماضی کی روشنی کو حال کو منور کرنے دو اور ماضی کی غلطیوں کو حال کے سبق بنا لو۔”

وجود ہنس دیا اور بولا “اچھا مگر یہ بتاؤ اس ہارن میں زندگی کا کوئی سبق ہے”؟
روح بولی، “ہاں یہ کسی وقت غفلت سے جگاتا ہے، کسی وقت سرزنش کرتا ہے، کسی وقت ملامت کرتا ہے لیکن اس کا ایک کام ایسا ہے جو نہایت باریک ہے۔ یہ بتاتا ہے کہ بعض دفعہ ہم دوسروں کے لئے بہکنے کا سبب بن جاتے ہیں تو بعض دفعہ ہوش میں آنے کا۔”

شاید روح اور بھی بہت کچھ کہتی لیکن الہام کے یہ لمحے اس سے طویل ہوتے تو کاندھے چٹخ جاتے۔ یوں بھی ادراک کے لمحے اکثر مختصر ہی ہوتے ہیں۔۔

سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *