بچھڑنے والی روح کا نوحہ

پچھلے کئی سال سے حسرت ہونے لگی ہے کہ عید کا تہوار ایسا آئے کہ دل اندر سے خوش ہو. جب خوشی مناتے ہوئے احساس ِ جرم دامن گیر نہ ہو. کسی ہنسی کے پیچھے ضمیر کی ملامت پوشیدہ نہ ہو. میرے دیس کے گھروں میں صف ماتم نہ بچھی ہو. مگر ایسا لگنے لگا ہے کہ یہ حسرت اب حسرت ہی رہ جائے گی. "لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے" والی امید دم توڑ چکی ہے.
اس سال بھی عید پر ایک ساتھ کئی واقعات رونما ہو گئے. ہمیں محرم میں بھی یہی فکر دامن گیر رہتی ہے کہ یا اللہ کوئی حادثہ نہ ہو. ہمارا رمضان بھی اسی پریشانی میں گزرتا ہے کہ سب زندہ عید تک پہنچ جائیں. ہماری عیدیں بھی لہو رنگ ہو چکیں.
چھوٹے تھے تو ہاتھوں کو حنا سے لال کر کے عید کا استقبال کرتے تھے. آج دامن کو لہو کے چھینٹے بھگو ڈالتے ہیں. اور ہم تہی دامان سوچتے رہ جاتے ہیں کہ الہی تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں. کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کریں.ابھی پارہ چنار نے دل پارہ پارہ کیا تھا. ابھی ہزارہ کی نسل کشی نے دل کے ہزار ٹکرے کیے.ابھی کوئٹہ گونج اٹھا تو ابھی کراچی کرچی کرچی ہو چلا. مجھے ٹھیک سے یاد نہیں کہ وہ دھماکہ کہاں ہوا تھا. مگر میں گریجویشن میں تھی جب پہلی بار خود کش دھماکے کے بارے میں سنا. آج سے کچھ سال پہلے اگر میں کہیں کوئی کالم لکھتی تو میں اس واقعے کا ذکر نہ کرتی مبادا کہ غم کی شدت میرے سوا بھی کسی کو پتھرا دے. لیکن آج آپ بریکنگ نیوز سن کر اور گرافک امیجز دیکھ کر پہلے ہی پتھر ہو چکے. جس دھماکے کا میں ذکر کر رہی اس کی رپورٹنگ میں ایدھی سینٹر کے نمائندے کا انٹرویو لیا گیا تو اس نے کہا لاشیں اس قدر سوختہ حال تھیں کہ میں نے ایک لاش اٹھانی چاہی تو اس کا یورین ٹریکٹ میرے ہاتھ میں آ گیا. اللہ گواہ ہے کہ کتنے دن نوالہ نہیں اترا. کالج جا کے دوستوں کی گود میں سر رکھ کے روتی. گھر آ کے کمرہ بند کر کے تکیے میں منہ دے کے روتی. حلق میں ایک پھانس پڑ گئی تھی. لیکن آج اتنی لاشیں دیکھ چکی ہوں کہ دیکھ کر کہتی ہوں اچھا ایک اور،اور اپنے کام میں لگ جاتی ہوں.
اگر میرا قلم پڑھنے والوں کے دل بدل سکتا تو میں جانے والوں کا نوحہ لکھتی. یہ جو لوگ داعی اجل کے معاون بنے ہیں میں ان کو بٹھا کے کہانیاں سناتی. میں اپنے لفظوں سے ان کے دل چیرتی اور ان کے سینے رقت سے بھر دیتی. مگر نہ وہ پڑھ رہے ہیں نہ ان کے دل اتنے نرم ہیں کہ اب ایسی باتیں ان پر اثر کریں. شیر تو بدنام ہیں. خون جس کے بھی منہ کو لگ جائے اس کے لیےانسانیت کی طرف واپسی کا راستہ بند ہو جاتا ہے. وہ تو تلوار پر یقین رکھتے ہیں. ہم ٹھہرے قلم کے مجاہد. ہم کیا کریں کہ ہمارے ہاتھ نازک ہو چکے اور دل فگار ہیں. سو اپنی ذات کے اندر بین کرتے ہیں. قلم رو دے تو اپنے جیسوں کے لیئے لکھ دیتے ہیں. جو پڑھتے ہیں، سر دھنتے ہیں اور قصہ ختم.
دستِ قاتل سے کیا کہیں کہ ہم تو اب للکارنے کے قابل بھی نہیں رہے. اپنی ہی صفوں میں تقسیم کا شکار ہونے والے دشمن کے سامنے کیا کھڑے ہوں گے. ہمیں تو نہ رمضان متحد کرتا ہے نہ عید نہ محرم. سو تہی دامان کھڑے ہیں کہ کب جناب عزرائیل ہم پر مہربان ہوں کہ ہماری مائیں تو ہمیں جنتی ہی مرنے کے واسطے ہیں.آج دل کر رہا ہے وہ نظم لکھ کر اپنی حجت پیش کر دوں جو تب لکھی تھی جب مسجد میں موجود ایک سوختہ لاش کے بارے میں جان کے لکھی تھی. مجھے معلوم ہے یہ نظمیں کسی زخم کا پھاہا نہیں مگر میرے دامن میں اس کے سوا اور کچھ ہے بھی تو نہیں. اور جن کے اختیار میں ہے ان کا مستقبل اس آگ اور خون کے کھیل سے وابستہ ہے.
میرے رب
میں تجھ کو پکارنے آیا تھا.
سنت دہرانے آیا تھا.
حکم نبھانے آیا تھا.
جمعے کا دن..
میں اجلا ستھرا پہلی ساعت کا پہلا نمازی…
اپنا سب کچھ چھوڑ کے پیچھے
تیرے گھر کی چوکھٹ تھامی..
میری جندڑی نام تیرے تھی
تیری امانت پاس میرے تھی..
میریا ربا
سجدے میں تھا..
اور مجھ کو معلوم نہیں تھا..
میرا سجدہ آخری ہو گا….
دیکھ میں تیرے سامنے ہوں اب..
دیکھ ادھر کو..
میرا دھڑ میرے جسم سے جدا پڑا ہے.
میرے جسم کے اتنے ٹکڑے بکھر چکے ہیں
کہ میرے بچے
جو میرے گھر آنے کی خوشبو
یوسف کی قمیض کی مانند
دور سے سونگھ لیا کرتے تھے…
لاشوں کے ٹکڑوں پہ آ کر سوچ رہے ہیں
"کیا ان میں بابا بھی ہوں گے
اللہ جی ان میں بابا نہ ہوں
وہ مسجد نہ پہنچ سکے ہوں..
میریا ربا
اک عرض کراں…
کٹنے والے کٹتے رہیں گے
پر جن کے ہاتھوں ذبح ہوئے ہیں
یہ معصوم نہتے لاشے
ان کو کون یہ سمجھائے گا
کہ کوئی معصوم فرشتہ گھر میں بیٹھا سوچ رہا ہے
بابا بس آتے ہی ہوں گے
میں ان کے ساتھ ہی کھانا کھاؤں گا..
کوئی ماں ممتا دامن میں سمیٹے
بازوں پلے جوان کا رستہ دیکھ رہی ہے..
کسی بہن کو بھائی کی واپسی کی آس لگی ہے
اور وہ لڑکی
جس کے ہاتھوں کی لالی اب تک گئی نہیں ہے
چوڑیاں اپنی توڑ رہی ہے…
میریا ربا
جب سب گوشت سے تو نے بنائے
دل کاہے سیسے کے لگائے
بے نیازی صفت ہے تیری
تجھ سے کوئی گلہ نہیں ہے
نہ اتنی وقات ہے میری
تو خالق میں تیرا بندہ
لیکن مالک!
اپنے بچے دیکھتا ہوں تو
یہ سوال دل میں آتا ہے..
ان کاٹنے والے ہاتھوں کو
روکنے والے کب آئیں گے
کتنی جبینیں اور کٹیں گی
کتنا لہو ابھی اور بہے گا
کتنی آہیں اور میرے رب
کتنی سسکیاں اور میرے رب
ابھی کتنے اور یتیم؟؟؟

سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بچھڑنے والی روح کا نوحہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *