• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • زمزمہ – قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

زمزمہ – قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

لکھنا میرا پہلا شوق تھا۔ میں نے بچپن میں کھلونوں کی جگہ پینسل سے کھیلا ہوا ہے ۔ اداسی ہوتی، خوشی ہوتی یا ناراضی ہوتی، میرا کتھارسس لکھنے میں ہی تھا۔ لیکن میں کبھی اپنے آپ کو مبالغے میں نہیں زندہ رکھتی۔ حقیقت کتنی ہی بدصورت ہو، میں اس میں جینا پسند کرتی ہوں۔ کیونکہ خود کو دھوکے میں رکھ کے ہم کبھی مسائل کا حل نہیں نکال سکتے۔ مسائل کا حل حقیقت کاسامنا کر کے اور انا مار کے نکلتا ہے۔ سو میں جب بڑے لکھاریوں کو پڑھتی تو سوچتی ان کو لکھنا کیسے آیا۔ میں نے ایمانداری سے خود کو پرکھا۔ ناول میں نہیں لکھ سکتی۔ افسانہ  لکھنے کا ہنرمیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ کہانیاں بیان کرنا  میرے لیے  مشکل ہے۔ نصیحت مجھ سے نہیں ہو پاتی۔ شاعری میرے بس کا روگ نہیں تو پھر میں لکھتی کیا۔ کاغذ سیاہ کر کے بے مقصد تحاریر لکھنی مشکل شاید نہ ہوں لیکن قلم سے نا انصافی ہے۔

میں نے ایک بات طے کی تھی کہ میرا قلم بکے گا نہیں۔ میرے قلم سے فساد نہیں پھیلے گا۔ میں قلم کو کمائی کا ذریعہ نہیں بناؤں گی۔ اتنی سب پابندیوں کے ساتھ پھر میں لکھوں گی کیا۔ جب کچھ سمجھ نہ آیا تو قلم رکھ دیا۔ یہاں سماجی روابط کی سائیٹس سے وابستہ لوگ جانتے ہیں میں ایک سال کے بن باس پر رہی ہوں۔ ایک شام اچانک بغیر اطلاع سب رابطے بند کر کے روپوش ہو گئی۔ کیونکہ مجھے لگتا تھا میں کھو گئی ہوں۔ سماجی روابط میں اتنا آگے چلی گئی ہوں کہ خود سے رابطہ منقطع ہو چکا ہے۔ ایک کھویا ہوا شخص قلم اٹھائے تو قلم کی  سیاہی سے لکھنے کا امکان روشن اور روشنائی سے لکھنے کا امکان معدوم ہو جاتا ہے۔

میرے اس ایک سال میں مجھے جس سوال نے بہت تنگ کیا، وہ زندگی کی بے مصرفی تھی۔ میں یہاں کیوں ہوں۔ کیا میں بس سونے جاگنے کمانے اور اپنے لیئے زندہ ہوں۔ ایسے ہی بیکار میں نے یہاں سے چلے جانا ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے جانے کے بعد ہمیں کوئی یاد کرے گا یا نہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہم چلے جائیں گے تو ہم کیا لیکر رب کے پاس جا رہے ہیں ۔ مجھے ایسے عمل کی تلاش تھی جو رب کے حضور لیجایا جا سکے۔ ایک طلب سی ہو گئی کہ مجھے اپنے عمل سے جنت کمانی چاہیے۔

میں اس تفصیل میں نہیں جاؤں گی کہ پھر کیا ہوا، لیکن ایک رات جب کہ میں اپنے تئیں اعمال جوڑنے میں ناکام ہو چکی تھی، شدید بیماری کی حالت میں منہ سے نکلا کہ یا اللہ بات ساری تیری رحمت پر آ ٹھہری ہے۔ یہ ترک کا مقام تھا۔ اس سے آگے طلب ختم ہو جاتی ہے۔
لیکن کیا انسان لا تعلق ہو کے زندگی گزار سکتا ہے۔ ہم زمین پر رب کے نائب ہیں تو کیا نائب ہونا صرف اختیارات دلاتا ہے۔ اچھے معاشرے سکھاتے ہیں کہ اختیارات ذمہ داری کے سکے کا دوسرا رخ ہیں۔ میرا اس معاشرے میں کوئی حصہ ہونا چاہیے اور لازم ہے کہ مثبت ہونا چاہیے۔ میرے اس فرض کی تلاش میرے ذہن سے محو نہیں ہوتی تھی۔

میں ایک وقت تک شدید کتابی بندی تھی۔ لیکن کچھ وقت سے کتابوں سے ناطہ ٹوٹا ہوا ہے۔ شیلف پر رکھی کئی کتابیں فرصت کے لمحات کو روتی ہیں۔ اور میں اب شرمندگی سے انہیں دیکھتی بھی نہیں۔ حسن کوزہ گر کی طرح وہ بھی مجھے بلاتی ہیں اور میں جہاں زاد کی طرح گزر جاتی ہوں۔
لیکن جب کوئی کسی تلاش میں ہوتا ہے تو کائنات کی ہر چیز نظارہ بن جاتی ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ میں نے کوئی بہت انوکھا راز پایا ہے۔ لیکن ہاں میں نے یہ پایا ہے کہ میں کیا کر سکتی ہوں۔

میں پیشہ وارانہ امور کی ادائیگی کے دوران بہت سے لوگوں سے ملتی تھی۔ کچھ نجی زندگی میں بھی ملاقات رہتی۔ مجھے جس بات کا شدت سے احساس ہوتا  تھا وہ یہ کہ یہ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے ۔ مجھے بطور ورکنگ لیڈی کوئی پوچھتا کہ کیا مسائل ہیں خواتین کے تو میرے پاس اتنا کچھ بولنے کو ہوتا تھا کہ اس پندار کے بوجھ سے میں خاموش ہو جاتی تھی۔ ایک وقت تک مجھے عورت کی مظلومیت پر ایمان رہا ۔ پھر جب تیسری آنکھ کا مشاہدہ شروع ہوا تو پتہ لگا کہ ہمارے معاشرے میں مرد بھی اتنا ہی مجبور ہے۔

مرد اور عورت پر لٹریچر کو دیکھا تو مجھے لگا دونوں میں خلیج کو وسعت دی جا رہی ہے۔ بجائے سمیٹنے کے ہم بکھیرنے کی طرف جا رہے ہیں۔ بچیاں ہوں، بچے ہوں، ماں باپ ہوں، سب کی تشائیں گھوم چکی ہیں۔ میاں بیوی کے آپسی معاملات الگ زوال کا شکار ہیں اور معاشرے میں ان تشنہ گھروں سے نکلنے والی نا آسودگی کا ناسور پھیلتا جا رہا ہے۔ یہ شاید سب گھروں کی کہانی نہ ہو۔ لیکن جن کی ہے، ان کی یہ کہانی اب کلائمکس پر پہنچ چکی ہے۔

ایسا نہیں ہے میں مردوں کو خلیفہ سمجھتی ہوں۔ لیکن میں خود عورت ہوں۔ مجھے سب سے پہلے عورت سے بات کرنی چاہیے۔ بطور عورت میرا ایمان ہے کہ میرے گھر کی جنت میرے پیر تلے ہے۔ چاہوں تو روند دوں۔ چاہوں تو رانی بنوں۔ ہاں جب میں اپنی اصلاح کر لوں گی تو میں مرد کے سامنے کھڑی ہوں گی کیونکہ میں ہو سکوں گی۔
میں ایک مدت سے بچیوں کو ڈرامہ نگاروں اور ناول نگاروں کے سحر میں دیکھ رہی ہوں۔ یہ سحر جب ٹوٹتا ہے تو وہی ہوتا ہے جو کسی آسیب زدہ کے ساتھ جادو ٹوٹنے سے قبل ہوتا ہے۔ لیکن جب یہ سحر ٹوٹتا ہے تو ساتھ ہی سب کچھ ٹوٹ جاتا ہے۔ پانی سر سے گزر جاتا ہے۔ فینٹسیز کی خواہش مند سب عمریں  یہی کہتی ہیں میں نے کیا کچھ نہیں کیا۔ مجھے کیا ملا۔

میں تریاق کے طور پر ایک سلسلہ شروع کر نے لگی ہوں۔ یہ میرے بن باس کی عطا ہے۔ میں کوشش کروں گی بچیوں کو اس سحر سے نکال کے اس حقیقت میں لاؤں جس میں انہوں نے جینا ہے۔ میری کوشش ہو گی مجھے پڑھنے  والی عورت اس غم سے نکلے کہ زندگی اس کے ساتھ بری ہے۔ میں کوشش کروں گی کہ مردوں کی انا کو ٹھیس دئیے بغیر انہیں باور کروا سکوں کہ آپ کے ساتھ بہت کچھ جڑا ہے۔ میں نہیں جانتی میں کتنا لکھوں گی اور کس کس ٹاپک پر لکھوں گی۔ لیکن جو لکھوں گی سچ لکھوں گی۔ میں یہ نہیں جانتی مجھے کوئی پڑھے گا یا نہیں، پڑھے گا تو اس پر زود رنجی دکھائے گا، ہنسے گا یا میری باتوں پر سوچے گا۔ مجھے بس یہ پتہ ہے کہ میں قوم کو اچھی مائیں دینے کی کوشش کروں گی۔ میں قوم کو ذمے دار مرد دینے کی کوشش کروں گی۔ وما علینا الاالبلاغ!

سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”زمزمہ – قلم کی نوک پہ رکھوں گا اس جہان کو میں۔۔۔سعدیہ سلیم بٹ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *