موسم, سادھو اور عانے۔۔۔۔بلال آتش

گئے برس کے انہی دنوں کی بات ہے۔ خزاں کی رت اتر رہی تھی۔ پتوں کی سبز رنگت اور تازگی کو خشک ٹھنڈک نے زردی اور کمزوری کا ہدیہ دیدیا تھا۔ پتے اب اپنی مستقل سکونت سے ہاتھ دھو رہے تھے۔ لاچار و نحیف زردی مائل وجود کے ساتھ ٹوٹ ٹوٹ کر ایک کے بعد ایک قربان ہو رہے تھے اور اپنے اپنے محبوب لانبے درختوں کے قدموں میں دم توڑ رہے تھے۔ جفاؤں کی ہوا دھیرے دھیرے اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ منظر میں موجود اشیاء۔ نباتات اور حیوانات پہ حاوی ہوتی جا رہی تھی۔

خاموش سرد کشیدگی کے اسی موسم میں یہی خزاں کی رت “سادھو” کے ساکت مگر زندہ وجود پہ بھی اثر ڈال رہی تھی۔ وہ اک اک سرد ہوا کے ظالم جھونکے کو چپ چاپ سہے جا رہا تھا کہ سرد ہوائیں اسی کے مہربانوں کی چلائی ہوئی تھیں۔ اس کے گرد شور مچاتے۔ ہنستے گاتے ہم نشینوں کو اس علیحدگی پسند موسم کے کڑوے اثرات کا علم ہی نہیں تھا کہ اس موسم میں کس قدر جفا اور وجود کش عناصر کا زور ہے بجز اس ایک کے۔

اس سے کوسوں دور پوٹھوہار کی جڑواں راجدھانیوں کی روشنیوں میں ایک اور ہستی “عانے” کو اسی خزاں کی رت نے کسی زرد کمزور پتے کی مانند ٹنڈ منڈ سا کر کے مضطرب دم توڑتی کیفیات کا سنگی ساتھی بنا دیا تھا۔ وہ نئی ہواؤں۔ نئے لوگوں میں گھری ہوئی تھی۔ نئے لوگ جو وہیں کے باسی تھے۔ وہ لوگ جو اس کو اپنی شناخت دینے پہ رضامند تھے۔ “عانے” ان کے اس احسان تلے دبی بس مسکراتی اور رکتی سانسوں کے سلسلے کو زبردستی چلاتی ان کی خوشیوں میں خلوص کے بھرے آبخورے سمیت شریک تھی۔ اس کے آبخورے میں ایک کے بعد ایک سوراخ ہو رہے تھے مگر وہ اپنا خلوص انڈیلتی چلی جا رہی تھی۔ ٹوٹتی چلی جا رہی تھی۔ مستقبل سے ناآشنا اور لاعلم وہ اپنی نئی مٹی کے ساتھ اپنی جڑوں کو ہم پیالہ و ہم نوالہ کرنا چاہتی تھی۔ تا کہ وہ بھی جی سکے۔ کہ اس کے روشن خوابوں کو کوئی تعبیر ملے۔ ایسا ہوتا نظر آ رہا تھا اسے۔ مگر ایسا کرنے میں اس کے وجود کی سب طاقتیں صرف ہو رہی تھیں۔ اس کے سبھی اپنے اس کی نچڑتی رنگت سے پریشاں ہو رہے تھے اور اس کو خود ابھی شاید اس قاتل تعامل کا احساس نہیں تھا۔ آکاس کی خون آشام بیل اس کے وجود کی مضبوط گہری جڑوں کی ساری قوت خود میں جذب کرتی جا رہی تھی اور وہ آکاس بیل کو اپنا نجات دہندہ سمجھ بیٹھی تھی۔ آکاس بیل بھلا کیسے کسی کو بڑھنے پنپنے دیتی ہے۔

“عانے” اب شاید کچھ کچھ نقاہت محسوس کر رہی تھی اور اپنے گلشن کے متفرق گلوں اور گلابوں سے بھی لاتعلق سی ہو گئی تھی۔ آکاس پہ اس خزاں میں بھی چوکھا رنگ آ رہا تھا کیونکہ خلوص کا آبخورہ بہت ہی بھرپور زندگی کا حامل تھا نا۔ مگر اتنے سوراخوں کے ساتھ آبخورہ کب تک بھرا رہتا۔ ختم ہونا تھا۔ ہو گیا۔
اور جس روز آبخورہ خشک ہوا۔ اسی روز “عانے” کو نئے لوگوں نے توڑ دیا۔ آکاس بیل نے اس لانبے خوبصورت صنوبر کے درخت کو زندگی کے ہیوموگلوبن سے محروم کر دیا تھا اور اب وہ کہیں اور نقل مکانی کر رہی تھی تا کہ اب کسی اور صنوبر پہ ڈیرہ لگایا جائے۔

“عانے” بکھر کر پوٹھوہار کی راجدھانی میں ہوش و خرد سے بیگانہ ہو گئی تھی۔ اس کے نئے لوگ اب نقل مکانی کر چکے تھے اور “عانے” کے خلوص کا آبخورہ سمیت اپنے سوراخوں کے وہیں اس کے قریب دھرا تھا۔
گئے برس میں پھر کچھ بھی اچھا نہ ہوا۔ خزاں کی رت پروان چڑھی۔ چڑھتی چلی گئی۔ ٹھنڈ اور سرد ہوائیں زور پکڑتی چلی گئیں۔ وہ سرما بہت قاتل تھا۔ اس میں بہت سے جذبات کا قتل ہوا تھا۔ بہت سے احساسات کا قتل ہوا تھا۔ خواب ذبح ہوئے تھے۔ موسم کی شدت میں چلتی پھرتی چلتر دھند سے بہت سے سچ جھوٹی فریبی دنیا میں گم ہو گئے تھے۔ کچھ رشتے کھو گئے تھے۔

“عانے” کو واپس لانے کے لئے اس کے پرانے گلشن نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ اس کے آبخورے کی مرمت کی اور اس میں اپنا اپنا خلوص ڈال کر دوبارہ سے بھر دیا۔ اس کے مادی وجود کو بہت جگہوں پہ زخم آئے تھے۔ وہ بھرے۔ اور پھر اس کو دوبارہ سے خوابوں کے سینما سے آشنا کروانے کی تگ و دو میں جت گئے۔ پھر۔ ۔۔بہار کی رت آ گئی۔ خزاں کی جان لیوا حرکتوں کا مداوا کرنے کو بہار نے آنا ہی ہوتا ہے۔ بہار پہلی بہاروں جیسی تو نہ تھی مگر آتو گئی۔ اور جیسے تیسے ہی سہی پھول پھر سے کھلنے لگے۔ “عانے” اب کے پھولوں کی رسیا نہ ہو سکی۔ وہ اب کانٹوں سے ازحد خائف ہے مگر پھول تو کسی بد ذوق کو بھی برے نہیں لگتے۔ قدرت کو “عانے” پہ پیار آ رہا تھا۔ اور اب کے قدرت نے عہد کر لیا تھا۔ اب “عانے” کے آبخورے کو سلامت رکھنا ہے اور بھرا رکھنا ہے۔

ارے ہاں۔۔۔۔۔
گئے برس کا وہ سرد موسم اور سرد خشک ہوائیں اب بھی “سادھو” کے ساکت وجود پہ طاری تھیں۔ شنید ہے کہ بہاریں ہر دیس میں نہیں آیا کرتیں۔ “سادھو” اب خاموش ہے کہ مقدر سے لڑنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اس کے سنگی ساتھی اب سبھی خوش ہیں۔ وہ بھی خداوند برتر سے التجا گو ہے کہ سب کو بہار کی رت نصیب ہو۔ اس کو خود اب شاید کسی بہار کی چاہ نہیں۔ وہ گئے برس سے سرد ہواؤں کا عادی ہو چکا ہے۔ اس عادت سے عداوت اب کے اس کو نہیں کرنی۔
شالہ بہاروں کو بہاریں آتی رہیں۔
شالہ سرد ہوائیں یونہی چلتی رہیں۔

بلال آتش
بلال آتش
معتدل نظریات اور عدم تشدد کا قائل ہوں اور ایسے ہی احباب کو پسند کرتا ہوں۔ نفرتوں کے پرچار کی بجائے محبتوں کے پھیلاؤ پہ یقین رکھتا ہوں۔ عام سا انسان ہوں اور عوام ہی میں نشست و برخواست رکھتا ہوں اور عوام ہی کی بات کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *