امت امت، اوآئی سی، مسئلہ کشمیر اور پاکستان۔۔۔۔منصور ندیم

آج متحدہ عرب امارات میں او آئی سی ( Organization of Islamic Cooperation ) کے اجلاس میں پوری دنیا کے اسلامی ممالک کے لوگ شریک ہیں ، اور حیرت کی بات ہے کہ او آئی سی کے بانی ممالک کی حیثیت رکھنے والا ملک پاکستان اس میں شریک نہیں ہے۔ او آئی سی ایک بین‌الاقوامی تنظیم ہے جس میں مشرق وسطی، شمالی، مغربی اورجنوبی افریقا، وسط ایشیا، یورپ، جنوب مشرقی ایشیا اور برصغیر اور جنوبی امریکا کے 57 مسلم اکثریتی ممالک شامل ہیں۔ او آئی سی دنیا بھر کے 1.2 ارب مسلمانوں کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔ جس کا قیام، 1 اگست 1969ء کو مسجد اقصی پر یہودی حملے کے ردعمل کےطور پر 25 ستمبر 1969ء کو مراکش کے شہر رباط میں عمل میں آیا۔.اس تنظیم کے قیام کے وقت تنظیم کا نام تنظیم موتمر اسلامی تھا، لیکن 28 جون، 2011ء کو آستانہ، قازقستان میں اڑتیسویں وزرائے خارجہ اجلاس کے دوران تنظیم نے اپنا پرانا نام تنظیم موتمر اسلامی کو تبدیل کرکے نیا نام تنظیم تعاون اسلامی رکھ دیا گیا۔ ماضی میں اس کے دو اجلاس پاکستان میں بھی ہوئے ہیں۔
لیکن آج اس اجلاس کی نمائندگی خلیجی ریاست متحدہ عرب امارات کررہا ہے، اور اس میں بھارت کو بحیثیت ایک اکثریتی اسلامی ملک کی آبادی رکھنے والے شہر کی بنیاد پر موقع دیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ پاکستان اپنے کمزور اور ناکام خارجہ پالیسی کی وجہ سے او آئی سی سے بھارت کو اس اجلاس میں نکلوانے میں نہ صرف ناکام رہا بلکہ خود بھی اس کا بائیکاٹ کر بیٹھا ہے، کچھ دوست اس ناکام خارجہ پالیسی کا دفاع فقط او آئی سی کی کمزور حیثیت میں ڈھونڈھ رہے ہیں۔

کم از کم پاکستان کو یہ ضرور سمجھنا ہوگا کہ متحدہ عرب امارت میں بھارت خود کیا حیثیت رکھتا ہے ، بھارت کا Remittance جو متحدہ عرب امارات سے آتا ہے وہ تقریبا~ً  35 ارب ہے، اور بھارت کا دفاعی بجٹ قریب 50 ارب ہے ، متحدہ عرب امارت کے قریب افرادی قوت کے لئے تمام ہی بڑے کاروبار، سپر مارکیٹ، انڈسٹری، ہوٹلز ، اور امپورٹ کا ایک کثیر حصہ کثیر بھارتی افراد پر انحصار کرتے ہیں۔ اور وہاں ایک کثیر تعداد بھارتیوں کی مسلمان ہے۔ بھارت اپنے ممالک سے جانے والے غیر ملکی مزدوروں کے لئے کافی کنسرن دکھاتا ہے ، وہاں unskilled labor کے لئے بھی بھارت کم ازکم 1500 درہم کی تنخواہ کا تقاضہ کرتا ہے اور باقاعدہ اس کے لئے ان کے ملک میں قوانین موجود ہیں۔

جب کہ اس کے مقابلے میں پاکستانیوں کا متحدہ عرب امارات سے remittance آنے سے زیادہ ہمارے ملکی سرمایہ منی لانڈرنگ کی مد میں زیادہ جاتا ہے، اس میں پاکستان کے قریب تمام ہی طبقات شامل ہیں، وہاں پر پاکستان کے کاروباری، سیاسی حتی کہ افواج پاکستان کے ریٹائر افسران کی بھی رئیل اسٹیٹ میں خوب انویسٹمنٹ  نظر آئے گی۔ اور انڈیا کی نسبت بہت ہی محدود سطح پر افرادی قوت کا انحصار پاکستانیوں پر ہے، اور جو ہے وہ بھی زیادہ تر چھوٹے پیشوں پر ہے، قریب قریب یہی حال تمام ہی خلیجی ممالک کا ہے ۔ پاکستان میں گزشتہ دہائی کی بے روزگاری کے نتیجے unskilled labor کی تو کیا بات کیجئے، اچھے خاصے انجینئرز اور گریجویٹ پاکستانی تک اچھی خاصی رقم دے کر آزاد ویزوں پر فقط 600 درہم و ریال کے معاہدوں پر آتے ہیں اور بعد میں کفیلوں کے ہاتھوں شدید مصائب کا شکار رہتے ہیں ۔ اور تمام ہی خلیجی ممالک میں ہماری ایمبیسی کا حال دوسرے ممالک کی نسبت بہت کمزور ہے۔ ہمارے ایمبیسیڈر کا رحجان پاکستانی افراد کے مسائل سے زیادہ یہاں پر منائی جانی والی پارٹیز، بسنت، روزہ کشائی یا عید ملن پارٹی پر ہی مرکوز رہتا ہے۔

اب اس صورتحال میں فقط یہ کہہ دینے سے کہ ” او آئی سی” کی موجود دنیا میں کوئی پر اثر طاقت نہیں ہے، (باوجود سچ ہونے کے) لیکن بہر حال اس بات کو بھی ماننا ہوگا کہ کہ مسلم ممالک کی یہ ایک واحد تنظیم ہے، جہاں امت امت کی گردان کی جاتی ہے، اگر واقعی پاکستان اس معاملے میں سنجیدہ ہوتا تو،چوک، محلوں گلیوں میں امت امت اور کشمیر کا مسئلہ اٹھانے کے بجائے، اس حقیقی فورم پر سخت موقف اپنایا جاتا، حالیہ پاک وانڈیا تنازعے کا جو اصل سبب ہے وہ کشمیر ہے ، اب جب آپ پوری دنیا کو اپنا مسلہ بتانے کے لئے کوشش کر ہی رہے تھے تو یہ موقع ہاتھ سے ہر گز نہ جانے دیا جاتا، کم از کم ” امت امت” کے اس تصور کی حقیقت تو واضح ہوجاتی ۔
پاکستان کی او آئی سی میں نمائندگی ضروری تھی، ہم نے دنیا میں اپنے آپ کو تنہا کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، آصف علی زرداری نے کم از کم آج پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ ہمیں اجلاس میں ضرور شرکت کرنا چاہیئے ۔ لیکن اس کے باوجود وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا یہ فیصلہ انتہائی احمقانہ محسوس ہوتا ہے۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ ہم ان وجوہات کو سمجھنے کے بجائے کہ ایک آرگنائزیشن کا بانی ملک اس آرگنائزیشن میں خود اتنا کمزور ہوگیا ہے کہ اس کا بائیکاٹ کر رہا ہے ،
پہلے ماضی میں بھی ایک بار او آئی سی میں بھارتی وفد نے شرکت کی تھی اس وقت یحیی خان کا دور تھا اس وقت پاکستان نے بھرپور احتجاج کیا تھا جس پر بھارتی وفد اجلاس کے دوران ہی اجلاس سے آٹھ کرچلا گیا تھا، اس وقت پاکستان کی علاقائی اور معاشی حیثیت بہت مستحکم تھی اور عرب ممالک اتنے طاقتور نہ تھے جتنے آج ہیں اور آج پاکستان کی حیثیت خاصی کمزور ہے،اب دوبارہ ایسا ہوا ہے ۔ پاکستان ناراض ہے مگر بھارتی وزیر خارجہ او آئی سی میں بھرپور استقبالیہ لے چکی ہیں ۔ سوال یہاں یہ بھی ہے کہ پاکستان سے مشاورت کے بغیر بھارت کو کیسے مبصر رکن کی حیثیت سے دعوت دی گئی، اور پاکستان کو مشاورت کے اہل ہی کیوں نہیں سمجھا گیا ؟ اس کی وجہ عرب ممالک میں بھارتی مسلمانوں کا اثرو رسوخ اور نمائندگی ہے۔
بجائے کہ ان وجوہات کا تدارک کیا جاتا ہمارا ایک سمجھدار دانشور طبقہ اس بائیکاٹ کی حمایت کررہا ہے، اگر آج او آئی سی پاکستان یا امت مت کی گردان کرنے والوں کے لئے اتنی بھی اہمیت نہیں رکھتی تو جان لیجئے کہ یا تو آپ کے امت امت کے تصور میں کوئی مسئلہ ہے یا پھر بحیثیت ریاست آپ کی خارجہ پالیسی کسی بھی سطح پر کوئی صلاحیت نہیں رکھتی کہ دنیا کے سامنے اپنے موقف کو واضح کرسکے۔ ایک طرف پاکستان پوری دنیا کے سامنے ایک جنگی قیدی واپس کرکے امن کا پیغام دینے کی کوشش کررہا ہے دوسری طرف اجلاس کا بائیکاٹ کرکے کسی بھی مسئلے کو ٹیبل پر بیٹھ کر حل نہ کرنے کا مژدہ سنا رہا ہے۔ ادھرسشما سوراج پوری اسلامی دنیا کو پاکستان کو ایک دہشتگرد ملک باور کروا رہی ہے جبکہ وہاں ہمارا موقف پیش کرنے والا کوئی نہیں ہے، حالانکہ پاکستان کو ایسے مشکل وقت میں اپنی خارجہ پالیسیوں کا ازسر نو جائزہ لینے اور پوری دنیا کے سامنے اپنے موقف کو کسی بھی صورت میں پیش کرنے کے لئے ہر فورم پر جانے کی پالیسی کو ہی اپنانا ہوگا۔

 

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *