شکر ہے مولا۔۔شکور پٹھان

وہ بہت دیر سے بس اسٹاپ پر کھڑا تھا۔
لوگوں کی تعداد بھی اب بڑھتی جارہی تھی۔ بسوں میں سوار ہونے والے کم تھے، انتظار کرنے والے زیادہ۔ صبح کا وقت تھا، ساری بسیں بھری ہوئی آرہی تھیں۔
نیلے رنگ والی بس شاید وہی ہو۔ وہ دور سے آتی نظر آرہی تھی۔ لیکن قریب آکر وہ رکے بغیر آگے بڑھ گئی۔ کنڈکٹر دروازے سے لٹکا آوازیں لگا رہا تھا “ آگرہ تاج، گلبائی، ماڑی پور ماڑی پور”۔ ۔۔وہ پیچھے ہٹ آیا۔
سفید ملگجی سی پتلون ، قمیض اور سیاہ کوٹ والے وکیل بابو پان منہ میں ڈالے اور انگوٹھے کو لالی پاپ کی طرح منہ میں گھماتے بس اسٹاپ کی طرف آرہے تھے۔ سیاہ شیروانی، چوڑی مہری کے پاجامے والے خیال انبالوی صاحب کھوکھے کے پاس کھڑے دن بھر کے لئے بیڑے بندھوا رہے تھے۔
“یہ شاید دن بھر صرف پان ہی کھاتے ہیں “ لاغر سے خیال انبالوی کو دیکھ اسے خیال آیا۔ انبالوی صاحب شاعر تھے جیسا کہ نام سے ظاہر ہے۔ خیال ان کا تخلص تھا۔ نام جنے کیا تھا ؟۔
انبالوی صاحب جیسے ہی چوڑی  پاجامے اور سفید کرتے میں ملبوس ماسٹر جی بھی قریب ہی آ کھڑے ہوئے۔ وہ انبالوی صاحب کا انتظار کررہے تھے۔ ان سے ذرا ہٹ کے بڑا سا گٹھر لئے گہرے سانولے رنگ والا ایک دوہرے بدن کا آدمی کھڑا سگریٹ پی رہا تھا۔ اس کا منہ پان سے لال ہورہا تھا۔ وہ سوقیانہ نظروں سے اس کے بائیں جانب بجلی کے کھمبے کی طرف گھور رہا تھا۔
کھمبے کے ساتھ بوٹے سے قد کی ایک گوری سی لڑکی کھڑی تھی۔ بس کی طرف دیکھنے کے لئے لڑکی نے آنکھوں پر چھجا سا بناکر دائیں جانب دیکھا۔ اب اس کی بھی نظریں وکیل بابو، خیال انبالوی، ماسٹر جی اور موٹے آدمی سے ہٹ کر لڑکی کی طرف متوجہ ہوگئیں۔
“ یہ پتا نہیں کہاں جائے گی” اس نے سوچا۔ موٹے کے علاوہ باقی تینوں تو اسی کی بس میں جاتے تھے۔ وکیل بابو سٹی کورٹ، خیال انبالوی ریڈیو پاکستان اور ماسٹر جی سعید منزل پر اترتے تھے۔ ایک اور بس قریب آرہی تھی۔
“ کارساز، ڈرگ روڈ ، اسٹار گیٹ، ملیر ملیر”۔ کنڈکٹر بس کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا آوازیں لگا رہا تھا۔ بس کی رفتار بالکل کم تھی مگر وہ رکی نہیں تھی۔ کنڈکٹر دوڑتا ہوا بس پر لٹک گیا۔ دروازے کے قریب دوہتڑ جما کر اس نے آواز لگائی “دبی رکھ۔۔ کارساز، اسٹار گیٹ، ملیر ملیر”۔ جاتی ہوئی بس کے ساتھ ہی اس نے کھمبے کی طرف دیکھا۔ لڑکی اب بھی کھڑی تھی۔
بائیں جانب جھکی ہوئی ایک بس اب قریب آرہی تھی۔ اس کا پائیدان تقریباً سڑک کو چھو رہا تھا۔ بس کے پچھلے اور اگلے دروازے پر لوگ ایسے چمٹے ہوئے تھے جیسے گڑ پر مکھیاں۔ بس قریب آکر رک گئی۔
کنڈکٹر زور زور سے چلا رہا تھا، باندریڈ، بانس ریٹ، بولٹن مارکیٹ، ٹاآآر، ماڑی ماڑی ( بندرروڈ، برنس روڈ، بولٹن مارکیٹ، ٹاور، کیماڑی کیماڑی)۔ بس میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ اللہ جانے نئے پسنجر کو کنڈکٹر کہاں کھڑا کرتا۔ لیکن یہ اس کا مسئلہ نہیں تھا۔ اور یہی ہوا دوتین لوگ مزید بس میں لٹک گئے۔ بس اب بھی کھڑی تھی اور کنڈیکٹر باند ریڈ بانس ریڈ کئے جارہا تھا۔
بس اسٹاپ پر اب بہت لوگ جمع ہوگئے تھے۔ دھوپ بھی آہستہ آہستہ مکانوں کی چھتوں سے اتر کر زمین پر پھیلتی سڑک کی جانب آرہی تھی۔ اس نے بائیں جانب دیکھا۔ لڑکی اب بھی کھڑی تھی۔ اس کے پیچھے کھڑے وکیل بابو، خیال انبالوی اور ماسٹر جی اطمینان سے کھڑے باتیں کررہے تھے۔ موٹا آدمی جگالی کرتے ہوئے لڑکی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا۔ وہ بھی اب اسی جانب دیکھنے لگا۔
اس کے پیچھے کھڑے وکیل بابو، خیال انبالوی اور ماسٹر جی کی بھن بھن کرتی آواز اچانک بند ہوگئی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔ نئی والی بس آرہی تھی۔ اس پر کوئی لٹکا ہوا نہیں تھا۔یہ بس حال ہی میں شروع ہوئی تھی اور یہاں سے دو اسٹاپ پہلے سے ہی شروع ہوتی تھی۔ اس میں رش نہیں ہوتا تھا البتہ جوں جوں آگے بڑھتی تھی رش بڑھتا جاتا تھا۔
موٹے آدمی نے سب سے پہلے اپنا گٹھڑ بس کے پچھلے دروازے سے اندر پھینکا اور گالیاں بکتا ہوا دروازے پر چڑھنے لگا۔ ماسٹر جی، وکیل بابو اور انبالوی ایک دوسرے کے پیچھے بس پر چڑھے۔ اس نے بائیں جانب دیکھا۔ لڑکی وہیں کھڑی تھی۔ اس نے مایوسی سے ایک نظر لڑکی پر ڈالی اور بس پر سوار ہوگیا۔
سیٹیں ساری بھری ہوئی تھیں اور بہت سے لوگ چھت پر لگے ڈنڈے پکڑے کھڑے تھے لیکن اندر دھکم پیل نہیں تھی۔ کنڈیکٹر سب کو آگے بڑھنے کے لئے کہہ رہا تھا لیکن جو جہاں تھا وہاں سے نہیں ہل رہا تھا۔ ماسٹر جی ، انبالوی اور وکیل بابو درمیان میں کھڑے تھے اور باتوں کا سلسلہ وہیں سے شروع ہوگیا تھا جہاں بس کے آنے سے ٹوٹا تھا۔ موٹا پچھلی سیٹ کے ساتھ کھڑا تھا۔ دو آدمیوں کی ٹانگیں اٹھوا کر اس نے گٹھڑی کو سیٹ کے نیچے دھکیل دیا تھا اور اب اطمینان سے جگالی کررہا تھا۔
اگلے اسٹاپ پر تین چار لوگ اور بس میں سوار ہوئے۔ ایک بوہری بھائی اور اس کا سات آٹھ سال کا لڑکا اس کے ساتھ ہی آکھڑے ہوئے۔ بس میں اب لوگ ایک دوسرے سے جڑے کھڑے تھے۔ اگلے ایک دو اسٹاپ پر بھی لوگ سوار ہوتے رہے۔
لیکن بورڈ آفس سے مڑتے ہی اگلے اسٹاپوں پر لوگ اترنے لگے۔ یہاں کالجوں کی لائن لگی ہوئی تھی۔ ٹیچرز ٹریننگ کالج، گورنمنٹ کالج، پریمئر کالج، سٹی کالج ۔ یکے بعد دیگرے بس خالی ہورہی تھی اور نئے مسافر بھی داخل ہورہے تھے۔ بڑا میدان کے پاس اسے بھی سیٹ مل گئی اور اس کے اگلے ہی اسٹاپ پر بوہری بھائی اور اس کا بچہ بھی اس کے برابر بیٹھ گئے۔ لڑکے نے لمبا سا کرتا پہنا ہوا تھا جو ٹخنوں سے ذرا ہی اوپر تھا۔ نیچے پتلون اور سیاہ جوتے تھے۔ سر پر بوہریوں کی مخصوص ٹوپی تھی۔ وہ اپنے باپ سے گجراتی میں کچھ پوچھ رہا تھا۔ اس نے دلچسپی سے لڑکے  کو  دیکھا۔
“ نام کیا ہے تمہارا؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
“ حکیم الدین بانات والا” بچے نے آہستگی سے جواب دیا۔
“ نہیں تمہارا نام کیا ہے”
“ یہ اسی کا نام ہے “ اب کی بار باپ نے جواب دیا۔
“ اس کا؟ “ اس نے حیرت سے دہرایا
“ اتنے سے بچے کا نام حکیم الدین اور کیا والا؟”
“ بانات والا “ باپ نے وضاحت کی۔
“اور آپ کا نام”
“ فخر الدین بانات والا “
“ اوہ اچھا۔۔واہ حکیم الدین “ وہ اب کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ دھوپ بڑھتی جارہی تھی اور سڑکوں پر چہل پہل بھی بڑھ رہی تھی۔
وہ سڑک کی دوسری جانب دیواروں پر لکھے اشتہاروں کو بغور دیکھ رہا تھا۔ بس میں ایک اخبار والا زور زور سے اخبار کی سرخیاں پڑھ کر سنا رہا تھا۔ یہ شام کا اخبار تھا لیکن اسی وقت یعنی صبح کے وقت ہی آجاتا تھا۔ دنیا میں بہت کچھ ہورہا تھا لیکن اس اخبار کی اپنی خبریں تھیں۔
“ نیو کراچی میں دو گروہوں میں مبینہ تصادم “
“ کورنگی میں شمشو نامی مبینہ غنڈے نے شرفو نامی مبینہ سبزی فروش پر لاٹھی سے مبینہ حملہ کرکے، مبینہ طور پر ٹانگ توڑ دی۔ پولیس نے مبینہ طور پر اقدام قتل کا مقدمہ درج کرلیا”
مبینہ کے بعد دوسری خبروں میں “ دریں اثنا” کی تکرار تھی۔
“ دریں اثنا عصمت دری کے واقعات میں اضافہ ہوگیا ہے”
“ دریں اثنا لائٹ ہاؤس سنیما کے پاس پولیس نے نوجوان جوڑے کو سرراہ بوس و کنار کرتے ہوئے گرفتار کرلیا ہے”۔
اس کے علاوہ کچھ “ لرزہ خیز واقعات” کی خبریں تھیں۔
“ ناجائز تعلقات کے شبہ میں لرزہ خیز قتل”
“ پرانی دشمنی کا شاخسانہ۔ مخالف گروہ کے نوجوان کی لرزہ خیز ہلاکت”۔
اخبار میں اوپر ایک تہائی جگہ پر خبریں اور نیچے دو تہائی جگہ پر اشتہارات تھے۔
“ استعمال سے پہلے۔۔یہ ایک مدقوق سے آدمی کی تصویر تھی، جس کی شکل خیال انبالوی سے ملتی تھی”
“ استعمال کے بعد، یہ ایک چڑھی ہوئی مونچھوں والے کی تصویر تھی جو استاد بڑے غلام علی سے ملتی جلتی تھے”
اس نے پھر سڑک کے اس طرف دیکھنا شروع کیا۔ سامنے پوسٹ آفس کی پیلی دیوار پر بڑا سا لکھا ہوا تھا۔
“ ہڑتال، ہڑتال، ہڑتال”
اگلی دیوار پر لکھا تھا “ عظیم الشان جلسہ بتاریخ یکم نومبر بمقام نشتر پارک۔” آج تین مارچ تھی۔ جلسہ اور ہڑتال کوگذرے زمانہ ہوچکا تھا۔
گورنمنٹ اسکول کی دیواروں پر اشتہارات کی طویل فہرست تھی۔ ایک جگہ دیوار کا رنگ نیچے کی جانب سے مٹا ہوا تھا اور نیچے گیلی زمین نظر آرہی تھی جہاں لکھا تھا “ یہاں غیر قانونی طور پرپیشاب کرنا منع ہے۔ خلاف ورزی کرنے والے کو حوالہ پولیس کیا جائے گا۔ “ قریب ہی سفید داڑھی والے ایک مولوی صاحب پاجامے میں ہاتھ ڈالے “ وٹوانی” میں مصروف تھے۔
“ چلو چلو رائے ونڈ چلو” برابر والی دیوار پر بڑے بڑے حرفوں میں لکھا تھا۔
اگلی دیوار پر ایک سرکاری اشتہار تھا۔ یہ خاندانی منصوبہ بندی والوں کی طرف سے تھا۔ اگلا اشتہار بھی پولیو کے قطروں کے متعلق تھا۔ لیکن اشتہاروں میں پرائیوٹ سیکٹر کا پلہ بھاری تھا۔ کون سے اشتہارات زیادہ ہیں وہ سوچنے لگا۔ ان اشتہارات سے پتہ چل سکتا ہے کہ کون سا مرض ملک میں زیادہ پھیل رہا ہے۔
“ داد ، کھجلی، کالی کھانسی، مثانہ میں پتھری، خونی پیچش اور بواسیر کا شر طیہ علاج، حکیمی دواخانہ، پٹیل پاڑہ”
اس اشتہار سے تو کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا لیکن اگلے اشتہار سے صورتحال کچھ واضح ہورہی تھی۔
“ بواسیر اب لاعلاج نہیں رہا۔ ہمارے ہاں تشریف لائیے” بواسیر کو واضح برتری حاصل تھی۔ لیکن یہ اب بھی غیر حتمی، غیر سرکاری نتیجہ تھا۔ اگلے اشتہار میں “ مایوس نوجوانوں کی آخری آرامگاہ” “ مردانہ کمزوری کا شافی علاج، یونانی دواخانہ” کی خوشخبری تھی۔
اس سے اگلا اشتہار بالصفا کریم، ایچ نظام الدین اینڈ سنز، کھٹمل مار دوا اور جوؤں کا شر طیہ خاتمہ کے بعد پھر “ انڈونیشیا دواخانہ” کا تھا جہاں مردانہ کمزوری کا علاج کیا جاتا تھا۔ اس سے اگلا اشتہار جاپانی طریقے سے مردانہ کمزوری دور کرنے کا تھا۔ یونانی، آیرویدک، انڈونیشی، جاپانی ہر طریقہ علاج موجود تھا۔ ثابت ہوگیا تھا کہ مردانہ کمزوری ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔
لیکن پھر یہ آبروریزی، عصمت دری، آشنا کے ساتھ فرار اور سر راہ بوس و کنار کیا ہے ؟وہ سوچنے لگا ۔
لیکن سب سے رعب دار اشتہار انگریزی کے ہوتے ہیں یا انگریزی نما اردو کے۔ اشتہار کے اشتہار، پردہ کا پردہ۔ مثلاً “ موڈیس سینٹری ٹاول” سے کسی اردو میڈیم کو کچھ سمجھ نہیں آتا لیکن متعلقہ لوگ سمجھ جاتے ہیں۔
لیکن بہت سی انگریزی ایسی بھی ہوتی ہے جو انگریزی دان کے بھی پلے نہیں پڑتی لیکن جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ مثلاً کسی کو نہیں پتہ کہ “ ٹالکم پاؤڈر” کیا ہوتا ہے۔ نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ ہئیر کٹنگ سیلون، ریلوے سیلون، سیلون کار اور ریڈیو سیلون میں کیا فرق ہے ۔ عمر رواں یوڈی ٹوائلٹ، لکس ٹوائلٹ سوپ اور عوامی ٹوائلٹ کیا ہوتے ہیں۔اور یہ جو جگہ جگہ احمد سوئیٹ میٹ مارٹ، عبدالحنان سوئیٹ میٹ مارٹ وغیرہ کے بورڈ ہیں ان میں یہ سوئیٹ میٹ کیا بلا ہے بھلا؟۔
“ کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر”۔ایک تیز آواز نے اسے چونکا دیا۔ یہ ایک بکھرے بالوں والی سانولی سی بچی تھی جو میلے کچیلے کپڑوں میں تھی۔
“ بھائ جان ، مہربان، یہ ہے شہر کرانچی، صبح کو نزلہ شام کو کھانسی” درمیانی عمر کا ایک آدمی کاندھے پر چمڑے کا بیگ لٹکائے بام بیچ رہا تھا۔
اگلے اسٹاپ پر ایک منجن والے صاحب نے بتایا کہ سامنے والی کیمسٹ کی دکانوں پر منجن کی شیشی آٹھ آنے کی ملتی ہے مگر اس کے پاس صرف “ کومپنی کی مشہوری” کے لئے چار آنے میں دستیاب ہے۔
ایک ناریل والا ناریل کی قاشوں کا خوان سرپر رکھے دوسرے ہاتھ کی انگلی سے کان کھجاتا “ ناریل، میٹھے ناریل” کی صدا لگا رہا تھا۔
سعید منزل پر اتر کر ماسٹر جی قریب کی گلیوں میں غائب ہوچکے تھے۔خیال انبالوی بھی اتر کر سامنے ریڈیو پاکستان کی بلڈنگ میں غائب ہوگئے تھے۔ وکیل بابو سٹی کورٹ پر اتر گئے۔گوری سی رنگت اور ماتھے پر بڑی سی محراب والے ایک مولوی صاحب قادیانیت کے خلاف تقریر کررہے تھے ان کی گردن میں چورن کا تھیلا لٹک رہا تھا جو وہ تبلیغ کے اختتام پر بیچنے والے تھے۔ ثواب کا ثواب، کاروبار کا کاروبار۔
موٹا آدمی مولوی صاحب سے چورن کا سیمپل لے رہا تھا۔ اس سے پہلے وہ چنا جور گرم والے سے بھی مٹھی بھر “ چونگا” لے چکا تھا۔
کچھ آگے چل کر وہ بھی اتر گیا۔ ٹمبر مارکیٹ کی عقب کی گلیوں سے ہوتا ہوا، لوہاروں والی گلی سے آگے ایک سڑک جہاں طرح طرح کے چھوٹے کارخانے، ورکشاپ اور دکانیں تھیں۔ ایک معدوم ہوتی گلی جس کے بارے میں اسے تجسس رہتا تھا کہ یہ پیچھے کسی سڑک سے جا ملتی ہے یا یہیں ختم ہوجاتی ہے۔ یہاں سے ہرروز گزرنے کے باوجود وہ کبھی اس گلی میں نہیں گھسا۔ وجہ اس کی یہ تھی کہ گلی میں سامنے ہی کچرا کنڈی تھی۔ ٹین کے بغیر پیندے اور بغیر ڈھکن کے کچرا ڈرم سے زیادہ کچرا باہر پڑا ہوا تھا۔ یہ ڈھیر دائیں جانب والی دیوار تک چلا جاتا تھا جس کا نچلا حصہ کچرے میں چھپ گیا تھا، دیوار پر “ امریکی کتو! ویتنام سے نکل جاؤ” لکھا تھا۔ امریکی کتے بہت سال پہلے ہی یہ دھمکی آمیز حکم مان چکے تھے۔ اس کی دلچسپی کی اصل وجہ اس نعرے کے نیچے لکھا ہوا “ ای۔ایس۔ایف” تھا، کچرے کی وجہ ای کی نیچے کا حرف مٹ گیا تھا جو نون یا میم ہوسکتا تھا۔ نیشنل اسٹوڈنٹ فیڈریشن یا مسلم اسٹوڈنٹ فیڈریشن۔ وہ یہی سوچتا کہ کچرے نے کیا مٹایا ہے ، نون یا میم؟۔
اس گلی سے کچھ ہی آگے اس نے مختار کو سلام کیا جو اپنے ڈھابے میں کھڑا چائے چھان رہا تھا۔ ڈھابے کے سامنے اس کی اپنی دکان تھی۔ “ محمد حسین روشن رقم، سائن بورڈ اینڈ اسپرے پینٹر”۔
شٹر کا تالا کھول کر وہ اندر داخل ہوا بتی جلائی اور پنکھا چلا دیا۔ بائیں جانب ایک میز کرسی تھے۔ دیواروں کے ساتھ کچھ مکمل اور کچھ غیر مکمل سائن بورڈ رکھے تھے۔ میز پر پڑے آرڈر وں پر ایک نظر ڈالی۔
“ عامل بنگالی بابا، کالے علم کا علاج کرنے والے۔ پتہ تین ہٹی”
“ داد، کھجلی، خوںی بواسیر کا علاج کرنے والے حکیم صاحب۔ پتہ لالو کھیت”
“ ستاروں کا علم جاننے والے پروفیسر اے ڈی خان ۔ پتہ گلزار ہوٹل صدر کراچی”
اور دو آرڈر مردانہ کمزوری کے علاج والے طبیبوں کے تھے۔ ایک کا پتہ بندرروڈ اور دوسرا کینٹ اسٹیشن کا تھا۔ اس کا پاس اگلے بہت سے دنوں کا کام آگیا تھا۔
“شکر ہے میرے مولا” اس نے ایک لمبی ، گہری اور اطمینان بھری سانس لی اور سامنے والے ڈھابے سے لڑکے کو ایک کڑک چائے لانے کا آرڈر دے دیا۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply