کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پہلا دن)۔۔۔گوتم حیات

یوں تو میں نے اس شہر میں وہ شب و روز بھی گزارے جب یہاں پر کرفیو لگا کرتا تھا اور ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کو پکڑنے کے لیے ان کے گھروں پر رات گئے وردی والوں کے چھاپے پڑا کرتے تھے۔ وہ بھیانک دن تھے۔ گلیوں اور بازاروں میں گولیوں کی آوازیں ماحول کا حصہ بن چکی تھیں۔

ہر گزرتا ہوا لمحہ اپنے پیچھے اَن گنت زندہ انسانوں کو مسخ اور تشدد زدہ لاشوں میں تبدیل کرتا ہوا گزر جاتا تھا۔ مرنے اور مارنے والوں کو لوگ پہچانتے ہوئے بھی انجان بنے رہتے تھے اور کیوں نہ انجان بنتے کہ ہر ایک کو اپنی زندگی پیاری تھی۔ اُن دنوں ہر علاقے میں وردی والوں کی چوکیاں بنا دی گئیں تھیں جن کا کام حالات کو کنڑول میں کرنا بتایا جاتا تھا مگر ہوتا اس کے برعکس تھا۔ کل جب نیوز چینلز پر حکومتِ سندھ کی طرف سے لاک ڈاؤن کے احکامات صادر ہوئے تو مجھے وہی پرانا کرفیو زدہ کراچی یاد آیا لیکن یہ سن کر دل کو اطمینان ہوا کہ اِس لاک ڈاؤن اور اُس کرفیو میں زمین آسمان کا فرق ہے۔

اُس وقت ہمیں بتایا گیا تھا کہ یہ کرفیو لوگوں کی  جان و مال کی حفاظت کے لیے لگایا جا ریا ہے اور دلچسپ بات یہ تھی کہ کل کے لاک ڈاؤن کے لیے بھی اس قسم کے ملتے جلتے جملے ہمیں سنائے گئے کہ یہ شہریوں کی زندگیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے لگایا جا ریا ہے کیونکہ ہمیں اپنے شہریوں کی صحت عزیز ہے۔

اگر موجودہ صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ ایک اہم پیش رفت ہے۔ لوگ جتنا زیادہ محتاط ہو کر اپنے گھروں میں یہ دن گزاریں گے تو انہیں فائدہ ہی ہو گا مگر اس ہی شہر میں لاکھوں لوگ ایسے بھی ہیں جو خستہ حال گھروں میں رہائش پذیر ہیں اور ان گھروں میں رہنا تو بذاتِ خود ایک بیماری ہے۔ گندگی، تعفن زدہ بُو، گُھٹن اور تنگ گھروں میں لوگ کس طرح کرونا جیسی وبا کا مقابلہ کر پائیں گے؟؟؟
کاش کہ یہ لاکھوں لوگ بھی ہماری طرح اس لاک ڈاؤن کے مثبت نتائج سے مستفید ہو سکیں۔

آج شہر میں لاک ڈاؤن کا پہلا دن اختتام پذیر ہو گیا۔ بہت ہی بےچینی میں یہ دن گزرا۔ صبح سے رات تک کرونا کے بارے میں مختلف خبریں سنتے ہوئے چوبیس گھنٹے بیت گئے۔۔۔ کرونا ہے کہ ہر گزرتی خبر کے ساتھ سنگین سے سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔ نیوز چینلز پر چلنے والی خبروں کے مطابق سیکنڈوں کے حساب سے دنیا بھر میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر شخص ایک انجانے خوف میں مبتلا ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ اس جان لیوا بیماری سے کب اور کیسے جان چھوٹے گی۔ میں جو نیوز چینلز کی خبروں کو ہمیشہ نظرانداز کیا کرتا تھا لیکن اس امید میں کہ شاید کوئی اچھی اور مثبت خبر کرونا کے حوالے سے دیکھنے کو مل جائے اپنے کمرے سے اُٹھ کر ہر تھوڑی دیر بعد صبح سے رات تک کئی چکر ٹی وی روم کے لگا چکا ہوں مگر مجال ہے کہ ایک ذرا سی بھی اچھی خبر ملی ہو۔

اس وقت میرے سامنے بمبے بیکری کی رسید پڑی ہے۔ اس رسید کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ آخری بار میں نے اس بیکری کا وِزٹ گزشتہ بدھ کو فیلڈ ورک پر جاتے ہوئے کیا تھا اور پھر اس سے اگلے دن جمعرات سے گھر والوں کے منع کرنے کی وجہ سے میں فیلڈ پر نہیں گیا اور نہ ہی گھر سے باہر نکلا۔ آج لاک ڈاؤن کے پہلے دن کو شمار کر کے مجھے پورے پانچ دن ہو چکے گھر پر خود ساختہ نظر بندی جھیلتے ہوئے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”کرونا ڈائریز:کراچی کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(پہلا دن)۔۔۔گوتم حیات

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *