مرو تو موت کہے کون مر گیا یارو…

کچھ باتیں ایسی ہیں جو ماضی کے جھروکے سے نکل نکل کر آج میرے شعور کے دروازوں پر مسلسل ٹکرا رہی ہیں. اگرچہ آج اس سانحے کو گزرے بہت دن ہو چکے ہیں. لیکن غم کی تکمیل آج ہوئی ہے. اسی لیئے قلم آج رونا چاہتا ہے.
میں نے آج سے کئی سال قبل ایک انگریز بڑھیا کی تصویر کے نیچے ایک کہانی لکھی پڑھی. کہانی کسی حد تک ناقابل یقین تھی. میں یقین کے معاملے میں کان کی یا آنکھ کی کچی نہیں. نظر آنے والی یا سنائی دی جانے والی چیز کی تحقیق ضرور کرتی ہوں. تب یقین کرتی ہوں. ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ وہ بات افواہ نکلتی ہے. اس عادت کا مجھے ہمیشہ اتنا فائدہ ہوا ہے کہ اس وقت یہ عادت مجھ میں راسخ ہو گئی ہے… بات بہک گئی. بات ہو رہی تھی ایک انگریز بڑھیا کی. جس کی تصویر کے نیچے ایک عبارت درج تھی. حسب عادت تحقیق شروع کی تو ناقابل یقین بات سامنے آئی. وہ یہ کہ وہ جو اس تصویر کے نیچے درج تھا وہ سچ تھا. ایک دم ہی وہ تصویر انگریز بڑھیا سے مادام رتھ فاؤ کی ہو گئی. اور میں ان کی تعظیم میں بونی ہو گئی.

کبھی کبھی میں زندگی میں انسانوں کو لے کر میں سوچتی ہوں کہ ایک انسان کیا کر سکتا ہے. آج جب مادام فاؤ مٹی کی چادر اوڑھنے کی تیاری کر رہی تھی، تو اچانک مادام رتھ فاؤ اپنے مکمل وقار کے ساتھ جھکی کمر اور دھیمے لہجے میں مجھے آ کے بولی،
My child! Do you still believe one person can’t make any difference. No my dear! Its always one person who makes a difference. Its the crowd that follows.

tripako tours pakistan

مادام فاؤ ہوں، ایدھی ہوں یا ایسے اور شفیق لہجے اور کردار ہوں یہ تو ہمیشہ ایک اکیلے ہی منزل کا تعین کر کے چلنے والے لوگ تھے. منزل کیا تھی. یہی کہ خدا کے ان بندوں سے مختلف تھے جو بنوں میں مارے مارے پھرتے تھے. یہ خدا کے بندوں کو پیار کر کے امر ہو جانے والے لوگ تھے.

آپ آج ایک ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بیماریاں قابل علاج ہو چکی ہیں. لیکن وہ وقت بھی تو تھا جب آج کے دور کی معمولی بیماریاں اللہ کا قہر مانی جاتی تھی. اور ایسے لوگوں کو مرنے کو اکیلا چھوڑ دیا جاتا تھا. ان کو نہ کوئی ہاتھ لگاتا تھا نہ پاس بلاتا تھا. ایسے میں پرائے دیس سے آئی ایک مسیحا جو جانے کتنی نفاستوں کی عادی ہو گی، اس نے ایسے مریضوں کو آب حیات بانٹنا شروع کیا. اور وہ بھی دیوی کی طرح نہیں، انسان کی طرح. کسی وقت میں سوچتی اللہ نے اپنے فرشتوں کو ٹھیک ہی چپ کروایا تھا. جب فرشتوں نے کہا انسان خون بہائے گا تو اللہ نے کہا تھا جو میں جانتا ہوں وہ تم نہیں جانتے. اس وقت اللہ کی نظر ایدھی، مدر ٹریسا، رتھ فاؤ جیسی روحوں پر ہی ہو گی کیونکہ آخر جنت سے نکلنے سے پہلے سب روحیں جنت ہی میں تو تھی. (میں انبیا اور اللہ والوں کو کسی مقابلے کا حصہ نہیں بنا رہی. ان سب کا مقام ایسا نہیں کہ عام انسانوں کا تقابل کیا جا سکے).

میں سوچ رہی تھی مادام رتھ فاؤ ہوں یا ایدھی ہوں، ان محسنین کے مرنے کے بعد ہم نے ان کے ساتھ جو سلوک کیا جنت اور دوزخ کو لے کر، ان کو کتنی تکلیف ہو گی جب ان کو پتہ لگے گا. ہم سے فرمانبردار تو فرشتے تھے کہ جیسے ہی اللہ نے کہا تم وہ نہیں جانتے جو میں جانتا ہوں تو فورا اللہ کی پاکی بیان کرنے لگے. ہم تو کسی کو یہ بھی نہیں پوچھ سکتے کہ کیا ہمیں اپنے انجام کا علم ہے. بدقسمتی کہیں ایسی مسلط نہ ہو کہ کلمہ گو ہو کے بھی شفاعت سے محروم رہیں. قیامت کا منظر اللہ ہی جانتا ہے. ہم انسان منظرنامے بناتے. میں آج صبح سے سوچ رہی ہوں کہ اگر روز محشر رتھ فاؤ نے اپنی سزا جزا کے وقت اللہ سے کہا کہ دیکھ میرے ایمان نے تیرے نبی کے پیاروں کی مدد سے مجھے نہیں روکا لیکن تیرے نبی کے نام لیوا میری میت تک کا احترام نہ کر سکے تو اس وقت اللہ کیا کہے گا. سنا ہے ومن مثقال ذرۃ خیرا یراہ.

مجھے سوچ کر غصہ آتا کہ کیا خاموشی کافی نہیں ہوتی ہے. ہر ایک کی جزا اور سزا ہم کیوں اپنے ہاتھ لے لیتے. ہم یہ بھی تو کر سکتے تھے کہ ان کی موت پر افسوس کر لیتے. ان کی اچھائیوں کو یاد کر لیتے. یہ کہہ لیتے کہ کاش میم رتھ فاؤ ہم آپ کے حق میں کچھ کر سکتے. ہم انہیں یہ کہہ کر لحد میں اتارتے کہ ڈاکٹر صاحبہ آپ نے تو ہمیں مرنے کے بعد خدمت کے صلے میں دعا کی زحمت بھی نہیں دی. میں سوچتی ہوں کہ کیا ان محبت کی مجسم صورتوں کو یہ سب جان کر غصہ آئے گا. لیکن ایک اور کردار اس وقت میرے ذہن میں ابھرا جو اس سوال کا جواب لایا.

میرے امی کے گھر ایک خالہ جی کام کرتی تھی. عورت کیا تھی، سادگی کی مجسم صورت تھی. بلاوجہ ہی سب سے پیار کرنے والی عورت. ایسی عورت جو شاید پیدا ہونے سے ہی ماں ہوتی ہے. ان کے مرنے پر ان کے گھر گئے تو ان کی بیٹی بولی “ساڈی امی ایہنی بہادر سی کدی کسے پریشانی توں اونہوں غصہ نہیں آیا” مجھے ایسے لگا میرے سولہ سال کی تعلیم سے مجھے وہ سبق نہ ملا جو اس ان پڑھ عورت سے مل گیا. بہادر وہ ہوتا ہے جو کسی بات کا غصہ نہیں کرتا ہے. ہم ہوئے، تم ہوئے یا میر ہوئے کے موافق ایدھی ہوں، رتھ فاؤ ہوں یا کوئی اور تاج انسانیت ہوں یہ اتنے بہادر لوگ ہیں کہ غصہ ان کی طرف نہیں دیکھتا. غصہ بھی بڑا عقلمند ہے. وہ ہم جیسے کمزوروں اور بزدلوں پر ہی حملہ کرتا ہے. اللہ ہمیں کسی کی قبر سے زیادہ اپنی قبر کا دھیان کرنے کی توفیق دے.

سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”مرو تو موت کہے کون مر گیا یارو…

  1. میری قابل احترام آپ کی تحریریں راہ مشعل ہیں ۔ اللہ آپ کو حیات خضر نسے نوازے اور اس میں سب سے زیادہ صفت وہ رکھ دیں جو آپ چاہتے ہیں۔۔۔اگر تو آپ کی کوئی کتاب ہے تو اس کا نام بتادیں۔۔۔۔ شکریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *