خدا کرے کہ نیا سال سب کو راس آئے

کوئی اس کو نفسیاتی مسئلہ کہے یا خاتون ہونے کا شاخسانہ، بہرحال یہ طے ہے کہ دسمبر مجھے شدید قسم کے جائزے کا شکار کرواتا ہے. ایک ان چاہی سی خود احتسابی ہوتی ہے جو اندر ہی اندر مسلسل اکتیس دن چلتی ہے. اور ایک ناکامی کا احساس ہوتا ہے جو کئی سال سے ویسے کا ویسا ہی ہے. لیکن وقت کس کے لیئے رکا ہے. اور شکر ہے کہ وقت کسی کے لیئے نہیں رکتا. وقت کی بہترین بات یہ یہ ہے کہ ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا. وقت کا یہ استقلال زندگی کی حرمت ہے. اور وقت کے اسی بہاؤ سے زندگی کی ضمانت ہے.

زندگی نے اگر آپ سے اس سال کچھ چھینا ہے تو دکھی نہ ہوں. آپ یقیناﹰ تنہا نہیں. زندگی نے اگر اس سال آپ کو نوازا ہے تو اسے اپنا حق نہ سمجھیں. یہاں کچھ بھی مستقل نہیں. گھڑی کی سوئی کی مانند ہر چیز متغیر ہے. زندگی میں نئے آنے والوں کا استقبال بازو کھول کر کریں. جانے والوں کو ضروری ہو تو روک لیں ورنہ خوشدلی سے رخصت کریں. یہ زندگی کسی موٹیویشنل اسپیکر کی تقریر جیسی نہیں ہوتی. یہ ممکن اور ناممکن کے درمیان ڈولتا پنڈولم ہے. اس میں سب کو سب کچھ نہیں ملتا. لیکن یہ بھی نہیں ہوتا کہ کسی کو کچھ نہ ملے. اپنے نظر کے زاویے کو بدلنے سے بہت کچھ بدل جاتا ہے.

دنیا میں کوئی وقت ایسا نہیں ہوتا جب دنیا پر مکمل اندھیرا ہو. بعض دفعہ ہمیں اپنے سویرے ڈھونڈنے پڑتے اور بعض دفعہ اپنے حصے کی رات پر راضی رہنا ہوتا. لیکن جب طلوع کا وقت آتا ہے تو صبح ہمیں ڈھونڈ لیتی ہے. مرنے سے پہلے کبھی نہ مریں. اور کوشش کریں کہ لوگوں میں اپنی زندگی میں وہ آنسو بانٹیں جو آپ کے جانے کے بعد آن کی آنکھوں سے بہیں. رب کائنات سب کو آنے والے سال کے سَچے اور سُچے سکھ نصیب کرے. آپ سب کو ایک نیا آغاز مبارک ٹھہرے.

سعدیہ سلیم بٹ
سعدیہ سلیم بٹ
کیہ جاناں میں کون او بلھیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *