سید مہدی بخاری کی تحاریر

گوجال،جہاں سے پاکستان شروع ہوتا ہے۔۔۔سید مہدی بخاری

میں پاکستان کی سرحد پر کھڑا تھا۔ ارد گرد ویرانی تھی، دور تک خاموشی تھی، اور آسمان سے برف گر رہی تھی۔ نومبر کے دوسرے ہفتے کا آغاز تھا۔ ایسا سفید دن تھا کہ میری سرخ جیپ اور سرمئی رنگ←  مزید پڑھیے

نیل گگن تلے پاکستان کا نیلم۔۔۔۔سید مہدی بخاری

اگلی صبح اٹھا اور کشمیر کی آخری انسانی آبادی گگئی گاؤں کی طرف چل پڑا۔ یہ پیدل مسافت کا راستہ تھا۔ راستے میں جنگل تھے۔ کھیت تھے۔ چرند پرند تھے۔ ایک دو مارموٹ تھے۔ میرے ساتھ ساتھ گگئی نالہ جھاگ←  مزید پڑھیے

باتھ روم رائٹرز۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

سفر کرنے کی وجہ سے انسان بہت کچھ سیکھتا اور پڑھتا ہے ، سیکھتا زیادہ ہے پڑھنے کو جو ملتا ہے اس کا نوے فیصد جی ٹی روڈ پر پٹرول پمپوں ، ہوٹلوں کے پبلک باتھ رومز ، پبلک ٹرانسپورٹ←  مزید پڑھیے

رمضان کے وہ مزے اب کہاں ۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

سوچا تھا آج انارکلی فوڈ  سٹریٹ جا کر سحری کروں گا۔ اس کے ساتھ میرے لڑکپن و جوانی کی یادیں وابستہ ہیں۔ رمضان میں دو تین بار سیالکوٹ سے گاڑی لے کر آنا ہوتا اور سحری کر کے واپس چلا←  مزید پڑھیے

دریائے عاشقاں کے کنارے۔۔۔سید مہدی بخاری

میں خواب دیکھتا ہوں، تعبیروں کی جستجو میں جلتے سفر کے خواب، دور دراز کی جھیلوں کے خواب، رنگوں کے خواب، لوگوں کے خواب، سفر سے تھکے منظروں اور تاروں بھری راتوں کے خواب۔ یہی خواب تو ہیں جنہوں نے←  مزید پڑھیے

سید مہدی بخاری

مرالہ کے مقام پر سوہنی کے دریا چناب کے کنارے یوں تو کئی جھگیاں آباد  ہو گئیں تھیں لیکن وه ایک جھگی سب سے الگ ذرا فاصلے پر سڑک کے ساتھ ایسے بسی تھی جیسے باقی برادری نے اسے علاقہ ←  مزید پڑھیے

پاکستان کی ساحلی پٹی: سلسلہِ کُن فیکون۔۔۔۔سید مہدی بخاری

فطرت کو نہ تو دھوکا دیا جا سکتا ہے نہ اور نہ بیوقوف بنایا جا سکتا ہے۔ یہ آپ کی محنت کا انعام آپ کے حوالے کرنے سے پہلے اُس کی پوری قیمت وصول کر لیتی ہے۔ نپولین ہِل کراچی←  مزید پڑھیے

گوجال !جہاں سے پاکستان شروع ہوتا ہے ۔۔۔۔سید مہدی بخاری

چار مرغابیوں کا غول اڑا اور دور برفپوش پہاڑوں کی طرف نکل گیا۔ ان کے اڑنے کے ساتھ خوشی بھی رخصت ہوئی۔ ہوٹل واپس پہنچے تک بھوک ستا رہی تھی۔ بوڑھے شخص نے بڑھ کر استقبال کیا اور بولا “حالات←  مزید پڑھیے

یاد کا لنگر۔۔۔سید مہدی بخاری

کچورا کی جھیل کے اردگرد پھیلے جنگل میں رات اُتر چکی تھی۔ یہ نومبر کا آغاز تھا۔ ہوا میں سردی بھری ہوئی تھی جو جسم کو چیرتی ہوئی گزر جاتی تھی۔ زمین پاپولر کے خزاں رسیدہ پتوں سے ایسے سجی←  مزید پڑھیے

جزیرہ لاڈیگ اور عمر بھر سلگاتی اک شام۔۔۔۔سید مہدی بخاری

وکٹوریا کی بندرگاه چھوڑے گھنٹہ بیت چکا تھا۔ فیری اب بحر ہند کے کھُلے سمندر میں جھولتی چلی جا رہی تھی۔ اس کی سمت مڈغاسگر کی طرف تھی۔ براعظم افریقہ کی حدود میں آسمان شفاف اور روشن تھا۔ سورج پوری←  مزید پڑھیے