سید مہدی بخاری کی تحاریر

مراکو؛ماضی و حال کے آئینے میں ۔۔سیّد مہدی بخاری

دو لاکھ سال قبل از مسیح سے مراکو کا سراغ ملتا ہے۔اس وقت صحارا خوبصورت جنگل تھا۔اس میں سات دریا بہتے تھے۔ جنگلی جانور تھے۔گھاس کے میدان تھے۔ چھ ہزار سال قبل بارشیں رُک گئیں۔دریا خشک ہو گئے۔ جانور مر←  مزید پڑھیے

سیاست اور مذہب کارڈ۔۔سیّد مہدی بخاری

اتحادیوں بالخصوص نون لیگ کا سب سے بڑا بلنڈر یہ ہے کہ ان کا کُل بیانیئہ فرح گوگی، توشہ خانہ اور عمران کو فاشسٹ کہنے کے گرد گھومتا رہا ہے۔ رانا ثناء اللہ جیسے بدنام کردار کو داخلہ کی ذمہ←  مزید پڑھیے

بچوں کی کم ہوتی ذہنی استعداد اور بڑھتی فیسیں ۔۔سیدمہدی بخاری

میں جس سرکاری سکول میں پڑھتا تھا اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ ایک گراؤنڈ تھا جس میں ہاکی اور فٹ بال کھیلا جا سکتا تھا۔ سکاؤٹنگ تھی، وسیع لائبریری تھی اور ڈبیٹنگ ہال تھا جس میں مختلف کلاسوں کے←  مزید پڑھیے

انعام رانا۔۔سیّد مہدی بخاری

“یہ وہ شخص ہے کہ شاید ہی کوئی ہو جو نہ جانتا ہو کہ انعام رانا کون ہے۔ لیکن اس کو مجھ سے بہتر شاید ہی کوئی جان پایا ہو۔ خد و خال میں وہی مماثلت جو آؤٹ آف فوکس←  مزید پڑھیے

سازش۔۔سید مہدی بخاری

پاکستان میں کولڈ وار داخل ہو چکی ہے۔ عمران خان کی پشت پر چین و روس کھڑے ہو چکے ہیں۔ عمران خان صاحب کو جو بھی کہہ لیں مگر وہ روس و چین کی حمایت سے سیاست میں کافی عرصہ←  مزید پڑھیے

سڑک اور ٹھرک۔۔سیّد مہدی بخاری

مشہور کہاوت ہے کہ سڑک اور ٹھرک انسان کو کہیں بھی لے جا سکتی ہے۔ اس کا عملی مشاہدہ آج دیکھنے میں آیا۔ صبح ترکی کے شہر بُرصہ سے استنبول جانے کی غرض سے سفر کا آغاز کیا۔ موٹروے پر←  مزید پڑھیے

ڈٹ کے کھڑا ہے عمران۔۔سید مہدی بخاری

بدقسمتی ہماری اس سے بڑھ کر کیا ہو گی کہ عمران خان بطور تیسری قوت ابھرا اور اس پر اعتماد کیا۔ اسے اقتدار دیا مگر وہ اس سارے عرصے میں صرف کنٹینر پر ہی کھڑے رہے ۔ عوامی مسائل حل←  مزید پڑھیے

دلنواز بستی کے شام و سحر۔۔سیّد مہدی بخاری

بلتستان کا ضلع گانچھے الگ تھلگ سربلند پہاڑوں کے بیچ بسی دلکش وادیوں، دلنواز بستیوں اور کھلی دریائی زمینوں کے ساتھ یوں دکھائی دیتا ہے جیسے کوئی دوشیزہ اپنے حسن و جمال کے پورے ادراک کے ساتھ سہمی گھبرائی ہوئی←  مزید پڑھیے

دیوسائی کا عشق۔۔سیّد مہدی بخاری

کشمیر سے ہجرت کر کے دیوسائی آنے والے خانہ بدوشوں کی قدیم گزرگاہ یہی میدان ہے جو اپنے ساتھ بھیڑ بکریاں لے کر دیوسائی کی ہیبت میں چلتے جاتے ہیں۔ دیوسائی میں عمیق خاموشی اور صدیوں کی تنہائی خیمہ زن←  مزید پڑھیے

زبانی نکاح اور قانونی تقاضے۔۔سیّد مہدی بخاری

ہمارے مومنانہ معاشرے میں ایک اہم مسئلہ زبانی نکاح یا غیر رجسٹرڈ نکاح کا بھی ہے جس پر کبھی سیر حاصل گفتگو نہیں کی گئی۔ یہ المیہ ہے کہ بہت سی خواتین اس مسئلے کا کبھی تو جانتے بوجھتے بنام←  مزید پڑھیے

بھونڈ کی داستان۔۔سیّد مہدی بخاری

ڈیڑھ دو ماہ قبل کا ذکر ہے۔ ایک اہم کام سے لاہور ملتان موٹروے پر سفر کرتا ملتان جا رہا تھا۔ ننکانہ صاحب انٹرچینج کے قریب ڈرائیور سائیڈ کا شیشہ ڈاؤن کیے سگریٹ پی رہا تھا کہ اچانک ایک جہازی←  مزید پڑھیے

تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا۔۔سید مہدی بخاری

انسان کی فطرت میں ابدی چین نہیں، یہ جنت میں رہتے ہوئے بھی اکتا گیا تھا۔ جنت سے نکل کر ایک ہی سنگین پریشانی لاحق رہی، وہ تھی پیٹ بھرنے کا سامان مہیا کرنا۔ کاوش روزگار بنی آدم کا قرار←  مزید پڑھیے

جہیز اور معاشرے کی غیرت ۔۔سید مہدی بخاری

میری پہلی شادی جو کہ دو طرفہ اندھا دھند محبت کی شادی تھی وہ جب ہوئی تو میرے سابقہ سسر صاحب نے ایک دن شادی سے قبل فون کر کے کہا کہ فلاں فلاں شے (جہیز) خریدنے کو پیسے بھجوا←  مزید پڑھیے

وہ وعدہ نہیں رہا ۔۔۔سیّد مہدی بخاری

آنکھ کھولنے سے ہی سلسلہ گفت و شنید کا شوقین رہا ہوں۔ ہمارا گھر محلے بھر میں وہ واحد گھر ہوتا تھا جہاں پی ٹی سی ایل کا فون لگا ہوا تھا۔ اس زمانے میں فون لگوانا جوئے شیر لانے←  مزید پڑھیے

کتاب جننے کے مراحل۔۔۔مہدی بخاری

میرا خیال تھا کہ پاکستان میں بچے پیدا کرنا سب سے آسان کام ہے کیونکہ یہاں ان کے بھی بچے ہیں جن کی عقل داڑھ بھی نہیں نکلی (اگر نکلی ہوتی تو شاید سوجھ بوجھ سے کام لیتے) لیکن مجھے←  مزید پڑھیے

خواب فروش، خواب گیر، ن م راشد۔۔۔سید مہدی بخاری

شاعری ان جذبات کے اظہار کا ذریعہ ہے جو انسان عام طور پر نثر میں نہیں کہہ پاتا۔ شاعری جسے فراز نے تازہ زمانوں کی معمار کہا، سلسلہ کُن فیکون، وہی شاعری ن م راشد کے لیے خواب کی سی←  مزید پڑھیے

چراغ، یاک اور بیگم۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

پامیر کا دل اور واخان کاریڈور کی وادی بروغل میں دمکتی کرمبر جھیل تک پہنچتے مجھے مسلسل پیدل چلنے کی تھکاوٹ سے بخار ہو چکا تھا۔میرا پورٹر سیف اللہ جھیل سے واپسی والے دن میرے پاس آیا اور بولا “صاحب←  مزید پڑھیے

گوجال،جہاں سے پاکستان شروع ہوتا ہے۔۔۔سید مہدی بخاری

میں پاکستان کی سرحد پر کھڑا تھا۔ ارد گرد ویرانی تھی، دور تک خاموشی تھی، اور آسمان سے برف گر رہی تھی۔ نومبر کے دوسرے ہفتے کا آغاز تھا۔ ایسا سفید دن تھا کہ میری سرخ جیپ اور سرمئی رنگ←  مزید پڑھیے

نیل گگن تلے پاکستان کا نیلم۔۔۔۔سید مہدی بخاری

اگلی صبح اٹھا اور کشمیر کی آخری انسانی آبادی گگئی گاؤں کی طرف چل پڑا۔ یہ پیدل مسافت کا راستہ تھا۔ راستے میں جنگل تھے۔ کھیت تھے۔ چرند پرند تھے۔ ایک دو مارموٹ تھے۔ میرے ساتھ ساتھ گگئی نالہ جھاگ←  مزید پڑھیے

باتھ روم رائٹرز۔۔۔۔۔سید مہدی بخاری

سفر کرنے کی وجہ سے انسان بہت کچھ سیکھتا اور پڑھتا ہے ، سیکھتا زیادہ ہے پڑھنے کو جو ملتا ہے اس کا نوے فیصد جی ٹی روڈ پر پٹرول پمپوں ، ہوٹلوں کے پبلک باتھ رومز ، پبلک ٹرانسپورٹ←  مزید پڑھیے