اذیت سی اذیت۔۔۔۔محمد منیب خان

میں مبہوت کھڑا ہوں۔ میرے سامنے ایک واقعہ رونما ہوا ہے۔ ایسا واقعہ کہ جس نے مجھ سے میری قوت گویائی چھین لی ہے۔ میں لب کشائی کرنا چاہ رہا ہوں لیکن الفاظ میرے حلق میں اٹک گئے ہیں۔ میری آنکھوں کی پتلیوں پہ موتیا آ گیا ہے۔کانوں میں مسلسل “سائیں سائیں” کی آوازیں مجھے مضطرب کیے ہوئے ہیں۔ بستر پہ لیٹا ہوں تو کسی کروٹ چین نہیں پڑتا۔ کوئی بلائے تو کسی بھی آواز پہ کان دھرنے کو جی نہیں چاہتا۔ میں اپنے جسم کی پوری توانائی لگا کر بھی ایک قدم اٹھانے سے قاصر ہوں۔

اگر میں اپنی سماعت کا حال سناؤں۔ تو اب مجھے کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ میری آنکھوں کی پتلیاں  اب کوئی پتلی تماشا دیکھنے کے قابل نہیں رہیں۔ آخر میں کب تک دیکھ سکتا تھا؟ منظروں کی فراوانی نے میری بصارتوں کو وقت سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔ اب کوئی تجسس باقی نہیں۔ اور ہاں بے اثر منظر کو کوئی آنکھ دیکھ بھی لے تو کیا فائدہ؟ بس کچھ ہیولے ہیں جو گاہے بگاہے اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہ ہیولے بڑے خوفناک ہیں۔ میں ان کی طرف متوجہ ہوتا ہوں لیکن کچھ کہہ نہیں سکتے مجھے اندیشہ ہے کہ یہ ہیولے میرے وجود کے دشمن نہ ہو جائیں۔

اب میں چھوتا ہوں تو مجھے کوئی جانا پہچانا لمس بھی دستیاب نہیں۔ میری انگلیوں کی پوریں زندگی کی حرارت محسوس کرنے سے قاصر ہیں۔ میرا لمس مردہ جسم کی نیم ٹھنڈک کو بھی محسوس نہیں کر سکتا۔ مجھے اب چھوتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ ۔کہ میں پھول و خار میں تفریق کرنے کے قابل نہیں رہا۔ مجھے پھولوں کی طلب میں اتنے خار مل چکے اور میری انگلیاں لہو لہان ہوتی گئیں۔ مجھے حوصلہ دلایا گیا، میری ڈھارس بندھائی گئی، لیکن ہر بار میرے ہاتھ میں کیکٹس ہی آیا۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں رب سے دعا کروں کہ اس کیکٹس پہ ہی کوئی پھول کھلا دے۔ شاید اسی صورت مجھے، میرے ہاتھوں کو، میری انگلیوں کو کوئی گداز لمس محسوس ہو۔

میں قدم اٹھا کر آگے بڑھنا چاہتا ہوں لیکن میرے جسم کی ساری توانائی نچوڑ لی گئی ہے۔ میری مدد کرنے کے لیے بھانت بھانت کے لوگ آتے ہیں۔ لیکن سبھی مجھ سے فائدہ اٹھا کر چلے جاتے ہیں۔ویسے بھی ایک اندھا، بہرا، گونگا کسی کی کیا مدد کر سکتا تھا۔ اس لیے مدد کے بہانے میرا ہی استحصال کیا گیا۔ کسی نے سہارا دیتے ہوئے جیب کاٹ لی تو کسی نے خدمت کرتے ہوئے پیسے اچک لیے۔ کسی نے رات کی تاریکی میں نقب زنی کی اور کوئی دن دیہاڑے گھر میں گھس آیا کہ آخر ایک لاچار کر بھی کیا سکتا ہے۔ اگر کوئی مخلص میرا سہار بننے لگتا ہے تو کوئی دوسرا اس کو دھڑام سے زمین بوس کر دیتا ہے۔ وہ بجائے میرا وجودسنبھالے وہ خود اپنے زخموں کے لیے مرہم تلاش کرتا پھرتا ہے۔

میری سماعتیں بھی باقی حسوں کی طرح لاغر ہو چکی ہیں۔ لوگ کیا بول رہے ہیں مجھے کچھ بھی سنائی نہیں دیتا۔ اور اگر میں سن بھی سکتا تو کیا فائدہ تھا۔ خار دار لفظوں نے میری سماعتوں کے چیتھڑے کر دیے تھے۔ ناگوار باتوں نے میری سوچ پہ وہ تازیانے برسائے ہیں کہ میرا دماغ اپنی ہیت کھو بیٹھا ہے۔ کانوں میں رس گھولتی آواز اب نایاب ہی نہیں ناپید ہو چکی ہے۔ اب محض وہ آوازیں ہی باقی بچی  ہیں جن پہ صور کا گمان ہوتا ہے۔

اب میں صرف محسوس کر سکتا ہوں۔۔ اور مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میرے سامنے بس ہیولے ہیں، سیاہ خوفناک ہیولے۔ جو کسی وقت میں اصل روپ میں خوبصورت اور خوشنما ہوا کرتے تھے۔ اب اپنی ساخت کھو چکے ہیں۔ میرے آگے پیچھے بھاگتے ہیں۔ میں ان کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن پکڑ نہیں پاتا۔ کہ میرا جسم انتہائی نحیف ہو چکا ہے ۔ میں اتنے نشیب و فراز سے گزرا چکا ہوں کہ اب مجھے نہ بلندی کا اشتیاق ہوتا ہے اور نہ پستی کا خوف۔ میں ہاتھ بڑھا کر ہیولے کو چھونے کی کوشش کرتا ہوں تو میرا لمس کبھی زندہ اور کبھی مردہ جسم کا احساس دلاتا ہے۔ کوئی اگر اس ہیولے کو پکڑنے میں میری مدد کرنے لگے تو بہت سے دوسرے ہیولے اپنے ساتھی کی مدد کو آ جاتے ہیں۔ یہ ہیولے بولتے ہیں لیکن میری تو سماعت بھی کسی قریب المرگ انسان کی طرح نحیف ہو چکی ہے۔ میں اب لہجوں اور لفظوں کی پہچان کرنے کے قابل نہیں رہا۔ آخری باہر اس ہیولے کے علاوہ کیا دیکھا، یاد نہیں۔ آخری بار کس نے میری مسیحائی کی، یہ بھی بھول گیا ہوں۔ آخری لمس کونسا تھا جو محسوس کیا؟ کچھ یاد نہیں پڑتا۔ آخری الفاظ کیا سنے تھے جو میری سماعت میں نیزے کی انّی کی طرح پیوست ہوئے “ییں ییں ییں”۔

محمد منیب خان
محمد منیب خان
میرا قلم نہیں کاسہء کسی سبک سر کا، جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے۔ (فراز)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *