علمِ دین اور دنیاوی مناصب۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

دین کا علم حاصل کرنے سے کیا مقصود ہونا چاہیے، یہ سوال برِ عظیم میں اس وقت سے گردش میں ہے جب علمِ دین حاصل کرنے والوں کو مدد معاش کے لیے قرار واقعی عملی میدان میں اترنا ٹھہرا اور ریاستی ملنا وظائف دھیرے دھیرے بند ہوگئے۔ چنانچہ اس سوال کی عمر قریب قریب ڈیڑھ سو سال سے زائد ہے۔

موسسِ تبلیغ حضرت جی مولانا محمد الیاس علیہ الرحمہ کے دور تک یہ سوال کئی صورتیں بدل چکا تھا۔ اس وقت دین کا علم حاصل کرنے والے طلبہ میں مدرسہ مکمل کرنے کے بعد میٹرک کرکے سرکاری سکولوں میں ملازمت کے لیے ضروری رسمی عصری تعلیمی استعداد پیدا کرنے کا رجحان زور پکڑ گیا تھا۔ مولانا بڑی حسرت سے فرمایا کرتے تھے کہ اپنی محنت سے تیار کی گئی کھیتی اپنے کام نہ آئے تو یہ نقصان ہے لیکن اپنی تیار کردہ کھیتی دین دشمنوں کے مقاصد پورے کرنے لگے تو نقصان کا کیا اندازہ کیا جائے۔

یہ ایک مائنڈ سیٹ تھا جو آج بھی کہیں کہیں موجود ہے، جو علمِ دین حاصل کرنے والوں کو دنیا کی لازمی مہارتیں حاصل کرنے سے بری طرح روکتا تھا۔ چنانچہ مدرسہ پڑھنے والے بچے درزی کا کام سیکھ لیتے، اور جو ذرا زیادہ استعداد والے ہوتے وہ طبابت کرلیتے۔ ایک مشہور بزرگ نے بڑی مدت تک کتابوں کی جلدیں کرنے کا کام کیا۔ لیکن یہ سب لوگ ہنر وری اور ہنر حاصل کرنے کو بہت نیچ درجے کا کام گردانتے تھے، الا ماشاءاللہ۔ انگریز کے سکول کالج کی ملازمت اور سکول کالج کی تعلیم بہت بری سمجھی جاتی تھی۔ ایک معروف بڑے بزرگ تو کالج کو مدرسہ کے وزن پر مجہلہ کہا کرتے تھے۔

اصولی بات ہے کہ تعلیم اور علم میں فرق کیا جائے۔ واضح طور پر سمجھ لیا جائے کہ تعلیمِ علمِ دین اور علمِ دین دو الگ چیزیں ہیں۔ تعلیم جو بھی حاصل کی جائے وہ ایسی ہو کہ باعزت روزگار دلا سکے اور اچھے عہدوں تک لے جانے والی ہو۔ یہ تعلیم، تعلیمِ علمِ دین بھی ہوسکتی ہے۔ علمِ دین حاصل کرنے کو ساری زندگی پڑی ہے، جب چاہیں اور جتنا چاہیں حاصل کریں۔ اس کا کوئی اور چھور نہیں ہے۔ جنت کا وعدہ علمِ دین کے حصول پر تو ممکن ہے لیکن تعلیمِ علمِ دین پر بالکل نہیں کیونکہ تعلیمِ علمِ دین تو کوئی بھی پاسکتا ہے اور اس کے زور پر عہدے بھی پاسکتا ہے۔ اپنے آس پاس کھلی آنکھوں سے دیکھ لیجیے کہ کتنی مساجد میں غیر مسلم ساری زندگی امام لگا رہا ہے۔ یہ لوگ نظر نہ آئیں تو کسی جاننے والے سے پوچھ لیجیے۔

تعلیم اور علم کا فرق روا نہ رکھنے والی بات کا مشاہدہ ہم نے بہت قریب سے کیا ہے۔ رائے وانڈ والے حضرات بہت مدت تک تعلیمِ علمِ دین کا عبور پورا کرانے کے بعد کوئی رسمی سند نہیں دیتے تھے اور اس تعلیم کو علمِ دین کا مترادف باور کیے ہوئے تھے۔ اس سے بہت مسائل پیدا ہوئے۔ بہت سے بچے اور ان کے والدین وقت اور بچے کی عمر ضائع ہونے کا رونا روتے پائے گئے۔ تعلیم کا مقصد عہدے حاصل کرنا اور دنیاوی ترقی ہے، جنھیں یہ لوگ تعلیمِ علمِ دین سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ساری گڑبڑ یہیں ہوتی ہے۔ بالکل واضح رہنا چاہیے کہ علمِ دین کا مقصد عہدے حاصل کرنا نہیں ہے، اور جو دینی تعلیم دنیا میں دو روٹیاں اور عہدے نہ دلا سکی وہ آخرت میں کیا دلا سکتی ہے؟

خود کو خوب اچھے طریقے سے سمجھایا جائے کہ علمِ دین کا وقار اس میں ہے کہ ہم علم میں آگے بڑھیں، اور یہ جو عہدے ہمیں ملتے ہیں یہ تعلیمِ علمِ دین کا عوض نہیں ہیں۔ مثلًا اگر یہ دیکھا جائے کہ فلاں دفتر کے کسی بڑے عہدے پر کوئی عالمِ دین بیٹھا ہے تو اس خیال کو دل میں بالکل نہ آنے دیا جائے کہ یہ شخص یہاں تعلیمِ علمِ دین حاصل کرنے کی وجہ سے بیٹھا ہے، بلکہ واشگاف الفاظ میں سمجھایا جائے کہ اس شخص کی تعلیم اگرچہ دینی علوم کی ہے جو اس کی ذاتی خوبی ضرور ہے لیکن یہ اس عہدے کے لائق اپنا skill set بڑھانے کی وجہ سے ہوا ہے۔ اس skill set میں اضافے کی وجہ کچھ اسناد بھی ہوں گی اور دیگر مہارتیں بھی۔

چنانچہ ہم تعلیمِ علمِ دین میں فلاں فلاں چیز پڑھ چکنے کے بعد فلاں فلاں عہدے یا مقام کو اپنا حق نہ سمجھیں۔ کسی بھی عہدے پر پہنچنا ہو تو اس کے لیے ضروری skill set مہیا کریں۔ یہ تعمیرِ ذات ہے، جو مستقل جاری رہنی چاہیے۔ skill set میں اضافے کی اگر کسی کو لت لگ جائے تو وہ دیکھتے دیکھتے بہت آگے نکل جاتا ہے۔ ایک آدمی جو کسی اچھی عہدے پر ہے، اس کے بارے میں معلوم کریں تو پتہ چلتا ہے کہ اس نے فلاں کورس کیا پھر فلاں کورس کیا اور پھر فلاں ورکشاپ کی اور پھر فلاں جگہ تجربہ حاصل کیا۔ یہ شخص ایک دن میں یہاں نہیں بیٹھا اور صرف شہادۃ العالمیہ کی وجہ سے اس عہدے پر نہیں بیٹھا۔

یہی ایک صورت ہے کہ ہمارا دین بھی اور ہمارا علمِ دین بھی، دونوں، خفیف ہونے سے بچ سکتے ہیں۔ اگر ایسا نہ کیا جائے تو رفتہ رفتہ نہ صرف تعلیمِ علمِ دین بلکہ دین ہی کو خفیف کرنے کا مزاج  بن جاتا ہے۔ اگر کوئی زبان سے نہ بھی کہے تو زبانِ حال سے یہی کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہم نے یہ کیا وقت ضائع کر دیا، وغیرہ وغیرہ۔ سماج میں الحادی سوچ کی سطح بہت بڑھ گئی ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ تعلیمِ علمِ دین کو خفیف سمجھا جانا ہے۔ یہ سخت خطرے کی بات ہے

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *