• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے۔۔۔۔راحیلہ کوثر

پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے۔۔۔۔راحیلہ کوثر

مجھے یاد ہے کہ جب میں 2012 میں صحافت کی طلبہ تھی تو میرے ادارے کی ان چند طالبات میں میرا بھی شمار ہوتا تھا جو برقعہ،حجاب یا ڈوپٹہ کولازم و ملزوم سمجھتی تھیں اور ہمیں کچھ ان الفاظ میں تنقید کا نشانہ بنایا جاتاکہ : “تم حلیہ بدل لو یا ڈگری”

آپ کو اس حلیے  کے ساتھ کوئی بھی قبول نہیں کرے گا اور اس وقت میرے پاس ان کے ہر سوال کا جواب عاصمہ شیرازی صا حبہ کا نام ہوتا مگر آج میرے پاس اور بھی بہت سے نام اور شخصیات ہیں جنہوں نے نا  صرف دیار ِ عشق میں اپنا مقام پیدا کیا بلکہ نیاء زمانہ نئے صبح وشام پیدا کر کے اقبال کے ان اشعارکو عملی جامہ پہنایا۔میں اپنے اس آرٹیکل میں دو شخصیات کا مختصر مگر جامع ذکر کرتے ہوے خراج تحسین پیش کرنا چاہوں گی ،جنہوں نے اپنی کامیاب زندگی میں یہ ثابت کر دیا کہ پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزاد ی مسلم خواتین کا حق ہے۔

Sule Yuksel Senler پہلی ترکی حجابی صحافی جنہوں نے مذہبی آزادی کی خاطر قید و بند بھی برداشت کی۔آپ1938 میں ترکی میں پیدا ہوئیں استنبول کے ایک سیکولر خاندان میں آپ نے پرورش پائی اور20سال کی عمر میں شعبہ صحافت سے منسلک ہوئیں اور (Kadin) اخبار میں آرٹیکل لکھنا شروع کیے۔اس وقت تک آپ میں مذہبی رجہان نہیں تھا یہ تبدیلی 27 سال کی عمر میں رونما ہوئی آپ نے نمازیں ادا کر نا شروع کیں اور حجاب کو زندگی کا حصہ بنا لیا،ساتھ ہی ساتھ آپ نے اس دور کی سیکولر خواتین کو پردے  کی طرف مائل کرنے کے لیے بے شمار آرٹیکل لکھنا شروع کر دئیے۔آپ کی بہت سی پرستار خواتین نے حجاب اوڑھنا شروع کر دیا۔1972میں ” ترکی یونین وومینزفیلڈ” نے ان پرایک آرٹیکل لکھنے کی پاداش میں مقدمہ کر دیا جس میں آپ نے لکھا تھاکہ:” ہر مسلم خاتون کو حجاب لازم ہے۔ “آپ کے پیروکاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد نے حجابی خواتین کی تعداد میں بھی ا ضافہ کیا تو اس وقت کے حاکم Cevdet Sunay نے1971میں Ankaraمیں ہونے والی پریس کانفرنس میں کہاکہ : ” اس کو سزا ملنی چاہیے جو گلیوں میں بڑھتی ہوئی حجابی خواتین کی  ذمہ دار ہے “۔ اس کے جواب میں آپ نے Cevdet Sunay کوایک خط لکھا جس میں اس نے Cevdetکو اللہ اورعوام سے معافی مانگنے کو کہا جس پر آپ کی گرفتاری کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔ شدید علالت کے باوجود آپ نے ۹ ماہ قید مکمل کی۔مگر یہ قید و بند آپ کے قلم کو مسلم خواتین اور حجاب کے تقدس پر لکھنے سے روک نہ سکی۔آپ کے شہر آفاق ناول Huzuz Sokgi (Peace Streat) پر نا صرف فلم بنائی گئی بلکہ ۲۱۲ میں ٹی وی ڈرامہ کی صورت بھی دی گئی جس کا موضوع بھی اسلام اور حجاب ہی تھا۔آپ ان خواتین کی آواز بن کر ابھریں جو میری طرح پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی چاہتی ہیں۔آپ81 سال کی عمر میں28اگست 2019 میں جہان فانی سے کوچ فرماگئیں۔

دوسری جانب امریکہ میں “حلیمہ ایڈن “دنیا کی پہلی حجابی سپر ماڈل بن کر2012یں شوبز کے افق پر نمودار ہوئیں سانولی رنگت والی حلیمہ کاتعلق کینیا سے ہے جو سومالی مہاجر اور امریکی رہائشی ہیں۔آپ عوام الناس کی توجہ کا مرکز تب بنیں جب آپ نے حجاب میں رہتے ہوئے مس یو ایس اے (Minnesola)کے مقابلے میں سیمی فائنل تک کامیابی حاصل کی۔اس کے بعد آپکو IMG Modelایجنسی نے سوپر ماڈل سائین کر لیا۔آج آپ نے حجابی خواتین کی علمبرداربن کر اس بنیاد پرستی کی دھجیاں اڑا دیں کہ” حلیہ بدل لو یا پیشہ بدل لو”۔

وومین ڈے میں ہر سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہر طرح کی آزادی کی تحریک چلائی جاتی ہے مگر کوئی بھی پیشہ ورانہ میدان میں مذہبی آزادی مسلم خواتین کا حق ہے پر بات نہیں کرتا۔آج جہاں بہت سے نجی تعلیمی اداروں میں اساتذہ کے حجاب پر پابندی ہے وہیں ہمارے پورے میڈیا میں کوئی ایسی اداکارہ نہیں جو حجاب میں رہ کر کام کر سکے ۔ایک جانب پوری دنیا میں اس بات کا ڈنکا بجایا جاتا ہے کہ لباس اور مذہب انسان کا ذاتی معاملہ ہے دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا بھر میں ان مسلم خواتیں کو بہت سے شعبہ ہائے زندگی میں قبول نہیں   کیا جاتا جو حجاب میں رہنا چاہتی ہیں۔

مجھے معاشرے کا یہ دوہرا  معیار نہ  تو سمجھ میں آتا ہے نہ  ہی کسی صورت ہضم ہوتا ہے۔ ہمارے سب اداروں کو اس ضمن میں اصلاح کی اشد ضرورت ہے کہ مذہبی آزادی بھی شخصی آزادی کا اہم جزو ہے جو ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔حجاب ہرعورت کا ذاتی معاملہ ہے نا کہ اس کی صلاحیتوں کو تولنے کاکوئی آلہ کار۔اگر عورت حجاب میں رہ کر پاک فوج کا جز و بن سکتی ہے توملک کے دیگر اداروں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتی ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *