کرونا ڈائریز:کراچی،کرفیو سے لاک ڈاؤن تک(سترہواں)۔۔گوتم حیات

بچپن میں ہم لوگ شبِ برات کو منانے کے لیے بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ ہمارا یہ ایمان تھا کہ شبِ برات میں کی جانے والی عبادات سے ہر مشکل حل ہو جائے گی اور آنے والا پورا سال سکون سے گزرے گا۔ ہر سال شبِ برات آتی اور ہم پوری عقیدت اور جوش و خروش سے اس کی تیاریوں میں لگ جاتے۔ عصر کی نماز کے دوران ہی امّی سوجی کا حلوہ بنانا شروع کر دیتی تھیں۔ جیسے ہی حلوہ تیار ہوتا تو میں اس کو کھانے کے لیے کچن میں دوڑ لگا دیتا، امّی ڈانٹ ڈپٹ کر مجھے کوستی اور کہتیں کہ دعا سے پہلے حلوہ کھانا ٹھیک نہیں ہوتا، برکت اُٹھ جاتی ہے، فرشتے لعنت بھیجتے ہیں، خبردار جو حلوے کو ہاتھ بھی لگایا۔
حلوہ کھانے کے انتظار میں وہ مختصر سا وقت گزارنا میرے لیے کٹھن ہو جاتا۔اسی دوران میں کچن کے چکر بھی لگاتا رہتا اور امّی سے نظر بچا کے تھوڑا سا حلوہ چکھ لیا کرتا تھا۔ خیر اللہ  اللہ کر کے مغرب کی اذان ہوتی، امّی نماز پڑھ کر حلوے پر ایک لمبی فاتحہ خوانی کرتیں، اس کے بعد ہمیں حلوہ کھانے کے لیے دیا جاتا۔ کچھ ہی دیر بعد محلّے سے بھی حلوے کی چھوٹی چھوٹی پلیٹیں گھر پر آنے لگتیں۔ اس دوران امّی بھی اپنا بنایا ہوا حلوہ دینے کے لیے پڑوس میں جاتیں۔ مجھے حلوہ کھانے کا جنون تھا (یہ جنون ابھی بھی قائم ہے) مغرب کے بعد اپنے گھر پر بنا ہوا حلوہ دو، تین پلیٹیں اطمینان سے کھانے کے بعد میں گیلری میں اپنے گھر کے بیرونی دروازے پر نظریں جما کر بیٹھ جاتا، اڑوس پڑوس سے جتنے بھی لوگ حلوہ دینے کے لیے ہمارے گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتے تو میں ہی ان سے حلوے کی پلیٹیں وصول کرتا، ایسا بہت کم ہی ہوتا کو حلوہ دینے کے لیے کوئی آیا ہو اور میں دروازے پر موجود نہ ہوں۔ ہمارے محلے سے بہت مزے مزے کے حلوے آیا کرتے تھے (یہ حلوے ابھی بھی آتے ہیں)۔ مجھے اپنے برابر والے گھر سے آئے حلوے کا بےچینی سے انتظار رہتا، ان کے گھر پر بیسن اور دال کا حلوہ بنتا تھا۔ وہ لوگ چھوٹی چھوٹی پلیٹوں میں تھوڑا سا حلوہ ڈال کر اس پر انگلیوں کے نشان ثبت کر کے محلے بھر میں بانٹتے تھے۔ میں جب بھی ان کے گھر سے آئے ہوئے حلوے کو کھاتا تو وہ فوراً ہی ختم ہو جاتا، اُس وقت میری خواہش ہوتی کہ کاش یہ لوگ اگر حلوے کی مقدار کو بڑھا دیں تو کتنا اچھا ہو جائے۔ سالوں گزر گئے لیکن ان کے گھر سے آنے والے حلوے کی مقدار میں ذرا بھی اضافہ نہیں ہوا۔
ہمارے محلے میں ایک گھر تھا جن کے بارے میں ہم نے خود ہی یہ فرض کر رکھا تھا کہ یہ لوگ صفائی سے کھانا نہیں بناتے، عموماً یہ ہوتا کہ ان کے گھر سے جب بھی حلوے کی پلیٹ آتی ہم لوگ خاموشی سے اس کو کچن میں رکھ دیتے اور اگلے روز صبح وہ حلوہ یا تو ہم کسی فقیر کو دے دیتے یا اوپر چھت پر پھینک دیتے کہ کوّے، چڑیاں اور گلہری آکر کھا لے گی۔ بچپن میں اکثر ایسا ہوتا کہ میں کسی کام سے یا نماز پڑھنے کی غرض سے اپنی گیلری کے بیرونی دروازے سے چلا جاتا اور جب واپس آتا تو حلوے کی کوئی پلیٹ کچن میں رکھی ہوتی، اس پلیٹ کو دیکھ کر مجھے شک ہوتا کہ یہ یقیناً اُسی گھر سے آئی ہو گی اور میں اسے نظرانداز کر کے کمرے میں بیٹھ جاتا، تھوڑی ہی دیر بعد میرا کوئی بہن، بھائی کچن سے وہ پلیٹ ہاتھ میں لیے کمرے میں نمودار ہوتا اور مجھ سے کہتا “عاطف تم نے یہ حلوہ کیوں نہیں کھایا، بہت ہی لذیذ حلوہ ہے، لو کھاؤ” وہ پلیٹ میری طرف بڑھا دیتا میں بُری سی شکل بنا کر کہتا، “نہیں میں نہیں کھاؤں گا کیونکہ یہ اُن کے گھر سے آیا ہے”، میری اس بات پر وہ لوگ جھوٹی قسم کھا کر مجھے قائل کر لیتے کہ نہیں وہ حلوہ تو ہم نے پھینک دیا تھا، یہ دوسرے گھر کا ہے، تم کھا کر تو دیکھو، اور میں ان کی بات پر یقین کر کے جب حلوہ کھا چکتا تو وہ لوگ ہنس ہنس کر خوب میرا مذاق اڑاتے اور اعلان کرتے کہ یہ حلوہ تو اُسی گھر کا تھا ہم نے تمہیں آخر گندا حلوہ کھلا ہی دیا۔
ایک دفعہ شبِ  برات سے دو دن قبل میری بڑی بہن “اپّی” نے کہا کہ “شب برات آنے والی ہے اس بار میں بھی بیسن کا حلوہ بناؤں گی، مجھے حلوہ بنانا آگیا ہے، ایک کتاب میں بیسن کے حلوے کی ترکیب پڑھی ہے بس اُسی کو دیکھ کر بناؤں گی”، ہم لوگ سب خوش کہ چلو اس بار ہمارے گھر پر بھی بیسن کا حلوہ بنے گا۔ شب برات کی شام امّی حسب معمول اپنا من پسند سوجی کا حلوہ تیار کر کے نماز میں مشغول ہو گئیں اور “اپّی” نے کچن میں جا کر بیسن کا حلوہ بنانا شروع کیا، تھوڑی ہی دیر میں پتیلی میں چمچہ چلا چلا کر ان کے ہاتھ میں درد ہونے لگا، بمشکل بیسن کا حلوہ اپنے اختتامی مراحل میں پہنچا، لیکن جل بُھن کر۔ اُس وقت ہم نے وہ جلا ہوا بیسن کا حلوہ بہت مزے سے کھایا تھا۔
شَبِ برات کے اگلے روز ہمارے  سکول کی چُھٹی ہوا کرتی تھی۔ اس لیے ہم سب ساری رات نمازیں ادا کرتے، سورہ یاسین، سورہ مزّمل اور سورہ رحمٰن کی گیارہ گیارہ مرتبہ تلاوت کر کے خوب دعائیں مانگا کرتے۔ “اپّی” ہمیں شب برات میں نمازیں پڑھنے اور دعائیں مانگنے  کی اتنی فضیلتیں بتایا کرتیں کہ ہمیں اپنے گھر پر ہی بیٹھے بیٹھے جنّت نظر آنے لگتی۔ ہم خوب عقیدت سے نمازوں میں مشغول ہو جاتے۔
محلّے میں بہت سے بچے پٹاخے اور آتش بازی کے کھیل میں مگن رہتے، رات بھر ان کے پٹاخوں کی آوازوں سے ہماری نمازیں متاثر ہوتی، اس وقت ہمارا بھی دل چاہتا پٹاخے اور آتش بازی سے لطف اندوز ہونے کا، لیکن بدقسمتی سے گھر والوں کی طرف سے اس بات کی ممانعت تھی، ان کا کہنا تھا کہ یہ سب خرافات شیطانوں کی ہیں، آج رات کو جو بھی مسلمان اپنا وقت ان خرافات میں صرف کرے گا تو اسے قیامت والے دن سخت سزا دی جائے گی۔ گھر والوں کی ان باتوں سے تائب ہو کر ہم دوبارہ سے عبادت میں مشغول ہو جاتے۔
اُن دنوں پی ٹی وی پر ایک نعت بار بار ٹیلی کاسٹ کی جاتی، جس کو ہم خوب شوق سے سنا اور دیکھا کرتے تھے۔ نعت کے بول تھے؛

طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا
لوگو! آواز دو سب کو
دیکھ لو قاصدِ رب کو
روشنی غارِ حرا کی
مل گئی پردۂ شب کو
بارشِ نجم و قمر ہے
آج سے حکمِ سحر ہے
رات کو رات نہ کہنا
طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا!!
نعت کی اس ویڈیو میں دس، بارہ لڑکیاں آمنے سامنے دو قطاروں میں کھڑے ہو کر ہاتھوں میں ڈف لیے، کورس میں انتہائی خوبصورتی سے اس کو پیش کرتی ہوئیں ہمیں بہت بھلی لگتیں تھیں۔ ان دس، بارہ لڑکیوں میں ایک لڑکی آنے والے سالوں میں ٹیلی ویژن کی مشہور اداکارہ بن کر اُبھری (جویریہ جلیل)، نعت کی اس ویڈیو میں ایک لڑکی ہمارے محلّے کی بھی تھی جس کو میں تو نہیں جانتا تھا لیکن میری دو بڑی بہنیں “اپّی” اور “شگّو” اُس سے واقف تھیں، شاید وہ لڑکی  سکول میں ان کی سینئر تھی۔ یہ نعت ہم تقریباً ہر شبِ برات، رمضان، اور ربیع الاول کے دنوں میں پابندی سے سنا کرتے تھے۔ ہمارے پڑوس میں ماریہ نام کی ایک لڑکی تھی جو ہمیں بتایا کرتی تھی کہ شبِ برات میں کُھلے آسمان کے نیچے نماز پڑھنے سے دگنا ثواب ملتا ہے اور جو رات کو عبادت کر کے چاند کی طرف دیکھے گا تو اسے
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عکس نظر آئے گا۔ ہم ماریہ کی ان من گھڑت باتوں پر یقین کر کے کھلے آسمان کے نیچے شب برات کو نماز پڑھ کر تھوڑی تھوڑی دیر بعد چاند کی طرف تکا کرتے تو وہاں ہمیں صرف چاند ہی نظر آتا اور اس کے آس پاس ستارے جھلملا رہے ہوتے۔
آہستہ آہستہ  سکول کا حبس زدہ کنٹرولڈ دور ختم ہوا اور میں نے کالج کی آزاد فضا میں سانس لینے کی شروعات کی۔ مجھے معلوم ہوا کہ اس شہر میں مسلمانوں کے علاوہ پارسی، ہندو اور عیسائی بھی بڑی تعداد میں رہائش پذیر ہیں اور ان میں سب خاکروب نہیں ہیں۔ کتابوں کو پرکھنے اور پڑھنے کی جب سمجھ بوجھ آنے لگی تو مجھے معلوم ہوا کہ بہت سی چیزیں جن پر میں اعتقاد کرتا ہوں یا مجھے جن پر اعتقاد کرنا سکھایا گیا ہے وہ تو سِرے سے ہی بے بنیاد ہیں۔ روایات اور تقلید پرستی کے نام پر ہمیں چلتا پھرتا چابی کا ایسا کھلونا بنایا جا رہا ہے جس کی اپنی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ اُس وقت بہت مشکل تھا اپنے بتوں کو ٹوٹتے اور بکھرتے ہوئے دیکھنا لیکن یہی وہ وقت تھا جب میں نے شعوری طور پر اپنے اندر “انسانیت” کو بیدار ہوتے ہوئے دیکھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سی چیزیں بدل گئیں لیکن شبِ برات پر حلوہ کھانا مجھے ابھی بھی بیحد پسند ہے۔
آج شبِ برات کا آغاز ہو چکا ہے، لاک ڈاؤن کی وجہ سے شہر کی مساجد اور قبرستانوں میں جانے پر پابندی ہے۔ حکمرانوں کی طرف سے گھروں میں ہی عبادت کرنے کی تلقین کی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں سے یہ بھی درخواست کی جا رہی ہے کہ وہ اللہ سے دعا مانگیں کہ کرونا کا خاتمہ ہو جائے۔
ٹی وی پر ان کے یہ ارشادات دیکھ کر مجھے اکتاہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اکیسویں صدی میں نہیں بلکہ قرون وسطیٰ کے کسی تاریک زمانے میں رہ رہا ہوں اور خداوند تعالیٰ کے قہر سے بچنے کے لیے مناجات میں مشغول ہوں۔ کیا میری یہ مناجات مجھے کرونا سے محفوظ بنانے کے لیے معاون ثابت ہوں گی؟؟ ۔ہزاروں کی تعداد میں جو انسان کرونا کا شکار ہوئے کیا ان کی دعائیں بےاثر تھیں۔۔ یا اُن دعاؤں کو سُننے والا کوئی نہیں تھا؟؟

بُجھ رہے ہیں چراغِ دیر و حرم،
دل جلاؤ کہ روشنی کم ہے!!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *