موت۔۔۔۔میمونہ عباس

میں نے دیکھا کہ موت رقصاں ہے !
ہاسپٹل کے سفید بستر پر
اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کے بیچ
آنسو بہتے تمہارے گالوں پر
سسکیوں اور ہچکیوں کے بیچ
اپنے ماتھے پر آخری بوسہ
ثبت کرتے تمہارے ہونٹوں پر

اور وحشت کی تال پر رقصاں
میں نے دیکھا کہ وجد میں ہے جنوں
وقت کے در پہ سر جھکائے ہوئے
تھوڑی مہلت ادھار لینے کو
بھیک لیتے تمہارے ہاتھوں پر
جن کی لرزش میں بے بسی تھی عیاں
میں نے دیکھا کہ موت رقصاں ہے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *