• صفحہ اول
  • /
  • ادب نامہ
  • /
  • ال نوری بیمارستان، مکتب انبار۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط25

ال نوری بیمارستان، مکتب انبار۔۔۔ شام امن سے جنگ تک/سلمیٰ اعوان۔قسط25

سچ تو یہ تھا کہ جونہی ماڈرن کواٹرز کے انتظامی اور کمرشل حصوں سے جدا ہو کر بندہ پرانے دمشق کے اندر داخل ہوتا ہے۔اور چاہے وہ جتنی بار بھی داخل ہو اس پراس طلسمی دنیا کے دروازے ہر بار ایک نئے رنگ سے وا ہوتے ہیں جو کہیں خوابوں میں ,خیالوں میں بستی ہے۔ یہ حصّہ دمشق کا ہی نہیں بلکہ پورے ملک کا دل ہے۔ بلاد شام کی انگوٹھی میں جڑا وہ نگینہ ہے جو دنیا بھر کی عظیم شخصیات کے مقبروں، مختلف مذاہب کے عبادت خانوں سے سجی نظر آتی ہے۔

داخلہ فصیل کے اندر کسی بھی حصے اور کہیں سے بھی ہو۔خوبصورت کلاسیکل قسم کے منظر خوش آمدید کہتے ہیں۔ مشرقی جانب کا بیشتر حصہ غائب ہے۔ مدحت پاشابازارجو ال تاوارہ Al Tawra سٹریٹ سے شروع ہوتا کِسی بنگالی حسینہ کی سیدھی لمبی مانگ کی طرح دائیں بائیں نظارے کرواتا, باب شرقی پر آکر آگے پھیلی آبادی کے ہجوم میں گم ہوجاتا ہے۔

یہ مرکزی مانگ ہر دو قدم پر چھوٹی مانگوں کا راستہ کھولتی ہے جن کی تنگ تنگ گلیوں کی بھول بھلیاں جہاں سکون، خاموشی اور گر م موسم میں ار دگرد پھیلی ایک لطیف سی خنکی کا احساس دفعتاً آپ کے رگ و پے میں لطیف سا ارتعاش اور مسرت آگیں کااحساس اُتارتا ہے۔

چلتے چلتے کسی گھر سے، کسی خان سرائے سے، باہر آتی موسیقی یا کسی گیت کے بول آپ کو انوکھے جہانوں میں لے جاتے ہیں۔ اُس جہان میں جسے آپ نے نہیں دیکھا۔ جسے کہیں پڑھا یاسنا ہے۔ جس کا اسرار جس کے بارے جاننے کا شوق دور دراز کے خطوں سے آپ کو یہاں کھینچ لا تا ہے۔

اس کی تنگ تنگ گلیوں میں کہیں کہیں چھوٹے چھوٹے دروازوں کو دیکھ کر گمان بھی نہیں ہوتا کہ یہ ایسے ایسے نادر محلوں اور حویلیوں کو کسی فقیر کی گڈری میں چھپے لال کی طرح چھپائے ہوئے ہیں جن کے حیرت انگیز طرز تعمیر کو دیکھتے ہوئے بندہ حیرتوں کے جہان میں گر پڑتا ہے۔

اچانک کہیں ایسے شاندار محلات کے دروازے کھلتے ہیں کہ بعینہ یوں لگتا ہے جیسے ایلس کسی ونڈر لینڈ میں داخل ہوگئی ہے۔ خان سراؤں، کتب خانوں، گرجاؤں، مسجدوں کی دنیاواقعات، حقائق اور طلسمی کہانیوں کا ایک جہان وا کرتی ہیں۔

اس کے اندر گھومتے پھرتے کسی قریبی مسجد سے اذان کی مسحور کن آواز آپ کو اگر ایک لطیف سی سرشاری میں ڈبوتی ہے تو وہیں کسی خوبصورت چرچ میں بجتی گھنٹیاں بھی کسی آرتھوڈوکس عیسائی کے قدموں کو روک لیتی ہیں اور کچھ ایسا ہی حال کسی شینی گاگ کا بھی ہے۔

سچی بات ہے میں اس کی محبت اور اس کے سحر میں گرفتار تھی اُس وقت سے جب سے میرے بڑے بیٹے غضنفر نے ایک بار کیا کئی بار کہا تھا۔اپنی ترجیحات میں سیریا کو شامل کیجیے۔ شیریں مسعود نے بھی مجھے اس کی داستانیں سنا کر میری اِس آتش شوق کو مزید بھڑکایا تھا۔

دمشق میں ہمارے صرف اب چار دن باقی ہیں۔ اور یہ چاروں دن ہم نے اسی کے کوچہ وبازارمیں گزارنے ہیں۔ دمشق کے بازار بھی تو اپنی نوعیت کے ورسٹائل قسم کے بازارہیں۔ حلب کے پرانے بازاروں کابھی یہی رنگ ڈھنگ ہے۔ ہمارے بازاروں کی طرح کہیں سوہا بازار یعنی طلائی بازار، کہیں اکبری منڈی جیسا مرچ مصالحوں والا بازار، کہیں گمٹی جیسا کپڑے کا کہیں کسیرا۔یعنی پیتل تانبے والا جہاں چھینیوں،ہتھوڑیوں کی ٹھک ٹھک، پٹ پٹ، سٹ سٹ والے منظر آپ کو روکتے اور دیس  کی یاد دلاتے ہیں۔

تو چار دنوں کوہم نے تقسیم کردیا ہے۔ آج میں اکیلی ہوں۔علی کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔نسرین کابھی کچھ موڈ نہیں بن رہا تھا۔ ال نوری بیمارستان جیسے ماضی کے پہلے میڈیکل سکول کو دیکھنے ال حریقہAl-hariqa یا سعدی عمود کواٹر میں داخل ہوتی ہوں۔ بیرونی دروازے کی شان و شوکت کے کیا قصیدے پڑھوں کہ ایسا نظر آیا تھا کہ جس پر پڑتی ہر ہر نظر عظمتوں کی گواہی دیتی تھی۔داخلی گزر گاہ البتہ متناسب قامت والی تھی۔پیشانی اور اندر باہر کا سارا بدن سلجوق طرز تعمیر کے مخصوص انداز اور خوب صورتیوں کا عکاس تھا۔

سچی بات ہے اس کا بیرونی چہرہ دیکھ کر کوئی تاریخ سے ناواقف اندازہ ہی نہیں لگا سکتا کہ اِس بند سیپ کے اندر کتنا قیمتی موتی بند ہے۔یہ حال تقریباً دمشق کے اکثر محل باڑیوں کا ہے۔اندرداخل ہو کر گویا گل وگلزار اور طلسم کا ایک جہاں کھلتا تھا۔ فوارہ گو خشک تھامگر کبھی تو موتی بکھیرتا ہو گا تب کیا سماں باندھتا ہوگا۔ آگے پھر محرابی کشادہ برآمدہ جس کے آ گے کمرے، کہیں لمبی لمبی راہداریاں۔
مشرق کا یہ پہلا طبی سکول اور بارھویں صدی کا پبلک اسپتال، 549 میں اسے سلطان نور الدین نے بنایا تھا۔ تقریباً اُنیسویں صدی تک یہ لوگوں کی خدمت کرتا رہا تاآنکہ دمشق کے مرکز میں ایک بڑا ہسپتال نہ بن گیا۔

اس کا میوزیم بھی کمال کا ہے۔ اسلامی فن تعمیر کا ایک لا جواب شاہکاروسطی عہد کے طبی آلات جرّاحی جو مسلمان سائنس دانوں اور طبی ماہرین کی ذہانت وفطانت کی کہانیاں سناتے تھے۔ کچھ تو ایسے تھے جو آج بھی استعمال ہوتے ہیں۔ شو کیسوں میں دھری کتابوں اور مسودات پر لکھے گئے نوٹس بتاتے تھے کہ اس وقت کے عرب ڈاکٹراور کیمیا دان اپنے مریضوں کا علاج صرف دوائیوں اور ان آلات سے ہی نہیں کرتے تھے بلکہ وہ نفسیاتی طریقے بھی استعمال کرتے تھے جن میں موسیقی، بات چیت اور آج کے بہت سے ماڈرن طریقے شامل ہیں۔
محبتوں اور عقیدتوں سے لبالب نذرانہ دعا کی صورت ابنِ ال نفیس کے حضور پیش کیا کہ وہ اِسی عظیم طبی درس گا ہ کا طالب علم تھا۔
دمشق کا بیٹا 1213 عیسوی میں پیدا ہونے والا جس نے زمانوں پہلے دل کے دوران خون کا نظریہ پیش کیا تھا۔انگریز سرجن ولیم ہاروے سے بھی صدیوں پہلے۔ میں نے رک کر گہری سانس بھری تھی اور حسرت لئے لہجے میں اپنے آپ سے کہا تھا۔
”فکر ودانش کے سوتے پتہ نہیں اب کیوں خشک ہو ئے پڑے ہیں؟“

میوزیم کے تین ہال بہت اہم ہیں اور ان کا فی الواقع دیکھنے سے تعلق ہے۔ اُن میں ایک سائنس ہال ہے اس میں آلات جراحی اور فلکیاتی آلات ہیں۔ زاویہ پیما، جہاز رانوں کے لئے سمتیں معلوم کرنے کے آلات۔ ابو نصر ال فارابی کے مجسمے سے کتنی دیر باتیں کیں۔
اس کے کشادہ ایوان بھی قابل دید تھے۔ مشرقی سمت کا تو ہنگامی کیسز کو نپٹاتا تھا اور مغربی سمت کا نماز کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ دیگر حصے مریضوں کے لئے تھے کہ جہاں انہیں دنوں اور کبھی مہینوں ٹھہرایا جاتا اور ان کا علاج ہوتاتھا۔

میڈسن کے ہال میں نہ صرف آلا ت ہیں بلکہ طب کے مسودے، انسانی جسم اور آنکھ کی ڈرائینگ، نفسیاتی علاج کے لئے قرآنی آیات کا استعمال کیوں اور کیسے کیا جاتا تھا۔ ختنوں میں استعمال ہونے والی خاص قینچیاں اور آلات۔

تیسرا ہال جہاں پودے اور نباتات تھیں۔دوائیں کیسے بنتی تھیں۔ یہاں لائبریری تھی۔ کتابوں کی اہمیت عربوں کی زندگی میں ہمیشہ سے تھی۔اگر نہیں ہے تو بس آج کی دنیا کچھ اس سے محروم ہے۔
میں ایک پُر سحر سی کیفیت میں باہر نکلی تھی۔ اپنے ماضی پر فخر کرتی اور حال پر کڑھتی۔ قریب ہی جریقہ بازار تھا۔ اس کی بھی بڑی دلچسپ داستا ن ہے۔ جب آئس کریم بار پر بیٹھی آئس کریم کھاتی تھی تو ایک نوجوان لڑکے سے سنتی تھی جس کی کرسی کے پاس میں نے اس لئے بیٹھنے کی کوشش کی تھی کہ حالات حاضرہ پر کچھ جان سکوں مگر اُس نے مجھے اس جگہ کے متعلق بتانا شروع کر دیا جو بہرحال کسی طور بھی دلچسپی سے خالی نہ تھا۔ پہلے یہ سارا علاقہ سےّدی عمود کے نام سے مشہور تھا۔ یہ مشہور و معروف عالم دین اور فلاسفر تھے۔

پورا علاقہ فرانسیسی غلبہ حاصل کرنے کی کوشش میں زبردست بمباری کے نتیجے میں اس آگ کا شکار ہوا جو اِس حصّے میں ایسی بھڑکی کہ یہاں کے خوبصورت محل، خان سراہیں، حما م سب جل گئے۔ ایک تہذیبی ورثہ تباہ ہو گیا۔ سےّدی عمود کا مزار جل گیا۔ جرمن قونصلیٹ اور جرمن کونسلر کی رہائش گاہ سب جل بھن گئیں۔
باروق اور رکوکو سٹائل کا شاندار ورثہ تباہ ہوگیا۔ بے شمار تاریخی یادگاریں برباد ہوگئیں۔

اب یہا ں پھیلے کاروباری مراکز کو دیکھتے ہوئے میں سوچتی تھی کہ دمشق کے حمام بھی دیکھنے کی چیز تھے۔ گو میں نے اُن سے عملی استفادہ نہیں کیا مگر اُن کے حسن و خوبصورتی، آرائش وزیبائش سے دل ضرورشاد کیا۔ ان میں قدیم ترین نور الدین کے وقتوں کا بنایا ہوا نورالدین حمام بھی ہے جو مجھے مدرسہ نوریہ کے قریب نظرآیا تھا۔ دو تین اور بھی حماموں میں جھانکی تھی۔

کہاں کسی نے دیکھا ہوگا ایسا خوبصورت بوڑھا گھر اُس حسینہ عالم جیسا جو اپنی جوانی میں کیا تہلکہ خیز شے ہو گی۔ بڑھاپا ماند پڑا ہوا مگر عظمت رفتہ کی داستان سناتا ہوا۔ بیرونی دروازہ عام سا مگر اندر حیران کرنے والی حیرتوں سے بھرا ہوا تھا۔یہ حیرتیں رنگوں کی صورت میں تھیں۔ پچی اور چوب کاری، رنگین پتھروں سے آراستہ دیواروں اورتین سو سال پرانے فرش کی صورت میں آنکھیں پھاڑتی تھیں۔ برطانوی کو نسل جنرل کا گھر بعد ازاں بہت سے دیگر بڑے لوگوں کا گھر رہا۔ دمشق کے ابتر دنوں کی طرح گھر بھی صنعتی لیٹروں کے ہتھے چڑھ گیاجنہوں نے رنڈی بازوں کی طرح اس کا حسن لوٹنے کی پوری کوشش کی۔ بہرحال حکومت نے 1974 میں اسے آراستہ پیراستہ کر کے محفوظ کیا۔ اب اللہ جانے کس حال میں ہو۔

مکتب انبار بھی کیا چیز تھی۔بیرونی صورت تو نری فقیرانہ سی پر اندر سے انتہائی امیرانہ۔آغازمیں تو گھر کا ہی نام لے لیں۔تعمیری حسن کی محبت جوش مارے تو محل کا نام دے لیں۔ نہیں جانتی اُن شاہی لوگوں کی کیا نفسیات تھی۔ محمود الکواتلی نے اسے 1867 میں بڑے ارمانوں سے بنایا۔ تاہم یہ نہیں معلوم ہوا کہ اس نے بعد ازاں اسے یونس انبار ایک امیر یہودی تاجر کے پاس کیوں بیچ دیا۔ عثمانی سلاطین نے اسے ایک قرضے کے عوض بحق سرکار ضبط کر کے سکول بنا دیا۔ سکول کہہ لیں یا یونیورسٹی کہ دمشق کے امراء کے بچوں نے تعلیم حاصل کی اور بہت بڑی شخصیات یہاں سے میڈیسن، لٹریچر اور قانون وغیرہ کی تعلیم میں نمایاں ہوئیں۔

عرب قومیت کا راگ اسی کی فضاؤں سے بلند ہوا۔پروان چڑھا اور اس کا جھنڈا اسی گھر سے لہرایا گیا۔پھر فرانسیسیوں کے غلبے میں قوم پرستوں کی مدافعتی سرگرمیوں کا گڑھ رہا۔ اس کی شاندار لائبریری دیکھی۔ سمپوزیم ہال دیکھے۔ اور آرٹ گیلری سے لطف اندوز ہوئی۔ یہ اندلس کے الحمراء کی یاد دلاتا ہے۔
میں نے لان میں کھڑے بالکونیوں کو دیکھا تھا۔ پتہ نہیں ٹیرس اور بالکونیاں کیوں ہمیشہ بہت مسحور کر تی ہیں۔ وہاں بیٹھ کر چائے پینے کا تصور ہمیشہ بڑا ہی رومانوی نظر آیا۔اب ذرا تاریخ سے بھی شناسا ہوجائیں۔

قہوہ اور کافی عرب دنیا کے دو پسندیدہ ترین مشروبات، قہو ہ وہی ہمارے ہاں کے چائے کی پتی کا دم شدہ۔ ہمارے قہوے سے مختلف۔ ہماری چائے دودھ کے ساتھ۔ قہوہ خانے اور کافی گھر بھرے پُرے، موسیقی اور گانوں سے آباد شاد۔ یہی وہ قہوہ اور کافی گھر تھے جو ماضی میں داستان گوئی کا مرکز تھے۔داستان گوئی کی داستان بھی بڑی دلچسپ۔ داستان گو ہمیشہ پڑھا لکھا آدمی ہوتا تھا۔ سارے دن کی مشقت کے بعد جیسے ہمارے ہاں چوپال جمتی اور کبھی ہیر رانجھا سنی جاتی اور کبھی کوئی فوک داستان۔ کچھ ایسا ہی حال دمشق کا تھا کہ یہاں کہانی پڑھی جاتی اور ساتھ ساتھ چہرہ اور بدنی اعضاء اس کی ڈرامائی تشکیل کرتے۔ اب ذرا اس سارے حصے کا تفصیلی اظہار بھی سن لیں۔

قہوہ خانے کے وسط میں ایک بڑا سا پلیٹ فارم بنا ہوتا جس پر روایتی شلوار سرخ طربوش پہنے ایک خوبصورت شامی داستان گو آغاز کرتا۔کہانی عام طور پر کسی ایسے ہیرو کی ہوتی جس نے ماضی میں کارہائے نمایاں انجام دئیے ہوں۔ پرانی جنگوں، فیاضی،وفاداریوں اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کی کہانیاں۔

مدحت پاشا بازار کاوہ حصہ جو باب توماTomaسے باب کیسانKissan تک پھیلا ہوا ہے۔ ایک طرح عیسائی اکثریت کا علاقہ ہے۔ یہاں دیوار دمشق کا کچھ حصہ غائب ہے۔ ٹیکسی نے مجھے حنانینہ سٹریٹ کے پاس اُتاراجہاں سے میں حانینہ Hananaya چرچ میں آگئی۔ سیڑھیاں بہت نیچے لے گئی تھیں۔ اب یہ معلوم نہیں ہوا کہ تعمیر ہی ایسے انداز میں ہوئی یا سڑکوں اور شاہراہوں کی مسلسل بلندی کا عمل اس کا باعث ہے۔ یہی وہ چرچ ہے جہاں حنانینا نے سینٹ پال کا بپتسمہ انجام دیا تھا۔

بادشاہ چاہے ہند سندھ کے ہوں چاہے روم ایتھنز کے ہوں۔ اول درجے کے کمینے اور کینہ پرور ہوتے ہیں۔ اللہ کے نیک بندوں سے پھڈے بازیاں کرتے رہتے تھے۔ روم کے شہنشاہ Aretas نے بھی سینٹ پال کی گرفتاری لئے بندے متعین کئے جو مار دھاڑ کرتے یہاں پہنچے۔ مگر سینٹ پال ایک سرنگ کے راستے نکل جانے میں کامیاب ہوگئے۔
گرجے میں ویرانی ہی ویرانی تھی۔ خوبصورتی کے ساتھ پرانا پن بھی تھا۔ ٹرے میں بچھی ریت پر چند موم بتیاں جلتی تھیں۔اور کونے میں ایک گہیواں رنگ کا اُدھیڑ عمر مرد بیٹھا اِس سارے منظر کو مزید پراسرار بنا رہاتھا۔ میں قریب گئی۔ اپنا تعارف کروایا۔ شکر کہ اُس کے قدرے عجیب سے چہرے پر مدھم سے نرمی اور ملائمت کے نشان اُبھرے۔ بولا تو مزید شکراً کہا کہ انگریزی جانتا تھا۔ باتیں ہونے لگیں۔ میں تو حیرت زد ہ رہ گئی تھی جب کسی لمبی چوڑی تمہید کے اُس نے کہا تھا۔

”سیریا میں بڑی تباہی آنے والی ہے۔ بائبل میں اس کی پشین گوئی کی گئی ہے۔ قربِ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شام شہر نہیں رہے گا۔ بس کھنڈرات کا ڈھیر ہوگا۔ کچھ ایسا ہی حال اسرائیل کا بھی ہوگا۔“
تب شام کے پر امن حالات کے تناظر میں یہ بات بڑی عجیب سی محسوس ہوئی تھی۔ میں نے جاننے کی کوشش کی۔ برادر رابرٹ کی باتوں میں کہیں ابہام نہ تھا۔
وہ بڑا واضح تھا۔ اس کا کہنا تھا کہ بائبل کے عالم مسلسل غوروفکر کی دنیا میں رہتے ہیں۔ قیامت کی نشانیوں کے اظہار میں سے ایک بڑا اظہار یہ ہے۔
آج جب میں اس کی باتیں یاد کرتی ہوں تو خود سے پوچھتی ہوں تو کیا اُس پادری کی باتیں سچ کی کسوٹی پر پوری اترنے والی ہیں۔

ال مریم چرچ کو دیکھنے کا مزہ آیا۔ مدحت پاشا بازار کی رونقیں لوٹتے لوٹتے جب آپ اس سے باہر نکلیں تو ساتھ ہی چرچ سٹریٹ ہے اور یہیں وہ دمشق کا پہلا چرچ ہے جو خلیفہ ال ولید نے سینٹ جان چرچ کے عوض جگہ اور پیسہ دے کر بنا کر دیا تھا۔ ساتھ میں یہ لفظ بھی کہے تھے جو تاریخ میں محفوظ ہیں۔
”ہم آپ کو چرچ جان کی جگہ چرچ مریم بنا کر دے رہے ہیں۔“
عمر بن عبد العزیز کے دور میں اس کی تعمیر نوہوئی۔ہاں البتہ بعد میں توجہ نہیں ملی۔

شامیوں کی زندگیوں میں حمام کا گھروں میں بھی بڑا دخل ہے۔حماموں میں غسل کی روایات کا تعلق تو یونانی اور رومن ادوار سے ہے۔تاہم اس میں کچھ نئے اضافوں کا حسن اسلامی دور میں بھی ہوا۔اب تو یہ عرب اور ترکی کلچر کا اہم حصّہ بن چکا ہے۔بزوریاBzouriyahمارکیٹ میں جب نورالدین حمام میں داخل ہوئی تو گویا جیسے حیرتوں کے دریا میں گر پڑی۔یہاں تو رنگوں اور خوبصورتیوں کا ایک جہاں امنڈا پڑا تھا۔

محرابی دیواروں کے شگاف اور گنبد والی چھت میں چوبی شیشوں والی کھڑکیاں اور ان کے درمیان نقش و نگاری کا کام چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی صورت بکھرا ہوا تھا۔خوبصورت چوبی ڈیزائن کی حد بندیوں نے کمرے کو تقسیم کررکھا تھا۔درمیان میں فوارہ تھا۔دیواروں کی پشت سے لگے صوفوں پر بیٹھے لوگ۔خوبصورت مرضع صوفے پر بیٹھے ہوئے میں نے سوچا۔اور عقب میں کمروں کے سلسلے۔ یہاں کاروبار ہورہا تھا۔
یہ بھی ایک دنیا تھی۔رنگ رنگیلی سی۔ خواتین کے حمام دمشق کی معاشرتی زندگی میں خصوصی اہمیت کے حامل ہیں کہ اکثر رشتوں ناطوں کے لئے بھی موزوں جگہ سمجھی جاتی ہے۔

جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *