لالہ باجی۔۔۔۔رفعت علوی/قسط1

لالہ باجی کے لیے کیاکہا جائے۔۔ حسنِ محزوں؟ حسنِ بے پرواہ، دلکش، حسن ِدل گرفتہ۔۔۔۔تمام لفظ تو عکس کی مدح کی نذر ہو چکے!
اب سراپا سامنے آیا تو کاغذ کورے نکلے۔۔۔
اگر نیندیں اڑا دینے والے حسن کی کوئی حقیقت ہے  تو لالہ باجی کا حسن اس پہ پورا اترتا تھا۔
لالہ باجی
لالہ رخ، لالہ زار،
لالہ رنگ، لالہ صفت، گل لالا۔۔۔
ان کی نوجوانی کے زمانے میں آتش لالہ کی قربت اور دوستی کے جانے کتنے لوگ متمنی رہے ہونگے، مگر ہم سب لڑکوں کو معلوم تھا کہ ان کا کبھی کوئی اسکینڈل نہیں بنا اور ان کی شادی ان کے اپنے سمارٹ اور خوبرو کزن نجمی سے ہوئی تھی۔
مگر ہم لوگوں نے لالہ باجی کو شادی کے بعد کبھی ہنستے نہیں دیکھا تھا، وہ ہمیشہ اپنی مغموم آنکھیں جھپکاتیں ملکاؤں کی شان سےگردن اونچی کیے محفلوں میں آتی جاتی تھیں، دعوتیں ارینج کرتیں اور اپنے اکلوتے لڑکے میں گم رہتیں۔

شادی کی اس تقریب میں میری ان سے ملاقات تقریباً تیس سال بعد ہوئی، وہ اپنی میز پر تنہاں تھیں، گل لالہ کی مہک آج بھی جوان تھی، وہ مجھے  دیکھ کر مسکرائیں، میں نے ان کو ادب سے سلام کیا اور کہا۔۔۔ارے آپ اکیلی ہیں۔۔
اب کہاں اکیلی ہوں، تم بھی تو ہو، آؤ بیٹھو، انھوں نے اپنا خوبصورت سر ہلایا
اور ایک دل آویز ہلکی سی غم آلود مسکراہٹ ان کے چہرے پہ طلوع ہو کے غروب ہو گئی۔
مجھے لگا کہ ان لہجے میں جاڑوں کے گئی رات کےچاند کی اداسی سی گھلی ہوئی ہے۔۔۔
مجھے کچھ کام نہ تھا، میں چپ چاپ ان کے برابر رکھی ہوئی کرسی پہ بیٹھ گیا ۔اس عمر میں بھی لالہ باجی کے ساتھ بیٹھنے سے کبھی سردی لگنے لگتی اور کبھی گرمی لگنے لگتی، وہ تھیں ہی اتنی ڈسٹربنگ
میں فیس بک پر تمھارے “یادوں کے جگنو” پڑھتی ہوں۔۔۔۔
مجھے حیرت ہوئی کیونکہ وہ میری فرینڈ لسٹ  میں  نہیں تھیں۔
“اصل میں میری ایک دوست کو تم ٹیگ کرتے ہو تو وہ پوسٹ مجھ تک بھی پہنچ جاتی ہے، اچھا لکھتے ہو” وہ میرے حیرت زدہ چہرے کو دیکھ کر بولیں۔۔
میں خاموشی سے ان  کے خوبصورت چہرے کی طرف دیکھتا رہا، میرے ہاتھ پیر ٹھنڈے ہو رہے  تھے۔۔

تم نے اپنی اور اپنے دو تین دوستوں کی محبت کہانی پر بہت اچھا لکھا ہے، یہ سارا باجی تمھاری زندگی کی کہانی کا اصلی کردار ہیں نا؟ انھوں نے اپنی غلافی آنکھیں اوپر اٹھائیں
میں نے ابھی تک جو کچھ بھی لکھا صدق ِ دل سے لکھا اور سب سچ لکھا اور آئندہ بھی جو کچھ لکھوں گا سچ لکھوں گا، میں نے اثبات میں سر ہلا کر کہا
میری کہانی بھی لکھو گے؟ انھوں نے اپنی کتھئی آنکھیں جھکا کر کہا۔۔۔
آپ کی کہانی؟ میری سمجھ نہ آیا میں کیا کہوں، کیا لالہ باجی کی کوئی کہانی بھی ہو سکتی ہے؟

ان کے لہجے میں نہ جانےکیا بات تھی، مجھے اس وقت تو سمجھ نہ آیا مگر رات گئے جب میں سونے لیٹا تو لالہ باجی کا خیال آیا اور اندھیرے میں ان کی چشم نم مسکرانے لگی، بعد میں انکی داستان زندگی سن کے میری سمجھ میں آیا کہ یہ وقت اور حالات سے لڑتی ہوئی ایک بےبس ہاری ہوئی عورت کا لہجہ تھا۔۔
لالہ باجی کی کہانی میں آپ کو سناؤں گا۔۔۔
اگر میری زندگی نے وفا کی
مگر کسی اگلے  شاعر کے ساتھ گزارے دن و رات کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔
آج مجھے جانے دیں۔۔۔۔آج میرا دل بہت اداس ہےلالہ کے لیے، گل لالہ کے لیے
یادوں کے گریبانوں کے رفو پر دل کی گزر کب ہوتی ہے، ایک بخیہ ادھیڑا ایسے    عمر بسر کب ہوتی ہے۔۔۔۔
شیشوں کا مسیحا کوئی  نہیں
کوئی بھی تو نہیں
کتنا مشکل ہےمحبت کی کہانی لکھنا
جیسے پانی پہ، پانی سے، پانی لکھنا

اس سٹنگ روم میں سائیڈ ٹیبل پہ شطرنج کی ایک بساط بچھی ہوئی تھی، بادشاہ، فرزیں، وزیر، گھوڑا، فیل اور پیادہ اپنی چال چلنے کے منتظر،
ایک حزن آمیز خاموشی ہمارے چاروں طرف بہہ رہی تھی، میں نروس تھا، ہم دونوں خاموش تھے، فضا میں صرف ہم دونوں کی سانسوں کی آواز تھی ، سائیڈ لیمپ کی زرد روشنی ان کے دل گرفتہ اور پُرملال خوبصورت چہرے کے ایک رُخ پر پڑ رہی تھی جس سے ان کا آدھا چہرہ اور ایک کتھئی آنکھ روشن تھی۔۔۔
کتھئی آنکھ جس میں آنسو کا ایک قطرہ ہیرے کی کنی کی طرح چمک رہا تھا، انھوں کرسی پر سیدھا ہو کر میری طرف بھیگی آنکھوں سے دیکھا۔۔
خدا کی قسم ان کی آنکھیں باتیں کرتی تھیں، میں نے بے چینی سے کرسی پہ پہلو بدلا۔
لالہ باجی، گل لالہ
میں یہاں آئی تھی کراچی تمھارے محلے میں، وہ دھیمی آواز میں بولیں، ٹوٹی ہوئی، زندگی سے ہاری مایوس اور کمزور گل لالہ۔۔اس وقت سہارے ،محبت اور رعنائی کی تلاش تھی مجھ کو،مجھےمیری زندگی کا پہلا دکھ مل چکا تھا، انھوں نے  ذرا رُک کر ایک گہری سانس لی جیسے اپنے کسی دکھ کو جذب کر رہی ہوں۔
میں خاموشی سے ان کے بولنے کا منتظر رہا۔۔
تم کو یاد تو ہوگی پی آئی اے کی  پہلی فلائٹ قاہرہ والی؟ بہت چھوٹے رہے  ہو گے تم اس وقت،
وہی جسے لینڈ کرنا نصیب نہ ہوا، میں نے دلسوزی سے کہا۔۔۔ہاں۔۔۔وہی۔۔۔۔ میرے والدین بھی تھے اس فلائیٹ میں
جی، آپ آپ ۔۔۔۔۔۔۔ میرا حلق خشک ہونے لگا
خدا کی پناہ، آپ “ماہتاب منزل” والوں کی بیٹی ہیں۔۔
نہیں، میں وہاں  آکر کچھ عرصے رہی ضرور تھی، وہ میری خالہ بی کا گھر تھا۔۔
“ماہتاب منزل” ایک وسیع میدان میں کھڑی تنہا اکیلی اور پراسرار کوٹھی جس کی اونچی چار دیواری کے اندر پائن کے لمبے درخت دور سے جھومتے دکھائی دیتے تھے۔
کتنی ہی کہانیاں مشہور کر رکھی تھیں ہم لڑکوں نےاس بنگلے کے لیے، بھوت منزل کہتے تھے ہم سب اس کو۔۔
میرے جسم میں ایک سنسنی سی دوڑ گئی، میرے بچپن کی بات تھی، میرا میٹرک کا رزلٹ آ چکا تھا اسی زمانے میں یہ رونگھٹے کھڑے کردینے والا حادثہ ہوا تھا اور اس کریش میں مہتاب منزل کے کسی مکین کا تذکرہ بھی آیا تھا،شاید صرف چھ لوگوں کے نصیبوں نے یاوری کی تھی اس حادثے میں، اور ان میں سے ایک ہوٹل ڈی فرانس کے مالک یا ایم ڈی مجھے ٹھیک سے یاد نہیں  ،شاید نام بھول بھی رہا ہوں  گا، ایک عارف صاحب بھی تھے جو ہمارے ابو کے اسٹوڈنٹ رہ چکے تھے۔۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ابو نے ان کو صحتیابی کے بعد اپنے گھر کہکشاں میں ڈنر پہ انوائیٹ بھی کیا تھا، عارف صاحب نےاس فلائیٹ کے حوالے سے اپنا جو تجربہ شیئر کیا تھا وہ میرے ذہن میں آج بھی ایک بھیانک کہانی کی طرح کنڈلی مارے بیٹھا تھا۔۔
مگر میں نے لالہ باجی سے اسکا تذکرہ نہیں  کیا، کیسے کر سکتا تھا؟ ان کے والدین جو  اتنے خوش نصیب نہیں تھے۔

میں ایک ٹوٹی ہوئی ہاری ہوئی کم عمر زندگی سے ناراض لڑکی کی طرح ماہتاب منزل میں آئی تھی، اس گھر میں سفید بالوں اور شفیق چہرے والی خالہ بی تھیں، بھولا بھالا ننھا “عدیل” تھا جسے سب عدمی کہتے تھے، شوخ شیطان اور ہمیشہ ہنسنے ہنسانے والا نجیب الحسن “نجمی” تھا اور، وہ رک گئیں اور اپنی  صراحی دار گردن گھما کے کارنس پہ رکھی ایک گروپ فوٹو کی طرف دیکھنے لگیں۔۔
وہ  ذرا کی  ذرا چپ رہیں ،جیسے آگے کچھ کہنے کے لیے  اپنی قوت جمع کر رہی ہوں، پھر بولیں اور ہاں، وہاں کتابوں میں گم، اپنے آپ میں گم، شطرنج کی بساط میں گم “آفتاب” بھی تھے، سب سے بے نیاز، سود و  زیاں سے بے خبر، اپنے نام کی مانند سورج کی طرح بے غرض ہر ایک پر اپنی روشنی لٹاتے ہوئے، انھوں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بولیں چلو کھانا لگ گیا ہوگا۔۔

میں اٹھ کھڑا ہوا، کمرے سے نکلنےسے پہلے میں نے کارنس پر رکھی اس گروپ فوٹو کو غور سے دیکھا، تیس چالیس سال پرانا  فیملی گروپ فوٹو تھا،  جو وقت کی گرد سے  ذرا دھندلا پڑ گیا تھا، مسکراتے چہرے، زندگی سے بھرپور لوگ،اس بزم ِ نگاراں میں عدیل کون تھا اور نجمی کون، اور وہ آفتاب کونسا تھا جس کو لالہ باجی نے بے غرض، بے لوث روشنی لٹانے والا خورشید بے پناہ کہا تھا، پہچاننا مشکل تھا، کون کون ہے اور اب کہاں ہے، جس وقت یہ تصویر کھینچی گئی ہو گی اس وقت کس کو کیا پتہ تھا کہ آنے والا وقت اپنے دامن میں کس کے نصیب میں کیا چھپائے ہوئے  ہے۔۔

زندگی بھی کیا کیا خواب دکھاتی ہے کتنے رنگ سجاتی  ہے اور جب قسمت  کی پرتیں کھلتی ہیں، وقت اپنے پتے کھولتا ہے، دھوپ چھاؤں کی بساط پر پیادے اپنا سفر شروع کرتے ہیں جو تو جانےکتنے خواب زندگی پاتے ہیں اور جانے کتنی زندگیاں خوابوں کی نذر ہو جاتی ہیں، وہی شطرنج کا کھیل۔۔۔۔گھمسان کا رن پڑتا ہے، بساط زندگی پہ، کوئی فاتح اور کسی کو مات!
چالیں کہیں اور سے چلی جاتی ہیں۔۔

زیست ایک خواب طرب و فسوں ساز سہی،

فرش مخمل بھی زر و سیم کی جھنکار سہی،

جنت دید بھی عشرت گفتار سہی،

جسم آسودہ سہی ،
روح مگر ہے بیتاب،

کہ اس محصور و مقید زندگانی میں نہ کوئی دریچہ،

نہ دید کا مژدہ نہ رہائی کی نوید،

کہیں ملن اور وصل کی جھڑی،

اور کہیں بس فقط ہےجدائی کی گھڑی

جدائی کی گھڑی۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جدائی۔۔۔۔۔۔!!!

جاری ہے

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *