کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 22

وزیر آغا (مرحوم) سے خط و کتابت!

دو تین ہفتوں کے تعطل کے بعد میں نے فون کیا، انہیں میرا خط مل  گیاتھا اور وہ میرے فون کے انتظار میں تھے، لیکن کسی خانگی وجہ سے پریشان سے تھے، زیادہ بات چیت نہیں ہو سکی۔ انہوں نے صرف اتنا کہا، ”میں نے آپ کا خط پڑھ لیا ہے۔ کچھ دوستوں کو پڑھ کر سنایا بھی ہے، جنہیں سارترؔ کے بارے میں اس واقعے کا علم نہیں تھا۔ میں آپ کے ساتھ تفصیل سے بات کرتا لیکن بوجوہ آج نہیں کر سکتا،۔ سارترؔ کے بارے میں مجھے یہ علم نہیں تھا، آپ مجھے کچھ میٹریل ڈاک سے بھیج دیں۔“
میں نے وعد ہ کر لیا۔ کچھ تلاش کے بعد میں نے انہیں نہ صرف اس واقعے کے متعلق فرانسیسی اور انگریزی زبانوں میں پندرہ بیس صفحات فوٹو کاپی کر کے بھیج دیے، بلکہ ایک خط بھی لکھا، جو انگریزی میں تھا، اور جس کی نقل آج تک میرے کمپیوٹر میں محفوظ ہے۔ میں وہ خط اور اردو میں موصول شدہ ان کا جواب یہاں ری پروڈیوس کر رہا ہوں۔ Respected Dr. Wazir Agha Sahib: Aadab.
I’m sorry I took almost a fortnight in getting books from the library, photo-copying relevant pages, highlighting certain portions in order to make it easy for you to sift through them and clipping off the irrelevant portions. I will call you later in the week when you’ve read this material.Trilling’s book,
Beyond Culture, I read around 1982 and, as usual, kept notes in my diary. His thesis was cogently argued, highly intelligent and devastatingly
affective. He anatomized what passes for culture today and castigated writers who are swayed by current events, best dealt in newspaper columns than in serious books. He had written, “Our authors (and their readers, to some extent, too) repudiate the time honoured values of life. When a ruler (a Genghis Khan, a Hitler and the like) subjugates his own people, kills them or puts them in concentration camps, there are some who laud his leadership while others oppose him. A few years down the stream of time, he is forgotten and so are those who had written his encomiums or his praises.”
Dr. Sahib, at worst such writing, particularly in poetry, is slogan mongering; at best it is good for a select few. Never does it get “long life” (to quote Trilling again). Now, I have read Mazahamati Adab, from A to Z and I find that except for two or three
pieces none of the stories would stand in comparison with Manto’s, Bedi’s or Balwant Singh’s those stories that concern life as it is, and are free of the so-called “Progressive” values. I also find that out of 86 poetry pieces, one may fgfind, at the most, less than a dozen compositions(ghazal couplets, in particular), worthy of ‘long life’; others are dated.
Let me now come to another book about which I talked to you. This is Duncan William’s Trousered Apes – Sick Literature in a Sick Society. (I have already sent photocopies of some pages to you.) Well, you must have read these by now, particularly those pages in which he says that those who write “politically inspired things,” (Look at the word things) are at best propagandists. On the other hand, a futuristic novel like Animal Farm or 1984 or Brave New World cannot be dubbed as propaganda. Eliot’s Waste Land also comes in the same category. These were indeed written to castigate historical and sociological trends that may lead to a bleak future and, therefore, were not apolitical, but they skirted propaganda in an artistic way.
What do you say about it, Dr. Sahib?
ان کا جواب کوئی ایک ماہ کے بعد موصول ہوا۔میں کینیڈا میں سکونت پذیر ہو چکا تھا اس لیے مجھ تک ری ڈائریکٹ ہو کر پہنچنے میں اسے پندرہ دن اور لگ گئے۔ میں اسے جوں کا توں نقل کر رہا ہوں۔

محترمی ستیہ پال آنند جی: آداب
آپ کا شکریہ کہ آپ نے سارا متعلقہ مواد مجھے بھیج دیا۔ انگریزی تو میں بآسانی پڑھ لیتا ہوں، فرانسیسی نہیں پڑھ سکتا۔ مجھے علم ہے کہ آپ کچھ یورپی زبانوں کی شد بُد رکھتے ہیں جن میں فرانسیسی بھی شامل ہے۔ لیکن میں یہ صفحات کس سے پڑھواؤں؟ یونیورسٹی میں بھی میرے احباب میں کوئی ایسا مہربان نہیں ہے، جو ان صفحات کو پڑھ کر مجھے مطلب سمجھا سکے۔ فی الحال آپ کے خط کا جواب لکھنے پر اکتفا کرتا ہوں۔

آپ کے خطوط کی انگریزی بھی تنقید کی تدریسی زبان ہوتی ہے،دوسری طرف میں ہوں، خطوط تو کجا، میں اپنے تنقیدی مضامین بھی تنقید کی مروجہ زبان یعنی دانت چبا چبا کر بولے جانے والے الفاظ میں نہیں لکھتا۔لیکن اب مجھے آپ کی انگریزی کو simplify کرنے کا ڈھنگ آ گیا ہے۔اگر ہم یوں کہیں کہ قومی یا بین الاقوامی سطح پر ہونے والے واقعات عموما ً عارضی ہوتے ہیں، آتے ہیں، اپنا جلوہ دکھاتے ہیں اور گذر جاتے ہیں، شاید آنے والے دنوں میں ایسے واقعات تاریخ میں ایک آدھ سطر یا ایک آدھ صفحہ گھیر ہی لیں۔ دوسری طرف کچھ اٹل اور انمٹ اقدار ہیں، کچھ بقائے دوام کے زیر عنوان آنے والے واقعات ہیں جنہیں تسلسل حاصل ہے اور ان سے چشم پوشی نہیں کی جا سکتی۔ آپ یہ کہتے ہیں کہ دنیا بھر میں (اب تو ہم اور آپ جیسے لوگوں کے لیے دنیا سکڑ کر ایک گلوبل گاؤں ہی بن گئی ہے) ادب ِ عالیہ کے دم بھرنے والے ہنگامی اور عارضی واقعات کو اپنا موضوع نہیں بناتے اور اگر بنا بھی لیں تو ان تخلیقات کا زیادہ دیر تک زندہ رہنا ممکن نہیں ہے۔ آپ پاکستان میں اردو کے مزاحمتی ادب کی آمد کو ایک ضمنی phenomenon سمجھتے ہیں۔ میں بھارت کے مختلف زبانوں کے ادب سے بالکل نا واقف ہیں، لیکن کیا اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کے دوران ہوئے مظالم کے بارے میں احتجاج یا مزاحمت کا ادب تخلیق ہوا؟ آپ مجھ سے بہتر جانتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ اگر ایسا ہوا تھا توآج چوتھائی صدی گذر جانے کے بعد اس طرح کے ادب کی کیا پوزیشن ہے؟ کیا اسے، کسی حد تک ہی سہی، دیر پا acceptance حاصل رہی؟ میرا خیال ہے کہ میرے سوال کے دوسرے حصے کے بارے میں آپ کا جواب نفی میں ہو گا۔
Waste Land, Brave New World, Animal Farm, 1984 کے بارے میں جو کچھ آپ نے لکھا ہے میں اس سے متفق ہوں۔ یہ ادب عارضی نہیں ہے، دائمی ہے۔ مستقبل کی پیش گوئی ہے، جو اب صحیح ثابت ہو رہی ہے۔ لیکن دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمن کیمپوں میں جو مظالم روا رکھے گئے ان کے بارے میں ادب (جو یورپ کی سب زبانوں میں سینکڑوں کتابوں پر مشتمل ہے) اب سکڑ کر لائبریریوں کے کچھ ایک خانوں میں ہی بند ہو کر رہ گیا ہے۔ ہاں، ”این فرینک کی ڈائری“ جو آفاقی انسانی قدروں کی حامل ہے، اب بھی پڑھی جاتی ہے۔
غالبؔ اپنی قسم کا ہی شاعر تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ اس دشوار گذار مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گذر گیا۔ آج طعن و تشنیع سے کہا جاتا ہے، کہ ”دستنبو“ سے قطع نظر اس کے شاعری میں 1857 ء کے غدر کے بارے میں (جسے انڈیا میں اب پہلی جنگ آزادی کہا جاتا ہے) سوائے ایک دو شعروں کے کچھ نہیں ملتا۔ حالانکہ یہ چشم دید واقعات ہیں کہ غدر میں انگریزوں کی فتح کے بعد دہلی کے نواح میں ہر درخت کے ساتھ مسلمانوں کی لاشیں لٹک رہی تھی اور شہزادوں کے سر قلم کر کے، پلیٹوں میں سجا کر، شہنشاہ کو پیش کیے گئے تھے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس دانستہ کوتاہی سے بطور شاعرغالبؔ کی اہمیت کم ہوئی ہے۔
میں تو، خیر، کس گنتی میں ہوں۔مجھ سے کچھ سینئر یا میرے ہمعصر شعرا میں دو یا تین نام ہی ایسے ہیں جو نظم نگاری کی وجہ سے زندہ رہ سکتے ہیں لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ عالمی معیار کے حامل ہیں۔ ن۔م۔راشدؔ کا نام سب سے پہلے لیا جا سکتا ہے۔ اس کے ہاں بھی ایک trend-setter ہونے کی سب خصوصیات ہیں لیکن جدید یورپی، خصوصی طور پر انگریزی اور فرانسیسی زبانوں کے کچھ شعرا کے ہاں جو آفاقیت ہے، روایت اور تجربے کا جو امتزاج ہے، راشدؔ اس تک نہیں پہنچ سکے۔ میں نے راشد کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ ان کے بارے میں لکھا بھی ہے۔ میرؔا جی اس گنتی میں بوجوہ نہیں آتے۔ فیض احمد فیضؔ غزل کی روایت سے اس حد تک منسلک ہیں کہ ان کی نظمیں بھی انہی قدیم استعاروں اور تشبیہوں کو عشق کے حوالے سے کچھ آگے انقلاب کے حوالے سے برتنے کی سعی کرتی ہیں۔ یہ ان سے زیادتی ہو گی اگر ہم انہیں اس فہرست میں رکھ کر دیکھیں۔ اس سلسلے میں کچھ دن پہلے ایک دلچسپ بات ہوئی۔ مجھے ایک ملنے والے عزیز نے کسی رسالے میں فیضؔ کے بارے میں لکھے ہوئے ایک مضمون کے کچھ حصے پڑھ کر سنائے۔

جاری ہے!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 22

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *