ثمرہ حمید خواجہ کی تحاریر

مسکراہٹ۔۔ثمرہ حمید خواجہ

زرد زرد اور مرجھائے پتے ہوا کے بے رحم جھونکوں سے ٹوٹ کر خاک پر گِر رہے ہیں ان کے آنسو کوئی نہیں دیکھ پاتا یہ قیمتی موتی اس مسکراہٹ کی یاد میں بہہ رہے ہیں جو تازہ پتوں کے←  مزید پڑھیے

اندیشے۔۔۔۔ثمرہ حمید خواجہ

آج تمہارا جنم دن ہے خوشیوں سے بھرپور دن اور میں بیلےکی کلیاں اور موتیے کے پھولوں میں ان گنت چاہت کےرنگ پرو کر تمہیں تحفہ بھیج رہی ہوں میں ہر سال ایسا کرتی ہوں اس یقین کے ساتھ کہ←  مزید پڑھیے