مکالمہ، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 73 )

بینکوں کو قومیانا کیوں ضروری ہے؟/ تحریر: ولادیمیرلینن /مترجم: شاداب مرتضی

بینک، جیسا کہ ہم جانتے ہیں، جدید معاشی زندگی کا مرکزہ ہیں، پورے سرمایہ دارانہ معاشی نظام کا بنیادی اعصابی مرکزہ۔ “معاشی زندگی کو ریگولیٹ ” کرنے کی بات کرنا مگر بینکوں کو قومیانے کے سوال سے بچنا، اس کا←  مزید پڑھیے

میری مہرو/Sierra tango

اس نے ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ ایک بار پھر میرے سر پر زور سے تکیہ دے مارا ہے۔ اور کیا آپ یقین کریں گے کہ میری موت اسی تکئے کی چوٹ سے واقع ہورہی ہے؟ افف۔۔۔! ابھی، کچھ ہی دیر پہلے،←  مزید پڑھیے

سب مر گئے/شہزاد فیصل

میں میٹریس پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا ، میری بائیں جانب ترتیب کے ساتھ کچھ کتابیں پڑی ہوئیں تھیں، میرے سامنے والی کھڑکی سے رات ڈھلتی نظر آرہی تھی ، ابھی کچھ ساعت پہلے کھڑکی سے روشنی اندر آرہی←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(1)-شکور پٹھان

دسمبر کے بالکل آخری دنوں کی ایک چمکیلی صبح تھی جب گلف ائیر کے بوئنگ 727 نے بحرین کی زمین چھوئی۔ ائیرپورٹ کی خوبصورت اور جدید عمارت کے پاس جہاز سرنگ لگنے کا منتظر تھا۔ آس پاس کچھ اور بھی←  مزید پڑھیے

سماج (16) ۔ جنگجو/وہاراامباکر

شمالی سوڈان میں جبل الصحابہ کے مقام پر قدیم مدفن میں قدیم انسانوں کے متشدد رویے کی گواہی دیتا ہے۔ تیرہ سے چودہ ہزار سال پہلے کئے گئے قتلِ عام میں 58 مرد، خواتین اور بچے مارے گئے تھے۔ اور←  مزید پڑھیے

جنرل باجوہ کے دو این آر او/جاوید چوہدری

’’کیا جنرل باجوہ نے اپنے دور میں کسی کو این آر او دیا؟‘‘اس کا سیدھا سادہ جواب ہے جی ہاں جنرل باجوہ نے دو بار این آر او دیا تھا‘ پہلا این آر او 2017 میں عمران خان کو دیا←  مزید پڑھیے

نیا سال نئی توقعات/ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

یہ بات سچی اور کھری ہے کہ جب     نیا سال شروع ہوتا ہے  ہم اپنے خدا کے ساتھ کچھ عہد و پیماں  کرتے نظر آتے ہیں ۔پتا نہیں اس عہد و پیماں میں ہمارے  ارادے اور جذبات عارضی یا←  مزید پڑھیے

بے نظیر بھٹو کی دو بار جلاوطنی(1)-عامر حسینی

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی زندگی کے جلاوطنی کے دونوں ادوار بہت اہم تھے۔ 1984ء میں بی بی اپنے علاج کے لیے لندن روانہ ہوئیں, یہ وہ وقت تھا جب جنرل ضیاء الحق پی پی پی کو ختم کرنے←  مزید پڑھیے

سالگرہ کا کیک/سلیم مرزا

گھر کا دروازہ لوہے کا ہے ۔کوئی زور سے کھٹکھٹائے تو دل دھڑ دھڑا جاتا ہے۔کھولتے کھولتے سو وسوسے اور دو سو لین دار یاد آجاتے ہیں ۔ پھر بھی کوئی بجائے ہی جارہا تھا ۔۔ کھولا تو گلی میں←  مزید پڑھیے

وہ جو کنویں میں کود گئی /سعید چیمہ

دن اب ڈھلنے لگا  تھا۔ سورج اور دُھند میں مقابلہ ہنوز جاری تھا مگر ابھی تک دھند نے سورج کو مفتوح بنا رکھا تھا۔ دھند کے اثر نے سورج کو سفید کر دیا تھا جس کی وجہ سے سردی اس←  مزید پڑھیے

نیا سال ‘ نئی سوچ اور نئی امنگ/عاصمہ حسن

وقت بہت بدل گیا ہے اور ہمیں کامیاب ہونے کے لئے نئے دور کے رنگ ڈھنگ اپنانے ہوں گے۔ ـ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ہم اپنی سوچ اور سوچنے کے زاویے کو بدلیں۔ ـاگر ہم وقت کی رفتار←  مزید پڑھیے

فرزندِ شاہ،برادرِ شاہ و دلبرِ شاہ/عاصم کلیار

آئی۔سی۔ایس افسر کے گھر پیدا ہونے والی سلمیٰ احمد نے نگر نگر کی خاک بھی چھانی مگر طرفہ تماشا یہ کہ ہر قدم کے بعد گھر کا راستہ بھولنے میں بھی ماہر تھیں۔ مری کانونٹ سے تعلیم حاصل کرنے والی←  مزید پڑھیے

دو گمشدہ صفحات کی تلاش /شاکر ظہیر

انسان فطرتی طور پر تجسس کی نفسیات لے کر پیدا ہوا ۔ وہ کیوں اور کیسے سے کبھی جان چھڑا ہی نہیں سکتا ۔ بالکل اس بچے کی طرح ، جو جیسے ہی دنیا میں آتا ہے تو جو کچھ←  مزید پڑھیے

سیاسی دھند میں فیصلوں کا فقدان/قادر خان یوسف زئی

جمہوری نظام میں عام انتخابات کا مقررہ مدت میں ہونا ایک روایت ہے۔ ہر نئی حکومت آنے کے بعد یہی خیال کیا جاتا رہا ہے کہ عام انتخابات کے نتیجے میں قوم سے اس جماعت کو ووٹ دینے کی ضرورت←  مزید پڑھیے

مڈل کلاس کا چار چیزوں میں پیسے کا زیاں/ثاقب لقمان قریشی

یوسف شکیل صاحب میرے کولیگ ہیں۔ تین سال قبل ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ دفتری اوقات سے گھنٹہ قبل آنا پورے پانچ بجے چھٹی کرنا۔ اپنا کام ایمانداری سے کرنا انکی عادت کا حصہ تھا  ۔ شکیل صاحب نےراولپنڈی کے پوش علاقے←  مزید پڑھیے

بند ذہن/مرزا مدثر نواز

یونانی فلسفی ارسطو نے لکھا ہے کہ گول دائرہ معیاری دائرہ ہے اور وہ جیومیٹری کی کامل صورت ہے۔ اس مفروضہ کی بنیاد پر ارسطو نے کہا کہ فطرت کا ہر کام چونکہ معیاری ہوتا ہے‘ اس لیے فطرت آسمانی←  مزید پڑھیے

باپ کی جانثاری اور بیٹے کی غفلت /سیّد سمیع اللہ شاہ

سخت سردی کے ایّام میں رات کے دس بج کر پندره منٹ ہورہے تھے۔ مغرب کی جانب سے چلنےوالی ہواؤں نے سردی میں مزید شدت پیدا کردی تھی۔ ہوائیں مکانوں اور دیواروں سے ٹکراتی ہوئی جنگل و بیابان کی طرف←  مزید پڑھیے

سماج (14) ۔ سماجی ذہن/وہاراامباکر

ہمارے سماج میں وہ جو سب سے الگ ہے، اس کے لئے زندگی آسان نہیں رہتی۔ اور یہ رویہ جانوروں کے سماج میں بھی نظر آتا ہے۔ اس میں بھی “عجیب” کی گنجائش زیادہ نہیں۔ یہاں تک کہ وہ انواع←  مزید پڑھیے

‘‘اہرامِ آرزو’’ (افسانوی مجموعہ) – زندگی کا دوہرا ظہور/پروفیسر عامرزرّیں

آصف عمران، عصرِ حاضر میں اسلوب وبیان، کہانی پن اور احساسِ تجمیت کی عمدہ نگارشات کے حامل ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں۔ ‘‘اہرامِ آرزو’’ آصف عمران کے افسانوں کو تیسرا مجموعہ ہے جس میں 13 خوب صورت افسانوں کو←  مزید پڑھیے

فوج میں گزرے روز وشب/5-ڈاکٹر مجاہد مرزا

میں اویس کو برف باری دکھانے کے لیے گلیات لے گیا تھا لیکن اس برس وہاں برف باری کے باعث ایک خاص مقام سے آگے سڑک بند تھی۔ ہم وہیں سے پڑی ہوئی برف دیکھ کر واپس آگئے تھے۔ ٹریننگ←  مزید پڑھیے