مڈل کلاس کا چار چیزوں میں پیسے کا زیاں/ثاقب لقمان قریشی

یوسف شکیل صاحب میرے کولیگ ہیں۔ تین سال قبل ریٹائرڈ ہوئے ہیں۔ دفتری اوقات سے گھنٹہ قبل آنا پورے پانچ بجے چھٹی کرنا۔ اپنا کام ایمانداری سے کرنا انکی عادت کا حصہ تھا  ۔ شکیل صاحب نےراولپنڈی کے پوش علاقے میں شاندار گھر بنایا ہے۔ نئے ماڈل  کی گاڑیاں رکھی ہیں۔ چالیس سالہ کیریئر میں شکیل صاحب نے ہم جیسے بہت سے لوگوں کو بچت کرنے اور کمیٹیاں ڈالنے کی عادت ڈالی۔ لوگوں کو پلاٹ لینے اور گھر بنانے کی ترغیب دیتے۔ جب کوئی بندہ انکے مشورے پر عمل کرتا تو اسکی بھر پور اخلاقی اور مالی سپورٹ کرتے۔میرا اور شکیل صاحب کا ساتھ  آٹھ سال رہا۔ اس عرصے کے دوران میں نے بہت سے لوگوں کے گھر بنتے ہوئے دیکھتے۔

شکیل صاحب نے ہمیں بتایا کہ انکے والد بچپن میں ہی وفات پاچکے تھے۔ انھیں انکا چہرہ بھی یاد نہیں۔ صبح سکول جاتے شام کو بھائی کی دکان میں بیٹھ جاتے۔ وہیں بچوں کو ٹیوشن بھی پڑھاتے۔ اس وقت شارٹ ہینڈ عروج پر تھا شکیل صاحب نے شارٹ ہینڈ کورس کیا ،اٹھارہ سال کی عمر میں مری کے ایک بینک میں بھرتی ہوگئے۔ پانچ سال مری میں گزارنے کے بعد او-جی-ڈی-سی-ایل میں نوکری ملی۔ کچھ عرصہ کام کرنے کے بعد خدا نے پی-او-ایل میں جاب کروا دی۔

شکیل صاحب نے گھر تو بنا لیا تھا لیکن گاڑی وہی پرانی مہران تھی۔ میں نے کہا سر آپ نئی گاڑی کیوں نہیں لے لیتے کہنے لگے کہ جب میرے پاس اتنا سرمایہ ہوگا کہ نئی گاڑی خریدنے سے میری انویسٹمنٹ پر فرق نہیں پڑے گا تب لونگا۔ پھر ایک وقت آیا جب شکیل صاحب نے ایک  شاندار گاڑی لی۔ اب ماشاااللہ گھر میں دو نئی گاڑیاں ہیں۔ شکیل صاحب ہمیں دکھانے کیلئے کبھی کبھی بجلی کا بل بھی لایا کرتے تھے۔ ہم انکا بل دیکھ کر حیران رہ جاتے۔ وہ کہتے تھے کہ کیوں اپنی محنت کے پیسے واپڈا والوں کو کھلاتے ہو۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر ہر نوجوان کو زندگی میں شکیل صاحب جیسا بندہ مل جائے تو اسکا پیسہ برباد ہونے سے بچ سکتا ہے۔

ہماری مڈل کلاس کن چار چیزوں میں اپنا پیسہ برباد کر رہی ہے؟ مسئلہ ہے تو بہت بڑا لیکن مجھے جو چار چیزیں اہم لگیں ہیں انکا ذکر کرنا چاہوں  گا۔

برینڈ
مڈل کلاس اپنے آپ کو لوئر مڈل کلاس سے منفرد رکھنے کیلئے ان سے مختلف طرز زندگی اختیار کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اپنے آپ کو لوئر مڈل کلاس سے بہتر ظاہر کرنے کیلئے مہنگے برینڈز کا انتخاب کرتی ہے۔ لوئر مڈل کلاس کے شاؤمی، جی فائیو یا ٹیکنو کا موبائل دیکھ لیا تو اب تو انھوں نے سام سنگ یا ایپل ہی لینا ہے۔ کپڑے لینے ہیں تو کھاڈی، سترنگی، جے ڈاٹ وغیرہ سے نیچے بات نہیں کرنی۔ پرفیوم اور باڈی سپرے مہنگے مہنگے استعمال کر کے لوگوں کو بتانا ہے کہ میرے پاس یہ والی کلیکشن ہے۔ دوستوں یا خاندان میں کسی نے بتیس انچ کی ایل-ای-ڈی لے لی تو صاحب اس سے بڑی اور اچھے برانڈ کی ایل-ای-ڈی لیئے بغیر کیسے رہ سکتے ہیں۔ خاندان میں کسی نے اورینٹ، ہائیر، گری، کین وڈ کا انورٹر لگا لیا اب تو ایکسن، ڈائیکین اور مٹسوبشی فرض ہوگیا۔ کسی نے صفائی کیلئے کام کرنے والی لگا لی۔ صاحب کے گھر میں صفائی، برتن اور کپڑوں کیلئے الگ الگ کام والیاں فرض ہوگئیں۔ آجکل آٹومیٹک واشنگ مشین کا فیشن بھی چلا ہوا ہے ۔ کسی جاننے والے کے گھر میں آٹومیٹک واشنگ مشین دیکھ لی تو اسکی بھی فرمائش آگئی۔ خاندان یا رشتہ داروں میں کسی نے سیکنڈ ہینڈ گاڑی لے لی تو نئی یا جاپانی گاڑی لینا فرض ہوگیا۔ کھانا، میک اپ، جوتے وغیرہ جو کام کرنا ہے برینڈ کا خاص خیال رکھنا ہے۔

بچوں کی تعلیم
بچوں کی تعلیم مڈل کلاس کے اخراجات میں سے دوسرے نمبر پر آتے ہیں۔ لوئر مڈل کلاس اپنی جیب کے مطابق بچوں کو اچھے سرکاری یا دو سے پانچ ہزار والے پرائیویٹ سکولوں میں داخل کرواتی ہے۔ جبکہ مڈل کلاس مہنگے سکول اور مہنگی ٹیوشنز کو ترجیح دیتی ہے۔ سکول کے بعد مہنگے کالج اور یونیورسٹیوں میں لاکھوں روپیہ خرچ کرتی ہے۔ اتنے خرچے کے بعد والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ اب بچے کو بہت اچھی سی نوکری مل جائے۔ جبکہ اچھی نوکریوں کیلئے تجربے کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ چھوٹی نوکری سے ہی ملتا ہے۔

جبکہ لوئر مڈل کلاس کے بچے عام سکولوں اور کالجوں سے تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ دوران تعلیم چھوٹے موٹے ڈپلومے کر کے زندگی کی شروعات کر لیتے ہیں۔ ساتھ ہی تعلیمی سفر کو بھی جاری رکھتے ہیں۔ ڈگری مکمل کرنے کے ساتھ تین چار سال کا تجربہ بھی حاصل کر لیتے ہیں اور پھر اعلیٰ  عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں۔

شادیوں کے اخراجات
مڈل کلاس بچوں کی شادیوں پر بہت پیسہ خرچ کرتی ہے۔ لوئر مڈل کلاس ہلکے پھلکے ہال میں ون ڈش کرکے شادی کے جھمیلے سے نمٹ لیتی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں مڈل کلاس اچھے سے اچھا ہال کا انتخاب کرتی ہے۔ تعلقات بنانے کیلئے اثر و رسوخ والے لوگوں کو شادی پر بلانا پسند کرتی ہے۔ خاندان کے لوئر مڈل اور کم حیثیت والے لوگوں کو لفٹ نہیں کراتی جس کی وجہ سے خاندان میں ناچاقیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔مہنگے ترین لباس، میک اپ اور فوٹوگرافر کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ فنکشن کو منفرد بنانے کیلئے کوئی نیا کام کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جہیز اتنا قیمتی خریدا جاتا ہے کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں دنگ رہ جاتی ہیں۔

لوئر مڈل کلاس اپنے جیسوں میں رشتے کرتی ہے۔ اس لیے انکے بچوں کی شادیاں باآسانی ہو جاتی ہے جبکہ مڈل کلاس کے بچوں کی بڑی تعداد سٹینڈرڈ کے چکر میں کنواری رہ جاتی ہے۔

پراپرٹی میں غلط انویسٹمنٹ
مڈل کلاس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی اچھے سے علاقے میں بڑا سا گھر بنا لے اور سارے مل کر رہیں۔ لیکن آجکل ایسا ممکن نہیں۔ تیزی سے بدلتی دنیا میں نوجوانوں کو نوکری کیلئے ایک شہر سے دوسرے شہر ایک ملک سے دوسرے ملک جانا پڑتا ہے۔ جبکہ آجکل کی نوجوان نسل اپنی مرضی کے مطابق جینا چاہتی ہے۔ جسکی وجہ سے وہ والدین کے ساتھ چند ماہ یا بمشکل چند سال ہی گزارتی ہے۔ جسکی وجہ سے اکثر بڑے گھروں میں والدین اکیلے ہی نظر آتے ہیں۔

اسکے مقابلے میں لوئر مڈل کلاس جہاں چند لاکھ جمع کرتی ہے وہیں چھوٹا موٹا پلاٹ خرید لیتی ہے۔ پھر اس پلاٹ کو بنانے میں جڑ جاتی ہے۔ الگ ہونے کی وجہ سے انکے بچے والدین کی زیادہ عزت کرتے ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

یہ ہیں وہ چار بڑی وجوہات جن پر ہماری مڈل کلاس اپنا سب سے ذیادہ سرمایہ خرچ کرتی ہے اور غلط فیصلوں کی وجہ سے پریشان رہتی ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply