شکور پٹھان کی تحاریر
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

قصّہ شہر بدری کا(6)-شکور پٹھان

وہ نوکری جس کا ملنا پاکستان میں پہاڑ سر کرنے کے برابر نظر آتا تھا ، یہاں یوں چٹکی بجاتے مل گئی۔ اس طرف سے تو فکر دور ہوئی۔ سچ تو یہ ہے کہ میں یہاں کچھ ایسا مگن ہوگیا←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(5)-شکور پٹھان

چلیے صاحب زندگی کسی ٹھکانے تو لگی۔ کسی ڈھب پر تو آئی۔ یہاں پاکستان جیسی مادر پدر آزادی تو نہیں تھی۔ صبح آٹھ بجے کا مطلب تھا سچ مچ کے آٹھ بجے۔ اپنے یہاں تو ایسی “ چھوٹی موٹی” باتوں←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(4)-شکور پٹھان

آگے کی کہانی بیان کرنے سے پہلے کچھ صفائیاں اور وضاحتیں ضروری ہیں۔ یار لوگ میری یادداشت کی بہت تعریف کرتے ہیں اور سچ کہوں تو اتنی غلط بھی نہیں کرتے۔ میں اپنے بارے میں کبھی کسی خوش فہمی اورخوش←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(3)-شکور پٹھان

پچھلے دو دن سے بحرین میں نے صرف رات میں دیکھا تھا۔ آج جمعہ تھا ۔ آج چچا کے ساتھ ذرا ڈٹ کر ناشتہ کیا۔مراد یہ کہ کچھ وکھری ٹائپ کا ناشتہ کیا۔ کراچی میں تو ہمارا تقریباً ہرروز ایک←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(2)-شکور پٹھان

تم بس دن بھر آرام کیا کرو اور شام کو فلم دیکھنے چلے جایا کرو۔چچا نے کہا۔ اور میں نے یہی کیا۔ ایک سعادتمند بھتیجے کی طرح چچا کی بات پر پوری طرح سے عمل کیا۔ سارا دن سوتا رہا←  مزید پڑھیے

قصّہ شہر بدری کا(1)-شکور پٹھان

دسمبر کے بالکل آخری دنوں کی ایک چمکیلی صبح تھی جب گلف ائیر کے بوئنگ 727 نے بحرین کی زمین چھوئی۔ ائیرپورٹ کی خوبصورت اور جدید عمارت کے پاس جہاز سرنگ لگنے کا منتظر تھا۔ آس پاس کچھ اور بھی←  مزید پڑھیے

بلبل ہزار داستان/شکور پٹھان

“ بھائی نام کیا ہے آپ کا” “ جی میاں محمد شعیب آرائیں۔ ہماری گوت رامدے ہے” “ کیا دے ہے؟” “ رامدے” “ اچھا وہ ایک جج صاحب بھی تھے، رامدے صاحب” “ ہاں جی وہ بھی ہماری برادری←  مزید پڑھیے

شیکسپیئر کہتا ہے۔شکور پٹھان

شیکسپئر بے چارہ کسی کو کچھ نہیں کہتا لیکن جس کسی کو اپنی بات میں وزن پیدا کرنا ہوتا ہے وہ اسے شیکسپئر کے سر منڈھ دیتا ہے۔ میرا اپنا یہ حال ہے کہ جب کوئی کہتا ہے کہ “←  مزید پڑھیے

ہنگامہ ہے کیوں برپا/شکور پٹھان

اکبر کو حیرت تھی کہ ہنگامہ ہے کیوں برپا ؟۔۔یہاں یاروں کو حیرت نہیں یقین ہے کہ ہنگامہ نہیں ، ہنگامے ہیں جو اس ناچیز کے قدوم میمنت لزوم کی ولایت آمد کے رہین منت ہیں۔ بدخواہوں نے اسے “←  مزید پڑھیے

ہالی ووڈ اور کراچی/شکور پٹھان

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں چوتھی جماعت میں تھا۔ میرے بگڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا بلکہ یوں کہیے کہ مجھے بگاڑنے کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا اور اس میں سب سے بڑا ہاتھ میرے چھوٹے چچا←  مزید پڑھیے

من کے سچے/شکور پٹھان

یہ جو سفید داڑھی مونچھ والے بزرگ ہیں۔ سر میں جن کے اب زیادہ تر نقرئی بال نظر آتے ہیں۔ آنکھوں پر موٹے شیشوں کی عینک جو پچھلے دس سال سے ان آنکھوں کو سنجیدگی کا خاص روپ دیتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

خاموش راستوں کا مسافر/تحریر-شکور پٹھان

کتابیں ۔۔ میری بچپن کی محبت۔ جوانی کی ہمسفر، اور میرے بڑھاپے کی مونس وغم خوار۔ چند ماہ پہلے جب دوبئی سے اپنابوریا بستر سمیٹنا پڑا تو سب سے بڑا دکھ کتابوں سے جدائی کا تھا۔ دینی کتابیں ایک ادارے←  مزید پڑھیے

چھت۔۔شکور پٹھان

وہ چھت اس کی تھی۔ یعنی وہ اس چھت کا بلا شرکت غیرے مالک تھا۔ وہ اس چھت کا کرایہ دیتا تھا۔ یا شاید نہیں ، وہ اس کمرے کا کرایہ دیتا تھا جو چھت پر تھی اور وہ اس←  مزید پڑھیے

شکر ہے مولا۔۔شکور پٹھان

وہ بہت دیر سے بس اسٹاپ پر کھڑا تھا۔ لوگوں کی تعداد بھی اب بڑھتی جارہی تھی۔ بسوں میں سوار ہونے والے کم تھے، انتظار کرنے والے زیادہ۔ صبح کا وقت تھا، ساری بسیں بھری ہوئی آرہی تھیں۔ نیلے رنگ←  مزید پڑھیے

اجنبی نسلیں۔۔شکور پٹھان

“ تو ہوا یہ کہ ایک جگہ کہار کہیں لڑکھڑا گئے اور ڈولی نے جھول کھایا۔ نواب بیگم کی گود سے سال بھر کا بچہ نیچے گر کر سڑک پر جاگرا۔ کہاروں کو کچھ خبر نہ تھی۔ اس اللہ کی←  مزید پڑھیے

پہلا نشہ، پہلا خمار(2،آخری حصّہ)۔۔شکور پٹھان

بھائی غفار کے کباب ایک ذرا بڑی عیاشی تھے۔ اس سے کم پیسے یعنی چار آنے جب میسر آجاتے جو کہ اکثر آجاتے تو ہم بہادر آباد پہنچ جاتے جہاں کے آلو چھولے، دہی بڑے، چاٹ وغیرہ ہمارے منتظر ہوتے۔←  مزید پڑھیے

پہلا نشہ، پہلا خمار(1)۔۔شکور پٹھان

زندگی عجیب و غریب رنگوں میں رنگی ہوئی ہے۔ ہر رنگ اپنی کہانی لیے ہوئے ہے اور ہر کہانی اپنے کئی رنگ چھوڑ جاتی ہے۔ زندگی طرح طرح سے بیتتی ہے۔ کچھ باتیں یاد رہ جاتی ہیں، کچھ بھول جاتی←  مزید پڑھیے

مرغان چمن۔۔شکور پٹھان

زندگی، بلکہ یوں کہیے کہ انسان عجیب رنگ بدلتا رہتا ہے۔ ثبات اک تغیر کو ہے زمانے میں۔ ساٹھ سال کی عمر کو پہنچ جانے کے بعد مجھے احساس ہوا کہ اگر کوشش کروں تو میں کچھ لکھ سکتا ہوں۔←  مزید پڑھیے

کوّا چلا ہنس کی چال۔۔شکور پٹھان

“اے ہے اتنے سارے اٹھا لائے “ ایک جانی پہچانی آواز سن کر میں مڑا۔ یہ بھابی زرینہ تھیں ۔ ان کا بیٹا ڈبّو اور ایک اور بچہ دونوں ہاتھوں میں دو دو کدو لیے کھڑے تھے۔ سامنے سے عنایت←  مزید پڑھیے

خوشبو بھی دلاتی ہے یادیں تیری۔۔شکور پٹھان

“ایک منٹ، ایک منٹ” کلیم نے پٹرول بھرنے والے کو آواز دی جو پٹرول کے پائپ کو اپنی جگہ رکھنے جارہا تھا۔ “ جی” سرخ وردی میں ملبوس پٹرول پمپ کے کارندے نے سوالیہ انداز میں کلیم کی طرف دیکھا۔←  مزید پڑھیے