اردو، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 268 )

آج کی اُردو زبان اور ہمارا اصل ورثہ۔۔محسن علی خان

پاکستان کے کالجز اور یونیورسٹیز میں جب نئے خطوط پر استوار تعلیمی نظام کے مطابق بی ایس سی کے دو سالہ اور ایم ایس سی کے دو سالہ پروگرام کو باہم مربوط کر کے بی ایس (آنر) سمسٹر سسٹم کے←  مزید پڑھیے

ارتقاء ایک سائنسی حقیقت یا ‘محض نظریہ’؟۔۔محمد حسنین اشرف

تیمور صلاح الدین نے پچھلے دنوں اسلام اور ارتقاء کے عنوان سے ایک ویڈیو بنائی جس میں انہوں نے مذہب اور ارتقاء کی عمومی تفہیم پر تنقید کرتے ہوئے بہت سی باتیں کیں۔جس کے جواب میں ایک طوفان بدتمیزی بپا←  مزید پڑھیے

چھوٹے کی لیبر۔۔جنیدمنصور

گئے  دنوں کی  بات ہے ،میں بالوں کی کٹنگ کے لیے اس سیلون پر پہنچا  ،جہاں سے  میں کٹنگ کرواتا ہوں۔   رش کافی تھا ، میں اپنی باری کے انتظار میں  ویٹنگ روم  میں بیٹھ گیا۔    اپنی باری  آنے پر←  مزید پڑھیے

پُرسہ۔۔کوثر عروب

وہ وہاں نیا تھا۔دنیا چھوڑے ابھی اسے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔وہ صدمے میں تھا،بےیقین تھا کہ اتنی اچانک وہ کہاں اور کیسے پہنچ گیا۔موت کی تکلیف کے کچھ آثار ابھی تک اس کے بدن پر موجود تھے۔وہ ایک عجیب←  مزید پڑھیے

ذہنی تعصبات۔۔وہاراامباکر

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جوتے کی قیمت 1999 روپے کیوں ہے؟ دو ہزار کیوں نہیں؟ کیا اس سے فرق پڑتا ہے؟ ایک روپے سے فرق تو نہیں پڑنا چاہیے لیکن پڑتا ہے۔ اس کو بائیں طرف والے←  مزید پڑھیے

نیلام گھر اور دو نادان۔۔عاطف ملک

لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھیر کی ریکارڈنگ ہورہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔  طارق عزیز نے اُن سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔ لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں←  مزید پڑھیے

قطمیر۔۔ مختار پارس

کچھ نہ کچھ تو ہونا تھا۔تخلیق اپنی وجہ اور وجود سے منکر ہو گئی۔ ارض و سما استعارے اور اشارے بن کر رہ گئے ۔ پہاڑوں کو سر کرنے کی روایت ٹوٹ گئی۔ شہرِذات کی فصیلیں اب تعمیرہونے لگیں۔ نیتیں←  مزید پڑھیے

میرے روحانی باپ میرے استاد جی۔۔عامر عثمان عادل

کل دنیا بھر میں فادرز  ڈے منایا گیا۔۔ سوچا کیوں نہ آج اس دن کو اپنے بہت پیارے استاد کے نام کر دوں کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔ یہ اسی کی دہائی  کی بات ہے مجھے پڑھائی←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا تحقیقی سفر اور علی عباس جلالپوری۔۔سیدہ ہما شیرازی

سماج کا علم و عمل اور غوروفکر سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر روزمرہ بولی جانے والی زبان میں بہت سے لفظ لاشوں میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے انسانیت، خدمت، ایثار، قربانی، حُب الوطنی،مقصدیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ←  مزید پڑھیے

اذان،مؤذ ن اور لاؤڈ سپیکر۔۔راؤ عتیق الرحمٰن

اذان کے لغوی معنی سنا دینا، خبر دار کر دینا اور پکارنا ہیں۔ امام نودی ؒ نے فرمایا اہل لغت کے نزدیک اذان کے معنی اعلام کے ہیں ,اعلام کا مطلب ہے  کسی چیز کے بارے میں لو گوں کو←  مزید پڑھیے

میرا باپ سوپر ہیرو(عالمی یوم والد)۔۔محمد ہاشم

یہ 2012 کی بات ہے جب پہلی بار کالج گئے تو کسی دن پروفیسر نے سب سے سوال کیا کہ سب بتائیں آپ کس شخصیت کی جدوجہد اور کامیابی سے متاثر ہیں یا کس نے اپنی محنت سے آپ کو←  مزید پڑھیے

بدمعاش۔۔ڈاکٹر فاخرہ نورین

شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں اور میرا باپ بہت شریف آدمی ہونے کے ناتے بڑا بدمعاش شخص تھا۔ساٹھ سال کی عمر میں جس کے پاس کردار اور رزق حلال کی گارنٹی خدا کی قسم کھا کر موجود ہو،←  مزید پڑھیے

قیدیوں کی زندگی میں انقلاب لانے والے سپرٹینڈنٹ جیل گجرات۔۔۔عامر عثمان عادل

پاکستان کی جیلوں بارے ہمارا گمان یہی ہے کہ یہ جرائم کی فیکٹریاں ہیں اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل جانا کسی بھی ملزم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے یا تو وہ سچے دل←  مزید پڑھیے

بیچارے لڈن جعفری۔۔سید عارف مصطفیٰ

بلاشبہ لڈن جعفری کی شہرت اب چاردانگ عالم میں ہے کیونکہ وہ اب ایک دیومالائی کردار بن چکے ہیں یا بنائے جاچکے ہیں لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کچھ انکے بارے میں ضمیر اختر نقوی بتاچکے ہیں←  مزید پڑھیے

میرے مسیحا کے نام۔۔سیدہ ہما شیرازی

میرے اس دنیا پر نمودار ہونے پر جو پہلی غذا میرے منہ کے ذریعے جسم کا حصہ بنی جسے ہمارے ہاں “گُھٹی” کہا جاتا ہے ہمارے پنجابی سماج میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

خطاط شفیق الزماں، مسجد نبوی کی لوحیں اور آنسو۔۔منصور ندیم

یہ کوئی چالیس  برس کے قریب  کی بات ہے، حسب معمول شفیق الزمان روزانہ کی طرح اپنے گھر سے ناشتہ کرکے اپنے کام پر نکل جاتے تھے، ان کا کام مختلف سڑکوں پر ہوتا تھا، انہوں نے اپنے بچپن سے←  مزید پڑھیے

آتے ہیں غیب سے سوال خیال میں۔۔عظمت نواز

سوشل میڈیا پر ہمہ قسم صاحبان علم اپنی عادت متواترہ سے مجبور علمی رائتہ نہایت خشوع و خضوع سے پھیلاتے ہیں ۔ گو یہ ہماری قومی عادات میں سے عادت صحیحہ ہے کہ ہم علمی خدمت میں ہرگز پیچھے نہیں←  مزید پڑھیے

گلزار کی ننھی منی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد←  مزید پڑھیے

میں ملحد کیوں ہوں ؟ از بھگت سنگھ ( حصہ اوّل )۔۔۔حسنین چوہدری

بھگت سنگھ نے یہ مضمون 1930 میں لکھا تھا البتہ بھگت سنگھ کی موت کے بعد اگلے سال 1931 میں شائع ہوا۔موضوع کے اعتبار سے مضمون کے دو حصے ہوسکتے ہیں۔ایک میں بھگت سنگھ نے ان الزامات کا جائزہ لیا←  مزید پڑھیے

حقیقی یوگ کیا ہے؟۔۔کوثر عظیمی

‎جسم کاروح سے اور روح کا رب سے ملاپ ،حقیقی یوگ ہے۔جو بندہ دنیا میں رہتے ہوئے دنیاوی معاملات کے ساتھ ساتھ جسمانی  ذہنی اور روحانی اپنے رب سے جڑا رہے وہ یوگی کہلائے گا۔ یوگ بندے کو خدا سے←  مزید پڑھیے