سیدہ ہما شیرازی کی تحاریر

نوآبادیاتی اثرات اور ہمارا سماج۔۔سیدہ ہما شیرازی

گاڑی درختوں کے درمیان سے چلتی ہوئی شہر میں داخل ہو رہی تھی ،مجھے کسی بھی شہر میں داخل ہونے کا اندازہ اُسی لمحے ہو جاتا جب میری آنکھیں گاڑی میں نصب شفاف شیشے سے جھونپڑی اور جھگیوں کی بستیوں←  مزید پڑھیے

کالا رجسٹر لال لکھائی(حصہ دوم)۔۔سیدہ ہما شیرازی

میں رات کی اس بڑھتی ہوئی تاریکی میں لکھ رہی ہوں اس لمحے  دنیا میں کئی واقعات رونما ہو چکے ہوں گے اور کئی حیران کن واقعات ہونے والے ہوں گے لاہور میں قیام کا آخری دن ہے اس مختصر←  مزید پڑھیے

کالا رجسٹر لا ل لکھائی۔۔سیدہ ہما شیرازی

میں کیا لکھوں اور کیا نہ لکھوں۔۔ رات کا یہ پہر بھی عجیب ہے دن بھر میں ہونے والے اچھے برے ملکی و غیر ملکی سارے واقعات اس وقت دستک دیتے ہیں جب پُرسکون عوام خوابوں کے مزے لوٹ رہی←  مزید پڑھیے

ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا تحقیقی سفر اور علی عباس جلالپوری۔۔سیدہ ہما شیرازی

سماج کا علم و عمل اور غوروفکر سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر روزمرہ بولی جانے والی زبان میں بہت سے لفظ لاشوں میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے انسانیت، خدمت، ایثار، قربانی، حُب الوطنی،مقصدیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ←  مزید پڑھیے

میرے مسیحا کے نام۔۔سیدہ ہما شیرازی

میرے اس دنیا پر نمودار ہونے پر جو پہلی غذا میرے منہ کے ذریعے جسم کا حصہ بنی جسے ہمارے ہاں “گُھٹی” کہا جاتا ہے ہمارے پنجابی سماج میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ←  مزید پڑھیے

کس برہمن نے کہا تھا کہ یہ سال اچھا ہے؟۔۔سیدہ ہما شیرازی

’’یوں لگتا ہے وقت تھم گیا ہے، رواں دواں زندگی رُک گئی ہے۔ کئی دنوں سے بستر پر لیٹے لیٹے سوچ رہا ہوں کہ آزادانہ نقل و حرکت بھی مالک کی کتنی بڑی نعمت تھی۔ نجانے پرانا وقت کب لوٹ←  مزید پڑھیے

شہرت سے مایوسی تک کا سفر۔۔سیدہ ہما شیرازی

؎وقت کرتا ہے پرورش برسوں حادثہ ایک دم نہیں ہوتا آج کا انسان زندگی سے زیادہ موت کو آسان تصور کیے بیٹھا ہے۔ اس عمل کے پیچھے سماجی نفسیاتی اور دیگر مسائل کارفرما ہیں۔ سوشانت سنگھ انڈین ایکٹر کی خودکشی←  مزید پڑھیے

بجٹ کی تاریخ اور ہم۔۔سیدہ ہما شیرازی

ہمارے ہاں مختلف قسم کے میلے لگائے جاتے ہیں جن میں مذہبی میلے یعنی عرس (جس میں عقیدت مند لوگ شرکت کرتے ہیں ) سماجی میلے ,جیسے بیساکھی کا تہوار جس میں اس ثقافت سے جڑے لوگوں کا ایک بڑاحصہ←  مزید پڑھیے