میں ملحد کیوں ہوں ؟ از بھگت سنگھ ( حصہ اوّل )۔۔۔حسنین چوہدری

بھگت سنگھ نے یہ مضمون 1930 میں لکھا تھا البتہ بھگت سنگھ کی موت کے بعد اگلے سال 1931 میں شائع ہوا۔موضوع کے اعتبار سے مضمون کے دو حصے ہوسکتے ہیں۔ایک میں بھگت سنگھ نے ان الزامات کا جائزہ لیا ہے جو ان کے دوستوں کی جانب سے ان پر لگائے جاتے تھے اور اپنے سفر الحاد کا مختصر خاکہ پیش کردیا ہے۔دوسرے حصے میں ذات ِ خداوندی پر اپنے اعتراضات سامنے رکھے ہیں-مترجم!

ایک نیا سوال یہ اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ میں اپنے مغرور و متکبر ہونے کی وجہ سے قادر مطلق اور عالم الغیب خدا کا انکار کرتا ہوں۔میرا خیال نہیں تھا کہ میرا کبھی اس مسئلے سے سابقہ پڑے گا لیکن اپنے کچھ دوستوں ( اگر وہ واقعی ہی میرے دوست ہیں) سے ہونے والی بحث میں یہ ظاہر ہوا کہ انہوں نے مجھ سے مختصر تعلق میں یہ رائے قائم کرلی ہے کہ میرے الحاد کی اصل وجہ میرا زعم ہے۔یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔میں ایسا کوئی دعویٰ  نہیں کروں گا کہ میں بشری کمزوریوں سے پاک ہوں۔میں ایک انسان ہوں اور انسان سے زیادہ کچھ نہیں ہوں۔اس سے زیادہ ہونے کا دعویٰ  کوئی کر بھی نہیں سکتا۔یہ کمزوری مجھ میں بھی ہے۔گھمنڈ یا زعم میری فطرت کا حصہ ہے۔میرے کامریڈ مجھے اکثر آمر کہہ کر بلاتے تھے ، یہاں تک میرے دوست مسٹر بی کے دت بھی ایسا کہنے والوں میں شامل تھے۔کئی مواقع پہ یہ بھی کہا گیا کہ میں صرف اپنی من مرضی کرتا ہوں۔بعض دوستوں کا خیال ہے کہ میں اپنی  رائے زبردستی دوسروں پر تھوپتا ہوں اور اپنی بات منوا کر ہی دم لیتا ہوں۔یہ بات کسی حد تک درست ہے۔اسے خودپسندی میں شمار کیا جاسکتا ہے۔دوسری مشہور آرا کے مقابلے میں میری رائے منفرد ہے اور مجھے اس پہ بجا طور پر فخر ہے۔لیکن اس فخر کو ناجائز یا غیر ضروری خودپسندی کہنا مناسب نہیں ہے۔اب یہ ناجائز فخر یا زعم ہے جس نے مجھے الحاد کی طرف مائل کیا ہے یا بہت محتاط اور گہرے مطالعے اور غور و خوض کے بعد میں ملحد ہوا ہوں۔یہی وہ سوال ہے جس کا یہ مضمون جواب ہے۔یہ بات پہلے واضح کردوں کہ خودپسندی اور غیر ضروری فخر و تکبر میں فرق ہے۔

یہ بات میری سمجھ میں نہیں آسکی کہ غیر ضروری غرور اور زعم خدا پر ایمان لانے میں کیسے رکاوٹ بن سکتا ہے؟میں کسی عظیم شخص کی عظمت تسلیم کرنے سے انکار اس وقت کرسکتا ہوں جب مجھے بھی کوئی شہرت نصیب ہوگئی ہو، جس کا میں حقدار نہ ہوں، یا میرے اندر وہ خوبیاں نہ پائی جاتی ہوں، جو اس کیلئے ناگزیر ہیں۔یہاں تک تو ٹھیک ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کو مانتا ہے لیکن اپنے کسی زعم یا فخر کے باعث وہ خدا کو ماننا چھوڑ دے۔ایسا دو ہی صورتوں میں ممکن ہے۔انسان خود کو خدا کا رقیب یا مخالف سمجھنے لگے یا پھر خود کو خدا سمجھنے لگے۔دونوں صورتوں میں وہ ایک سچا ملحد نہیں ہوسکتا۔پہلی صورت میں تو انسان اپنے حریف یعنی خدا کے وجود کا انکار ہی نہیں کررہا جبکہ دوسری صورت میں وہ لاشعوری طور پر ایسی قوت کا اقرار کررہا ہے جوپس پردہ اس کائنات کا نظام چلارہی ہے۔اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ وہ خود کو خدا سمجھتا ہے یا خدا کے وجود کا یقین رکھتا ہے۔ہر دو صورت میں وہ ملحد نہیں ہے کیونکہ یقین دونوں صورتوں میں موجود ہے۔جہاں تک میری بات ہے ، میرا تعلق نہ پہلے درجے سے ہے نہ دوسرے درجے سے ہے۔

میں تو قادر مطلق خدا کے وجود کا انکار کرتا ہوں۔اس انکار کی وجہ کیا ہے وہ بعد میں دیکھا جائے گا۔ایک بات میں پوری طرح واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میرے انکارِ خدا کے پیچھے کسی قسم کا کوئی زعم نہیں ہے۔نہ میں خدا کا حریف ہوں ، نہ ہی میں خود خدا ہوں۔آئیے دیکھتے ہیں کہ اس الزام کی کیا حقیقت ہے۔

میرے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ دلی بم کیس اور لاہور سازش کیس سے مجھے راتوں رات شہرت مل گئی ہے جس کامجھے گھمنڈ ہوگیا ہے۔اب اس دعوے کی حقیقت دیکھ لیتے ہیں۔

میرا الحاد کوئی کل کلاں کا واقعہ نہیں ہے۔میں  نے تو خدا کو ماننا اسی وقت چھوڑ دیا تھا جب کوئی شہرت نصیب نہیں ہوئی تھی۔میرے یہ دوست شاید اس وقت میرا نام تک نہ جانتے ہوں۔کالج کے ایک ادنی طالبعلم کو ایسا کونسا زعم ہوسکتا ہے جو اسے الحاد کی طرف لے جائے۔بعض پروفیسرز کا میں چہیتا طالبعلم تھا اور بعض مجھے ناپسند کرتے تھے۔نہ ہی میں کبھی کوئی لائق یا محنتی طالب علم تھا۔آخر مجھے کس بات کا زعم ہوسکتا تھا؟ میں تو ایک شرمیلا سا طالب علم تھا جو اپنے مستقبل بارے بھی بے حد مایوسی کا شکار تھا۔ان دنوں میں اگرچہ کامل ملحد نہیں تھا۔میرے دادا ، جن کے زیر سایہ میں نے پرورش پائی ، وہ ایک قدامت پرست آریہ سماجی ہیں۔آریہ سماجی کچھ بھی ہوسکتا ہے مگر ملحد نہیں ہوسکتا۔ابتدائی تعلیم کے بعد میں DAV سکول لاہور میں چلا گیا جہاں ایک سال تک ہاسٹل میں رہنا پڑا۔اس زمانے میں مذہبی عبادات و رسومات سرانجام دیا کرتا تھا اور ایک مکمل مذہبی انسان تھا۔بعد میں اپنے والد کے ساتھ رہنا شروع کردیا جو مذہبی قدامت پرستی کے مقابلے میں ایک لبرل سوچ کے حامل انسان تھے۔یہ انہی کی تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ میں نے اپنی پوری زندگی جدوجہد آزادی کیلیے وقف کردی ہے۔وہ ملحد نہیں ہیں اور خدا پر کامل یقین رکھتے ہیں۔وہ مجھے روزانہ پوجا پاٹ کی تلقین کیا کرتے تھے۔اس ماحول میں میری پرورش ہوئی تھی۔تحریک عدم تعاون کے زمانے میں ، میں نیشنل کالج چلا گیا اور اسی زمانے میں نے خدا ، تصور خدا ، اور دیگر مذہبی معاملات کا تنقیدی نگاہ سے جائزہ لینا شروع کیا۔بالوں کی چوٹی ضرور رکھی مگر سکھ مت یا دوسرے کسی مذہب کی دیومالاوں ، شریعت وغیرہ پہ یقین نہیں تھا۔لیکن خدا کے وجود پر یقین تھا۔

پھر میں انقلابی پارٹی سے وابستہ ہوگیا۔جس لیڈر سے میرا پہلے پہل رابطہ ہوا ، انہیں خدا کے وجود پر کامل یقین تو نہیں تھا لیکن انکار کا حوصلہ بھی نہیں تھا۔میرے بار بار استفسار پہ یہی فرماتے کہ دل چاہے تو عبادت کرلیا کرو – دوسرے لیڈر جن سے میرا تعلق قائم ہوا وہ ایک سچے پکے مذہبی تھے۔ان کا نام بتاتا چلوں ، جناب کامریڈ شچندر ناتھ سنیال صاحب ، جو ان دنوں کاکوری سازش کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے ہیں۔ان کی معروف کتاب ‘بندی جیون’ میں پہلے صفحے سے آخری صفحے تک خدا کے گن گائے گئے ہیں۔28 جنوری 1925ء کو تقسیم کیے جانے والے انقلابی پرچے میں بھی یہی باتیں ہیں۔اس پرچے میں ایک پورا پیراگراف خدا کی حمد و ثنا پر مشتمل ہے۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خدا کا انکار تو انقلابی پارٹی میں سے بھی کوئی نہیں کرسکا تھا۔کاکوری کیس میں شہرت پانے والے چاروں شہید بھی اپنے آخری وقت میں عبادت اور پوجا پاٹ کرنے لگے تھے۔رام پرساد بسمل تو ایک قدامت پرست آریہ سماجی تھے۔راجندر لاہری بھی سوشلزم اور کمیونزم کے گہرے مطالعے کے باوجود گیتا اور اپنشدوں کا ورد کرنے سے باز نہیں آسکے تھے۔ان سب میں میں نے ایک ہی شخص دیکھا جو دعا نہیں کرتا تھا ، جس کا کہنا تھا کہ فلسفہ اصل میں انسان کی کمزوریوں اور علم کے محدود ہونے کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔آجکل وہ بھی عمر قید کی سزا کاٹ رہا ہے۔خدا کا انکار کرنے کی ہمت اسے بھی نہیں ہوئی۔
تب تک تو میں بھی ایک رومان پرور انقلابی تھا۔تب تک دوسروں کے احکام ماننا پڑتے تھے۔اب اپنی ذمہ داری اپنے کندھوں پہ آگئی ہے۔

صرف کامریڈ ہی نہیں ، لیڈروں کی طرف سے بھی بہت کچھ سننا پڑتا تھا۔وہی میری زندگی کا انقلابی موڑ تھا ، اس وقت ذہن کی گوشوں میں صرف مطالعہ مطالعہ کی گونج تھی۔مخالفین کے دلائل کا جواب دینے کیلئے بھی مطالعہ ، اپنی رائے کو مضبوط کرنے کیلئے بھی مطالعہ ، لہذا میں نے مطالعہ شروع کردیا۔مطالعے کے بعد میرے پرانے خیالات اور اعتقادات میں تبدیلی آگئی۔پرانے ساتھیوں کے ساتھ جو تشدد والے طریقوں کا لطف آتا تھا ، اب ان کی جگہ سنجیدہ نظریات نے لے لی تھی۔اندھے ایمان کی جگہ اب حقیقت پسندی نے لے لی تھی۔تشدد تو صرف اسی صورت میں جائز ہے جب کسی اشد ضرورت کے وقت کیا جائے۔ورنہ عدم تشدد کا اصول ہی ہر تحریک کا حصہ ہوناچاہیے۔سب سے اہم چیز اس فلسفے کو سمجھنا تھا جس کیلئے ہم لڑ رہے تھے۔ان دنوں چونکہ کوئی خاص انقلابی سرگرمیاں نہیں تھیں لہذا مجھے عالمی انقلابات کے متعلق خوب پڑھنے کا موقع ملا۔بکونین کے انارکسٹ فلسفے کو پڑھنے کا موقع ملا ، بابائے اشتراکیت کارل مارکس کو پڑھا ، مگر لینن ، ٹراٹسکی وغیرہ کا زیادہ مطالعہ کیا جو اپنے ملکوں میں کامیاب انقلاب لے آئے تھے۔یہ سبھی ملحد تھے۔بکونین کی کتاب ‘خدا اور مملکت’ اس حوالے سے ایک اہم کتاب ہے۔پھر نرلمب سوامی کی کتاب ‘سہج گیان’ ملی۔اس میں الحاد کا عنصر شامل ہے۔اس موضوع میں میری دلچسپی اب بہت بڑھ گئی ہے۔1926 کے اواخر میں مجھے اس بات کا کامل یقین ہوگیا تھا کہ ان باتوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے کہ خدا نے اس کائنات کو تخلیق کیا ہے ، اور وہی اس کائنات کو چلا رہا ہے۔میں نے اپنی اس سوچ کو ظاہر کیا۔دوستوں سے بحث و مباحثے شروع کیے۔یہی وہ وقت تھا جب میں پوری طرح ملحد ہوگیا۔لیکن اسے ہوا کیا ، وہ آئے گا۔

 

مئی 1927ء میں مجھے لاہور میں اچانک گرفتار کرلیا گیا۔میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا کہ پولیس مجھے ڈھونڈ رہی ہے۔ایک باغ سے گزرتے ہوئے اچانک میں نے خود کو چاروں طرف سے پولیس میں گھرا ہوا پایا۔تعجب ہے کہ میں اس وقت خاموش رہا۔مشتعل نہیں ہوا۔چپ چاپ گرفتاری دی۔اگلے دن ریلوے پولیس میں لے جایا گیا جہاں ایک مہینہ مجھے قید رکھا گیا۔پولیس افسروں سے بات چیت میں معلوم ہوا کہ کاکوری گروپ کے ساتھ میرے تعلق اور میری انقلابی سرگرمیوں کا پولیس کو  علم ہوچکا ہے۔معلوم ہوا کہ مقدمہ چلتے وقت میں لکھنئو میں تھا اور میں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑانے کیلئے بم وغیرہ بھی حاصل کیے تھے۔ان بموں کی آزمائش کیلئے 1926ء میں دسہرے کے موقعے پر ایک بم میں نے ہجوم میں چلایا تھا۔مجھے مزید کہا گیا کہ اگر میں اپنے ساتھیوں کے خلاف سارا سچ اگل دوں تو مجھے گرفتار نہیں کیا جائے گا ، بغیر عدالت میں پیش کیے مجھے فوراً رہا کردیا جائے گا۔اس احمقانہ بات پہ میری ہنسی نکل گئی۔

ہم جیسی فکر کے حامل معصوم عوام پہ بم نہیں پھینکا کرتے۔ایک صبح CID کے افسر مسٹر نیومین نے مجھے کہا کہ اگر تم نے مطلوبہ بیان نہیں دیا تو تم پر کاکوری کیس اور دسہرہ بم دھماکے میں بے گناہ لوگوں کے قتل کے جرم میں مقدمہ چلایا جائے گا۔مزید بتایا کہ ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں جو تمہیں پھانسی چڑھانے کیلئے کافی ہیں۔مجھے اگرچہ اپنی بے گناہی کا یقین تھا مگر پولیس چاہتی تو ایسا سچ مچ کر بھی سکتی تھی۔پولیس والوں نے مجھے خدا کو یاد کرنے کا کہنا شروع کردیا۔لیکن میں تو ملحد ہوچکا تھا۔اب مجھے یہ طے کرنا تھا کہ صرف امن و آشتی اور تفریح کے دنوں میں ہی میں ملحد بنا ہوا تھا یا اس کٹھن وقت میں موت کو سامنے دیکھ کر بھی میں اپنے اصولوں پہ قائم رہ سکتا تھا۔کافی سوچ بچار کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ میں کسی بھی صورت میں خدا پر ایمان نہیں لاسکتا یا اس کی عبادت نہیں کرسکتا۔میں نے ایک لمحے کیلئے بھی خدا سے فریاد نہیں کی۔یہی وہ حقیقی امتحان تھا جس میں مجھے کامیابی ملی۔لمحہ بھر کو بھی اپنی گردن بچانے کا خیال نہیں آیا۔اس وقت سے لے کر اب تک میں سچا پکا ملحد ہوں۔اس امتحان میں کامیاب ہونا آسان بالکل نہیں تھا۔

– جاری ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *