چلاکو ماسی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

ایک صاف ستھرے محلے کی ،کھلی اور ہوا دار گلیوں کے دونوں اطراف مکانات تھے جن کے صحن کو مٹی گارے سے لیپا گیا تھا اور ان میں لکڑی کے ڈربے بھی بنائے گئے تھے۔جن میں زیادہ تر مرغیاں،خرگوش وغیرہ رہ رہے تھے ۔یہ مرغیاں اایک ہی جگہ اکٹھی ہو کر دانہ چگتیں،موسم سہانا ہوتا تو باھر گھومنے بھی نکل جاتیں۔کٹ کٹ کٹاک کی آواز میں ،دائیں بائیں سر ہلاتیں باتیں کرتیں۔
ان میں بٹو بی سب سے سیانی مرغی تھی۔جو تھوڑ ی عقل مند ہونے کے ساتھ ،تھوڑی پڑھی لکھی بھی تھی۔
سلیقہ مند اتنی کہ نئی نئی پوشاکیں بنانے کے ساتھ ساتھ ،خود کوسجاناسنوارنابھی آتا تھا۔
جب بٹو بی تیار ہو کر باہر نکلتی تو اکثر مرغیاں جل بھن جاتیں مگر اس سے کچھ سیکھنا گوارا نہ کر تیں۔
بٹو بی کی کوشش ہوتی کہ باتوں ہی باتوں میں اپنی سہیلیوں کو کچھ سکھائے۔وہ انہیں سمجھاتی کہ “مرغیاں صرف انڈے دینے کے کیے پیدا نہیں ہوئیں بلکہ اللہ نے، انکو بھی عقل اور سوجھ   دی ہے۔ ”
وہ انہیں صاف ستھری خوراک کھانے کو کہتی اور نالیوں کا پانی پینے سےمنع کرتی۔
ایک صبح بٹو بی کا موڈ بہت اچھا تھا۔سردی بھی زیادہ تھی۔بٹو بی نے پہلے ٹوتھ برش سے اپنی چونچ کو صاف اور تیکھا کیا۔پھر چائے کے ساتھ ،ہلکا سا دانہ دنکا کھایا۔ خوبصورت فر والے کپڑے پہن کر پروں کو ہئیر برش سے بکھیرا۔
اور گلے کا مفلر درست کرتے،مٹک مٹک باہر کو چل پڑی۔
ساری مرغیاں،ایک کھلی جگہ بیٹھی دھوپ سینک رہی تھیں ان میں سے ایک مرغی،بٹو بی کو دیکھ کر جل گئی اور کہنے لگی!
“لو اب مرغیاں بھی فیشن کرنے لگیں۔”
“یہ فیشن نہیں عقل اور ہنر کا استعمال ہے۔جو چاہے سیکھ لے فائدہ اٹھا لے”۔۔بٹو بی نے جواب دیا۔
جل ککڑی بولی”لو بھلا ہم مرغیاں بھی یہ کام کریں گی یہ کیسے ہو سکتا ہے؟”
“کیوں نہیں ہو سکتا۔؟اللہ نے جانوروں کو بھی عقل سمجھ دی ہے۔تم مجھ سے سیکھ سکتی ہو۔”بٹو بی نےجواب دیا۔

“میں اور تم سے سیکھوں۔ہونہہ۔” جل ککڑی بولی۔اور تمام مرغیاں ناراضگی سے کٹکٹانے لگیں۔
بٹو بی نے یہ حال دیکھا تواسکے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔کھیل ہی کھیل میں اسنے مرغیوں کو کچھ سکھانے کا فیصلہ کیا۔اور کہنے لگی!
“آج ہم مرغیاں مل کر دوڑ لگائیں گی۔جو جیتے گی۔آئندہ اسی کی مانی جائے گی۔”
تمام مرغیاں بٹو بی کو نیچا دکھانے کے لیے تیار ہو گئیں۔
مرغیاں ایک قطار میں کھڑی ہو گئیں۔بٹوبی نے جیسے ہی ون ٹو تھری کہا،سب کی سب دوڑ پڑیں۔ابھی آدھا راستہ کٹا تھا کہ تمام مرغیاں ہانپنے لگیں۔انکا بس نہیں چل رہا تھا کہ ریس چھوڑ کر بھاگ جائیں۔
بٹو بی نے عقل اور پروں کا استعمال کیا تھا ۔ہلکی سی اڑان بھری اور یہ جا وہ جا۔سب سے پہلے بٹو بی فنش لائین کراس کر گئی۔
تمام مرغیاں چلانے لگیں” ۔چلاکوماسی۔بھلا یہ کیا بات ہوئی۔ دوڑنےمیں پرندوں کی طرح پروں کا سہارا ؟
یہ تو کھلی دھاندلی ہے۔ہم نہیں مانتے۔”
بٹو بی کٹ کٹ کر کے ہنسنے لگی۔
“۔یہ دھاندلی نہیں پروں کا استعمال کا طریقہ ہے۔ذرا سوچو۔خدا نے ہمیں پر کیوں دئیے ہیں؟تاکہ ہم ان سے کام لے سکیں۔”
تمام مرغیوں کےمنہ کھلے کاکھلے رہ گیئے۔اب انہیں سمجھ آرہی تھی کہ خدا نے اپنی تمام مخلوق کو عقل سمجھ دی ہے۔جس سے کام لےکر وہ خودکو اپنے لئے اور دوسروں کیلئے فائدہ مند بنا سکتے ہیں
۔اس دن کے بعد تمام مرغیاں بٹو بی کو اپنا لیڈر مان لیا اس کی ہر بات ماننے لگیں۔صاف ستری رہتیں اور بٹو بی سے ہنر بھی سیکھنے لگیں۔سچ ہے محنت اور عقل مل کر ہر جگہ کامیاب ہوتے ہیں ۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *