نیلام گھر اور دو نادان۔۔عاطف ملک

لاہور کے الحمرا ہال میں نیلام گھیر کی ریکارڈنگ ہورہی تھی۔ سٹیج پر دو بیس سال کی عمر کے لگ بھگ نوجوان بیٹھے تھے۔  طارق عزیز نے اُن سے سوالات پوچھنے شروع کیے۔

لیکن رکیے، اگر آپ نے ان دونوں کو سٹیج پر جاتے دیکھا ہو تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وہ دونوں تھوڑے سے گھبرائے ہیں۔ سٹیج پر جاتے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے تھے، ایسے کہ جیسے دونوں نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیا ہو۔ دونوں کے بال ایک ہی طرح کے تراشیدہ تھے، ایک کی داڑھی ترتیب اور بے ترتیبی کے درمیان بڑھی تھی جبکہ دوسرا کلین شیو تھا۔ اگر آپ غور کرتے تو دیکھ لیتے کہ دونوں نے اُس عمر کے عام لڑکوں کی طرح جینز نہیں بلکہ پتلونیں پہن رکھی تھیں اور ان کی استری شدہ قمیصوں کے بٹن گریبان تک بند تھے۔  اگر آپ یہ سب کچھ دیکھ لیتے تو آپ یہ بھی جان لیتے کہ وہ دونوں شاید دوست نہیں بلکہ راہی ہیں، جنہیں ایک اتفاق اٹھا کر اُس سٹیج تک لے آیا تھا۔ یہ زندگی بھی عجب اتفاقات سے پُرہے۔

ان میں ایک لڑکا کراچی کا رہنے والا میمن تھا، جس کا تعلق حاجی عبدالرزاق یعقوب کے خاندان سے تھا۔ اس کا مطلب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ وہ یقیناً گولڈ کا کاروبار کرتا ہوگا۔ اس کی بات چیت کاروباری محتاط انداز کا رنگ لیے تھی۔ وہ زندگی میں پہلی دفعہ لاہور آیا تھا۔ دوسرے کی بات چیت کا انداز شہری اور دیہاتی دونوں وضع رکھتا تھا۔ اگر آپ نے اُسے سرگودھے کی جانگلی زبان بولتے سنا ہو تو جان لیتے کہ اس کے چہرے پر سرگودھے کی آندھیوں کی مٹی اپنا مٹیالہ پن چھوڑ گئی ہے۔ یقیناً وہ دونوں الگ الگ تھے، مگر سوال تھا کہ اُس دن وہ دونوں کردار کیسے نیلام گھر کے سٹیج پر اکٹھے بیٹھے تھے؟

اس سوال کا جواب دونوں کے تراشیدہ بالوں میں ہے۔

وہ دونوں ائیر فورس کے فلائنگ آفیسر تھے۔ اُن دونوں انجینئرز نے ائیر فورس میں کچھ عرصہ قبل ہی اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز کیا تھا۔ ان میں ایک لمبی کیڈٹ شپ کی بھٹی سے نکل کر آیا تھا، جبکہ دوسرے نے این ای ڈی یونیورسٹی کراچی سے الیکٹرونکس انجینئرنگ مکمل کرنے کے بعد فضائیہ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ دوروں  لاہور سے دور کہیں تعینات تھے،اور اتفاقاً ایک کورس پر لاہور ائیرفورس بیس پر قائم ائیر ڈیفنس سکول میں کورس کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔ اس ریکارڈنگ والے دن کی صبح ان کی کلاس میں ایک ساتھی دو نیلام گھر کے پاسز لے آیا  اور پوچھا کہ ہے کوئی جو آج شام نیلام گھر کی ریکارڈنگ میں سنتے کانوں اور دیکھتی آنکھوں کو سلام کرنے والے کے روبرو ہو جائے۔ چھوٹے عہدے کے افسر ویسے ہی وجہ بے وجہ روبرو ہوتے رہتے ہیں۔ دونوں نے سوچا کہ پاکستان زندہ باد کے نعرے میں وہ دو مختلف پس منظر کے مسافر بھی اپنی آواز شامل کرلیں کہ پاکستان کی خوبصورتی اسی رنگارنگی سے ہے۔ مگر معاملہ اتنا بھی سیدھا نہ تھا۔ اُن کی نوکری کے قواعد کی رو سے وہ کسی ٹی وی پروگرام میں شرکت نہیں کر سکتے تھے۔ دونوں نے سوچا کہ جوانی اور نادانی ہم صوت ہیں اور اس کے علاوہ ہال میں بیٹھے شرکاء میں دو نادانوں کا کیا پتہ لگے گا۔ سو اُس شام وہ دونوں الحمرا ہال میں نیلام گھر کی شوٹنگ میں شریک تھے۔

یہاں تک تو معاملہ ٹھیک تھا، مگر جب طارق عزیز نے آواز لگائی کہ وہ لوگ جو سوالوں کے مقابلوں کے لیے تیار ہو کر آئے ہیں، وہ علیحدہ ہوں کہ انہیں ابتدائی انتخاب کے لیے پرچے پر سوالات کے جواب دینا ہوں گے تو اُن دونوں نے ایک دوسرے کی  طرف دیکھا کہ وہ دونوں بھی تیار ہو کر آئے تھے۔ پتلونیں اور قمیضیں استری تھیں اور بال ترتیب سے بنے تھے۔ پتلونوں بھی ڈریس پینٹ تھیں کہ نوکری کے قواعد کے لحاظ سے انہیں میس کے ڈائنگ ہال میں جینز پہننے کی اجازت نہ تھی۔ دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔ ان میں سے ایک جو شاعری کا شغف رکھتا تھا، بے ساختہ بولا۔

تمام شہر ہے شائستگی کا زہر پیے
نہ جانے کیا ہو جو دوچار بے ادب بھی نہ ہوں

دوسرے لمحے ان میں ایک بے ادب کونے میں بیٹھا لکھے پرچے پر سوالات کے جوابات دے رہا تھا۔ پرچہ واپس کرکے نشست پر واپس آیا تو دوسرے نے پوچھا کیا رہا؟ جواب آیا کچھ دیر میں نتیجہ آ جائے گا۔

پروگرام چلتا رہا اور آواز پڑتی رہی۔ کبھی نوبیاہتا جوڑے سٹیج پر شرماتے نظر آتے، کبھی بیت بازی میں شعر ایک جانب سے دوسری جانب برستے نظر آتے، کبھی کسی اور کے نام کی آواز لگتی۔ دونوں مسافروں نے ٹانگیں پسارلیں اور سیٹ پر لمبے ہو گئے کہ صرف استری شدہ کپڑوں پر چناؤ نہیں ہوتا۔

اچانک سنتے کانوں میں طارق عزیز کی آواز آئی کہ دونوں نادان سٹیج پر آجائیں کہ سوالات کے جوابات سے نادانی اور فرزانگی کا تعین ہوسکے۔ اب دونوں پریشان کہ معاملہ ہال کی عمومیت سے سٹیج کی خصوصیت کا بننے جارہا تھا، اور خصوصیت بعد میں اُن کے لیے باعثِ آزار بھی ہو سکتی تھی۔ اٹھتے دونوں تھوڑا گھبرائے اور سٹیج پر جاتے انہوں نے ایک دوسرے کی جانب دیکھا اور ہلکا سا مسکرائے۔

طارق عزیز نے کہا، میرے عزیز، آپ کا جس مقابلے کے لیے چناو ہوا ہے اس میں آپ اگر سوال کا درست جواب دیں گے تو اس کے بعد آپ کو ایک نمبر کا چناؤ  کرنا ہوگا۔ یہ سامنے نمبروں کا بورڈ ہے، آپ کے کہنے پرشانزے آپ کے چُنے نمبر کو ہٹائے گی اور اس کے پیچھے لکھا انعام آپ کا ہوگا۔  دونوں پریشانوں نے تب شانزے اور انعامی بورڈ، دونوں پر پہلی مکمل نگاہ ڈالی۔ اُس دم جوانی، دیوانی، مستانی، نادانی سب نے مل کر نعرہ لگایا، ہرچہ بادا باد، جو کچھ ہوا وہ ہوا، جو کچھ ہوگا دیکھا جائے گا۔

بیسویں صدی کے مشہور ترین مصور کا نام بتائیں جن کی  1973 میں فرانس میں وفات ہوئی۔

پابلو پکاسو

نمبر ؟

تین نمبر۔

فلپ کا جوسر آپ کا ہوا۔

اچھا ہے، کمرے میں بیٹھ کر گاجروں کا جوس بنا کر پیا کریں گے۔

نمبر؟

چار نمبر۔

ملت فین کا پیغام، پنکھا چلے سالہا سال۔ ملت کا پیڈسٹل فین آپ کے ساتھ جائے گا۔

اوہ، میرے خدا، اس پنکھے کو کون اٹھا کر لے کر جائے گا۔ افسر میس میں تو ویسے بھی رکشہ گھسنے کی اجازت نہیں، اس پنکھے کا کیا کریں۔

نمبر؟

سات نمبر

یہ بڑی پینٹنگ آپ کی ہوئی۔

بہت خوب، پکاسو کے سوال کے جواب میں نکلتی تو خوب مناسبت ہوتی۔

آخر میں چھ انعامات اپنے نام کر کے نادان سٹیج سے اترے۔ ریکارڈنگ ختم ہوئی تو انعامات اٹھائے دونوں مسافر مال روڈ پر الحمرا کےبیرونی گیٹ پر تھے۔ اس پنکھے کا کیا کریں؟ ایسے میں گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے میمن بھائی نے پوچھا،” میاں، آپ کا کہاں سے تعلق ہے؟”۔

“جی میں تاں دھریمے سرگودھا دا آں”

اس پر دوسرا ساتھی جس نے ابھی پیڈسٹل فین کندھے سے اتار کر گیٹ کے ساتھ ہی رکھا تھا، خوش ہو کر بولا۔

” او، فیر تاں توں گرائیں ہویاں، اے پکھا پھد، اے تیرا ہویا”

چوکیدارحیران پریشان تھا، جبکہ نادان پنکھے کے بوجھ سے آزادی کے بعد خوش تھے۔ دونوں نے باقی پانچ میں سے دو دو چیزیں آپس میں بانٹیں اور بڑی پینٹنگ کو اپنے کورس کی جانب سے ائیرڈیفنس سکول کو بطور تحفہ دے دیا۔

اگر آپ کبھی ایر ڈیفنس سکول جائیں تو ریڈار، جہازوں اور فوجی اسلحے کی تصویروں سے الگ ایک قدرتی منظر کی پینٹنگ کو بھی دیکھ پائیں گے۔ یہ دو نادانوں کی جانب سے تحفے میں دی گئی تھی۔ وہ نادان جن کا قصہ کبھی کبھی دھریمے واپس آیا ریٹائرڈ چوکیدار صدیق لالی اپنے قصوں کی پوٹلی سے نکال کر دوسروں کو سناتا ہے۔

یہ زندگی بھی عجب اتفاقات سے پُر ہے۔

عاطف ملک
عاطف ملک
عاطف ملک نے ایروناٹیکل انجینرنگ {اویانیکس} میں بیچلرز کرنے کے بعد کمپیوٹر انجینرنگ میں ماسڑز اور پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ یونیورسٹی آف ویسٹرن آسٹریلیا کے شعبہ کمپیوٹر سائنس میں پڑھاتے ہیں۔ پڑھانے، ادب، کھیل ، موسیقی اور فلاحی کاموں میں دلچسپی ہے، اور آس پاس بکھری کہانیوں کو تحیر کی آنکھ سے دیکھتے اور پھر لکھتےہیں۔ یہ تحاریر ان کے ذاتی بلاگ پر بھی پڑھی جاسکتی ہیں www.aatifmalikk.blogspot.com

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *