مختار پارس کی تحاریر
Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

تلاش ۔۔ مختار پارس

ایک عرصے سے میں خود کو ڈھونڈتا ہوں اور کہیں بھی سراغ نہیں۔ پہلے سمجھا کہ میں اپنے اندر ہوں مگر میں غلط تھا۔ میں نے بہت آوازیں دیں مگر کوئی نہیں بولا؛ میں وہاں ہوتا تو جواب ضرور دیتا۔←  مزید پڑھیے

اماوس۔۔مختار پارس

دیدہِ تر میں پورے چاند کو لرزتا کس نے دیکھا ہے؟ اس سے زیادہ اداس کردینے والی کیفیت کیا ہو گی کہ انسان کو خود سے شرم آنے لگ جاۓ۔ انسان شرمندہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ خود کو←  مزید پڑھیے

رجس ۔۔ مختار پارس

کیا کبھی کسی کو نواۓ مرغِ سحری پر کان دھر کر ماں کی یاد آئی ہے؟ عالمِ طفلی میں مکتب کی طرف روانہ کرنے کےلیے بستر سے بیدار کرنے کی کوشش میں ماں کے سر پر پھیرے گئے  ہاتھ کہاں←  مزید پڑھیے

ریگ ۔۔ مختار پارس

نور پیر والا وقت تھا اور میں صحرا کے بیچوں بیچ ۔ میں نے اوپرآسمانوں میں دیکھ کر ہاتھ اٹھاۓ تو دل کی دنیا ہی بدل گئی۔ مشرق کا دروازہ کھول کر رب نے ریت پر سونا یوں پھینک دیا←  مزید پڑھیے

جواز۔۔مختار پارس

آسمانوں کو چومنے کا کیا جواز ہو سکتا ہے ! کیا بوسے ثبت کرنے کےلیے رخسارِ دل کافی نہیں؟ خاک نشیں اس عرشِ بریں کے بارے میں اتنے غلطاں کیوں رہتے ہیں جہاں پر قیام ممکن ہی نہیں تھا۔ غلطیاں←  مزید پڑھیے

انتہا ۔۔ مختار پارس

انتہا جدا کر دیتی ہےاورجدائی ناخدا بنا دیتی ہے۔ ناخدائی خدا کے قریب لے جاتی ہے اور خدائی بندگی کا قرب عطا کر دیتی ہے۔ گر بندگانِ عجز و کسل نہ ہوں تو تخت ہاۓ سماوات و ارض کی شہ←  مزید پڑھیے

امردان ۔۔ مختار پارس

میں اپنی آنکھیں تیرے ہاتھوں پر رکھ آیا ہوں۔ اب ان آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پڑھ لو کہ ان میں کیا لکھا ہے۔ نظریں چار کرنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ تم کیا پڑھنا چاہتے ہو۔ کسی←  مزید پڑھیے

شکیب ۔۔ مختار پارس

صبر رشتے جوڑ سکتا ہے۔ بے صبرا انسانوں کی بستی میں نہیں رہ سکتا، اسے تو خدا نے باغِ بہشت میں نہیں رہنے دیا تھا۔ صبر جواب  آں غزل ہے جو آسمان سے تیر و نشتر نچھاور کرتے ہوۓ سیدھا←  مزید پڑھیے

تجدید ۔۔مختار پارس

امکانِ تجدیدِ وفا کی کوئی صورت نکالی جاۓ، مالک سے یوں بے رخی تو حیوان بھی نہیں کرتے۔ یہ طبیعت کی نارسائی ہے یا اذہان کی ابتلا کہ انسان کسی کرم، کسی مہربانی کو خاطرِ پریشاں میں جگہ ہی نہیں←  مزید پڑھیے

قطمیر۔۔ مختار پارس

کچھ نہ کچھ تو ہونا تھا۔تخلیق اپنی وجہ اور وجود سے منکر ہو گئی۔ ارض و سما استعارے اور اشارے بن کر رہ گئے ۔ پہاڑوں کو سر کرنے کی روایت ٹوٹ گئی۔ شہرِذات کی فصیلیں اب تعمیرہونے لگیں۔ نیتیں←  مزید پڑھیے

ابدان ۔۔ مختار پارس

جسم کی حیثیت اس وقت تک ہے جب تک زندہ ہے اور کامل ہے۔ اگر کوئی حصہ جسم سے الگ ہو جاۓ تو پھینکنا پڑتا ہے اور اگر جان جسم سے نکل جاۓ تو دفنانے کی جلدی کرنا پڑتی ہے۔←  مزید پڑھیے

چُوک۔۔مختار پارس

گھر کے لان میں مٹی کے برتن میں باجرہ اور دانے رکھے تھے اور ہر طرح کے پرندے طرح طرح کی بولیاں بولتے ہوۓ برتن کے گرد جمع تھے۔ مجھے میری رعونت نے اکسایا کہ میں فخر کروں کہ پرندے←  مزید پڑھیے

نقصان۔۔مختار پارس

بڑا نقصان ہو گیا۔ خدا نے وقت کی قسم کھا کر احساس دلایا مگر ہم سیلِ رواں کو روک نہ سکے۔ آبِ رواں پر سوار ملاحوں کا بہتے پانیوں پر اختیار نہیں۔ زمانے کی رفتار کو روکنا تو ممکن نہیں←  مزید پڑھیے

کہانی۔۔ مختار پارس

جب سب کچھ ہو جاتا ہے، تب کہانی شروع ہوتی ہے۔ داستان کسی کی سمجھ میں آ جاۓ تو وہ خود کہانی کا کردار بن جاتا ہے۔ جن لوگوں میں یہ دم خم نہیں ہوتا کہ وہ کہانی کو آگے←  مزید پڑھیے

عداوت۔۔ مختار پارس

دشمن نظر نہ آۓ تو لڑنے کا فائدہ نہیں۔ ہوا میں مکے چلانے سے کوئی زیر نہیں ہو سکتا۔ ہم میں سے اکثر کو ہمارا دشمن نظر نہیں آتا کیونکہ ہم دشمن کو دوسروں میں ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ دشمن کی←  مزید پڑھیے

تحقیر ۔۔ مختار پارس

انسان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ کسی دوسرے انسان کو تحقیر سے دیکھے۔ مگر یہ تدبیر کام نہیں آتی اور ہر بار تحقیر ہو جاتی ہے۔ ہم انسان ہر اس شخص کو حقیر جانتا  ہے، جو زیرِدست رہتا←  مزید پڑھیے

موقع۔۔مختار پارس

پھر شاید یہ موقع نہ مل سکے۔ مل گیا ہے تو اسے دل کی دھڑکنوں میں پرو کر چشمِ نم پر بکھر جانے دو۔ لفظ زبان سے نکلتے ہیں تو انہیں اُڑنے دوکہ یہ غنیمت ہے۔ ساعتوں میں ثبات نہیں←  مزید پڑھیے

وقعت۔۔ مختار پارس

کیا مانگوں؟ کسی چیز کی کوئی وقعت ہی نہیں رہی۔ ایک طرف قادرِ مطلق کی عطاؤں کا لامحیط سلسلہء رضا و صلا اور دوسری طرف حیاتِ شیریں میں خوابیدہ ہستی کےلیے امکانِ سزا و قضا۔ انسان جو مانگتا ہے وہ←  مزید پڑھیے

عشق ۔۔ مختار پارس

مجھے بس تم سے محبت ہے اور نہ جانے کب سے ہے۔ تیری لامکانی سے میرا کوئی تعلق ہے اور بے وجہ نہیں ہے۔ تیرے زمان مجھے مجبور رکھتے ہیں اور مجھے تم سے دور رکھتے ہیں۔ مگر فاصلوں کا←  مزید پڑھیے

یقین ۔۔مختار پارس

مذہب تو محبت، زہد، ہدایت اور بنیاد کا مخفف ہے۔ مذہب کا فلسفہ نہ سمجھنے والا بت پرست بن جاتا ہے۔ بت پرست کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ خدا سے زیادہ خود کو دیکھتا ہے۔ وہ←  مزید پڑھیے