مختار پارس کی تحاریر
Avatar
مختار پارس
مقرر، محقق اور مصنف، مختار پارس کا تعلق صوفیاء کی سر زمین ملتان سے ھے۔ ایک عرصہ تک انگریزی ادب کے استاد رھے۔ چند سال پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک کرنٹ افیئرز کے پروگرام کی میزبانی بھی کی ۔ اردو ادب میں انشائیہ نگار کی حیثیت سے متعارف ھوئے ۔ان کی دو کتابیں 'مختار نامہ' اور 'زمین زاد کی واپسی' شائع ہو چکی ھیں۔ ادب میں ان کو ڈاکٹر وزیر آغا، مختار مسعود اور اشفاق احمد جیسی شخصیات سے سیکھنے کا موقع ملا۔ ٹوئٹر پر ان سے ملاقات MukhtarParas@ پر ھو سکتی ھے۔

نگاہ۔۔مختار پارس

نہ خواب میرے،نہ حقیقتیں۔۔ مگر دونوں کا دیکھنا فرض ۔ خواب نہ دیکھیں تو سراب تک دکھائی نہیں دیتا اورحقیقت سے آنکھیں چرائیں تو وقت کا سیلاب رہنے نہیں دیتا ۔ نہ سوال کی کوئی حیثیت ہے اور نہ جواب←  مزید پڑھیے

دُعا۔۔ مختار پارس

کبھی کبھی جب رب کے سامنے ہاتھ دراز ہوتے ہیں تو دل کے رخسار شرم سے لال ہو جاتے ہیں۔ پھیلے ہوۓ ہاتھ یہ سوچ کر لرز سے جاتے ہیں کہ رب نے اتنا تو دے دیا، اب اور کیا←  مزید پڑھیے

تعلق ۔۔۔مختار پارس

رشتوں کی بھی عمر ہوتی ہے۔ تعلق کی بھی موت ہوجاتی ہے۔ حسد، بغض، عناد، منافقت کا مرض رشتوں کو مار دیتا ہے۔ ضرب پڑتی ہے تو کچا پیالہ ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔ دامن صاف بھی ہو←  مزید پڑھیے

معصیت ۔۔مختار پارس

ساری خلقِ خدا کیسے گناہگار ہو سکتی ہے۔ تخلیق کا مقصد عاصیوں کا زمین کے طول وعرض پر انتشار تو ہرگز نہیں تھا۔ کیا کوئی ہو گا ایسا  صاحبِ  کمال حق و یقیں،جس کے عارض ِ دل پر معصیت کی←  مزید پڑھیے

توقع ۔۔مختار پارس

ہر روز ایک نئے  محاذ کا سامنا ہوتا ہے،کسی کی توقع پر پورا اترنے سے بڑا کوئی محاذ نہیں۔ خدا کی توقع پر پورا نہ اترے تو خلاصی ہو جائے  گی۔ کوئی انسانوں کی نظر سے گر پڑے تو سزا←  مزید پڑھیے

نہیں۔۔۔مختار پارس

کائنات میں جس قدر بھی اثبات ہے وہ سب “نہیں ” کا منطقی نتیجہ ہے۔ایک وقت تھا جب کچھ بھی نہیں تھا۔پھر اس نہ ہونے نے ہونے کا ارادہ کیا اور ہوگیا۔ مکافاتِ عمل میں اکثر چیزیں سجھائی نہیں دیتیں،عجب←  مزید پڑھیے

شکر۔۔۔مختار پارس

حالات اچھے نہیں ہیں، اس پر شکر کرنے کی ضرورت ہے۔ شکر کرنے کی ریت ڈالیں گے تو حالات اچھے ہوں گے۔ ایسا نہیں ہے کہ انسان کی پانچوں گھی میں ہوں تو اس کا شکر ادا کرنا بنتا ہے۔شکر←  مزید پڑھیے

کوئی بات نہیں۔۔مختار پارس

آ ج کل جو کچھ ارد گرد ہو رہا ہے، اس پر چاچا صدیق بات بات پر یاد آتا ہے۔ چاچا صدیق ہمارا خانساماں ہے اور اسکا تکیہ کلام ہے، ‘کوئی بات نہیں۔ ہم کہتے ہیں چاچا آج کھانے میں←  مزید پڑھیے

ناتمام۔۔۔مختار پارس

آنکھ کھلی تو میں زندہ تھا۔ مر گیا ہوتا تو مداوا کیسے ہوتا۔ اپنے خوابوں کو جھوٹا ثابت کرنے کا ایک اور موقع مل گیا۔ خواہشیں اتنی شدید ہیں کہ سانس بند ہوتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ روز اسی بوجھ←  مزید پڑھیے

خوف۔۔مختار پارس

خوف یقین کا متضاد ہے۔ خوف اگر دل میں ہو تو مردانگی بھی معدوم ہو جائے۔ نظر میں ہو تو نظروں سے گرادے اور اگر ذہن کے دریچوں میں ہو تو انسان کو خاک کر دے۔نظام یہ ہے کہ دلیروں←  مزید پڑھیے

فاش۔۔۔۔مختار پارس

آپ لوگ بلا وجہ مجھ ناچیز سے خفا ہو رہے ہیں۔ میں نے تو کسی کا نام بھی نہیں لیا اور نہ کسی ملک، نہ کسی شہر کا ذکر کیا ہے۔ میں نے تو فقط یہ کہا ہےکہ ہم سب←  مزید پڑھیے

تلاش۔۔مختار پارس

یہ صحیح ہے کہ وقت بھاگا چلا جارہا ہے،مگر ہم وقت سے زیادہ بھاگنے کی کیفیت میں ہیں،جانا تو سب کو ایک ہی جگہ ہے،پھر ایک دوسرے سے آگے نکل جانے کی کوشش چہ معنی دارد؟۔۔ اندازہ ہے  کہ کچھ←  مزید پڑھیے

شعور۔۔۔۔مختار پارس

میں کون ہوں اور کیا چاہتا ہوں۔سوال اہم ہے،جواب نہیں۔۔۔ سوچ کے دروازے پر دستک ضروری ہے۔دروازہ کھلنے کا انتظارکچھ معنی نہیں رکھتا،جس کو وسعتِ ادراک حاصل ہے،صرف وہی ہم راز اور بہی خواں بننے کا حقدار ہے،تڑپ خود بخود←  مزید پڑھیے

اب دھرنے کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔مختار پارس

اب آپ بتائیں کہ دھرنے کا کیا کرنا ہے ۔ دھرنے والوں نے تو دھر لیا ہے۔ اور جو دھر لیے گئے ہیں وہ ہکا بکا دیکھا کیے ہیں کہ بھئی یہ ہو کیا رہا ہے ۔مزے کی بات یہ←  مزید پڑھیے