میرے مسیحا کے نام۔۔سیدہ ہما شیرازی

میرے اس دنیا پر نمودار ہونے پر جو پہلی غذا میرے منہ کے ذریعے جسم کا حصہ بنی جسے ہمارے ہاں “گُھٹی” کہا جاتا ہے ہمارے پنجابی سماج میں اس کو خاص اہمیت دی جاتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ بچے کی شخصیت میں کلیدی کردارگُھٹی ادا کرتی ہے ،بچے کے بڑے ہونے اور شخصیت کے نکھرنے تک جو اچھائی ہوتی ہے وہ گھٹی کی وجہ سے برائی ،بچے یا بچی کے سر ہوتی ہے۔

ہمارے ہاں بھی گھٹی والے عمل کو خاص اہمیت حاصل ہے، شعوری طور پر جب اس بات کو سمجھنے کے قابل ہوئی تو معلوم ہوا کہ مجھے گھٹی مرے والد صاحب نے دی۔ حیرانی کے پہاڑ اُس وقت ٹوٹے جب یہ معلوم ہوا کہ بیٹیوں میں اس اکلوتے اعزاز کی وارث بھی میں ہی ہوں۔

اس دن سے ابو کے معمولات زندگی کو غور سے دیکھنا شروع کر دیا تاکہ جان سکوں کہ میرے اندر گھٹی نے کس قدر اپنا اثر دکھایا ہے۔ آج تک جو سب سے زیادہ اثر محسوس ہوا وہ امی سے محبت کا ہے ایک تو ماں کے ساتھ فطری محبت کا جذبہ اور پھر سونے پر سہاگہ گھٹی کی وجہ سے اس محبت نے مزید شدت اختیار کرلی اور آج تک ہر چیز سے بے نیاز اس محبت کی مزے میں سرشار ہوں۔

ابو کی شخصیت عمر کے ہر حصے کے ساتھ ساتھ بدلتی رہی جوانی میں دوست احباب اور سادات کی پہچان ملنگ ان کے آگے پیچھے دکھائی دیتے، کبھی کبھی وہ ہم سے زیادہ ان کی ملکیت معلوم ہوتے ۔پیشے کے اعتبار سے استاد ہونے کی وجہ سے ان کی شخصیت منظم اور مزید پُرکشش دکھائی دیتی ،انہوں نے ہمیں بھرپور اعتماد سے زندگی گزارنے کا فن بخشا۔ اپنے تجربات اور مشاہدات کو ہمارے سامنے یوں بیان کرتے ہیں جیسے کوئی معلم اپنے بچوں کو مستقبل کے لئے تیار کر رہا ہو۔ ہمیں زندگی کی دیگر باتوں کی طرح اخلاقی اور مذہبی حوالے سے بھی مضبوط تربیت سے نوازا۔

انہوں نے ہمیں گریے کی تہذیب سے آشنا کیا ان کی آنکھیں ہمیشہ نم رہتیں،اس بات کی وجہ آج تک نہ جان پائی، شاید اس گداز دل کے مالک کی شخصیت ایسی خصوصیات کی حامل ہوتی ہے اُن کا نام ہی طاہر نہیں بلکہ طاہر ہونے کا عملی نمونہ بھی ہے ،میری تحریر کے پہلے قاری اور نقاد میرے والد صاحب ہوتے ہیں جس لکھاری کو ایسا قاری اور نقاد میسر آئے تو لکھاری کے پاؤں زمین کو کیسے چھو سکتے ہیں۔

میں خوش قسمت بیٹی ہوں، خوش قسمت باپ کی، جس نے مجھے دنیا میں جینے اور اس زندگی سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ بخشا۔ میں آج بھی جب زندگی کے معاملات سے تھک جاتی ہوں تو ابو کا چہرہ تصور میں لاتی ہوں اور اگر خوش قسمتی سے پاس ہو ،تو اس چہرے کی زیارت کر لیتی ہوں، تو مجھے دنیا کا ہر چیلنج بہت چھوٹا نظر آنے لگتا ہے، میں نے آج تک ابو کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات نہیں کی شاید اس کی ہمت ہی نہیں، مجھ میں یہ وہ احترام ہے کہ جو آئے روز بڑھتا جا رہا ہے، موبائل پر جب ابو کی کال آتی ہے تو جس محبت سے موبائل روشن ہو کے مجھے خبر دیتا ہے کہ “مائی لائف لائن” تمہیں مزید مضبوط کرنے کے لیے تشریف لاچکے ہیں ،تو میں ایک لمحے کا انتظار کیے بغیر فون اٹھا کر بسم اللہ جی ابو جان کے الفاظ ادا کر کے شروع ہو جاتی ہوں، اور پھر یہ باتیں کہاں سے کہاں ہوتی ہوئی اس وقت ختم ہوتی ہیں ، جب گھنٹہ مکمل ہو جاتا ہے اور آج تک کی زندگی میں یہی گھنٹے میرا حقیقی سرمایہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *