گلزار کی ننھی منی نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) انیس سو ساٹھ ستر کے عرصے میں فرانس میں “پتیت پوئمز” کی ایک تحریک شروع ہوئی، جس میں زیادہ سے زیادہ دس سطروں پر مشتمل ایسی نظمیں پیش کی گئیں، جو نرم رو تھیں، صرف ایک استعارے کی مدد سے استوار کی گئی تھیں اور ایک ربن، ایک ریشہ یا ایک انابیب شعری سے اپنی بیخ و بُن میں گہرے معانی رکھتی تھیں۔ میں جب پرٹش اوپن یونیورسٹی ، ملٹن کینز (انگلینڈ) سے تین ماہ کے لیے سارباہن یونیورسٹی ، پیرس (فرانس) گیا تھا تو اس وقت تک یہ تحریک اپنے زوروں پر تھی۔ مجھے علم نہیں لیکن اب بھی شاید اکا دکا ایسی نظمیں فرانسیسی زبان میں لکھی جا رہی ہوں۔

(دو) گلزار نے کچھ برس پہلے اس قماش کی اردو نظموں کا ایک مجموعہ “پلوٹو” کے زیرعنوان پیش کیا۔ یہ کتاب انہوں نے مجھے بھیجی لیکن کہیں دیگر کتابوں کے انبار کے نیچے دب گئی۔ اب یہ میرے سامنے آئی ہے تو میں نے سوچا کہ اگر گلزار کا نہیں تو اس کتاب کے قرض کی ادائی تو کروں۔

(تین)۔ پلوٹو جسے اب ان سیارگاں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا ہے جو ہمارے سورج کے گرد چکر کاٹتے ہیں، دیگر سبھی سیارگاں سےالگ سورج سے نپت دورفاصلے پر ہے، اس کا فاصلہ سورج سے 367 کروڑ میل ماپا گیا ہے،( جب کہ زمیں سورج سے صرف 9 کروڑ میل کی دوری پر ہے۔) پلوٹو سورج کے گرد 248 برسوں میں ایک چکر کاٹتا ہے، یعنی اس کا ایک برس زمیں کے برس سے 248 گنا بڑا ہے ۔ اس کو سائنسدانوں نے سیارگان کی فہرست سے نکال باہر کیا ہے اور صرف ایک پتھر دھات وغیرہ کا خلا میں لڑھکتا ہو تودہ تسلیم کر کے ایک نئی بحث کی بنیاد ڈال دی ہے ۔۔۔ گلزار نے ، (خدا جانے یا وہ خود جانیں) کیوں اس کو ایک نا انصافی سمجھا۔ اس فارمولے کا گلزار نے اپنی زندگی اور اس کی نمایاں کار گذاری یعنی اپنی نظم کی ہیت، قالب یا صوریات پر جب اطلاق کیا تو یہ نظمیں معرض ِ وجود میں آئیں۔۔

(چار) پلوٹو کے سلسلے میں ایک بات جو غور طلب ہے (اور جو شاید گلزار کے ذہن میں نہں آئی)، وہ اس نام کی ایک اور جہت سے متعلق ہے۔ پلوٹو یونانی اساطیر میں پاتال یعنی دوزخ کا پاسبان دیوتا ہے (ایسے ہی جیسے جنت کا رضوان ہے ) اور قصر مرگ کا داروغہ تسلیم کیا جاتا ہے

(پانچ) مجھے علم نہیں ہے کہ گلزار کے ذہن میں فرانس کی “پیتیت پوئٹری ” کی نرم و نازک، گول مٹول بچوں جیسی سڈول نظموں کا ایشاع تھا جب انہوں نے یہ نظمیں لکھیں،یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن میں ان نظموں کو ان کے تناسب، موزونی ء صورت، خوش ترکیبی، تفر ع اور شعوب کے نکتہ ء نظر سے اسی قماش کی نظمیں تسلیم کرتا ہوں۔ شاعر پیرس میں ہو یا ممبئی میں ۔۔۔۔ شاعر تو شاعر ہے۔

(چھ) گلزار کی کتاب میں کُل ملا کر 143 صفحات پر اتنی ہی تعداد میں نظمیں ہیں۔ جیسے کہ پہلے لکھا جا چکا ہے، کسی نظم میں سطور کی تعداد دس سے زیادہ نہیں ہے۔ کچھ دیگر لازمی یا اختیاری امور میں یہ بھی شامل ہے کہ ہر نظم کا عنوان اس کی پہلی سطر ہے یا اس سطر کا ایک تراشا ہے۔ گویا شاعر یہ عندیہ دے رہا ہے کہ اس کی نظم کا مُنتہا سطر ِ اولیٰ میں ہے ۔۔۔ لیکن یہ بات صحیح نہیں ہے۔ ایک مختصر تعداد میں نظموں کے برعکس ، بچھو کے ڈنک کی طرح، جو اس کی دُم میں ہوتا ہے، ان نظموں کا ڈنک بھی آخری سطر میں ہے۔ اسے آپ کلائمیکس کہہ لیں یا کوئی اور تکنیکی لفظ اس کے لیے مناسب سمجھ لیں، بات تو ایک ہی ہے۔۔

(سات) انسانی زندگی کے برعکس گلزار کی نظم کسی غبارے سے ہوا کے دھیرے دھیرے نکلنے اور پھُس کر کے ختم ہو جانے کے آخری لمحے کا سیناریو پیش نہیں کرتی، ایک دھڑاکے سے غبارے کے پھٹ جانے کا منظر نامہ پیش کرتی ہے۔ ۔۔۔ فرانس کی (پتیت ) نظموں میں بھی موپساں کی کہانیوں کی طرح یہی خوبی تھی !

اب کچھ نظمیں دیکھیں۔

(ایک)

اس بار تو جسم نے ۔۔۔۔۔

اس بار تو جسم نے دھوکا دیا

ہم ساتھ ساتھ ہی تھے اُس دن بھی

جب اونچے پہاڑ پہ چڑھتے ہوئے

آگھیرا تھا ہم کو بادلوں نے

کالے نقاب پہن کر آئے تھے وہ

وہ آبشار کو تھام کے نیچے اتر گیا

اور مجھ کو خلا میں ٹانگ گیا !

بھنور سی گھومتی ہے ۔۔۔۔۔۔

بھنور سی گھومتی ہے یہ زمیں، روکو

اُتر کے  پوچھ لُوں آخر

مجھے جانا کہاں تک ہے؟

اسی ستیشن پہ لے آتی ہے ہر سال مجھ کو،

اور رُکتی بھی نہیں ہے

جہاں پہ جنم کی تاریخ لکھی ہے!

بھنور کے دائرے گر پھیل رہے ہیں، تو پھر

ساحل کہاں ہو گاَ

سِمٹتا جا رہا ہے دائرہ، تو عمر کا مرکز کہاں پر ہے؟

3۔وہ زندہ تھی ۔۔۔۔

وہ زندہ تھی، میں جب سویا ہوا تھا

وہ میرے جاگتے ہی مر گئی ہے

یہی خصلت ہے خوابوں کی!

وہ کتنی بار آئے گی

میں کتنی بار ماروں گا !!

4۔بیچ آسمان میں تھا ۔۔۔۔

بیچ آسمان میں تھا

بات کرتے کرتے ہی

چاند اس طرح بُجھا

جیسے پھونک سے دیا

دیکھو تم ۔۔۔۔

اتنی لمبی سانس مت لیا کرو !

5-کبھی کبھی ۔۔۔۔۔

کبھی کبھی یوں بھی ہوتا ہے اونچے پہاڑوں پر

چاند نکل کر دیکھتا ہے اب کتنی برف گری ہے

موسم ٹھیک لگے تو ایک ایک کر کے تاروں کو بُلواتا ہے

کچھ اُون پہن کر آتے ہیں، کچھ کانپتے کانپتے ،

اُس کی آنکھ سے اوجھل ہو کر چھپ بھی جاتے ہیں !

آدھی رات ہوتے ہوتے جب آسمان بھر جاتا ہے

“ہُش ہُش” کی آوازیں آنے لگتی ہیں

اور گڈریا ہانک کے لے جاتا ہے اپنے تاروں کو !

6۔کتنی دیر یہ کورا کاغذ ۔۔۔۔

کتنی دیر یہ کورا کاغذ

اک خاموش کہانی لے کر چہرے پر

بیٹھا رہے اور تکتا رہے

کان پر رکھ کے سُنو تو شاید بولے کچھ

ہونٹوں پر رکھو تو شاید بوسے کی آواز آئے!

7۔پانی کی عادت ہے بہنا ۔۔۔

پانی کی عادت ہے بہنا، بہتے رہنا

پَیر نہیں ٹکتے دریا کے !

دوڑ دوڑ کے چٹانوں سے

جھرنے کُودتے رہتے ہیں

آبشار پہاڑ پکڑ کے نیچے اُترتا ہے

تھک جاتے ہیں  دوڑتے بھاگتے بہتا پانی

جھیل میں جا کر نیند آتی ہے پانی کو!

8۔یہ سب جو سَیر ۔۔۔۔۔

یہ سب جو سیر کو صبح نکلتے ہیں

یہ سب فٹ بال لگتے ہیں

بڑے، چھوٹے، پچکتے ، پھولتے، سلتے، ادھڑتے

اچھلتے اور لڑھکتے بال سارے

اکیلے کھیلتی ہے زندگی ان سے

بھگاتی ہے، گراتی ہے، اُٹھا کے کورنر سے کک لگاتی ہے

کہ جو بھی گول میں جائے، وہ پھر واپس نہیں آتا !

9۔تنہائی تاریک کنواں ہے ۔۔۔۔۔

تنہائی تاریک کنواں ہے

تیرا خیال جو بولے کہیں سے

آسمان روشن ہو جائے !

خاموشی کے دلدل میں

کب سے میرے پاؤں پھنسے ہیں !!

10۔میں لفظوں کے اندر ۔۔۔۔

گرہوں پہ گرہیں باندھ کر

نظم کا ایک پلتہ بنا کر

کٹی نبض سے بہتا خون روکنے کی سعی کر رہا تھا !

یہ الفاظ ہتھیار کی دھار تہ کُند کر سکتے ہیں، پر

یہ بہتے ہوئے ایک مظلوم کے خون کو روک سکتے نہیں !!

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *