میرے روحانی باپ میرے استاد جی۔۔عامر عثمان عادل

کل دنیا بھر میں فادرز  ڈے منایا گیا۔۔

سوچا کیوں نہ آج اس دن کو اپنے بہت پیارے استاد کے نام کر دوں کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے۔
یہ اسی کی دہائی  کی بات ہے مجھے پڑھائی کے لئے اپنے ننھیال لالہ موسی چھوڑا گیا تھا جہاں ہم ایک پرائیویٹ انگلش میڈیم سکول میں زیر تعلیم تھے ۔ ایک دن والد گرامی ملنے چلے آئے تو جانے کیا سوجھی ہمارا ٹیسٹ لینے لگے ۔ بس پھر ہماری شامت آ گئی ۔ لکھائی  دیکھ کر تو بابا کا پارہ آسمان کو چھونے لگا ،کہنے لگے تمہارا بیڑا غرق ہو چکا ہے اٹھاؤ اپنا بوریا بستر اور ابھی میرے ساتھ واپس چلو،لو جی یوں ہم شہر سے پنڈ لوٹ آئے۔

کچھ مہینے والد گرامی نے گھر پہ ہی ہماری ٹیوننگ جاری رکھی جس میں تختی ، سلیٹ پہاڑے کی مشق کے ساتھ ساتھ دن میں تین بار تسلی بخش پھینٹی بھی شامل تھی۔
کچھ مہینوں بعد ہمیں ماسٹر جمیل صاحب کے حوالے کر دیا گیا جو اس وقت گورنمنٹ پرائمری  سکول حسن پٹھان میں معلم تھے تاکید یہ کی گئی کہ اسکو ” بندے دا پتر ” بنانا ہے۔
اگلے دن جو کہ ہمارا اس سکول کا پہلا دن تھا، ہم تیار ہو کر ماسٹر صاحب کے گھر پہنچے، جہاں سے انہوں نے اپنے سائیکل پہ بٹھایا اور مدرسے لے گئے
بس پھر ہم تھے ماسٹر جی اور ہمارے لاڈ۔۔۔

کبھی ہمیں قلم تراش کر دے رہے ہیں تو کبھی پاس بٹھا کر ریاضی کی مشکل گتھیاں سلجھا رہے ہیں۔
وظیفے کے امتحان کی تیاری بطور خاص استاد جی نے جس قدر لگن ، محبت اور شفقت سے اپنے نکمے شاگرد کو کروائی  وہ یاد کر کے آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔
املاء کی مشق کرانے کی خاطر ایک موٹی سی کتاب کہیں سے لا دی ،اسی پہ اکتفا نہ کیا ،قومی اخبار سامنے رکھ کر مجھے املاء لکھوائی  جاتی۔اولوالعزم ، نشاہ ثانیہ ، قسطنطیہ ، غیر متزلزل قرون وسطی
اس جیسے کتنے مشکل الفاظ تھے جو استاد جی کی محبت سے ازبر ہو گئے۔

جب وظیفے کے امتحان کی تاریخ کا اعلان ہوا تو استاد مکرم نے مجھے اپنے گھر بلایا، بطور خاص اپنا ایک قیمتی نایاب قلم میرے حوالے کر دیا ۔ کہنے لگے اس کی نب خاصی گھس چکی ہے اردو کمال کی لکھی جاتی ہے اس سے ،یہ رکھ لو اور پرچے اسی سے دینا یہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں اپنے شاگرد سے محبت کے جانے کتنے چراغ روشن تھے اور ادھر ہم جیسے خزانہ ہاتھ آ گیا ہو۔
وظیفے کا امتحان استاد کے بخشے ہوئے قلم سے دیا ،فیضان ِنظر تھا یا اس پین کی برکت، نتیجہ آیا تو استاد جی کی خوشی دیدنی تھی۔
نکمے شاگرد نے وظیفے کا امتحان امتیازی حیثیت میں پاس کر لیا تھا۔

استاد ایسے بھی ہوتے ہیں؟

ہاں آپ کہہ سکتے ہیں کہ استاد ایسے ہی ہوتے ہیں۔۔
سلوک ایسا جیسے دوست ہوں۔ ساون کی بھیگی رت میں وہ دن آج تک میرے دل دماغ پہ نقش ہے، سکول سے واپسی پہ کوٹلہ آتے ہوئے ایک چائے کا کھوکھا تھا جہاں ماسٹر جی کا کوئی  جاننے والا بیٹھا تھا ۔ مخصوص پنجابی کلچر کے عین مطابق اواز آئی،
اوئے ماسٹر جی آ جاؤ چاء پی لو۔۔۔
ماسٹر جی نے سائیکل کا رخ موڑا اور ہم وہاں پڑے بینچوں پہ بیٹھ گئے ڈھابے والا پکوڑے بھی بیچ رہا تھا لیکن وہ ٹھنڈے تھے
ماسٹر جی خود اٹھے پکوڑے اخبار پہ رکھے پلیٹ اوندھی کر کے انہیں اچھی طرح مسل دیا اور چائے والے سے کہا اب انہیں گرم کر دو
اس خاص ریسیپی سے پکوڑے حد درجہ لذیذ ہو گئے
بارش کا موسم ، گرما گرما چائے کے  گھونٹ کے ساتھ دیسی پکوڑے اور استاد جی کی محبت
یہ منظر میری زندگی کا حاصل ہے۔

اتنے سال میں مجال ہے جو ایک دن مجھے ڈانٹا ہو ، برا بھلا کہا ہو غصے کا اظہار کیا ہو،سراپا شفقت ، عجز وانکسار حلم و برد باری کے پیکر،ہر گھڑی مسکرانے والے ، دھیمے لہجے میں کلام کرتے ہوئے زندگی کی علامت تھے میرے استاد جی۔
علم والے ایسے ہی عالی ظرف ہوتے ہیں،کیسے کہوں کہ آج جو کچھ ہوں اس کی بنیاد میرے ماسٹر جی نے رکھی تھی۔ایک استاد صرف درسی کتابیں نہیں رٹواتا ، دو اور دو چار کا فارمولا ازبر نہیں کراتا
وہ تو ایک باپ ہوتا ہے جو انگلی پکڑ کر اپ کو جینا سکھاتا ہے۔
جیون کے راستے کی اونچ نیچ ، زمانے کے سرد وگرم ، زندگی کے سفر میں دھوپ چھاوں سب کچھ تو وہ آپ کو رول ماڈل بن کر سکھا دیتا ہے۔میرے استاد جی آج ہمارے بیچ موجود نہیں لیکن ان کا شفیق چہرہ آنکھوں کے سامنے روشن ہے۔ان کے شیریں لبوں سے نکلے میٹھے بول سماعتوں سے ٹکراتے ہیں تو زندگی مسکرا اٹھتی ہے۔

دعا ہے اللہ کریم استاد جی کو جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے،ان کے درجات بلند ہوں،ان کی مرقد پر انوار کی برکھا کا نزول ہو۔استاد جی آپ کا ایک نکما شاگرد آپ کو سلام پیش کرتا ہے!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *