• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • قیدیوں کی زندگی میں انقلاب لانے والے سپرٹینڈنٹ جیل گجرات۔۔۔عامر عثمان عادل

قیدیوں کی زندگی میں انقلاب لانے والے سپرٹینڈنٹ جیل گجرات۔۔۔عامر عثمان عادل

پاکستان کی جیلوں بارے ہمارا گمان یہی ہے کہ یہ جرائم کی فیکٹریاں ہیں
اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل جانا کسی بھی ملزم کی زندگی کا ٹرننگ پوائنٹ ثابت ہو سکتا ہے یا تو وہ سچے دل سے تائب ہو کر لوٹے گا یا پھر ایک پختہ کار مجرم بن کر۔۔اور ہوتا بھی یہی آیا  ہے،نو عمر ، ناتجربہ کار اور معمولی جرائم میں جیل یاترا کرنے والے اکثر افراد جیل سے رہائی پانے میں تو کامیاب ہوتے  ہیں مگر عمر بھر جرائم کی دلدل سے نکل نہیں پاتے۔

دوغلے پن کا شکار ہمارا معاشرہ ایک طرف اس رحجان کو پروان چڑھاتا ہے،”جیلاں مرداں واسطے ای بنیاں نیں”۔دوسری جانب ہم جرم سے بیزاری کی بجائے جرم کا ارتکاب کرنے والے سے نفرت کرنے لگتے ہیں۔

اسی طرح جیل سپرنٹنڈنٹ کا نام لیتے ہی چشم تصور میں پنجابی فلموں کے اس لمبے تڑنگے مونچھوں والے افسر کاہیبت ناک چہرہ ابھرتا  ہے جسے جیلر کہا جاتا  ہے،جس کی دہشت سے قیدی تھر تھر کانپتے ہیں ،اور وہ مشہور ڈائیلاگ”مار اوئے ڈپٹی” وجود میں آتا ہے۔

گزشتہ دنوں عزیز الرحمن مجاہد نے ڈسڑکٹ جیل گجرات کے سپرنٹنڈنٹ کی ترغیب پر قیدی بچوں اور خواتین کو عید گفٹ دینے کی تحریک شروع کی جس کے لئے ہم نے فنڈ ریزنگ کا آغاز کیا عید سے دو دن قبل پیغام ملا صاجب بہادر چاہتے ہیں آپ ایسے قیدیوں کو رہائی  دلا دیں جو جرمانے کی عدم ادائیگی کے باعث قید میں پڑے ہیں۔
خوشی ہوی کہ کوئی  افسر انسانیت کےمتعلق اس قدر حساس ہے۔

مضمون نگار:عامر عثمان عادل

دو دن قبل سپرنٹنڈنٹ جیل سے فون پر بات ہوئی  ،عرض کیا میں ایم پی اے شپ کے دوران انجمن بہبودی اسیراں کا صدر رہ چکا ہوں کہنے لگے تب اور اب میں بہت فرق ہے آپ کسی وقت تشریف لا کر دیکھیں ہم جیل میں کیا کر رہے ہیں۔

ملاقات ہوئی  تو تبدیلی کے آثار مرکزی گیٹ سے دکھائی  دینے لگے۔
سلیقہ، قرینہ، صفائی،دفتر پہنچے تو اس کی آرائش میں بھی ذوق کا عنصر نمایاں تھا ۔لاک ڈاؤن کے باعث اندرونی حصے تک رسائی ممکن نہ تھی لہذا بریفنگ کا آغاز ہوا۔
پتہ چلا کہ جیل مینوئل کے مطابق صبح سے رات تک کے تمام معمولات کو ایک منظم مربوط منصوبہ بندی میں پرو دیا گیا ہے جس کا باقاعدہ تحریری ریکارڈ موجود ہے۔گجرات کی یہ جیل اب یورپ کی کسی جیل کے ہم پلہ نہ بھی ہو مگر اس سے کم بھی نہیں۔

صفائی ، سکیورٹی، کھانے کا معیار ،طبی سہولیات ،کسی بھی وقت پرکھی جا سکتی ہیں۔ہم نے ایک بڑا کام کیا ہے، قیدیوں کی زندگی بدلنے کا۔۔اور اس پہ میں خود سے کچھ نہیں کہوں گا۔

بیل بجی چاک و چوبند  شخص  حاضر ہوا،اسے ہدایت ملی کہ جائیں آپ ماہرین نفسیات کو بلا کر لائیں۔چند لحظوں میں دو خواتین دفتر  میں موجود تھیں۔تعارف ہوا دو نوں کنسلٹنٹ سائیکالوجسٹ ہیں ۔جنہیں حکومت پنجاب نے جیل میں قید افراد کی سائیکو تھراپی کی خاطر باقاعدہ تعینات کررکھا ہے۔

ان کی زبانی پتہ چلا کہ جیل کے ہر حوالاتی و قیدی کا نفسیاتی معائنہ کیا جاتا ہے جس کی روشنی میں انفرادی طور پر ہر فرد کو علاج معالجہ ، کونسلنگ اور تھراپی مہیا کی جاتی ہے۔
دینی تعلیم کا مکمل انتظام موجود ہے۔نورانی قاعدہ سے لے کر ناظرہ قرآن اور حفظ قرآن کی کلاسز روزانہ کی بنیاد پر جاری ہیں۔اگر کوئی  قیدی ناظرہ قرآن مکمل کر لے تو اسے قید کی مدت میں رعایت مل جاتی ہے۔جو قیدی قرآن پاک حفظ کر لے اس کی قید ایک سال کی معاف کر دی جاتی ہے۔
چھ کلموں ، طریقہ نماز دعاؤں پر مشتمل باقاعدہ نصاب بنا کر اس پر عمل جاری ہے۔

ٹیوٹا TEVTA کے تعاون سے اسیران کے لئے پیشہ ورانہ کورسز کرائے جا رہے ہیں، تاکہ جیل سے رہائی  پانے والے افراد ہنر مند بن کر معاشرے کا حصہ بن سکیں۔قیدی خواتین کو بیوٹی پارلر ،کوکنگ ، ٹیلرنگ کے کورس کرائے جا رہے ہیں۔کورس کی تکمیل پر حکومت پنجاب کی جانب سے سرٹیفیکٹ جاری کیے جاتے ہیں۔ناخواندگان کے لئے تعلیم بالغاں کا بندوبست ہے۔قیدی میٹرک ،ایف اے ،بی اے ،ماسٹرز لیول تک کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جیل سے جتنے قیدیوں نے امتحان دیا ان کا رزلٹ سو فیصد رہا اور اس کی شفافیت کا اندازہ یوں کیجیے کہ یہ پیپرز ان کیمرہ ہوتے ہیں۔ایک قیدی نے جیل سے ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا،جیل میں قیدیوں کے ہاتھ سے بنی پینٹنگز، دستکاریاں قابل دید ہیں۔حیرت سے سنتے ہوئے لگا ،ناروے کی کسی عالیشان جیل کا احوال سن رہا ہوں۔ضلع قصور سے تعلق رکھنے والا یہ سپرنٹنڈنٹ جیل روایتی افسر نہیں جو نچلے رینک سے ترقیاب ہوتا اس عہدے پر فائز ہو گیا۔
سنیے،انگریزی لٹریچر میں ماسٹرز ، ایم اے ایجوکیشن میں گولڈ میڈلسٹ،مقابلے کے امتحان میں پنجاب بھر میں ٹاپ کیا اور ڈائریکٹ انسپکٹر بھرتی ہوا۔
دوبارہ براہ راست ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل کے لئے مقابلے کا امتحان ہوا،اس بار بھی یہ پنجاب بھر میں پہلے نمبر پہ تھا۔سیاسیات ، فلسفہ نفسیات تاریخ ادب جرم و سزا پر عبور رکھنے والا ،ایک وسیع االمطالعہ شخص جس کی ذاتی لائبریری ہزاروں کتابوں پر مشتمل ہے۔،دنیا بھر کی جیلوں کا مطالعاتی دورہ کرنے والا ، ترقی یافتہ ممالک سے اپنے شعبے کی ترویج و ترقی کے جدید کورسز پاس کر کے اس وقت وطن عزیز کو اپنے علم تجربے اور مشاہدے سے مستفید کرتا ہوا یہ افسر،جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند افراد کو ملزم و مجرم نہیں اپنی اولاد کی مانند عزیز رکھتا ہے،ہر وقت ان کے لئے فکر مند
سب سے زیادہ اس جدوجہد میں لگا رہتا ہے کہ قیدیوں کی کایا پلٹ جائے۔
رہائی ملنے پر آزاد فضاؤں میں سانس لیں تو ان کی زندگی میں انقلاب بپا ہو جائے۔

میرا آج کا ہیرو
غفور انجم سپرنٹنڈنٹ جیل گجرات
انسانیت کا ہمدرد
ایک رول ماڈل
سلام ہے ایسے افسران کو!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *