بدمعاش۔۔ڈاکٹر فاخرہ نورین

شریف آدمی سے بڑا بدمعاش کوئی نہیں اور میرا باپ بہت شریف آدمی ہونے کے ناتے بڑا بدمعاش شخص تھا۔ساٹھ سال کی عمر میں جس کے پاس کردار اور رزق حلال کی گارنٹی خدا کی قسم کھا کر موجود ہو، جو آپ کی آزادی رائے کا اس قدر قائل ہو کہ غلط رائے کا بھی احترام کرے، آپ پھڑپھڑاتے ہوئے جال سے نکلنے کو شدت سے پر ماریں اور وہ آپ کو بے مہار آزادی کے تمام فوائد اور نقصانات سے آگاہ کر کے اڑنے کی آزادی دے، وہ بڑا خطرناک بدمعاش ہوتا ہے اور میرا باپ وہی خطرناک بدمعاش تھا۔ ہر چیز کو احسن طریقے سے کرنے کا قائل، برائی تک میں احسن درجے کی ڈیمانڈ کرتا ہوا۔ جھوٹ اور دوغلے پن سے نفرت کرتا ہوا، آپ بے جھجک اپنے جرائم اور گناہ اسے بتا سکتے ، وہ جھوٹ نہیں سنتا، سچ کی کڑواہٹ نگلنے اور اسے اپنے اندر جذب کرنے کی پوری اہلیت رکھتا ہوا۔

مجھے پہلے پہل اس سے ڈر لگتا تھا، اسے غصہ بھی تو بہت آتا تھا۔گلی میں وہ داخل ہوتا اور ہم سب سسرے سسری کی طرح سو جاتے۔دھما چوکڑی مچاتے، لڑتے بھڑتے نو بچے، گھر میں ہُو کا عالم ہو جاتا۔ وہ ہم سب سے سکول کا سبق سننے کے لیے  ہمیں بٹھاتا، ہم سناتے، لیکن اس کا خوف اتنا تھا کہ ادھر باری آتی ادھر پاجامہ گیلا ہو جاتا۔پھر ایک وقت آیا جب مجھے اس سے کچھ کچھ اپنائیت محسوس ہونے لگی۔سرخ و سفید رنگت والا محنت کش، جس کی کوئی رات کتاب پڑھے بغیر نہیں گزری۔ وہ پتہ نہیں کیا کیا پڑھتا پھرتا، وہابیوں کی، شیعوں کی، سنیوں کی کتابیں۔ درسی کتب، اخبارات اور نہ جانے کون کون سے جریدے۔ہاں ایک ڈکشنری ہر رات اس کے سرہانے ہوتی،جس میں سے دس انگریزی الفاظ کے تلفظ اور معانی دیکھنا اس کا معمول تھا۔میں ایم اے انگریزی کر رہی تھی جب ایک دن اس نے اپنے مخصوص انداز میں مجھے پوچھا۔

” تم ایم اے انگریزی کر رہی ہو لیکن میں نے ایک دن تمہیں ڈکشنری کھولتے نہیں دیکھا۔کیا پڑھتی ہو گی تم؟”

” مجھے ڈکشنری دیکھنا نہیں آتا “۔میں نے صاف جواب دے دیا۔۔ اور اس نے مجھے ڈکشنری دیکھنے کی تربیت دی۔میں اب کوئی بہانہ نہیں بنا سکتی تھی اور روزانہ دس الفاظ اس کے سامنے دیکھتی اور دعا کرتی کہ وہ مجھ سے کبھی کچھ پوچھ ہی نہ لے۔ جی ہاں وہ آپ کو ڈرانے کے لئے الرٹ رکھنے کی تکنیک سے واقف تھا۔ کبھی بھی کچھ بھی پوچھ لیتا۔
” ست چھیکے کنے ہوندے، ؟
“بتالی، ”
“تے چھے ستے؟ ”
“جی اٹھ تالی”،
“عقل کر، دماغ حاضر رکھ”۔ چلو اسی خوف کے مارے جو اپنائیت پیدا ہوئی وہ بھاگ جاتی۔مجھے اس سے نفرت ہونے لگی۔ یہ میری جوانی کا آغاز تھا۔میں شخصی آزادیوں کی تازہ تازہ قائل ہو رہی تھی۔شادی اور کسی چاہنے والے کی تمنا میرے اندر اتنی تیزی اور شدت سے اتری تھی کہ پڑھ پڑھ پڑھ کی گردان کرتا بدمعاش مجھے اپنا دشمن لگنے لگا۔ سب لڑکیوں کی شادی ہو رہی تھی اور وہ بدمعاش میری اعلیٰ تعلیم کے منصوبے بناتا پھر رہا تھا۔ گاؤں والا گھر چھوڑ کر کرائے کے ایک کمرے میں بھیڑ بکریوں کی طرح نو بچوں اور ایک بیوی سمیت رہنے لگ پڑا تھا۔ میں سوچتی اس ایک کمرے کے گھر میں کون گلفام آئے گا۔میں تو ایسے ہی بڈھی ہو جاؤں گی۔لیکن ایک بات عجیب تھی وہ اب کالج جاتی بیٹی سے علمی گفتگو کرنے لگا تھا۔مختلف اسباق پر رائے مانگتا، تاریخ پاکستان اور تاریخ اسلام کے مختلف ادوار پر کبھی طنزیہ کبھی زہر خند لہجے اور کبھی پرجوش ہو کر بحث کرتا تھا۔ہماری دوستی ہونے لگ گئی تھی۔وہ مجھے اکساتا، پڑھنے کے لئے، بیریر توڑنے کے لئے، غربت کی چکی سے بذریعہ تعلیم نکلنے کے لئے، اپنے پیروں پر کھڑے ہونے اور بطور ایک فرد سوچنے کے لئے۔ بڑا تخریب کار شخص تھا۔اب یاد آتا ہے کیسے میری عمر کے کچے خواب، حسین تصورات، دوکمرے ایک چھوٹے سے گھر دو بچوں کے خواب پیچھے چلے گئے، اس کے آدرش، اس کی سوچ، اس کی توقعات سامنے آ گئیں۔ میں لڑتی بھڑتی، بکتی جھکتی لاہور چلی گئی۔اسے پڑھی لکھی عورت نہیں ایک انسان بنانا تھا اور اس کی بدمعاشی یہ تھی کہ وہ اس سلسلے میں کسی رحم یا ترس کا قائل نہیں تھا۔ اس کی اخلاقیات تک بدمعاشوں والی تھیں۔ مجھے بٹھا کر کہا، “جا میں تجھے نہیں پوچھوں گا تو کیا کرتی ہے، کس کے ساتھ ہے بس مجھے تیرا ایک لیکچر چاہیے یونیورسٹی میں، ایم اے میں تو تُو نے بے حیائی کی اور سیکنڈ ڈویژن لی، اب ایم فل کر ،کیونکہ میں تجھے یونیورسٹی سے کم کہیں نہیں دیکھ سکتا”۔

میں سناتی رہی ،”مجھے شادی کرنی ہے میری سب سہیلیوں کی ہو گئی، میں نہیں پڑھنا چاہتی”، کہنے لگا “پڑھائی ماں کا دودھ ہے، ایک بار چھٹ گیا تو پھر دوبارہ نہیں لگ سکتا۔ابھی پڑھ لے، شادی جب بھی کرے گی بات وہی ہے، چھے مہینے سے زیادہ شادی میں رس نہیں ہو تا۔ مجھے ڈاکٹر فاخرہ بن کے دکھا، جا تجھے اجازت دی، تو کسی بھی ڈھابے سے کھا، یہ بھوک ختم کر، علم کا مرتبہ جنسی خواہش سے کہیں زیادہ ہے”۔

مجھے اس بدمعاش سے گھن آئی، بیٹیوں کے باپ ایسے تھوڑا ہی کہتے ہیں وہ تو بیٹیاں پیدا ہونے پر کیسے اخلاقی اخلاقی سے ہو جاتے ہیں۔ بیٹیوں کو “دھی کا دھن “اور” لڑکی ذات” ٹائپ کے القاب دیتے ہیں۔یہ کیسا باپ تھا جو کہہ رہا تھا کہ گھر کی دہلیز سے باہر صرف فرد نکل رہا ہے، اسے برابر کی آزادی اور برابر کی قید ہے۔ نقاب اوڑھنے والی بیٹی کو لاہور کالج برای خواتین کی دہلیز پر نقاب اتارنے کا کہہ رہا ہے۔

“یہ تمہاری سہولت کے لئے ہے اگر تنگ ہوتی ہو تو پھر مت کرو، کھل کر سانس لو”

میں نے چار سال دہریت کا سامنا کیا اور اس نے بڑی فراخدلی اور محنت سے مجھے دہریت کا شکار ہونے دیا۔ سوال کرنا سکھایا، جواب تلاش کرنا سکھایا۔ خود اپنے آپ سے اختلاف اور لڑائی کی ہمت دی، ہم دو دوسال لڑے اور ایک دوسرے سے خفا بھی رہے۔ اور وہ کہتا پھرا “مجھے اپنی بیٹی کے دماغ پرفخر ہے”۔ اُف کس درجہ بدمعاش آدمی تھا اب سوچتی ہوں تو سمجھ آتی ہے کہ اس نے مجھے کیسے بنایا تھا، مجھ میں اپنا عکس دیکھتا وہ کیسے میری تکمیل میں اپنا آپ مکمل کر رہا تھا۔

پھر اس کا جوان بھائی قتل ہو گیا اور وہ سنتے ہی سماعت اور ضعف بصر کا شکار ہو گیا ۔اسی ایک ہی سال میں باپ، ماں اور بہن کی موت نے اسے توڑا اور وہ آدھی رات کو اٹھ کر دھاڑیں مارتا مجھے کتنا بے بس لگتا تھا۔ تب انھی دنوں مجھے اس سے ہمدردی ہونے لگی ، ماں نے کہا ۔
“اس کو سب سنبھال لو یہ مر جائے گا اس کا خاندان ختم ہو گیا ہے”۔

ہم میں سے کسی کو بھی نہیں اندازہ تھا کہ بوڑھے ماں باپ مرنے سے کیا محسوس ہوتا ہے، لیکن اس کا آدھی رات میں اٹھ کر “او میری بدقسمت ماں “کہہ کر رونا دل چیرتا تھا۔
دوسری طرف وہ سات بیٹیوں اور دو بیٹوں کو ایک کے بعد ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا چلا جاتا تھا۔یہ پڑھائی اس کا مسئلہ تھی، اسے تعلیم یافتہ لوگ بنانے کا جنون تھا، خود مختار اور مضبوط افراد۔ عورتوں کی تعلیم اس کا نفسیاتی مسئلہ تھی اور عالمانہ بحث اس کا مشغلہ۔ میں اسلام آباد سے بہت کم گھر جاتی، پہلے پہل ہر ویک اینڈ سامان باندھے گھر ہوا کرتی تھی، دو چار ہفتوں تک تو وہ دیکھا کیا پھر ایک دن پوچھا،
” تم کیوں ادھر آتی ہو، فون پر بات کافی نہیں ہوتی؟ ”
“(لو جی کر لو گل )”میں اپنے گھر والوں سے ملنے آتی ہوں، چھٹی ہوتی ہے مجھے۔”
” تم کوئی چھوٹی بچی نہیں ہو، پی ایچ ڈی کر رہی ہو، تمہیں چھٹی کو غنیمت سمجھ کر لائبریری بیٹھنا چاہیے، کیا پنڈی اسلام آباد میں لائبریریاں بند ہوتی ہیں ویک اینڈ پر؟؟؟ ”
“مجھے کیا پتہ،” میں ایسے تھوڑی سوچتی تھی۔
” لائبریری میں وقت گزارا کرو، گھر والے ادھر ہی ہیں، بھاگے نہیں جا رہے کہیں”۔ بدمعاش نے ایک بار پھر اپنی چلائی اور میں کتابوں میں ویک اینڈ کھپانے لگی۔
“بہت غصہ آتا، یہ آدمی جو چاہتا ہے وہ کروا لیتا ہے مجھ سے” میں اپنے دوست فہد سے شکوہ کرتی وہ بھی ایک ایسے ہی بدمعاش کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔ لیکن اسے سمجھ آ چکی تھی کہ ان بدمعاشوں کے سامنے ہماری نہیں چل سکتی سو وہ کہتا۔
” دیکھ مت لڑ، خدا سے اور باپ سے مت لڑ، یہ ڈنڈے سے بھی اپنا آپ منواتے ہیں، بھائی تو بہتر ہے ابھی سے مان جا۔ یہ دونوں مل کر ہماری تقدیر لکھتے ہیں، ہم وہ بنتے ہیں جو یہ ہمارے بدمعاش باپ چاہتے ہیں سو مت لڑ، سرنڈر کر، ہاتھ جوڑ، مان جا”۔

“نہیں میں نہیں مانوں گی۔میں بھی بدمعاش ہوں”۔میں اکڑ دکھاتی رہتی۔

” استاد سلامت ہماری ساری بدمعاشی اس بڑے بدمعاش کے ساتھ ہے، یہ نہ ہوں تو ہمیں سالوں کو کوئی پوچھے بھی نا”۔ وہ اپنے مخصوص انداز میں مجھے سمجھاتا مگر میں سب مانتے ہوئے بھی اڑ جاتی، کیوں کیوں کیوں کی رٹ لگائے رکھتی۔ اپنے باپ کے ساتھ رشتہ کوئی گنجلوں بھرا دھاگہ تھا کہ سلجھنے پر ہی نہ آتا تھا۔ میں دو مہینے بعد گھر جاتی تو پوری پوری رات میری پڑھی گئی کتابوں پر بحث ہوتی۔ وہ بڈھا بدماش میری دو مہینے کی محنت اور مطالعے کو نچوڑ لیتا اور اس کے بعد چار قدم آگے جا کر ان نکات کی وضاحت کرتا تو میں حیران رہ جاتی۔وہ سکول ماسٹر اسلام آباد میں بیٹھے پروفیسروں سے زیادہ واضح موقف رکھتا تھا، اور مطالعہ ہی نہیں اپنی رائے بھی بنا سکتا تھا۔یہ پہلی بار ہوا کہ میں بری طرح متاثرہونے لگی۔ اس کی آنکھوں کی چمک دراصل اس کی ذہانت اور واضح طور پر متعین موقف کی بدولت تھی، مجھے اب سمجھ آنے لگی۔ میں عمر کی تیسری دہائی کراس کر کے چوتھی میں داخل ہونے پر اس کے اور اپنے تعلقات کی ایک نئی جہت دریافت کر رہی تھی۔ ارے خدا اور اس بدمعاش سے تو دنیا کی ہر بات ڈسکس کی جا سکتی ہے، یہ تو آپ کا یار ہوتا ہے۔

میرے لئے اس نئی جہت کی دریافت ایک دم خوش کن تھی۔ ہم باتیں کرتے، معاملات پر اپنی رائے دیتے، مشورے کرتے، لڑتے اور پھر ایک دوسرے کو میسجز کرتے، دل کھولنے والے میسجز۔میں باہر چلی گئی۔اس دوران ہمارے تعلقات میں ایک بار پھر تناؤ تھا۔وہ میرے میسج دیکھتا، گھر والوں کو سناتا مگر مجھے جواب نہ دیتا۔میں خیال ہی خیال اس سے بھی لڑتی اور خدا سے بھی۔ میری بدمععاشی اور اکڑفوں کے بڑھاوے میں دونوں بربر کے حصے دار جو ٹھہرے۔
میں نے شہر شہر پھر کر اس کے لیے معلومات اکٹھی کیں ، باتوں کا ایک ڈھیر، مشاہدات کی ایک طویل فہرست،اور سوچا ۔
“حیران کر دوں گی یہ سب سنا کر، بس پاکستان جانے کی دیر ہے۔”
میں نہیں جانتی اس کو کیا ہو گیا، بس ایک دن خبر آئی اس کا دل بند ہو گیا ہے۔ میں جو اس کی آخری رسومات میں بھی نہ آ سکی، آج ڈیڑھ سال ہونے کو آیا کبھی اپنے باپ کو روتی ہوں کبھی استاد کو، کبھی دوست کو کبھی دشمن کو، کبھی اس سے لڑتی ہوں کبھی گلہ کرتی ہوں، کبھی اپنے آپ پر بے یقینی ہوتی ہے تو پھر اس کی اپنے اندر موجودگی گواہ بن جاتی ہے، کبھی وہ دکھائی نہیں دیتا تو موجود پر ایمان اٹھ جاتا ہے۔ دکھ سناتی ہوں تو تسلی نہیں دیتا، خوشی میں اس کو ڈھونڈتی ہوں تو ملتا نہیں ۔چیختی کرلاتی رہتی ہوں ۔

“دیکھ میری کسی کامیابی پر داد دے، کسی خوشی کو تو سند دے، میری ہر کامیابی، ہر خوشی،بڑی ادھوری ہے ،مجھ پر فخر کر میرے باپ مجھے بتا کہ میں ہوں ،میرے ہونے کی گواہی دے کہ مجھے اپنا آپ محسوس نہیں ہوتا،میرے موقف کو جھٹلا ہی دے تا کہ مجھے اپنا ہونا محسوس تو ہو”۔لیکن خدا کی طرح وہ بھی نہیں بولتا، کہا نا بدماش آدمی ہے اور بدماشی میں بھی احسن درجے پر فائز ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔