• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا تحقیقی سفر اور علی عباس جلالپوری۔۔سیدہ ہما شیرازی

ڈاکٹر سمیرا اعجاز کا تحقیقی سفر اور علی عباس جلالپوری۔۔سیدہ ہما شیرازی

سماج کا علم و عمل اور غوروفکر سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پھر روزمرہ بولی جانے والی زبان میں بہت سے لفظ لاشوں میں بدلنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جیسے انسانیت، خدمت، ایثار، قربانی، حُب الوطنی،مقصدیت وغیرہ وغیرہ۔ ایسے الفاظ کلیشے کہلاتے ہیں، جو لکھنے پڑھنے اور بولنے میں تو بڑے بھاری بھرکم ہوتے ہیں مگر تاثیر سے خالی۔ دیکھتے دیکھتے ان میں ایک اور لفظ کا اضافہ ہوچکا ہے۔ اور وہ لفظ ہے “مطالعہ”، جس کی وجہ سے آج کا سماج بتدریج پستی کی جانب گامزن ہے۔

علی عباس جلال پوری 19 اکتوبر1914 کو جلال پور شریف ضلع جہلم میں پیدا ہوئے اور 7 دسمبر 1998 کوجلال پور شریف میں ہی وفات پائی۔
ان کی کتابوں میں روحِ عصر، روایات فلسفہ، اقبال کا علمِ کلام، عام فکری مغالطے، مقامات وارث شاہ، مقالاتِ جلالپوری، روایاتِ تمدنِ قدیم، تاریخ کا نیا موڑ اورخرد نامہ جلالپوری نے خرد افروزی میں اہم کردار ادا کیا ۔

علی عباس جلالپوری نے پوری زندگی مطالعہ وتدریس وتحقیق وتصنیف میں گزاری۔ وسیع مطالعے اور تحقیق کے نتیجے میں یہ حقیقت ان پر آشکار ہوئی کہ مشرقی اقوام بالعموم اور مسلم اقوام بالخصوص، اس لئے پس ماندہ اور دست نگر ہیں کہ وہ ابھی تک زرعی معاشرے کے فرسودہ اعتقادات اور اوہام میں جکڑی ہوئی ہیں۔ مغربی معاشرے تو بہت پہلے سے تحریک احیائے علوم سے گزر کر آج فلسفہ، سائنس اور علوم ہائے انسانی کے فیوض وبرکات سے مستفید ہورہےہیں۔ جبکہ ہم قرون وسطیٰ کی ضمنیات میں کھوئے ہوئے ہیں۔ اس سب کو دیکھتے ہوئے انہوں نے فیصلہ کیا کہ علمی سطح پر تحریک خردافروزی شروع کی جائے۔ اور پھر یہ عملِ تحقیق وتصنیف تقریباً پچیس سےتیس سال تک جاری رہا۔ زندگی کے آخری چودہ سال دائیں حصے پر فالج کے حملے کی نذر ہوگئے۔انہوں نے فکری جمود کے ماخذات کی نشاندہی کی اور اپنی تیرہ مطبوعہ کتب میں ان ماخذات اور ان کے تاریخی عواقب کو بے نقاب کیا اور ثابت کیا کہ وہ مغالطوں پر مبنی اور از کارِ رفتہ ہیں۔ مثلاً پیداواری عمل اساسِ اوّل ہے۔ پیداواری اور خاندانی رشتوں کے تانے بانے سے سماج صورت پذیر ہوتا ہے۔ زرعی معاشرے میں زرخیزی کے متعلق فصلوں کی بیجائی کٹائی سے منسلک تہوار، رسمیں، تقریبات، ماورائی وجود کا تصور جو موسموں کو موافق بنائے، مٹی میں زرخیزی پیدا کرے، آفاتِ فطرت سے بچائے، قربانی، جادو، ٹونے ٹوٹکے۔۔۔ لیکن صنعتی سماج کے تقاضے بدل جاتے ہیں۔ دیہی کی بجائے شہری سماج، کھیت کی بجائے کارخانہ، فطرت پر انحصار کی بجائے پیداوار پر کنٹرول، سماجی تنظیم میں پیچیدگی۔ بڑی سطح پر پیداوار اور بڑی سطح پر کھپت، نت نئی ایجادات اور نت نئی منڈیاں اورمنڈیوں کے حصول کے لئے تگ ودو۔۔۔ لہٰذا زرعی دور کے معتقدات، صنعتی دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں رہتے۔ ’’روح عصر‘‘ اسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے۔

ماضی سے ورثے میں ملے ہوئے اعتقادات ہمارے مزاج عقلی میں اس طرح نفوذ کرجاتے ہیں کہ ہم درپیش حقیقتوں کو جیسی کہ وہ ہیں، دیکھ نہیں سکتے، سمجھ نہیں پاتے۔ مثبت ومنفی تعصبات ہماری فکری صلاحیت کو متاثر کرتے ہیں تو خیالات گدلا جاتے ہیں۔ ہم مغالطوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ جو نسل در نسل جاری رہتے ہیں۔ موضوعی سچ بن جاتے ہیں، یوں معاشرہ فکری اسقاط کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس پر جمود طاری ہوجاتا ہے۔ علی عباس جلال پوری نے اس جمود کو توڑنے کے لئے ان مغالطوں کا تاریخی اور فکری پسِ منظر دیتے ہوئے منطقی استدلال سے انہیں باطل قرار دیا ہے۔
ان میں سے چند یہ ہیں۔
’’تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔‘‘
’’انسانی فطرت ناقابل تغیر ہے۔‘’
’’وجدان کو عقل پر برتری حاصل ہے۔‘‘
’’دولت مسرت کا باعث ہوتی ہے۔‘‘
’’تصوف مذہب کا جزو ہے۔‘‘
’’عورت مرد سے کمتر ہے۔‘‘
’’انسان فطرتاً خود غرض ہے۔‘‘ ’’ریاست اورمذہب لازم وملزوم ہیں۔‘‘
’’اخلاقی قدریں ازلی وابدی ہیں‘‘
“فن برائے فن کار ہے”
“اخلاقی قدریں ادبی و ابدی ہیں” وغیرہ عام فکری مغالطے کے موضوعات ہیں۔

آج کی رسمیں اور ریتیں کس طرح کے سماجوں سے ماخوذ ہیں ان میں آج بھی پرانے اوہام ومعتقدات جھلکتے ہیں۔ بھلے ان سے لوگ شعوری طور پر آگے نکل آئے ہوں۔ ہم آج کے رسم ورواج میں عقلی جواز کے بغیر عادتاً غلطاں ہوتے ہیں کہ انسانی تاریخ ایک تسلسل ہے، رُک کر سوچنا چاہیے کہ ہم کیا اورکیوں کررہے ہیں۔(رسومِ اقوام)

تاریخ ،فلسفہ،شاعری ،روایات اور جنس کے علاوہ ان کی ایک ایسی جہت جس کے بارے میں بہت سے ادبی اور غیر ادبی لوگ ناآشنا تھے اس جہت کو کھوجنے اور پھر احسن طریقے مرتب کر کے منظر عام پر لانے کا سہرا ڈاکٹر سمیرا اعجاز کے سر جاتا ہے۔

ڈاکٹر سمیرا اعجاز صاحبہ کی ادبی تخلیقات اور ادبی حوالے سے معتبر شخصیات پر تحقیقی و تنقیدی کام ادب کے سنجیدہ قاری کے لیے صحت مند فکری فضا قائم کیے ہوئے ہے۔ ان کی تنقیدی و تحقیقی کتاب “منیر نیازی: شخص اور شاعر” جو کہ مثال پبلشرز فیصل آباد سے 2014 میں شائع ہوئی ان کے بہترین محقق اور تنقیدی فکر کا منہ بولتا ثبوت ہے اس کے علاوہ تاریخ ،فکشن، شاعری اور دیگر ادبی اصناف پر مختلف معتبر ادبی رسالہ جات میں لکھے گئے اِن کے مقالات اِن کی ادبی فہم و فراست کا عملی نمونہ ہیں حال ہی میں ان کی مرتبہ کتاب “علی عباس جلال پوری کے افسانے “کے نام سے ادبی افق پر نمودار ہوئی جسے مثال پبلشرز فیصل آباد نے شائع کیا۔جس نے ہمیشہ کی طرح ادبی دنیا میں نئے فکری موضوعات کو جنم دیا۔

کتاب میں جلال پوری کے 10 افسانوں کو شامل کیا گیا ہے جو اُس وقت کے مشہور ادبی رسالوں میں شائع ہوئے جن میں” ہمایوں” مخزن” “نیرنگ خیال “اور ادبی دنیا شامل ہیں ۔
اس کتاب میں ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی جانب سے ایک تحقیقی و تنقیدی مقالہ دیباچے کی صورت میں لکھا گیا ہے۔یہ تحقیقی مقالہ اس کتاب میں بنیادی اہمیت کا حامل ہے ۔جس میں انہوں نے علی عباس جلال پوری کے افسانوں کو متن کی بنیاد پر پرکھا اور افسانوی دنیا میں ان کی فنی اور فکری امتیازات کو موضوع بحث بنایا اس کے علاوہ افسانوں کے موضوعات اور تکنیک کو بھی دیباچے کا حصہ بنایا۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو جلال پوری کے افسانوں میں ہمیں روایت اور جدت کی کشمکش نظر آتی ہے محبت ،جذبہ حب الوطنی،انسان کی بنیادی نفسیات اور دیگر موضوعات کو افسانوں میں برتا ہے۔

اس کتاب کا فلیپ جلالپوری صاحب کی صاحبزادی لالہ رخ بخاری نے لکھا ہے جس میں انہوں نے ڈاکٹر صاحبہ کی اس کاوش کو سراہا ۔یہ کتاب فکشن سے دلچسپی رکھنے والوں اور جلالپوری صاحب کی فکر سمجھنے والوں کے لئے بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *