پُرسہ۔۔کوثر عروب

وہ وہاں نیا تھا۔دنیا چھوڑے ابھی اسے کچھ ہی دن ہوئے تھے۔وہ صدمے میں تھا،بےیقین تھا کہ اتنی اچانک وہ کہاں اور کیسے پہنچ گیا۔موت کی تکلیف کے کچھ آثار ابھی تک اس کے بدن پر موجود تھے۔وہ ایک عجیب کیفیت کا شکار تھا،بے یقینی،بے بسی اور تنہائی۔اس کو اپنے آس پاس موجود کچھ بھی آشنا نہیں لگ رہا تھا۔دیکھنے وہ تمام وجود جو اس کے ارد گرد تھےاپنے ہم جنس لگتے تھے۔لیکن ان سب کے چہروں پہ اداسی اور ایرانی اس کی اداسی سے کئی بڑھ کر تھی۔وہ سب خاموش تھے۔

دنیا میں شاید آج اس کے قل کی تیاری جاری تھی۔اس کی وفات کے دن سے آج دن تک اس کے پیاروں نے اس کی جدائی کا خوب غم منایا۔روئے پیٹے واویلا کیا۔بغیر سوچے کہ  جو کچھ ہم کر رہے ہیں وہ جانے والے کے کسی کام کا نہیں۔دنیاوی تقاضوں کو نبھاتے،جھوٹے سچے پُرسے وصول کرتے اور کھوکھلی ہمدردیوں سے نمٹتے وہ یہ بھول گئے تھے کہ جانے والے کو کوئی تحفہ، کوئی تسلی ہی بھیج دیں۔وہ بھی شاید اقبال کی نظم میں روتی اس ماں کی طرح یہ بھول گئے تھے کہ ان کی یہ آہ وزاری اور ماتم جانے والے کو تکلیف اور بے چینی کے سوا کچھ نہ دے سکے گا۔

خیر کیونکہ آج ان کے پیارے کو رخصت ہوئے تیسرا دن چڑھ آیا تھا۔تو حسب روایت انھوں نے قل کا انتظام کیا تھا۔چاندنیاں منگوائی گئی تھیں،ٹینٹ لگوائے گئے تھے اور پرسہ پہ آنے والوں کے لیے دیگیں چڑھ چکی تھیں۔۔کہ کہیں ان کے غم گسار ان کے گھر سے بھوکے نہ لوٹیں۔لیکن کسی بھی ہمدرد،غمگین اور غم گسار رشتہ دار کو یہ خیال نہ آیا کہ میت والے گھر سے کھانا کھانے کو ہمارے دین نے معیوب قرار دیا ہے۔

خیر سب سے آخر میں پارے منگوائے گئے اور ساتھ ہی امام مسجد سے درخواست کی گئی کہ مدرسے کے بچوں کو مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے قرآن پڑھنے کے لیے بھیج دیا جائے کیونکہ پُرسہ دینے کے لیے آنے والے لوگ تو غم سے اتنے نڈھال ہوں گے کہ اردگرد رونے والے میت کے وارثوں کی نگرانی کے بعد کھانا کھائیں گے اور بمشکل دعا میں شامل ہو کر مرحومین کے وارثوں کی حالت اور غم پہ تبصرہ کر کے رخصت چاہیں گے۔

Avatar
Kausar Aroob
معاشرے کے دن رات بدلتے رنگوں سے کچھ رنگ چرا کر انھیں الفاظ کا روپ دیتی ایک لکھاری۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *