خطاط شفیق الزماں، مسجد نبوی کی لوحیں اور آنسو۔۔منصور ندیم

یہ کوئی چالیس  برس کے قریب  کی بات ہے، حسب معمول شفیق الزمان روزانہ کی طرح اپنے گھر سے ناشتہ کرکے اپنے کام پر نکل جاتے تھے، ان کا کام مختلف سڑکوں پر ہوتا تھا، انہوں نے اپنے بچپن سے ہی خطاطی کا کام سیکھا تھا تھا اور یہی ان کا روزگار تھا، ان دنوں کراچی کے روڈوں پر تبت سنو کے بڑے بڑے بل ہورڈنگز نصب ہوتے تھے۔ ان بڑے بڑے جہازی سائز کے بل بورڈز پر 100 سینٹی کے قلم سے صرف ایک لفظ تبت لکھا جاتا تھا۔ ایک میٹر یعنی 100 سینٹی میٹر کے قلم سے براہ راست لکھنا کوئی آسان کام نہیں۔ اس کام میں خطاط استاد شفیق الزماں کو مہارت حاصل تھی۔ خیر آج تو جدید دور میں خطاط زیادہ سے زیادہ ایک یا ڈیڑھ سینٹی میٹر کے قلم سے لکھ کر اسے کمپیوٹر پر 100 گنا بڑا کرلیتے ہیں۔ لیکن اسوقت یہ کام ماہر خطاط روڈ پر ہی کرتے تھے۔

ایسے ہی اک روز شفیق الزماں کراچی کی ایک سڑک پر بل ہورڈنگز تیار کر رہے تھے کہ ایک سعودی شیخ کا وہاں سے گزر ہوا، وہ شفیق الزمان کی کام کی مہارت کو دیکھ کر کھڑا ہوگیا اور کافی دیر تک اسے دیکھتا رہا ، پھر شفیق الزمان کے پاس آیا اور کہا، کیا تم میرے ساتھ سعودی عرب چلو گے، میں تمہیں اپنی کمپنی میں ملازمت دونگا ۔ اور یہاں تم جتنا کماتے ہو اس سے زیادہ وہاں کما سکو گے، شفیق الزماں کو نہ زیادہ سوچنا پڑا کیونکہ وہ سعودی،  شفیق الزمان سے زیادہ جلدی میں تھا، کب شفیق زمان کا ارجنٹ پاسپورٹ بنالیا گیا، ویزا بھی لگ گیا اور شفیق الزماں آخر کار سعودی عرب چلے ہی آئے۔ یہاں آکر شفیق الزمان اس سعودی کی چھوٹی سی کمپنی میں خطاطی کا کام کرنے لگے۔ شفیق الزماں ابھی نوجوان ہی تھا،ابتدا میں وہ دارلحکومت ریاض میں کئی سال ایک الیکٹریشن کی دکان میں بھی کام کرتا رہا،  مگر کسے پتہ تھا کہ اس کے مقدر  میں یہ نوکری نہیں بلکہ اس  کا بلاوا  یہاں کسی اور ہی مقصد کے لئے ہوا ہے۔

یہ سنہء 1990 کی بات ہے، جب مسجد نبوی میں تعمیراتی کانٹریکٹنگ کی نگران کمپنی نے خطاطی کے مقابلے کا اعلان کیا۔ اس مقابلے کا مقصد یہ تھا کہ ایک ایسے خطاط کو تلاش کیا جائے جو مسجد نبوی کے قدیم گنبدوں پر ترک دور میں ہونے والے خطاطی کے کام کو درست کرسکے جو بڑی حد تک متاثر ہو چکا تھا۔ ایسے ہی ایک دن  شفیق الزمان کا سعودی کفیل اس کے پاس آیا، وہ جانتا  تھا کہ شفیق الزمان خطاطی کا شوق رکھتا ہے اور کہنے لگا کہ تمہیں میرے ساتھ ایک جگہ جانا ہوگا وہاں پر تم نے اپنی بہترین خطاطی کا مظاہرہ کرنا ہے، بظاہر تو مجھے بالکل امید نہیں ہے کہ ہم اس جگہ پر کامیابی حاصل کر سکیں، لیکن مجھے تمہارا کام دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ تم اس مقابلے میں حصہ ضرور لے سکتے ہو۔

اس کام کے لئے دنیا بھر سے 400 بہترین، ماہر اور نامور خطاطوں نے حصہ لیا تھا، شفیق الزماں کے لیے تو یہ مقابلہ بہت ہی ہی انوکھا مقابلہ تھا وہ پہلی بار ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں اتنے سارے لوگ تھے، بہت زیادہ گھبراہٹ بھی محسوس کر رہا تھا، ایک اجنبی دیس میں جہاں کی زبان بھی وہ نہیں جانتا تھا اور اہل زبان کا ایک سمندر تھا، شفیق زمان کو سمجھ نہیں آ رہا تھا لیکن جیسے تیسے کر کے اس نے مقابلے میں حصہ لے لیا، چند گھنٹوں کے بعد مقابلے کا اعلان ہونا تھا، مقابلے کے منصفین بیٹھے تھے، وہ بھی ایک کونے میں کھڑا تھا، اور پھر جب فیصلے کا اعلان کیا تو سب کو پتہ تھا کہ خطاط یقینا کوئی عرب ہوگا یا ترک ہوگا.۔۔

جیوری میں سے مرکزی سیٹ پر بیٹھے شخص نے ابتدائی کلمات سے آغاز کیا اور پھر اس کے بعد وہ خطاط کے نامزدگی کا یہ اعلان کررہا تھا۔

اعلان : نحن نتشرف لاختيار الخطاط الاستاذ شفيق الزماں الباکستانی للعمل بالمسجد الحرمين الشريفين
ترجمہ : ہم حرمین الشریفین کے اعزازی خطاط کی اس خدمت کے لئے استاد شفیق الزمان پاکستانی کو منتخب کرتے ہیں۔
(یہ کوئی عرب یا ترک نہیں بلکہ پاکستانی خطاط شفیق الزمان ہیں)

شفیق الزمان کو اپنا نام تو سنائی دیا تھا ، باقی اس کو کچھ سمجھ نہیں آیا تھا، مگر اس کے رہے سہے ہوش اس کے سعودی مالک نے چھین لئے ، جو بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اور چلا چلا کر کہہ رہا تھا ۔

سعودی مالک : یا شفیق ! من دواعي سروري اختيارك ضمن فريقي فانا محظوظ لذلك، لا اعتقد انك تشعر بنفس الشعور والحظ الذي اشعر به

ترجمہ: اے شفیق! کیسا خوبصورت وقت تھا جب میں نے تجھے اپنے کام کے لئے چنا تھا، کیا ہی میری قسمت جاگی ہے جس کا مجھے اتنا اندازہ نہ تھا۔

سعودی مالک اسے گلے لگا لگا کر چوم رہا تھا اور کہے جارہا تھا،

سعودی مالک : يا اخي شفیق ! الف مبروك هذه فرصة العمر و اخرہ
لقد اختاروك للعمل بهذا المكان الشريف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، احسنت يا اخي

ترجمہ : اے میرے بھائی شفیق ! ہزار ہزار مبارک، تو نے ہماری زندگیاں و آخرت بنادی، تو نے کس مبارک ہستی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کام کا اعزاز لے لیا، کمال میرے بھائی کمال ۔

جس نے ساری زندگی خطاطی کسی استاد سے نہ سیکھی، جس کو بھوک اور ضرورتوں نے پیشے کے طور پر خطاط بنا دیا تھا ، وہ استاد شفیق الزمان مسجد نبوی میں خطاطی کے لیے محض اللہ تعالیٰ کے کرم سے ہی منتخب ہوا تھا۔

شفیق الزماں کو خطاطی کا یہ فن اللہ تعالی کی طرف سے عطا ہے۔ اس نے کسی سے نہیں سیکھا۔ شفیق الزمان قریب 30 برسوں سے مسجد نبوی کے قدیم حصے میں ترک دور کے گنبدوں پر قرآئی آیات کی خطاطی اور نقاشی کا کام کر رہے ہیں۔
شفیق الزماں کہتے ہیں کہ مدینہ منورہ میں خطاطی کر کے مجھے جو سکون ملتا ہے اور کہیں نہیں ملتا، اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے یہاں خطاطی کا موقع ملا۔ اس سے بڑھ کر اور مجھے کیا چاہیے۔‘
شفیق الزماں کا کہنا ہے کہ ’ترک خطاط استاد حامد الآمدی کے فن سے متاثر ہوں۔ آپ مجھے ان کا روحانی شاگرد کہہ سکتے ہیں۔ اپنے کام میں ان کے معیار اور اسلوب کو برقرار رکھنے کی کوشش کی۔ میرے اور استاد حامد کے طغرے ایک ‘جگہ رکھ دیے جائیں تو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ کون سا طغرہ میرا اور کون سا استاد حامد کا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ دعویٰ تو کوئی نہیں کرسکتا کہ مجھ سے بہتر خطاط کوئی نہیں لیکن میرے کام میں کوئی تو ایسی خاص بات ہے کہ اساتذہ بھی تعریف کرتے ہیں۔‘

قدیم حصے میں ترکوں کے زمانے کے تقریباً 177 گنبد ہیں۔ ایک گنبد 11 میٹر پر محیط ہے۔ اب تک 85 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔ شفیق الزمان نے بتایا کہ ایک گنبد پر ایک آیت لکھنے میں بعض اوقات تین سے چار ماہ لگ جاتے ہیں۔ پوری رات کی محنت کے بعد محض ایک میٹر طوالت کی خطاطی گنبد پر منتقل ہوتی ہے۔ خطاطی کا سارا کام خط ثلث میں ہو رہا ہے۔ صرف ایک فرق ہے ترک دور میں یہ کام املائی میں ہوا اب رسم عثمانی میں کیا جا رہا ہے۔

شفیق الزماں کا کہنا ہے کہ “روضہ شریف پر نصب قرآنی آیات کی تین لوحیں ان کے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہیں۔ اس کام میں ڈیڑھ برس لگا۔ ایک لوح کی تیاری میں چھ ماہ صرف ہوئے ہر لوح 24 قیراط سونے کی روشنائی سے تحریر کی ہے۔ مسجد نبوی کے دروازوں کے نام اور وہاں قائم دفاتر کے بورڈ بھی میرے لکھے ہوئے ہیں۔”

شفیق الزمان کا کہنا تھا کہ ابتدا میری خواہش تھی کہ خطاطی کا کوئی ایک کتبہ مسجد نبوی میں میرے ہاتھ کا لگے لیکن تمام تر کوشش کے باوجود ایسا نہیں ہوسکا پھر ایک وقت یہ آیا کہ مسجد نبوی کے درو دیوار خطاطی اور نقاشی کے لیے میرے حوالے کر دیے گئے۔‘
جب روضہ رسول پر اپنے ہاتھ سے تیار کردہ لوحیں نصب کرنے کا وقت آیا میرے ہاتھ تو  لوحیں نصب کررہے تھے، مگر دل خوشی سے سرشار تھا اور بےاختیار آنکھوں سے آنسووں کی جھڑیاں لگ گئی تھیں ۔
یقینا یہ اعزاز صرف شفیق الزماں کے لئے ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان کے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہے کہ گزشتہ 30 برسوں سے یہ خدمت ایک پاکستانی کے پاس ہے ۔اور پورے سعودی عرب میں بھی یہ ان کے لئے بہت بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔

‘ کیونکہ شفیق الزماں سعودی حلقوں میں ” استاد شفیق الزماں خطاط الحرمین” کے نام سے مشہور ہیں۔

استاد شفیق الزماں کے شاگرد صرف پاکستان میں ہی نہیں بلکہ ترکی، سعودی عرب، افغانستان، سوڈان، یمن اور دنیا بھر میں موجود ہیں۔ ان کے شاگردوں میں کئی معروف سعودی خطاط شاگردوں میں شامل ہیں۔ نامور سعودی خطاط ناصر محمود بھی انہیں استاد کا درجہ دیتے ہیں۔

نوٹ : مسجد نبوی کی  تاریخ بحوالہ خطاطی:

مسجد نبوی کی تعمیر اور توسیع کا کام تین حصوں میں تقسیم ہے۔ ایک ترک عہد کی تعمیر، دوسری شاہ سعود اور تیسری شاہ فہد بن عبدالعزیز کی جدید تعمیر۔ روضہ رسول، ریاض الجنہ، اصحاب صفہ کا چبوترہ اور منبر رسول ترک تعمیر میں ہیں۔ مسجد کے اس حصے کی تعمیر ترک سلطان عبدالمجید خان کے عہد میں ہوئی۔ ترک سلطان نے اس دور کے نامور خطاط استاد عبداللہ زہدی کو بلایا۔
سلطان عبدالمجید خان خود بھی اچھے خطاط تھے۔ عبداللہ زہدی نے کئی برسوں میں مسجد نبوی کے گنبدوں اور دیواروں پر خطاطی اور نقش نگاری کا کام مکمل کیا۔ دی آرٹ آف ترکش کیلی گرافی میں لکھا ہے کہ جب عبداللہ زہدی نے کام مکمل کیا تو اسے دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ انہوں نے ماننے سے انکار کردیا کہ یہ کام کوئی انسان کرسکتا ہے۔ استاد عبداللہ زہدی کی خطاطی ڈیڑھ صدی تک برقرار رہی۔ اب گنبدوں پر نئی خطاطی اور نقاشی کی جا رہی ہے ۔
پاکستانی خطاط شفیق الزمان کا کام ترک استاد عبداللہ زہدی سے تھوڑا مختلف ہے۔ یہ ایک نیا اسلوب ہے۔ اس میں آیات کے تسلسل کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ترکوں کے کام میں یہ خیال نہیں رکھا گیا تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”خطاط شفیق الزماں، مسجد نبوی کی لوحیں اور آنسو۔۔منصور ندیم

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *