اس موضوع پر بات شروع کرنے سے پہلے ہم تھوڑا ماضی میں جھانک لیتے ہیں ۔ ہمارے بزرگ ہمیں بتایا کرتے تھے کہ ان کے والدین خاص طور پر والد بہت غضب ناک ہوتے تھے چھوٹی اور معمولی باتوں پر← مزید پڑھیے
پاکستان کی سینٹ قومی اور صوبائی اسمبلیوں ،بشمول آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان 1282میں سے 257خواتین،اقلیتیں اور ٹیکنوکریٹ کی نشستوں پر اگر براراست انتحابات کا نظام وضع کرلیا جائے تو آنے والے چند سالوں میں ایک سیاسی، معاشرتی وسماجی انقلاب← مزید پڑھیے
بے روزگار عوام دشمن اپوزیشن تحریک ِ انصاف کی حکومت گرانے کے لئے گداگر کا روپ اپنائے اب حکومت کے اتحادیوں کے در پرپھر سے دستک دے ر ہی ہے حالانکہ انہیں ان دروں سے پہلے بھی دھتکارا جا چکا← مزید پڑھیے
’’ مگر میں جاننا چاہتی ہوں کہ تم راولاکوٹ کی گلیوں میں جب کسی شریف عورت کو دیکھتے ہو تو پورا منہ کھول کر کیوں دیکھتے ہو ۔؟‘‘ خواتین خواہ لکھائی پڑھائی میں طاق ہوں ، چاہے سلائی کڑھائی میں← مزید پڑھیے
شیخ سعدی کی کہاوت ہے کہ” دو طرح کے لوگوں کی کوشش بے کار ہے ۔ پہلا وہ شخص جس نے مال کمایا پر اسے کھایا نہیں اور دوسرا وہ جس نے علم حاصل کیا لیکن اس پر عمل نہ← مزید پڑھیے
میرے والد مرزا محمد رفیق صاحب کے دو بھائی تھے۔ بڑے مرزا محمد صِدٌیق صاحب اور چھوٹے مرزا محمد یامین صاحب۔ تایا جی کو میں نے بچپن میں دیکھا تھا جب وہ نسیاں کا شکار تھے۔ وہ گورکھ پور میں← مزید پڑھیے
ساتھ لنک میں دی گئی ویڈیو ایک میچ کا منظر ہے۔ لندن میں فٹبال کا میچ جاری تھا۔ ویسٹ ہیم اور ایورٹن کے درمیان ہونے والا اہم مقابلہ ایک ایک گول سے برابر تھا۔ اختتامی لمحات میں ویسٹ ہیم کی← مزید پڑھیے
گاؤں کے ایک امام جسے کوئی دور جاتا ہے کہ میاں صاحب یا میاں جی کہا جاتا تھا۔ میاں جی کے منہ سے کلمہ خیر کے علاوہ کچھ نکلتا نہیں تھا۔شادی بیاہ میں وہی میاں جی، تجہیز و تکفین میں وہی مشترکہ میاں جی، عقیقہ اور جنازہ میں وہی سب کے امام ، میاں جی← مزید پڑھیے
ہماری سوچی سمجھی رائے ہے طاقتور حالات کے جبر کا شکار ہو چکے ہیں اور سیاستدان بے بسوں کی مجبوری اور بے بسی بھانپ چکے ہیں۔ہم نہیں سمجھتے دیوالیہ معیشت میں کوئی سیاستدان بھلے زرداری ہوں یا شہباز شریف حکومت← مزید پڑھیے
طوفان یونس جس کی رفتار 100 میل فی گھنٹہ کی ہے، کے باعث جانی نقصان کا اندیشہ ہے۔ حکومت نے موسم کی شدت کے باعث فوری طور پر سکولوں میں چھٹی کر دی ہے، اور فوج کو ہر طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے مستعد کر دیا ہے← مزید پڑھیے
عمران خان اگر چاہیں کہ حزب اختلاف کا وجود ہی ختم ہو جائے، گلیاں سنجیاں ہو جائیں اور ان گلیوں میں صرف وفاقی وزراء پھرا کریں، تنقید کرنے والا کوئی نہ ہو اور ہر سو مرحبا مرحبا کی آوازیں ان← مزید پڑھیے
پٹرول کی قیمتوں میں اکٹھے ہی بارہ روپوں کے اضافے نے غریبوں کی چیخیں نکلوا دی ہیں، میں ٹھوکر نیاز بیگ پر احتجاج کرنے والے سینکڑوں رکشہ ڈرائیوروں کے ساتھ تھا جن کی قیادت مجید غوری کر رہے تھے، مجھے← مزید پڑھیے
مقتل سے براہِ راست (3،آخری حصّہ)۔۔محمد وقاص رشید/احساسِ زیاں ہے کہ جو دل سے جاتا ہی نہیں ہے۔ سلامتی کے مذہب کے نام پر بننے والے ایک ملک میں سلامتی ہی کو خطرہ لا حق ہے اور وہ بھی رحمت للعالمین کی عظیم ترین ہستی اور مقدس ترین فلسفے کو گزند پہنچا کر← مزید پڑھیے
جو بعض انتہاپسند تنظیموں کے پلیٹ فارم سے چوبیس قرآنی آیات کے اخراج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ (اس معاملےنے لکھنؤ کے ایک مشکوک کردار کوابھی حال میں اتنا بے چین کیا کہ اس نے اپنا شیعہ مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنا لیا۔ بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اور باستثناء حضرت علی تمام مقدس ہستیوں بشمول رسالتمآب ﷺ کے لیے دشنام گوئی پر اتر آیا← مزید پڑھیے
ماؤزے تنگ کا خیال تھاکہ:"زمیندار طبقے اوربیوروکریٹک سرمایہ داروں کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے ساتھ،مزدور طبقے اورقومی سرمایہ دار کے درمیان تضاد چین میں بنیادی تضاد بن چکا ہے۔← مزید پڑھیے
مخصوص ایجنڈے اور ذہن سازی پر مامور کچھ دانش ور اور صحافی ہر چند دن بعد اپنی زنبیل سے نت نئی گھڑی ہوئی خبریں نکالتے ہیں کبھی حکومت کے جانے کی ،کبھی میاں صاحب کی واپسی کی، کبھی کرسی اور← مزید پڑھیے
وہ نیک لڑ کی تھی صلح کل، پاکباز، بے داغ، بھولی بھالی وہ اپنی معصوم نیک چلنی میں لپٹی، لپٹائی باکرہ اک غریب گھر کی کنواری کنیا ذرا سے اونچے، امیر گھر میں بیاہی آئی تو اپنے شوہر کے لڑ← مزید پڑھیے
مقتل سے براہِ راست (2 )۔۔محمد وقاص رشید/زندگی بھی ایک کھلیان ہے جو بویا جائے گا اس سے مختلف کاٹےجانے کی توقع کا انجام وہی ہوتا ہے جو ہمارا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ یہاں جو بونے والے ہیں وہ کاٹنے والے نہیں اور جو کاٹنے والے ہیں انکے پاس بونے کا نہ شعور ہے نہ اختیار۔ ← مزید پڑھیے
انہیں چولستان کے دیگر قلعے، اوچ شریف کے مقبرے، بھونگ مسجد، کوٹ مٹھن میں درگاہ خواجہ فریدؒ، مسجد سکینہ الصغریٰ اور پتن مینارہ جیسے مقامات بھی دکھائیں لیکن نجانے حکومت کا ملتان و بہاولپور سے ایسا کیا مفاد جڑا ہے جو وہ یہاں سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہتے۔← مزید پڑھیے
سانحہ تلمبہ ابھی بالکل تازہ تھا۔ مقتول کا کفن بھی میلا نہ ہوا تھا۔ اس کی کٹی ہوئی انگلیوں سے خون رِس رہا تھا۔ میرے کالم کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی۔ گذشتہ کالم کو ابھی چند گھنٹے← مزید پڑھیے