• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دامن کو ذرا دیکھ(چوبیس آیاتِ قرآنی کے اخراج کا مطالبہ)۔۔حصّہ اوّل/پروفیسر سید عاصم علی(کناڈا)

دامن کو ذرا دیکھ(چوبیس آیاتِ قرآنی کے اخراج کا مطالبہ)۔۔حصّہ اوّل/پروفیسر سید عاصم علی(کناڈا)

“جو ھِنسا اس دنیا میں وید کے حکم کے موافق ہے اسکو ھِنسا یعنی جان کُشی نہ جاننا چاہیے کیونکہ وید ہی سے دھرم نکلا ہے۔”
(منو سمرتی، ۵:۴۴)

مثل پرانی سہی پھر بھی ذرا غور فرمائیں اور سر دھنیں کہ ایک صاحب کے دروازے غلاظت کا ابنار لگا ہو اور وہ حفظانِ صحت کے اصولوں کی جانب آپکی توجہ مبذول کرائیں اور فرمائیں کہ ”حضرت! صاف ستھرے رہا کیجیے، آپکی لاپرواہی سے پورا شہر بیمار ہوا جاتا ہے۔“ کچھ ایسا ہی معاملہ ان لوگوں کا ہے جو بعض انتہاپسند تنظیموں کے پلیٹ فارم سے   چوبیس قرآنی آیات کے اخراج کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔ (اس معاملےنے لکھنؤ کے ایک مشکوک کردار کوابھی حال میں اتنا بے چین کیا کہ اس نے اپنا شیعہ مذہب چھوڑ کر ہندو دھرم اپنا لیا۔ بتوں کی پوجا شروع کر دی۔ اور باستثناء حضرت علی تمام مقدس ہستیوں بشمول رسالتمآب ﷺ کے لیے دشنام گوئی پر اتر آیا۔ اور اسطرح قرآن اور ہندو کتب مقدسہ دونوں سے ناواقفیتِ محض کا زندہ ثبوت بن گیا۔ اسکوبرہمنی لٹریچر سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو خواہ ملحد ہو جاتا، ہندو نہ بنتا)۔ لیکن یہ کوئی نیا شوشہ نہیں ہے۔ اب سے تقریباً دو عشرے پہلے وشو ہندو پریشد زور و شور سے یہی راگ الاپ چکی ہے اور اس سے دو عشرے پہلے سنگھی رسالہ”پنچ جنیہ” یہی مسئلہ چھیڑ چکا ہے۔ بلکہ اس سے بھی بہت پہلے انیسویں صدی کی آخری چوتھائی میں آریہ سماج کے بانی مول شنکرگجراتی (عرف سوامی دیانند سرسوتی) نے اس مسئلے کو اپنی تصنیف “ستیارتھ پرکاش” (۱۸۷۵ء) میں پوری شدومد سے اٹھا یا کیا بلکہ ایجاد کیا تھا۔ اس نے بعض آیات پر فرداً فرداًسطحی قسم کے اعتراض وارد کرتے ہوئے یہ نتیجہ برآمد کرنیکی کوشش کی تھی کہ جو آیات اس قسم کے فتنہ و فساد کی تعلیم دیتی ہوں وہ منجانب اللہ نہیں ہو سکتیں، ورنہ بصورت دیگر ان آیات کا نازل کرنے والا خدا (نعوذ باللہ) سخت ظالم، جانبدار اور بے رحم قرار پاتا ہے۔ اب ہمارے زمانے کا “پنچ جنیہ” ہو یا شیعہ سے ہندو ہوجانے والے قسم کے سطحی افراد۔ ان کی معلومات کا واحد مأخذ سوامی دیانند کی وہی تحریریں ہیں جن کو یہ فِتّین وقتاًفوقتاً مسلمانوں کو چِڑانے اور مشتعل کرنے کیلئے استعمال کرتے رہتے ہیں۔ورنہ کسی کو یہ وہم نہیں کہ ان لوگوں نے کبھی قرآن پڑھنے یا سمجھنے کی واقعی کوئی سنجیدہ کوشش کی ہو گی۔ اِن لوگوں کے خیال شریف میں قرآن کی یہ ’چوبیس آیات حسد، عداوت، تصادم، لوٹ مار اور قتل وغیرہ کے احکام پر مبنی ہیں اور یہی آیات مسلمانوں کے درمیان اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں فسادات اور کشت و خون کی ذمہ دار ہیں۔ جب تک ان آیات کو قرآن سے خارج نہیں کیا جاتا، فتنہ وفساد کا سلسلہ تھم نہیں سکتا۔اس طرزفکر میں صاف طور پرتین مفروضات دیکھے جا سکتے ہیں،: یعنی یہ کہ

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

(۱) ان آیات کے نزول سے پہلے یہ دنیا اور خصو صاً آریہ ورت (یعنی آریوں کی سرزمین جس کو مسلمانوں نے ہندوستان کا نام دیا) امن وامان کا گہوارہ تھے،

(۲) ان آیات کے نزول کے بعد دنیا اور آریہ ورت جنگ و جدال سے بھر گئے کہ ان آیات میں کافروں کو مارنے کا حکم دیا گیا تھا، اور

(۳) اگر ان آیات کو قرآن سے نکال دیا جائے تو دنیا اورآریہ ورت پھر سے امن کا گہوارہ بن جائیں گے (گویا مسلمانوں کے کافروں کو مارنے کے علاوہ ھِنسا یعنی تشدد کی کوئی اور شکل اس دنیا میں نہیں پائی جاتی)۔

ضمناً عرض کردوں کہ برہمن دھرم (جس کو مسلمانوں نے ‘ہندو دھرم’ کا نام دیا) کے مطابق شمالی ہند کے تین حصّے ہیں۔ مغربی حصّہ جو اب پاکستان کہلاتا ہے انکا “دیو ورت” یا “برہما ورت” ہے یعنی “ارض ِخداوندی” جس پر انکا دعوئ ملکیت چلا آتا ہے۔ دریائے سندھ سے تقریباً بنارس تک کا درمیانی علاقہ انکا “رشی ورت” ہے یعنی “ارض اولیاء”۔ پھر خلیج بنگال سے لے کر بحر ِعرب تک اور جنوب میں وندھیاچل تک مجموعی طور پر ہے “آریہ ورت” یعنی آریہ قوم کا وطن۔ اب ان علاقوں کو چھوڑ کرباقی پوری دنیا ہے “ملیچھ دیشو” یعنی ناپاک، بدمعاش یا رذیل لوگوں کا مسکن۔ (دیکھو منو سمرتی، پہلا ادھیائے، ۱۷۔۲۳)
—————————-
٭ اس مضمون میں وید منتروں کے ترجمے کے لیے دیانند سرسوتی کے “یجر وید بھاشیم” کو بنیاد بنایا گیاہے، لیکن وضاحت کی غرض سے درج ذیل تراجم سے بھی مدد لی گئی ہے:
۔ “یجر وید کا اردو ترجمہ”، عبدالحق ودیارتھی، 19271
“The Yajur Veda,” English translation by Devi Chand M. A., 1959۔2
3۔”یجر وید”، مترجم آشو رام آریہ (اردو ترجمہ)، 1984
“Gautama Dharmasurta” in “Dharmasutras” by Patrick Olivelle, New York, 19994۔
۔”منو سمرتی یعنی مانو دھرم شاستر بھرگ سنہتا، سنسکرت مع ترجمۂ ارد”و ، “مرتبۂ لالہ سوامی دیال صاحب، مطبع نولکشور، کانپور، 1908، مولانا آزاد لائبریری، علیگڑھ مسلم یونیورسٹی۔5
نوٹ: میں اپنے عزیز دوست، معروف صحافی محمد غزالی خان صاحب مد ظلہٗ (لندن) کا ممنون ہوں کہ انھوں نے اس طویل مضمون کو نہ صرف بغور پڑھا ، بلکہ مفید مشوروں سے بھی نوازا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں کی جانب سے جس قسم کے جواب سو سوا سو سال پیشتر دیئے گئے تھے وہی اب بھی دہرادیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایک سکہ بند جواب انکی طرف سے یہ سامنے آتاہے کہ ان آیات سے پہلے ان کا شانِ نزول دیکھو، جو یہ ہے کہ مکہ والوں نے آنحضو ر ﷺ کو ستا مارا تھا تِس پر اس قسم کے وقتی احکام دیئے گئے۔ لیکن اس طرح کے جوابات سے نہ صرف یہ کہ بات نہیں بیٹھتی بلکہ کچھ نئے سوالات اوراُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ مثلاً یہی کہ کیا قرآن پاک کی بعض آیات کی نوعیت عارضی تھی اور وہ اپنا فوری مقصد پورا کر چکنے کے بعدعملاً منسوخ ہو چکی ہیں اور کیا وہ قیامت تک کیلئے قابل ِعمل یعنی applicableنہیں ہیں؟ اگر ہاں، تو یہ جواب بنیادی اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے،جو یہ ہے کہ پورا قرآن قیامت تک کیلئے مأخذ ہدایت ہے، اس میں کچھ قابل تنسیخ نہیں۔ مزید افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلم عوام میں اب بھی اُسی قسم کے ردِ عمل دیکھنے میں آتے ہیں جو سو سال پیشتر دیکھے جاسکتے تھے، مثلاً جلسہ جلوس، غصے کا بے پناہ اظہار، خود اپنی املاک کی تباہی، جذباتی بیانات اور گرفتاری کا مطالبہ وغیرہ۔ اور پھر اسکے بعد اگلی چھیڑ خانی تک ایک مہیب سناٹا۔ ثابت یہ ہوتا ہے کہ باوجود سر سیدؒ اور علیگڑھ تحریک کے ہماری قوم کے دانشورانہ اور سماجی شعور میں ان سوا سو سالوں میں برائے نام ہی ترقی ہو پائی۔ پھر ہونا کیا چاہیے؟ میری ناقص رائے میں دو باتیں محل نظر ہیں:

(۱) عوامی سطح پر ہر قسم کے اعلانات، جلسے جلوس، گرفتاری کے مطالبات وغیرہ سے مکمل اجتناب کہ یہ آپکا روایتی متوقع ردعمل ہے جس سے چھیڑ خانی کرنے والا لطف لیتا ہے اور اگر آپ مشتعل ہو کر سڑکوں پراتر آئیں تو آپکا قتل عام کرتا ہے۔ بالفرض، اسطرح کا ردعمل نتیجہ خیز ہواکرتا تو چھیڑ خانیوں کا سلسلہ کب کا تھم چکا ہوتا، اور

(۲) روایتی تشریح سے ہٹ کر ایسی تشریح جو معقول، مُسِکت اور قائل کن ہو، اسلئے کہ آپکی روایتی تشریح میں اگرجان ہوتی تو اسطرح کے اعتراضات کب کے ہواہو گئے ہوتے۔ اور یہ تشریح شان نزول کی روشنی میں نہیں بلکہ حالات حاضرہ کی روشنی میں ہو۔

شان نزول غیر مستند، غیر محفوظ اور اختلافی ہے جبکہ قرآن محفوظ، مستند اورغیراختلافی۔چنانچہ غیر مستند کی روشنی میں مستند کے معنی کیونکر متعین ہو سکتے ہیں؟ یہ تو ایسا ہی ہوا کہ چراغ کی روشنی میں سورج کی تلاش۔ البتہ قرآن کی روشنی میں شان نزول کی حیثیت ضرور متعین کی جا سکتی ہے۔ یہ اسلئے ضروری ہے کہ اگر ان آیات کا تعلق صرف رسول اکرم ﷺ کے دور سے تھا اور اب انکی کوئی ضرورت نہیں تو پھر انکے قرآن میں رہنے نہ رہنے سے کیا فرق پڑتا ہے، اور انکو نکالنے کی بات پر آپکو غصہ کیوں آتا ہے؟ آپ تو خود ہی ثابت کررہے ہیں کہ یہ عملاً منسوخ ہیں۔ لیکن اگر ان کو قرآن میں ہمیشہ رہنا ہے تو پھر انکی اطلاقیت applicability بھی ہمیشہ باقی رہے گی اور اس صورت میں ایک مثبت، عقلی،عصری اور تطبیقی تشریح کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اور ان دونوں کاموں کیلئے سماجی، قائدانہ اور دانشورانہ پختگی کی ضرورت ہے، نہ کہ صرف روایتی، تقلیدی اور جذباتی ردعمل کی۔ پہلا کام سیاسی قائدین کا ہے اور دوسرا عصری آگہی رکھنے والے روشن دماغ، عقلیت دوست، مستقبل بین، غیر جذباتی، اسلامی مفکرین کا۔

زیرنظر مضمون کا مقصد صرف اتنا ہے کہ

( ۱) اُس شقی استحصالی طبقے کو آئینہ دکھایا جائے جو ہندوؤں اور مسلمانوں دونوں کو گمراہ کر کے معصوم انسانی خون کی قیمت پر صرف اپنے غیر انسانی ،نسلی اور طبقاتی مفادات کو محفوظ کرنے میں لگا ہے۔( ۲) ہندوؤں کے سواد اعظم کو ہوشیار کرنا ہے کہ مسلمانوں سے چھٹی پا کریہ طبقہ آپ کو اسی طرح غلام بنانے کے فراق میں ہے جیسا کہ ماضی میں آپ تھے، بلکہ اسکا اصل ہدف یہی ہے۔

( ۳) اور مسلمانوں سے یہ کہنا ہے کہ آپ احساس کمتری کا شکا ر ہوں نہ مشتعل بلکہ اس طرح کے مطالبات کرنے والوں سے کہیں کہ “Put your own house in order first. “۔درج ذیل سطور میں اس جملے کا مفہوم واضح ہوجائیگا۔

اگرسنگھی ٹولے جیسے مخلص شانتی پریمیوں اور فرقہ واریت کے جانی دشمنوں کو فساد اور قتل و غارت گری سے واقعی نفرت ہوتی تو وہ صرف قرآن پاک کی ہی بعض آیات کی منسوخی کی آواز نہ اٹھاتے بلکہ سب سے پہلے خود اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھتے اور خود اپنی دھارمک پستکوں (مذہبی کتب) اور گرنتھوں کے ان اشلوکوں اور منتروں کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے جو سراسر ناانصافی ، نسل پرستی، منافرت اور بربریت کی تعلیمات پر مبنی ہیں۔ اور جن اصلی ہندستانی طبقات پر ہزاروں سال سے مظالم ڈھائے جاتے رہے ہیں ان سے اپنی اور اپنے پُرکھوں کی پُر تشدد بد سلوکی کیلئے غیر مشروط معافی مانگتے، ان کو برابری کا درجہ دیتے ، ان سے شادی بیاہ کے تعلقات قائم کرتے، اور مندروں میں ان کو پجاری بناتے، وغیرہ۔ اسکے بعد ہی وہ دوسرے مذہب والوں سے کسی قسم کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتے تھے۔ لیکن صدیوں پر پھیلی تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کو نفرت فتنہ و فساد سے نہیں بلکہ غیر ہندوؤں کے وجوداور انکے مذاہب سے ہے۔ لہذا، اقلیتوں کی بیخ کنی کرنے، ان کو ناستک (کافر)، ملیچھ (نجس)، راکشس (شیطان) اور دُشٹ (بدباطن) سمجھنے اور انکے مذہبی مقامات کو تہس نہس کرنے کی غرض سے ان سے جو بن پڑتا ہے کرتے رہتے ہیں کیونکہ ان چیزوں کی واضح تعلیم انکواپنی مذہبی کتب بشمول ویدوں وغیرہ میں ملتی ہے۔ مسلمانوں ،عیسائیوں اور دلتوں یعنی اصل ہندستانیوں پر دن بدن بڑھتے مظالم اسی کا نتیجہ ہیں۔ مسلم اقلیت ان کی نسلی بالادستی کی راہ کا سب سے بڑا روڑا ہے کیونکہ مذاہب کے اس بحر ِمردار میں اسی اقلیت کا دین باوجود تمام تر خواری کے اپنا وجود اورانفرادی تشخص ہنوز برقرار رکھے ہوئے ہے اور اس کانِ نمک میں نمک بننے پر آمادہ نہیں ۔ یعنی ایک گیا گذرا مسلمان بھی مسلمان ہی رہنا چاہتا ہے’محمدی ھندو‘ بننے پر راضی نہیں۔

سنگھی ٹولےکے ظلمت پسندوں کی بے خبری کا یہ عالم ہے کہ جن باتوں کو لے کر وہ اسلام پر اعتراض ٹھونکنے میں جلد بازی سے کام لیتے ہیں انکو ہوش نہیں کہ ان سے کہیں زیادہ قابل اعترا ض باتیں خود انکی اپنی مذہبی کتابوں میں پائی جاتی ہیں۔ ملک کی تمام ہندو آبادی جو کل آبادی کا تقریباً ۸۰ فیصد ہے یہ پختہ عقیدہ رکھتی ہے کہ “وید” وغیرہ جیسی کتابیں الہامی، مقدس اور ازلی اور ابدی ہیں۔ شری کرشن “گیتا” میں فرماتے ہیں کہ ”میں ہی ویدوں کو جاننے والا اور فلسفۂ ویدانت کا مصنف ہوں“(۱۵: ۱۵)۔ علاوہ ازیں، “منوسمرتی” ہندو شرعی قوانین کا مستند ترین مجموعہ ہے جو ویدانتیوں اور آریہ سماجیوں دونوں کو قابل قبول ہے۔ اور“شریمد بھگود گیتا” کو براہ راست خدا کا کلام مانا جاتا ہے کہ یہ وعظ وشنو کے آٹھویں اوتار شری کرشن کے منہ سے میدان جنگ میں ادا ہوا (وہاں سے سو میل دور بیٹھے ہوئے سنجے نے خدائی بصیرت کے ذریعے اسکا زندہ مشاہدہ کیا ) اور محفوظ کر لیا گیا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوؤں کی اکثریت اس بات سے واقف ہی نہیں کہ ان کتابوں میں لکھا کیاہے اور اسکے اصلی ویدک (یعنی ہندو) دھرم کے عناصر ترکیبی تھے کیا۔ انکو خبر ہی نہیں کہ انکی اپنی دھارمک پستکوں میں کیسے کیسے جنگ و جدل پر اکسانے والے منتر اور اشلوک پائے جاتے ہیں۔جن کا کوئی مقابلہ قرآن یا خاصی تک بائبل سے ممکن نہیں۔ ہندو عوام اس بات سے نا بلد ہیں کہ انکے دینی وجود میں جو نسل پرستی، نارواداری، درشتی، غیر ہندوؤں کو دشٹ اور ملیچھ سمجھنا، عدم مساوات، ظلم و استحصال، ھِنسا جوبسا اوقات بربریت کی حد کو پہنچ جاتی ہے (جس کا اظہار انسانی قربانی، ستی، نو بیاہتا اوردیگر انسانوں کو آگ میں زندہ بھوننے کے واقعات سے ہوتا رہتا ہے) اِسی ہزاروں سال پرانی مذہبی روایت کا شاخسانہ ہے جو انکی دینی شخصیت کے رگ و ریشے میں پیوست ہے اور جسکا عملی اظہار اَھِنسا (عدم تشدد) کے تمام تر پروپیگنڈے اور گاندھی اِزم کے باوجود ہوتا رہتا ہے (کچھ برس پہلے پنّا نامی مقام میں ستی کا بھیانک واقعہ ہوا تھا جس میں جنونی ہجوم نے مبینہ طور پرنہ صرف یہ کہ بیوہ خاتون کو بچانے کیلئے کچھ نہیں کیا بلکہ اُلٹے جلتی چتا پرجا بیٹھنے کیلئے اُکسایا، اور اسکے کچھ دنوں بعد دیوی دیوتاؤں کی خوشنودی کے واسطے بچوں کی عارضی تدفین کی دل دہلادینے والی مذہبی رسم ادا کی گئی جس کو ڈاکٹر کرن سنگھ نے ’بربریت‘ سے تعبیر کیاتھا ) ہِنسا کیلئے انکی داخلی پسندیدگی کا اظہار اس سے بھی ہوتا ہے کہ فسادات کے نام پر یک طرفہ کشت و خون کے ہر دور کے بعد ہندوؤں کا سواد اعظم تشدد اور غارتگری کی نمائندہ قوتوں کے خلاف متحد ہونے کے بجائے انکا مزید حمایتی بن جاتا ہے۔اسی سبب انکی تعداد پارلیمان میں دو سے بڑھ کر دو سو تک پہنچ جاتی ہے اور پھر عظیم اکثریت میں بدل جاتی ہے۔گجرات کے قتل عام کے بعد ہی مودی کی شہرت اور گرویدگی میں بے پناہ اضافہ ہوا جس نے اس کو گجرات سے دہلی پہنچایا اور وہ اب تک طاقتور ترین وزیر اعظم چلا آتا ہے۔ روشن خیال مغربی تعلیم یافتہ ہندوؤں کی ایک معتدبہ تعداد انکی پُر زور مخالفت ضرور کرتی ہے مگر اقلیت میں ہونے کی وجہ سے انکی آواز حالات کا رخ نہیں موڑ سکتی۔ بلکہ اب تو وہ بھی کسی حد تک ہتھیار ڈالتے اور فسطائی وَیدِ ک قوتو ں کے ہمنوا ہوتے چلے جارہے ہیں۔

چونکہ فِتّین حضرات کو شاید تلاوت قرآن سے ہی فرصت نہیں ملتی اس لئے ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ انکے علم میں لے آئیں کہ انکی اپنی مقدس کتابوں میں وہ کون سی آیات ہیں جو دنیا میں پھیلے ہوئے فتنۂ وفساد کی اصل جڑ ہیں تا کہ وہ ان کو فی الفور اپنی کتابوں میں سے خارج کر سکیں اوران پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر سکیں اور اس طرح بھارت ورش میں فرقہ وارانہ منافرت کو اور کشت و خون کومزیدپھیلنے سے روکا جا سکے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کی طرف توجہ دلانے کے لئے ہم اپنے کرم فرماؤں کے شکریے کا بہترین طریقہ یہی سمجھتے ہیں اور ہمار ااخلاقی فرض بھی یہی ہے کہ انکا دھیان انکے اپنے دروازے کی غلاظت کی جانب آکرشت کرادیں۔

ہندو دھارمک پستکوں میں چار ویدوں کا استھان سب سے اونچا ہے۔ مانا جاتا ہے کہ یہ سرشٹی (ابتدائے کائنات) کے ساتھ ہی پرکٹ (ظاہر) ہوئے۔ آریہ سماج کے بانی سوامی دیانندسرسوتی جی کے بقول جو ویدوں کے بڑے بھاری عالم تھے ان کتابوں کو معرض وجود میں آئے ”ایک ارب چھیانوے کروڑ کئی لاکھ اور کئی ہزار برس ہوئے ہیں“ (“ستیارتھ پرکاش”،اردو ترجمہ،چموپتی،۱۹۴۳،صفحہ۲۲۵)۔ مزید یہ کہ کلمۂ الٰہی ہونے کی وجہ سے ان ”ویدوں میں جھوٹ اور تضاد ذرابھی نہیں“ اور یہ ”مستند بالذات ہیں“۔ آئیے دیکھیں کہ سچّدانند ایشورکے منہ سے نکلی ان سچی کتابوں میں دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کوابتدائے آفرینش میں ہی کیا درجہ دیا گیا ہے اور انکی جانب کس سلوک کو روا رکھا گیا ہے(بایں صورت کہ ابھی دیگر مذاہب اور انکے ماننے والے بلکہ تمام انسان پیدا ہونا باقی تھے)۔ اس سلسلے میں بجائے کسی ویدانتی کی تفسیر کے سوامی دیانند جی کے اپنے “وید بھاش” کے ترجمے سے مدد لینا مناسب ترین بات ہو گی:
۱۔”اے سپہ سالار، ۔۔۔ طاقت ور راجا کی طرح اپنے طاقت کے ساتھ تیز جال کے ذریعے سے سب دشمنوں کو تہس نہس کرنے والے، انتہائی مہلک ہتھیاروں سے اور پھانسیوں میں باندھ کر دشمنوں کو تیروں اور دیگر ہتھیاروں سے دردناک ایذا پہنچائیے۔” (یجر وید ۱۳:۹)
۲-“آگ کے شعلے کے مانند جاہ و جلال والے سپہ سالار! اپنے سپاہیوں کوہر جانب سے برسنے والے برق رفتار آسمانی شعلے کی مانند دشمنوں کے دَل میں گرنے دے۔  بے پناہ طاقت کے ساتھ، مہلک ہتھیاروں کو آ گ کے شعلوں اور لپٹ کے ساتھ دشمنوں کے اوپر ہر طرف سے بارش کر دے۔” (یجر وید ۱۳:۱۰)
۳-“اے آگ کی مانند دشمنوں کو جلانے والے پُرُش! تیز رفتاری کے ساتھ اپنے اور ہمارے خبیث اور بدباطن دشمن کو ، خواہ وہ دور ہو یا نزدیک، سخت سزا سے دوچار کر تا کہ وہ ہم کو دکھ نہ دے سکے!” (یجر وید ۱۳:۱۱)
۴۔”اے سخت عذاب دینے والے راج پرش!آپ دھرم کے مخالف دشمنوں کو آگ میں جلا ڈالیں۔ اے جاہ و جلال والے پرش! وہ جو ہمارے دشمنوں کو حوصلہ دیتا ہے، آپ اسکو الٹا لٹکا کر خشک لکڑی کی طرح جلائیں“۔ (یجر وید۱۲: ۱۳) اسکی وضاحت میں دیانند لکھتا ہے کہ “آگ کی مانند دشمنوں کو جلائیں۔”
۵۔ ”اے تیج دھاری ودوان پرش )اے جاہ و جلال والے عالم شخص(!آپ دھرم کے مطابق خبیث دشمنوں کو ایذا دیجئے۔۔۔آپ تیز رو دشمن کے کھانے پینے یا دیگر کام کاج کے مقامات کو اچھی طرح اجاڑدیں اور انکو اپنی تمام طاقت سے ماریں۔۔۔“۔ (یجروید۱۳: ۱۳)
۶ ۔ تیرے لے جانے والے شعلے کے لئے تعظیم ہو۔۔۔ ۔ تیرے ہتھیار اور تیری ہتھیار بند فوج ہم سے مختلف دوسرے دشمنوں کو ایذا پہنچائیں۔۔۔” (یجر وید ۱۷:۱۱ اور ۱۷:۷)
۷۔ اے برہسپتی (دیوتا) ، دھرم والوں کی حفاظت کرنے والے، راکشسوں کےذبح کرنے والے ،دشمنوں کو دفع کرنے والے، رتھ کے ساتھ اڑتے ہوئے،دشمنو ں کو اچھی طرح عذاب دیتے ہوئے،جو دشمن فوج کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے ہوئے جنگ سے مار کر جیتنے والا ہے۔ وہ ہمارے رتھوں کی حفاظت کرنے والا ہو۔” (یجر وید ۱۷:۳۶)
ان آیاتِ وید میں ویدک دھرم کے نہ ماننے والوں کو دشمن ، دُشٹ ، خبیث اور راکشس قرار دیا گیا ہے اور انکوآگ میں جلانے، اذیت دے دے کر مارنے،ذبح کردینے، قیمہ بنا دینے، الٹا لٹکا کر جلانے کے ساتھ ساتھ انکی آبادیوں اور معیشت کو نیست و نابود کردینے کا صاف حکم دیا جا رہا ہے۔ اور اس میں بجائے اکراہ کے تلذذ کا عنصر خوب محسوس کیا جاسکتا ہے۔ چنانچہ واضح ہو کہ گذشتہ کئی عشروں سے ہندوستان میں ان جیسے الٰہی احکام پر پابندی سے عمل جاری ہے۔علاوہ متعدد مثالوں کے اسکی ایک نمایاں ترین مثال گجرات کا قتل عام تھا جہاں ان احکامات کی جزئیات پر عمل کرتے ہوئے نہ صرف غیر ہندوؤں کو آگ میں بھونا گیا ، بلکہ زندہ حاملہ عورتوں کے پیٹ چیر کر بدترین اذیت کے ساتھ حاملہ و حمل دونوں کو سپرد آتش کر دیا گیا۔ مسلمانوں پر قہر توڑ دیا گیااور انکے مکانوں دکانوں اور تجارتی اداروں کو پوری طرح اجاڑ دیا گیا۔ (ملاحظہ فرمائیں چند اعترافات: https://www.youtube.com/watch?v=mfnTl_Fwvbo&t=27s)
ہر مسلم کش فساد میں کم و بیش یہی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ اس بہیمیت کو جو لوگ پیشتر نہ سمجھ پائے ہوں گے ان منتروں کی روشنی میں سمجھ سکتے ہیں۔آگے دیکھئے:
۸۔”۔۔۔ جس موذی کی ہم لوگ مخالفت کرتے ہیں، یا جو ایذا دینے والاہماری مخالفت کرتا ہے، اسکو ہم شیر وغیرہ جیسے درندوں کے منہ میں ڈال دیں“۔ (یجروید۱۵: ۱۵)
۹۔”جو ناپاک اعمال کریں انکو ہتھیاروں سے زیر کرنا چاہیے۔ ۔۔۔ جس دُشٹ (دشمن)سے ہم دُویش(دشمنی) کریں، یا جو دشٹ ہم سے دویش کرے، ہم اسکو ان شیر جیسی ہواؤں کے جبڑوں میں رکھ کرہلاک کریں“۔(یجروید۱۶: ۱۵)
۱۰۔ ”۔۔۔ ہم لوگ جس سے دشمنی کریں، اور جودُشٹ ہم سے دشمنی کرے، اسکو ہم شیر وغیرہ کے منہ میں ڈال دیں۔ راجہ وغیرہ بھی اسکوشیروغیرہ کے منہ میں ڈال دے“۔ (یجروید۱۷: ۱۵)
۱۱۔ “۔۔۔ وہ جس سے ہم دشمنی کریں اور جو ہم سے دشمنی کرے ہم اسکو ان پانی اورہواؤں کے ایذا رساں منہ میں ڈال دیں، ویسے تم لوگ بھی کرو۔” (یجروید۱۵:۱۸)
۱۲۔”ہم لوگ جس دشٹ سے دویش کریں، یا جو ہم سے دویش کرے، اسکو ہم لوگ خونخوار جانوروں کے منہ میں ڈال دیں۔ تم لوگ بھی ایسا ہی کرو“۔(یجروید۱۹: ۱۵)
۱۳”۔۔۔جس سے ہم دشمنی کرتے ہیں اور جو ہم سے دشمنی کرتا ہے اسکو ہم ان رودّروں (ایک خوفناک خلائی مخلوق) کی ڈاڑھ میں دیتے ہیں۔” (یجروید ۶:۶۴ ۱)
۱۴۔ ”جن سے ہم لوگ نفرت کرتے ہیں، یا جنکو ہم ناراض کرتے ہیں، یا جو ہم کو دکھ دیتے ہیں، انکو ہم ان ہواؤں کے منہ میں ڈال کر اسطرح دکھ دیں جس طرح بلی کے منہ میں چوہا“۔(یجروید۶۶۔۶۵: ۱۶)
۱۵۔ ”۔۔۔ جو کوئی ادھرمی ڈاکو ہم لوگوں کی مخالفت کرتا ہے، یا جس دشٹ دشمن کی ہم لوگ مخالفت کرتے ہیں، تم اس خبیث بدکردار دشمن کو مختلف زنجیروں سے جکڑو، اور اسکو ان زنجیروں سے کبھی آزاد مت کرو“۔(یجروید۲۶۔۲۵: ۱)
۱۶۔ ”۔۔۔جیسے میں دشٹ فطرت والے دشمن کو مارتا ہوں ویسے ہی تم لوگ بھی اسکو مارو۔۔۔اے دشٹ انسان! تو کبھی بھی ہدایت کی روشنی حاصل نہ کر سکے۔ تیرا آنند دینے والا علم کا رس تجھے کبھی بھی آنند نہ دے۔۔۔“۔ (یجروید۔۲۶: ۱)
۱۷۔ ” جنگ میں دشمنوں کی فوجوں کو ہر طرف سے مارتی اور ان پر فتح پانے کی خوشی سے سرشاران علما  کی فوج فتح کرنے والی اور قتل و غارت کرنے والی فوج کا کمانڈر پیچھے چلے۔۔۔۔” (یجروید ۱۷:۴۰)
۱۸۔”۔ ۔۔ہیبت اور ڈر دکھانے والے] یعنی دہشت گرد [ کی تعظیم۔ دشمنوں کو باندھنے والے کی تعظیم۔ سامنے کے اور دور کے دشمنوں کوباندھنے اور قتل کرنے والے کے لئےتعظیم۔ دشٹوں کو قتل کرنے والے اور کثرت سے قتل کرنے اور انکا قلع قمع کرنے والے کے لئے بھی تعظیم۔ دشمن کو کاٹ ڈالنے والے کی تعظیم ۔۔۔۔”( یجروید، ۱۶:۴۰)

ذرا ان آیات کی اخلاقیات پر غورفرمائیں کہ جن میں ایشور ابتدائے آفرینش میں ہی مستقبل میں پیدا ہونے والے آریوں (یا دورِ حاضر کے ہندوؤں ) کو یہ حکم دے رہا ہے کہ وہ اپنے مخالفین یعنی غیر آریاؤں کو شیر سے پھڑوا ڈالیں، ہوا میں الٹا لٹکا کر اور بدترین اذیت دیکر ماریں، ان پرآسمان سے آگ برسائیں، خونخوار جانوروں سے چِروا ڈالیں اور ایسی وحشیانہ اذیت دیکر ماریں جو چوہے کو بلی کے دانتوں تلے چبتے ہوئے ہوتی ہو گی، یا کم از کم حبس دوام میں ڈال دیں۔ مگر ان احکام الٰہی میں جو چیز سب سے بڑھ کر انصاف کے گلے پر چھری پھیرتی نظر آتی ہے وہ یہ ہے کہ خواہ آریہ ہندو کسی سے دشمنی کریں یا کوئی دوسرا غیر آریہ ہندوؤں سے دشمنی کرے، دونوں صورتوں میں اذیت ناک موت سے دوچارغیر ہندو کو ہی ہونا پڑیگا۔ یعنی دشمنی کرنے والا دونوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے، مگر شیر اور درندوں کے منہ میں اسی کو ڈالا جائے گا اور ہوا میں الٹا لٹکا کر اسی دُشٹ کو جلایا جائیگا ، اور آگ اسی پر برسائی جائے گی جوآریہ یا ہندودھرم کا پالن نہ کرتا ہو۔ اور اگرشانتی پریمی عوام خود ایسا کرنے پر قادر نہ ہوں تو راجہ (یعنی حکومت وقت) کی مدد سے اپنے دشمن کو بدترین ایذائیں پہنچوائیں اور موت کے گھاٹ اتروائیں۔ یعنی جو ہمارا دشمن اسکی سزا تو ہے ہی موت اور جس کے ہم دشمن اسکی سزا بھی موت۔گجرات کے قتل عام میں یہی دیکھنے میں آیا تھا کہ راجہ نے دشٹوں اور ملیچھوں کے خاتمے کیلئے ہنسا پر اُتارو پرجا کا پورا ساتھ دیا تھا۔ اورمہا راجہ(مرکزی حکومت) نے اس راجہ کی صوبائی حکومت کو ہر ممکن تحفظ فراہم کر کے بالواسطہ اسکے اعمال کی توثیق کی تھی۔ جب ملک کےمہا راجہ (اُسوقت کے وزیر اعظم) نے صوبائی راجہ (وزیر اعلیٰ ) سے یہ کہا کہ”راجہ کو راج دھرم کا پالن کرنا چاہیے” تو راجہ مودی نے مسکرا کر بر سر ِعام جواب دیا کہ “ہم بھی وہی کر رہے ہیں صاحب۔” جانے کتنے لوگ سمجھ پائے ہوں گے کہ مہا راجہ نے دراصل کیا کہا اور راجہ کی مسکراہٹ کا کیا مطلب تھا! مہا راجہ نے در اصل انہی احکام الٰہی پر عمل کی تاکید کی (جس کو’ویدک راج دھرم‘سے لاعلمی کے سبب مظلوم اپنی حمایت سمجھے) اور راجہ نے جواباً تصدیق کی کہ میں انہی ازلی اور ابدی احکام پر عمل پیرا ہوں جن کی طرف آپکا اشارہ ہے جس پرمہا راجہ نے اسکی کوئی سرزنش نہیں کی۔ مزید ثبوت یہ کہ اُس قتل عام پر نہ اسکو برطرف کیا نہ کوئی بازپرس کی۔ جو لوگ اس پُر اسرار مکالمے کو اُس وقت سمجھ نہیں سکے ہوں گے اب ان منتروں کی روشنی میں بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ (اُس مکالمے کے لیے دیکھئے یہ کلپ:https://www.youtube.com/watch?v=G-lm3kDJDB4)

Advertisements
julia rana solicitors

جاری ہے

  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply