بس آج یونہی یاد آگئے یہ سب۔۔ڈاکٹر مجاہد مرزا

میرے والد مرزا محمد رفیق صاحب کے دو بھائی تھے۔ بڑے مرزا محمد صِدٌیق صاحب اور چھوٹے مرزا محمد یامین صاحب۔ تایا جی کو میں نے بچپن میں دیکھا تھا جب وہ نسیاں کا شکار تھے۔ وہ گورکھ پور میں ڈرائنگ ٹیچر رہے تھے اور فراق گورکھپوری کے احباب میں سے تھے۔ ان کی اولاد خالص اردو بولتی تھی۔ البتہ ان کی ایک بیٹی پنجابی بولنے والے شوہر کی ہمسری میں پنجابی بولنے لگی تھیں۔ میں ایک بار پاکپتن ان کے ہاں گیا حسب معمول خالی ہاتھ تو انہوں نے کہا تھا، ہتھ لمکا کے آ گیا ایں۔
چاچا جی کا تو ابا کے فوت ہونے کے کئی سال بعد انتقال ہوا تھا۔ وہ عمر بھر سول ہسپتال اوکاڑہ میں بطور کمپاونڈر کام کرتے رہے تھے۔ بے حد کم گو اور شریف النفس انسان تھے۔ ہماری چچی اتنی ہی تیز مزاج اور تیز تیز اونچا بولنے والی خاتون تھیں۔ میں بیاہ کے بعد اپنی بیوی کے ساتھ ان کے ہاں گیا تو بولیں، توں کی نمونہ لے کے آ گیا ایں۔ میری بیوی کا نام میمونہ تھا اور چچی اصل میں اپنی بڑی بیٹی کو مجھ سے منسوب کرنا چاہتی تھیں۔

اب تایا, ابا، چاچا، چاچی کوئی بھی نہیں رہے۔ بس آج یونہی یاد آ گئے یہ سب۔

Advertisements
julia rana solicitors london

میں نے ابا کے بھائیوں کا ذکر کیا تھا۔ تایا تو تھے ہی آرٹسٹ اور سنجیدہ مزاج شخص۔ ابا البتہ بظاہر بہت سخت مزاج تھے مگر دل کے بہت نرم۔ انہوں نے عمر بھر اردو شاید اس لیے بھی نہیں بولی کیونکہ ان کی ہمسر جن کے درمیان ایک ثقافتی فرق تھا، اردو بولتی تھیں اس لیے ابا نے ہمیشہ پنجابی بولی تھی اور تہبند کرتا پہنا تھا, بھلے وقتوں میں سنہری کلاہ پہ طرہ والا خالص پنجاب کا صافہ باندھتے۔
تایا شاید 1949 میں درمیانی اور چھوٹی بیٹیوں کا بیاہ کرنے پاکستان آئے تھے۔ میرے حیات بڑے بھائی مرزا محمد شعیب صاحب نے بتایا کہ وہ ان کا استقبال کرنے واہگہ پوسٹ گئے تھے۔ ان کی بڑی بیٹی آپا رضیہ اپنے شوہر مرزا انور بیگ کے ساتھ پاکستان پہنچ کر راولپنڈی میں مقیم ہوئی تھیں۔ بے اولاد رہیں البتہ شوہر کی مرحوم بیوی کے بیٹے مرزا افضل بیگ کو پالا جو میری ماموں اور پھوپھی زاد بوبو خالدہ کے شوہر ہوئے۔ ان کی عمر 85 برس ہے۔ الله بوبو خالدہ کو صحت دے جنہیں کل کووڈ کی وجہ سے کل ہسپتال داخل کروایا گیا ہے۔
بڑے بیٹے مرزا محمد حبیب صاحب میری بڑی ماموں پھوپھی زاد بوبو سلمٰی کے شوہر تھے تو وہ بھی پاکستان میں تھے جن کے ساتھ بعد میں تایا جی رہے تھے۔ بوبو سلمٰی جلد الله کو پیاری ہو گئیں تو ان کی چھوٹی بہن بوبو خولہ کا ان سے نکاح کر دیا گیا تھا۔
دوسرا بیٹا مرزا محمد ریاض صاحب اور چھوٹا بیٹا مرزا محمد فیاض بھی پاکستان میں تھے۔ بھائی حبیب لاہور ریلوے میں ملازم تھے۔ بھائی ریاض پولیو کی وجہ سے لنگڑے تھے اور اچھے درزی تھے۔ وہ بیوی اور بیٹے کو گورکھپور چھوڑ کے آ گئے تھے۔ بے چین رہتے بالآخر 1965 کی جنگ سے پہلے سرحد عبور کرکے لوٹ گئے تھے۔ بھائی فیاض کو میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ سنا تھا کہ مزدور رہنما تھے کہیں۔
تایا جن بیٹیوں کو لے کے آئے تھے ان میں سے منجھلی آپا عطیہ میرے سب سے بڑے بھائی سے چھوٹے اور بھائی شعیب سے بڑے بھائی مرزا محمد شمیم صاحب کی اہلیہ بنی تھیں اور سب سے چھوٹی آپا ذکیہ ریلوے گارڈ اور میری چچی کے بھائی مرزا صغیر بیگ کی بیوی۔ وہ بھی لاولد رہیں وہی جنہوں نے کہا تھا، ” ہتھ لمکا کے آ گیا ایں “۔
آج جن کا ذکر ہوا ماسوائے بھائی شعیب کے، ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں۔ الله ان سب کی مغفرت فرمائے۔ آمین۔

Facebook Comments

ڈاکٹر مجاہد مرزا
ڈاکٹر مجاہد مرزا معروف مصنف اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ وائس آف رشیا اور روس کی بین الاقوامی اطلاعاتی ایجنسی "سپتنک" سے وابستہ رہے۔ سماج اور تاریخ آپکے پسندیدہ موضوع ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply