آصف محمود کی تحاریر
آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

سیاحت کو سنجیدگی سے لیجیے۔۔۔۔آصف محمود

ناران پہنچے تو دن ڈھل چکا تھا۔ پہلی نظر ہی اداس کر گئی۔ یہ وہ ناران نہ تھا برسوں پہلے جسے آخری بار دیکھا تھا۔ناران تو ایک گوشہ عافیت تھا، شام ڈھلے پی ٹی ڈی سی سے نکلتے تو چھوٹا←  مزید پڑھیے

پاکستان میں افغانستان مخالف جذبات کیوں نہیں؟۔۔۔آصف محمود

پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ ایک ہی زمین پر غزل کہی جا رہی ہے : کیا معاملہ ہے افغانستان کے شہری ہم سے خفا ہیں؟ اس سوال کے جواب میں کچھ وہ ہیں جو اپنے خبثِ←  مزید پڑھیے

ہسپتالوں کا فضلہ کہاں جاتا ہے؟۔۔۔۔آصف محمود

کیا کبھی ہم نے سوچا ہسپتالوں کے باہر جو منوں کے حساب سے فضلہ پڑا ہوتا ہے یہ کہاں جاتا ہے؟ اہل سیاست کو اپنے حساب سودو زیاںسے فرصت نہیں اور اہل فکر نے بھی گویا طے کر لیا ہے←  مزید پڑھیے

اوربابر اعوان بری ہو گئے۔۔۔۔۔آصف محمود

بابر اعوان بری ہو گئے۔ غرورِ عشق کے جس بانکپن کے ساتھ منصب سے مستعفی ہو کر وہ کٹہرے میں آن کھڑے ہوئے تھے ، نکلے تو وہ بانکپن سلامت تھا۔ مقدمہ ایسا نہ تھا کہ دفاع نہ کیا جا←  مزید پڑھیے

ایک ایم این اے اس قوم کو کتنے میں پڑتا ہے؟۔۔۔۔آصف محمود

قومی اسمبلی میں بیٹھے یہ اکابرین، نہ بکنے والے والے ، نہ جھکنے والے ، کردار کے غازی ، بے داغ ماضی ، آپ کے قیمتی ووٹ کے جائز حقدار، کیا آپ کو کچھ خبر ہے ان یہ عظیم فرزندانِ←  مزید پڑھیے

اخوان۔۔۔۔۔۔ آصف محمود

اس میں کیا کلام ہے کہ اخوان عزیمت کا استعارہ بن چکے۔ جس دھج سے کوئی مقتل کو گیا وہ شان سلامت رہتی ہے۔ گریہ عاشق مگر یہ ہے کہ دلوں کو صحرا کھینچتا ہے، کاش عزیمت کے ساتھ کچھ←  مزید پڑھیے

محمد مرسی۔۔۔۔آصف محمود

وہ مالک بن انسؒ تھے ، یہ محمد مرسی ہیں۔ بیچ میں صدیوں کی مسافت حائل ہے اور حفظ مراتب کا سمندر بھی کہ کہاں مالک بن انس کہاں محمد مرسی؟ بسملِ ناز کا بانکپن مگر وہی ہے۔مسافت بھی ویسی←  مزید پڑھیے

مطالعہ پاکستان۔۔۔آصف محمود

برطانیہ میں 8 جون کو سرکاری سطح پر غیر معمولی اہتمام کے ساتھ ملکہ کی سالگرہ منائی گئی، لیکن ملکہ کا یوم پیدائش تو 21 اپریل ہے۔ پھر ان کی سالگرہ کی پر تکلف سرکاری تقریب 8 جون کو کیوں؟’’←  مزید پڑھیے

بچے کیسے مرے؟۔۔۔۔آصف محمود

ایک تو ہمارے وہ پردہ نشیں وسیم اکرم پلس جو چلمن سے لگے بیٹھے ہیں اور ایک ان کے ہونہار ترجمان ، میرِ سخن ،جو خلق خدا سے لپٹی زمینی حقیقتوں سے بہت دور ٹوئٹر پر بیٹھ کر آبلوں پر←  مزید پڑھیے

رویت ہلال اور وزیر محترم

رویت ہلال ایک سنجیدہ عمل ہے اسے فواد چودھری صاحب پر نہیں چھوڑا جا سکتا ۔ اصلاح احوال درکار ہے مگر اس کے لیے لازم ہے حکومت کی صف میں کوئی معاملہ فہم ، متحمل مزاج اور معقول آدمی ہو←  مزید پڑھیے

پاکستان تحفظ موومنٹ

پی ٹی ایم پر بات کریں تو کچھ قابل احترام پشتون دوست شکوہ کرتے ہیں: آپ پنجاب کے رہنے والے ہیں آپ نے فاٹا میں دیکھا کیا ہے؟ آپ کو کیا معلوم ہم پر کیا بیتی؟ان دوستوں سے پورے احترام←  مزید پڑھیے

وہ بے حسی ہے مسلسل شکستِ دل سے منیر

ایک شاہی خاندان کے ولی عہد نے دستر خوان بچھایا ، دوسرے شاہی خاندان کی ولی عہد تشریف لے آئیں۔دائیں بائیں خدام ادب قطار اندر قطار ہاتھ باندھے حاضرتھے۔روایت ہے کہ یہ دعوت افطار تھی۔شہزادہ اور شہزادی اپنی سلطنتوں کو←  مزید پڑھیے

کیا عمران کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟

مسند ارشاد انہیں میراث میں نہیں ایک اتفاق میں آئی ہے۔صاحب کہ دیدہ ور تھے ، اس کا حق ادا کر دیا۔ روزمنادی دیتے ہیں : ہے کوئی ہم سا؟ روز صداآتی ہے صاحب آپ سا کوئی کہاں؟ نرگس ہزاروں←  مزید پڑھیے

زکوٰۃ فنڈ کہاں جاتا ہے؟

یکم رمضان کو بنک بند تھے۔ پورے اہتمام کے ساتھ خلق خدا کے اکائونٹس سے زکوٰۃ کاٹی گئی تا کہ نیکی کے اس کام میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔اب جب کہ نیکی کا یہ کام پایہ تکمیل کو پہنچ←  مزید پڑھیے

بلاول بھٹو جواب دیں…آصف محمود

میں آپ سے یہ کہوں کہ سندھ حکومت نے اپنے ہیلتھ بجٹ کا 70 فیصد سرکاری ہسپتالوں اور اداروں کے بجائے این جی اوز اور پبلک لمیٹڈ کمپنی میں بانٹ دیا تو کیا آپ میری بات کا یقین کریں گے؟←  مزید پڑھیے

پرائیویٹ ہسپتال۔۔۔۔کیا مریضوں کے بھی کچھ حقوق ہوتے ہیں؟

میں اپنی فیملی کے ساتھ نجی میڈیکل سنٹرمیں کھڑا تھا اور رات کے نو بج چکے تھے۔یہ کسی سرکاری ہسپتال کی کہانی نہیں ، یہ اسلام آباد کے پوش سیکٹر کے ایک ہسپتال کی کہانی ہے۔ یہ میں اس لیے←  مزید پڑھیے

کیا اب بھی عمران سے کوئی امید باقی ہے؟۔۔۔آصف محمود

کیا اب بھی عمران سے کوئی امید باقی ہے؟ آصف محمود محفل احباب میں کل رات طنز سے بھرے لیجے میں ایک سوال اچھالا گیا ، پھر قہقہے پھوٹ پڑے ۔ سوال تھا : کیا اب بھی آپ کو عمران←  مزید پڑھیے

کتنے ماتم ، کتنے کالم؟

ہزارگنجی سے لے کر کوسٹل ہائی وے تک دشمن یکسو ئی سے حملہ آور ہے، سوال یہ ہے ہمارا انتشارِ فکر کب ختم ہو گا؟ طریقہ واردات کو سمجھیے۔ پہلے دشمن اپنے مسلح کارندوں کے ذریعے حملہ کرتا ہے ،←  مزید پڑھیے

عمران ،ہم اور تم۔۔۔آصف محمود

ہم جیسے طالب علم تو عمران خان پر تنقید کریں تو بات سمجھ میں آتی ہے کیونکہ ہمیں اصلاح احوال کی امید تھی اور یہ امید بر آتی دکھا ئی نہیں دے رہی لیکن شریف اور زرداری خاندان کے دستر←  مزید پڑھیے

ایسے کیسے چلے گا؟

حکومت بنانے کے لیے اگر کمپرومائز کیے جا سکتے ہیں تو حکومت چلانے کے لیے کیوں نہیں کیے جا سکتے؟ حکومت بنانے کے لیے تو ہم سب نے دیکھا کہ اصولوں پر کمپرومائز کیا گیا، حکومت چلانے کے لیے تو←  مزید پڑھیے