پچھلے دنوں ایک معروف آن لائن اردو ویب سائٹ پر ایک مضمون شائع ہوا ۔میڈم نور جہاں یا فتور جہاں ۔ یہ کسی مذہبی انتہا پسند مولوی کے قلم کا فتور تھا جس نے اپنی کم علمی و کم فہمی← مزید پڑھیے
وطن عزیز میں بیاہ شادیوں پر ہر خاص و عام اپنی بساط کے مطابق شرکاء کو کھانا لازماً دیتا ہے – پچھلے دنوں ایک واقف کار نے ولیمہ پر بلا لیا اور ہم بھی سوئے ولیمہ چلے گئے کہ چلو← مزید پڑھیے
جنگ ختم ہو گئی، سپہ سالار دفتروں سے اٹھ کر شبستانوں کو آباد کرنے چلے گئے، تنازعہ پیدا کرنے والے رہنماؤں نے ہاتھ ملا لئے، مگر گرد اڑاتی راہوں میں ایک بوڑھا باپ ابھی تک کھڑا اپنے وردی پہن کر← مزید پڑھیے
کالاش کا نام بچپن سے سن رکھا تھا ۔ کالاش کی تاریخ صدیوں پرانی ہے۔ اس کو دریافت ہوئے بھی کچھ صدیاں گزر چکی ہیں۔ کتابوں کی زینت بننے والا یہ خطہ ذہن کے کسی گوشے میں تجسس اور امنگ← مزید پڑھیے
میرے محلے میں ایک عورت رہتی تھی۔ ابھی شادی کی دس بہاریں ہی ایک ساتھ دیکھی تھیں کہ اس کا خاوند اُسے اور چار بچوں کو بے رحم دنیا کی ٹھوکروں کے حوالہ کر کے ابدی نیند سو گیا۔۔۔ وہ← مزید پڑھیے
معاصرویب سائٹ ’’ہم سب‘‘ پر نورجہاں کی برسی کے حوالہ سے جہاں ان کی سیرت پر توصیفی مضامین شائع ہوئے ،وہیں ایک مضمون دائیں بازو کے ایک لکھاری کا بھی شائع ہوا جس میں نورجہاں پر سعادت حسن منٹو کے← مزید پڑھیے
و تعز من تشا ۔۔ اللہ جسے چاہتا ہے عزت دیتا ہے اور یہ سب کچھ مالک کے اختیار میں ہے. وہ چاہے تو بادشاہوں کے سر مٹی میں رول دے وہ چاہے تو مراثیوں کو تخت پر بٹھا دے.← مزید پڑھیے
شیدے کی نئی نئی شادی ہوئی ، بیوی خوبصورت تھی ۔ شیدے کا زیادہ وقت پہلوانی کرتے اکھاڑے میں گزرتا تھا ۔شیدے کی بیوی کا شادی سے پہلے ایک مولوی سے چکرچل رہا تھا۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد شیدے← مزید پڑھیے
میں نے نوکری شروع کی تو وہی مسائل پیش آئے جو نئی نئی نوکری میں آتے ہیں۔ منجملہ ان کے یہ کہ سارے دفتر میں نئے طریقے چلانے کی کوشش اور اس سے پرانے ملازمین میں اٹھنے والا شدید ری← مزید پڑھیے
جس دیش میں گنگا بہتی ہے۔ گھر پہنچے تو خواتین بن سنور کر تیار تھیں ۔وہ کھانا کھا چکی تھیں اور ہم مردوں کے لئے کھانا تیار رکھا تھا۔ دراصل کل شام سے دلی میں تھے اور اب تک انہوں← مزید پڑھیے
پاکستان کے غیر آئینی صوبے کے وزیر اعلیٰ جناب حافظ حفیظ الرحمٰن نے گلگت بلتستان میں کئی مہینوں سے آئینی حقوق کے بغیر عائد کیے گئے ٹیکسوں کے خلاف جاری احتجاج کرنے والے عوام اور گزشتہ دس دنوں سے کم← مزید پڑھیے
ڈاکٹر عامر نے حال ہی میں حقائق سے بھرپور ایک شاندار کالم لکھا۔ کالم کا عنوان تھا “مشت زنی کے نقصانات اور ان کی حقیقت”۔ اس سے پہلے سعدیہ کامران مابعد طبعیات اور حقائق کی مباشرت میں صفحات سیاہ کر← مزید پڑھیے
2017بھی بیت گیا۔ گزرتے وقت کو روکا تو نہیں جا سکتا لیکن اس کے ان منٹ نقوش سے فائدہ ضرور اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہ سال بھی گزشتہ ہزاروں سالوں کی طرح سب موسم لے کر آیا۔ کچھ خوشیاں کچھ← مزید پڑھیے
گلگت بلتستا ن کے لوگ نہایت ہی سادہ اور بڑے دل والے ہیں ۔یہاں کے عوام کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ وہ کسی بھی بات کو دل میں نہیں رکھتے۔ اس خطے کے عوام کی ایک خوبی یہ← مزید پڑھیے
سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ 1039ھ میں شور کوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپؒ کے والد محمد بازیدؒ ایک صالح حافظ قرآن اور فقیہ شخص تھے جو مغلیہ دَور میں قلعہ شورکوٹ ضلع جھنگ کے قلعہ دار تھے۔ ان کی اہلیہ← مزید پڑھیے
حالیہ دنوں میں فیس بک پر ایک روایت پسند عالم حافظ محمد زبیر صاحب یہ گلہ کرتے نظر آئے کہ موجودہ دور میں نوجوان نسل کے اندر روایت شکن فکر (جسے وہ متجددانہ فکر سے تعبیر کرتے ہیں) کی مقبولیت← مزید پڑھیے
ہمارے پشتونوں میں بہادر اور جی دار وہ کہلاتا ہے۔ جو مار کٹائی کرسکے۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر بندوق نکال کر سامنے والے کو حواس باختہ کرسکے۔مگر بدقسمتی ہمشہ یہ ہوتی ہے،کہ سامنے والا بھی پشتون ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں بیوی← مزید پڑھیے
جب میں ان مریضہ کو دیکھنے کمرے میں داخل ہوئی تو وہ بری طرح سے رو رہی تھیں اور ان کا سارا جسم کانپ رہا تھا۔ میں ان کو دیکھ کر پریشان ہوگئی کہ آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ میری← مزید پڑھیے
27 دسمبر ، استاذ غالب کا یوم ِ ولادت ۔گوگل کا اردو کے عظیم شاعر مرزا اسد اللہ خاں غالب کو خراج عقیدت۔ ہو گا کوئی ایسا بھی جو غالب کو نہ جانے۔ ایسا شاید ہی ہو کہ کوئی غالب← مزید پڑھیے